قائداعظم ؒ اور جداگانہ انتخابات........وہم یا حقیقت
27 فروری 2018 (19:31)

قائداعظم محمدعلی جناحؒ (1876۔1948) اور مولانا ظفر علی خان ؒ (1873۔1956) ہماری ملّی تاریخ کی وہ عظیم ہستیاں ہیں ۔ بانیِ پاکستان اور بابائے قوم ہونے کے ناتے قائداعظم ؒ کی زندگی ، ان کے احوال و تصورات ، جب کہ روزنامہ ”زمیندار“کے مدیر ،بابائے صحافت ، بے مثل شاعر، مقرر ، ادیب اور مترجم ہونے کے ناتے مولانا ظفر علی خانؒ کی زندگی کے احوال و تصورات برصغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ کا حصہ اور اس حوالے سے مورخانہ مطالعے کے حق دار ہیں۔

ان دونوں رہنماﺅں کے حوالے سے اب تک متعدد کتابیں اور مقالات لکھے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک دونوں عظیم رہنماﺅں کے سیاسی افکار اور احوال کا ارتباطی مطالعہ پیش نہیں کیا گیا۔ مولانا ظفر علی خان 1906ءمیں مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاس ہی سے مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ قائداعظم ؒ 1916ءمیں مولانا محمد علی جوہر کی تحریک پرمسلم لیگ کے باقاعدہ رکن بنے۔ اس سے پہلے اور بعد کے ادوار میں دونوں رہنماﺅں کے ارتباطی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مزاجوں کے فرق کے باوجود دونوں کے ہاں ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی کے جذبات ہمیشہ موجود رہے۔ قومی زندگی کے مختلف واقعات پر باہم اتفاق و اختلاف کے باوصف ربط و تعاون کی صورتیں ابھرتی رہیں۔ جداگانہ انتخاب سائمن کمیشن اور نہرورپورٹ پر ان کے خیالات کی یگانگت نے دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد فراہم کی اور اختلاف نے کبھی مغائرت کی صورت اختیار نہیں کی۔


ذیل کی سطور میں ان دونوں رہنماﺅں کی سیاسی زندگی کے، جو ہماری قومی تاریخ کے ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے، ایک مرحلے کاذکر کیا جارہا ہے۔ یہ برعظیم کی سیاست کا وہ مرحلہ تھا، جب جداگانہ انتخاب یا مخلوط انتخاب کے مسئلے پر مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ دونوں جانب شدت پیدا ہو گئی تھی۔ آج یہ بات بہ خوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ جداگانہ انتخابات کا فیصلہ کیوں ضروری اوراہم تھا لیکن اس وقت بلکہ شاید 1937ءکے انتخابات تک مولانا ظفر علی خان جیسے رہنماﺅں کے لےے یہ بات قابل قبول نہیں تھی۔ وہ ابھی ہندو مسلم اتحاد اور اسمبلیوں میں نمائندگی کے اصول کو جداگانہ انتخاب کے مقابلے میں زیادہ موزوں خیال کرتے ہوئے ملک کے سیاسی مسئلے کے حل کے لیے مخلوط انتخاب کے حامی تھے اور جداگانہ نیابت کے حامیوں کی مخالفت کرتے تھے۔ مولانا نے اس موضوع پر کافی زور قلم صرف کیا۔ اشعار میں انہوں نے اپنے اس نقطہ¿ نظر کی یوں صراحت کی۔ پہلے جداگانہ انتخابات کے حامیوں کانقطہ¿ نظر بیان کیا:


اعلان کر رہے ہیں، مگر مفتیان ہند
اس باب میں ہے تشنہ خود اللہ کی کتاب
ان محرمانِ سرِ ازل کے خیال میں
اسلام کی ہے شرطِ جداگانہ انتخاب
پھر اپنا نقطہ¿ نظر پیش کرتے ہوئے کہا:
مخلوط انتخاب کو منظور تو کرو
ہوتے ہی رائج اس کے سب اٹھ جائیں گے حجاب
تم ظلمتوں کے وہم سے ہو پیچ و تاب میں
اور سامنے ہے حق کا درخشندہ آفتاب


یہ نظم خاصی شدید ہے اور جداگانہ انتخاب پر مولانا کے زاویہ¿ نگاہ کی ترجمان بھی....مولانا ظفر علی خان کی زندگی کے مختلف مراحل کامطالعہ رکھنے والے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ مولانا ایک وقت میں جس زاویہ¿ نظر کواختیار کرتے تھے، ہمیشہ اس پر کاربند نہیں رہتے تھے بلکہ بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں اپنی رائے پر نظر ثانی بھی کیا کرتے تھے۔ ان کے نثری افکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں جداگانہ انتخاب کے سلسلے میں بھی اسی وسعت کامظاہرہ ہوا ۔ انہوں نے تجویز کیا کہ اگر وفاقی نظام حکومت قائم ہوجائے تو پھر محدود مدت تک جداگانہ انتخاب کے اصول کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں فرمایا:”ذاتی طور پر میں انتخاب کے مخلوط طریق کاحامی ہوں لیکن اس وقت اس مسئلے پر جو شدید اختلاف رونما ہو رہا ہے ، اسے دور کرنا از بس ضروری ہے لہٰذا میں تجویز کرتا ہوں کہ وفاقی نظام حکومت کے نفاذ واجرا کے دس سال بعد تک جداگانہ انتخاب کا طریق علی حالہ قائم و برقرار رہے اور اس کے بعد خود بخود مخلوط انتخاب اس سر زمین کا قانون متصور ہونے لگے“۔


گویا مولانا ظفر علی خان کے نزدیک انتخاب کا جداگانہ یا مخلوط طریقہ مقصود بالذات نہیں تھا، بلکہ وہ غالباً یہ سمجھتے تھے کہ بغیر معقول دستوری تحفظات کے مخلوط انتخاب کا یک قلم ترک کردینا مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس حوالے سے قائداعظم ؒ کانقطہ¿ نظر دیکھا جائے تو اس میں بھی لچک دکھائی دیتی ہے۔ وہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر مسلمانوں کے بعض دوسرے دستوری مطالبات مثلاً سندھ کی علیحدگی ، چھوٹے صوبوں سرحد اور بلوچستان میں آئینی اصلاحات کے نفاذ اور ان کے حقوق کاملنا ،مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی اور پنجاب و بنگال میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی مل جاتی ہے تو پھر جداگانہ انتخاب پر اصرار کی ضرورت نہیں رہتی ، بلکہ قائداعظم ؒ نے اپنی پیش کردہ تجاویز دہلی کے عدم قبول پر بھی یہی کہا کہ : ”ان تجاویز کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ”کچھ لو اور کچھ دو“ کے اصول پر جداگانہ طرز انتخاب کو ختم کیا جا سکتا ہے“۔


قائداعظم ؒ نے اپنے اس اخباری بیان میں پوری صراحت کے ساتھ کہا:”یاد رکھنا چاہیے کہ جداگانہ انتخاب یا مخلوط طرز انتخاب بجائے خود کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ قومی حکومت کی منزل تک پہنچنے کاجوعبوری دور ہے اور اس دور میں اکثریتی فرقہ مسلمانوں پرکوئی ظلم یا زیادتی نہیں کرسکے گا“۔


قائداعظم ؒ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جداگانہ انتخاب کے حق میں ہے اور اس طریق انتخاب کو اپنے لیے محفوظ سمجھتی ہے ، مگر کانگرس کے لیے جداگانہ انتخاب کااصول قابل قبول نہیں تھا، اس لیے وہ درمیانی راستہ نکالنے کے حق میں تھے اور بعض دوسرے تحفظات حاصل ہوجانے کی صورت میں جداگانہ انتخاب کے اصول کو ترک کردینے پر تیارتھے۔ انہوں نے فرمایا: ”ذاتی طور پر میں جداگانہ انتخاب کا حامی نہیں ہوں، اگرچہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت ، دیانتداری کے ساتھ یہ خیال کرتی ہے کہ ان کی حفاظت کا بہترین ذریعہ یہی ہے۔ جداگانہ انتخاب کے سسٹم میں فائدے بھی ہیں اور برائیاں بھی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اقلیتوں کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ محفوظ ہیں“۔


اس تفصیل سے جداگانہ انتخاب کے مسئلے پر قائداعظم ؒ اور مولانا ظفر علی خانؒ دونوں کے ہاں فکری اشتراک کااندازہ کیاجاسکتا ہے ۔ دونوں رہنماﺅں کا طرزِ عمل اخلاص پر مبنی تھا، اس لیے اس میں لچک موجود تھی، کیونکہ اصل مسئلہ انتخاب کا اصول نہیں، غلام ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کا تھا۔ 1909ءمیں مسلم رہنماﺅں نے لارڈ مارلے کو جو تجویز دی تھی، 1916ءتک آتے آتے اس نے میثاق لکھنو¿ کی صورت اختیار کر لی اور جداگانہ نیابت کااصول تسلیم کروا لیا گیا۔ یہ ایک اہم اور تاریخ ساز فیصلہ تھا۔ جداگانہ انتخاب کے فیصلے کی صورت میں قیامِ پاکستان کی تحریک کااوّلین مرحلہ طے ہوا ۔ حقیقت میں جداگانہ انتخاب کے اصول کا تسلیم کیا جانا ہی قیامِ پاکستان کی خشتِ اوّل تھی۔


ای پیپر