کمزور ہوتی جمہوریت
27 فروری 2018 (19:34) 2018-02-27

خبر ہے کہ جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ جمہوریت مضبوط ہونے کی بجائے کمزور کیوں ہو رہی ہے؟
بظاہر تو کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ایوان صدر میں ایک منتخب صد ر مملکت موجود ہے۔انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ،زیرک اور سردوگرم چسیدہ شخصیت جناب ممنون حسین اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں۔آئین پاکستان میں درج تقاضوں کے مطابق اپنے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہیں۔سال میں ایک مرتبہ منتخب ایوانوں کے مشترکہ سیشن سے خطاب،یونیورسٹیوں کے کانووکیشن سے خطاب،تقریبا ت کی صدارت،23 مارچ کو سالانہ شاندار قومی تفاخر کی علامت پریڈ میں مہمان خصوصی کے طور پر جلوہ گر ی۔غیر ملکی سربراہوں کی میزبانی۔ کبھی کبھار بوقت ضرورت غیر ملکی دورے پر بھی تشریف لے جاتے ہیں۔ قواعد و ضوابط اور آئینی تقاضوں کے عین مطابق حکومتی سمری پر دستخط بھی فوری طورپر کر دیتے ہیں۔ماضی میں ایسے ادوار بھی گزرے ہیںجب صدر مملکت اور وزیر اعظم دو الگ الگ لشکروں کے سالار نظر آتے۔ایک دوسرے سے بر سرپیکار ایک کے ہاتھ میں مینڈیٹ کی ڈھال دوسرا اٹھاون ٹوپی کی تیز دھار تلوار سے مسلح۔کبھی صدر اس سیاسی جنگ میں فاتح رہا تو کبھی وزیراعظم بازی لے گیا۔ایک دفعہ ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ دونو ں کا بستر گول ہوا۔اب ایسا نہیں،عرصہ گزرا اختیارات قصر صدارت سے وزیر اعظم ہاو¿س منتقل ہو گئے۔اب تو وہ کش مکش کا دور ختم ہو چکا۔ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ کار کے اندر موجود ہے۔پھر بھی جمہوریت کمزور ہونے کی رپورٹیں آرہی ہوں تو دل کو تشویش لاحق ہو جاتی ہے۔کیونکہ یہ جمہوریت ہی ہے جو طاقتور کے احتساب کی ضمانت دیتی ہے۔

زورآوروں کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ان کے پاس حصول انصاف کے اپنے ذرائع ہوتے ہیں۔پھر مسئلہ کیا ہے۔پالیمانی نظام کے تقاضوں کے مطابق لیڈر آف دی ہاو¿س یعنی وزیر اعظم بھی موجود ہے۔وہ کابینہ کے اجلاس کی صدارت بھی کرتے ہیں۔ بیرونی ممالک سے معاہدے بھی ہو رہے ہیں۔بیرون ممالک کے وفود بھی مسلسل آتے ہیں۔منتخب وزیر اعظم ہر روز متعدد میٹنگز کرتے ہیں۔کبھی مشترکہ مفادات کونسل کی صدارت، کبھی ایکنک کبھی پانی و بجلی سے متعلق اجلاس، کبھی کسی محکمے کی کارکردگی کا جائزہ،ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح۔ کبھی امن و امان کے جائزے کے لیے یکے بعد دیگر صوبوں کا دورہ، معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط۔اب تو وہ شکایت بھی نہیں رہی کہ حاکم وقت اسمبلی کو اہمیت نہیں دیتا۔اب تو وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی معمول کے مطابق ہر بدھ کی شام منعقد ہو تا ہے۔ وزیر اعظم اپنے وزراءاور ارکان قومی اسمبلی سے بھی زیادہ اجلاسوں میں آتے ہیں۔بظاہر تو ہر گتھی آئینی تقاضوں کے مطابق سلجھتی ہے۔ ایک پرائم منسٹر کو عدالتی فیصلے کے مطابق اپنی نشست خالی کرنا پڑی تو کوئی طوفان نہیں برپا ہوا بظاہر تو ایسا ہی ہوا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق اکثریتی پارٹی نے اپنا نیا لیڈر چن لیا۔کوئی ہارس ٹریڈنگ نہ ہوئی۔ کسی کو الیکشن لڑنے سے نہیں روکا گیا۔کسی کا مینڈیٹ چوری نہیں ہوا۔ پارلیمانی جمہوری نظام میں اپوزیشن کی اہمیت سے کون وا قف نہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہے۔دوسری اپوزیشن پر فائز پارٹی کے پاس اپوزیشن لیڈری کا منصب ہے۔ سید خورشید شاہ نہایت زیرک سیاستدان ہیں۔بہت سینئر بھی۔نہایت جاندار،مو¿ثر،متحرک کارکن ہیں۔

جمہوریت کی گاڑی کبھی غیر جمہوری حالات کے کھوبے میں دھنستی نظر آئے تو وہ فوری طور پر ریسکیوکیلئے آتے ہیں۔ نیت صاف ہو تووہ جمہوریت کو صاف بچالیتے ہیں۔ان کے علاوہ بھی باقی جماعتیں ہیں۔ ہمہ وقت جمہوریت کی محبت میں گرفتار نظر آتی ہیں۔پی ٹی آئی نے تو بار بار جمہوریت کو بچانے کیلئے غیر جمہوری دھرنے تک دیے۔انگلی کے زور پر حقیقی جمہوریت لانے کی کوشش بھی کی۔کامیاب نہ ہوئی تو الگ بات ہے۔ اب بھی وہ ہر وقت اداروں کی چوکیداری کیلئے الرٹ نظر آتی ہے۔ایوان با لا بھی موجود ہے۔ہر پارٹی ہر طبقہ،چاروں صوبوں کی یکساں نمائندگی موجود ہے۔فاٹا اور اسلام آبادبھی برابر کے سٹیک ہولڈر ہیں۔ خواتین بھی نمائندگی سے محروم نہیں۔اقلیتیں بھی اپنے تناسب کے مطابق موجود ہیں۔ نامور قانون دان علماءکرام، ٹیکنو کریٹ،شاعر،ادیب،بزنس ٹائیکون ہر شعبہ موجود۔کوئی نظر انداز نہیں۔ کوئی اپنی اکثریت کے بل بوتے پر دوسرے کو بلڈوز نہیں کر سکتا۔پھر کمزوروں کاشائبہ کیوں،چاروں صوبوں میں منتخب حکومتیں موجود۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد جس کے تحت مرکز سے اختیارات لے کر صوبوں کو دے دیے گئے۔اب تو مرکز صوبے میں اپنی مرضی کا افسر تک تعینات نہیں کر سکتا۔پاکستان پیپلز پارٹی سند ھ میں،پی ٹی آئی کے پی میں،مسلم لیگ (ن) پنجاب میں برسر اقتدار ہے۔بلوچستان میں تمام جماعتیں مل کر نظام حکومت چلا رہی ہیں۔سینٹ سے لے کر صوبائی اسمبلی تک ایک ہزار کے قریب نمائندے موجود ہیں۔ یونین کونسل لیول کے نمائندے بھی حقِ نمائندگی ادا کر رہے ہیں۔قومی اسمبلی،سینٹ،صوبائی اسمبلیاں خوبصورت شاندار عمارات میں قائم ہیں۔پھرایسے سوالات کیوں اٹھتے ہیں۔ ایسی رپورٹس کون شائع کر تا ہے۔سیاسی لیڈروں کی پاپولرٹی بڑھ رہی ہے۔سیاسی جماعتیں عوام میں مقبول ہیں۔کوئی ایسی پارٹی نہیں جو کروڑوں عوام کی حمایت کا دعویٰ نہ کرتی ہو۔جلسے عوام سے بھرے ہوتے ہیں۔ریلیاں کئی کئی گھنٹے چلتی ہیں۔یہ سب تو پرویز مشرف کے دور میں بھی تھا۔2002 ءمیں بھی الیکشن ہوئے حکومت بھی بنی۔ مرکز میں بھی،صوبوں میں بھی۔بلدیاتی ادارے بھی قائم ہوئے۔دعویٰ کیا گیا کہ اختیارات بھی نچلی سطح تک منتقل ہوگئے۔کتنی نچلی سطح تک اس کی گہرائی ناپی نہ جا سکی۔اس پانچ سالہ دور میں تین وزرائے اعظم بھی بدلے۔اس دور میں بھی حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔صدر مملکت نے اگر چہ دو وردیاں پہن رکھی تھیں۔لیکن وہ بھی با عزت طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہوئے۔ 2002 ءکے بعد یہ تیسری آئینی سیاسی مدت ہے جو اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔

دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کہتی ہے ڈیموکریسی انڈیکس کے دسویں اشاریے کے مطابق پاکستان میں جمہوریت گزشتہ تین سال سے کمزور ہو رہی ہے۔برطانیہ کے اس میگزین نے 167 ممالک کی فہرست مرتب کی ہے۔اس میں پاکستان کا سکورچار اعشاریہ چھبیس ہے۔2013 ءکے عام انتخابات کے بعد پاکستان کا سکور چار اعشاریہ64 تھا ریٹنگ گزشتہ چار سالوں میں بالخصوص دھرنے کے بعد مسلسل کم ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق سیاسی عدم استحقام،اقتدار کی کھینچا تانی کی وجہ سے جمہوریت کیلئے گنجائش تیزی سے کم ہو رہی ہے۔یہ صورت حال کیوں ہے۔سب کچھ ہے تو پھر ترقی کی بجائے تنزلی کیوں؟بات غور طلب ہے؟شاید آسانی سے جواب نہ ملے۔ایک وجہ ہو سکتی ہے۔کوئی ایسا مائنڈ سیٹ ہے جو بظاہر تو جمہوریت کو نظام کی بجائے محض بناوٹی سیٹ اپ کے طور پر رکھنے کا خواہشمند ہے۔جس کا خیال ہے کہ نوٹیفکیشن سے سیاسی لیڈر شپ کو مائنس پلس کیا جا سکتا ہے۔سیاسی جماعتیں بنائی،گرائی جا سکتی ہیں۔اگر اس طرح ممکن ہو تا تو مسلم لیگ (ق) کبھی ختم نہ ہوتی ۔سیاسی لیڈر عوام کے فیصلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ہینڈ آو¿ٹ کے ذریعے نہیں۔ایسے تجربے ماضی میں بھی نا کام رہے۔ایسی جمہوریت بے روح جسم کی مانند ہوتی ہے۔جس کا نہ فائدہ نہ نقصان۔


ای پیپر