گانے شانے....
27 فروری 2018 (19:28)

دوستو،جب ہرطرف ٹینشن ہو، ہر جگہ سیاست، مذہب،کھیل اور ذاتی پسند ناپسند کی باتیں ہورہی ہوں تو ایسے میں ہلکی پھلکی باتیں کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔اسی لئے ہم آپ کی خدمت میں ہر بار روٹین سے ہٹ کر کچھ ایسی باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے آپ کا موڈ بھی خوشگوار رہے اور تھوڑا بہت آپ کا ٹائم پاس ہو جائے۔ خبریہ ہے کہ دبئی میں رہنے والی ساتویں کلاس کی بھارتی طالبہ سچیترا نے گنیز بک میںدو انوکھے ریکارڈ درج کرادیئے۔ ایک تو اس نے 102 زبانوں میں گانے سنائے اور دوسرا مسلسل 6 گھنٹے 15 منٹ تک اس نے کنسرٹ میں گانے پیش کیے جو اس کی ہمت اور یادداشت کو ظاہر کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سچیترا نے ایک سال قبل اس کی تیاریاں شروع کیں اور مسلسل محنت سے مختلف زبانوں میں گانے یاد کرنے شروع کردیے۔قبل ازیں 2008ءمیں ایک غزل گائیک ڈاکٹر کیسی راجو سری نواس نے 76 مختلف زبانوں میں گانا گا کر ایک ریکارڈ بنایا تھا جس کے بعد انہوں نے دوبارہ کوشش کرکے 85 زبانوں میں گیت پیش کرکے ریکارڈ بنایا، تاہم سچیترا نے مسلسل محنت سے یہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس کے علاوہ رومانیہ کی ایک گلوکارہ اینڈرے گوگن نے مسلسل 3 گھنٹے اور 20 منٹ تک گانا گایا تھا جو ایک ریکارڈ تھا اور سچیترا نے اسے بھی توڑ ڈالا ۔


ہمیں یقین ہے آپ کو اس ریکارڈ پہ حیرت ہورہی ہوگی، لیکن ہمیں اس پر کوئی حیرت نہیں، خواتین تو ویسے ہی اتنا بولتی ہیں کہ دماغ کی دہی بن جاتی ہے،اگر اس نے سواچھ گھنٹے مسلسل گلوکاری کرلی تو کون سا تیر مار لیا، ہمارے یہاں تو عام گھریلوخواتین دن میں مسلسل بارہ سے سولہ گھنٹے بولتی رہتی ہیں ، گنیز بک نے کبھی اسے تو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا۔ہمارے معاشرے میں عجیب قسم کا ٹرینڈ چل پڑا ہے، ہر خوشی کے موقع پر گانے لازمی ہوگئے ہیں۔یہاں تک کہ نشریاتی اداروں کی خبریں تک گانوں سے مرصع ہوتی ہیں۔پاکستانی نیوز چینل دیکھنے والے اکثر ناظرین یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ٹی وی چینلز کا خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق رپورٹس پیش کرنے کا انداز نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ غیر پیشہ ورانہ بھی ہے۔ ان ناظرین کے مطابق گیتوں کی بھرمار کے باعث نیوز رپورٹس سنجیدہ خبریں کم اور بھارتی گیت مالا زیادہ لگتی ہیں۔اس بارے میں میڈیا والے یہ وضاحت دیتے ہیں کہ ،اب ناظرین کو متوجہ کرنے اور خبروں کو زیادہ دلچسپ اور آسان انداز میں سمجھانے کے لئے گیتوں کا سہارا لیا جا تا ہے۔ اس سے لوگ اب آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ خبر کا نقطہ نظر کیا ہے۔ اس میں یقیناً انٹرٹینمنٹ کا عنصر بھی ہے جو لوگوں کو دیکھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔لیکن کبھی کبھی خبروں میں گانے ہضم بھی نہیں ہوتے جیسا کہ کراچی کے ایک ہسپتال میں مریض نے خودکوگولی مارکرخودکشی کی تو ایک چینل نے اس منظر کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرکے اس خبر کو اس طرح نشر کیا کہ اس کے پس منظر میں گیت ”ہم چلے اس جہاں سے“ چل رہا تھا۔


ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ چوراسی فیصد لوگ وہی گیت گنگناتے ہیں جس سے انہیں نفرت ہوتی ہے۔کچھ لوگ باتھ روم سنگر ہوتے ہیں، کچھ کے گلے میں اتنا درد ہوتا ہے کہ انہیں کچھ دیرسننے کے بعد وہی درد اپنے سر میں منتقل ہوتا صاف محسوس ہوتا ہے۔ گانے بھی عجیب و غریب شاعری والے ہونے لگے ہیںجیسا کہ کنڈی نہ کھڑکا سوہنیا سیدھا اندر آ۔اگر یہی گانا اردو میں لکھاجاتا تو شاید کچھ یوں ہوتا، اے پیکروجاہت و جمال، دستک دینے کے زحمت نہ کیجئے براہ راست اندر تشریف لے آئیے۔کچھ گانے ہٹ تو ہوجاتے ہیں لیکن اس کی شاعری اور اس کے معنی دنیا کی کسی ڈکشنری میں موجود نہیں ہوتے، جیساکہ ، پاپی چولو۔ہپ ہپ ہرے۔ کوکو،کوری نا۔جھینگا لالہ او۔۔ہمارے پیارے دوست ایک بھارتی گیت کو اس طرح گنگنارہے تھے۔آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے،ورنہ اکثر لڑکیاں تو کہتی ہیں پاگل مجھے۔


عاطف اسلم وطن عزیز کا ایسا سنگر ہے جس کا نوجوانوں میں بہت کریز ہے،لڑکیاں تو اس کی دیوانی ہیں، لیکن یہ مقام اسے راتوں رات نہیں ملا،اس مقام تک پہنچنے کے لیے ا±نہیں سخت محنت کرناپڑی حتیٰ کہ وہ ویگن بھی چلاتے رہے۔عاطف اسلم نے ایک بینڈ ’جل‘ سے اپنا کرئیرشروع کیا،چھوٹی چھوٹی تقریبات میں گایا کرتے تھے لیکن ان کے مالی حالات بہت خراب تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی پہلی البم ’عادت ‘ ریکارڈ کرانے کے لئے بھی ان کے پاس چند ہزار روپے نہیں تھے لہٰذا انہوں نے وین چلا کر ایک ایک پیسہ جوڑا اور آخرکار ان کے پاس 15ہزار روپے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنی پہلی البم بنائی جس میں گانا’اب تو عادت سی ہے مجھ کو‘بہت مشہور ہوا۔ اس گانے نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور پھر ان سے معروف فلمساز مہیش بھٹ نے اپنی فلم ’زہر‘میں گانے کے لئے سائن کیا۔یہی نہیں دیگر پاکستانی سنگرز بھی اچھا تعلیمی بیک گراو¿نڈ رکھتے ہیں۔راحت فتح کے ساتھ آفریں ،آفریں سے ملک گیرشہرت پانے والی مومنہ مستحسن نیویارک کی اسٹونی بروکس یونیورسٹی سے بائیو میڈیکل انجینئرنگ میں گریجویٹ ہیں۔معروف صحافی اور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے صاحبزادے علی سیٹھی نے بھی عابدہ پروین کے ہمراہ ایک گانے سے کافی شہرت پائی،انہوں نے ہارورڈ سے ساو¿تھ ایشین سٹڈیزمیں گریجویشن کیا ہے۔جواد احمد، علی حیدر انجینئر ہیں۔اسی طرح معروف اداکار فواد خان جنہوں نے گلوکاری سے کیرئر شروع کیا،ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ جنون گروپ والے معروف سنگر سلمان احمد باقاعدہ تربیت یافتہ ڈاکٹر ہیں۔ ابرارالحق گلوکاری میں نام بنانے سے پہلے کالج میں لیکچرار تھے۔


ہم جب اداس ہوتے ہیں تو گانا گاتے ہیں پھر ہمیں تسلی ہوجاتی ہے کہ ہماری آواز ہمارے حالات سے بھی زیادہ خراب ہے۔ہمارے یہاں موسیقی کی دنیا میں کئی لیجنڈز گزرے ہیں، ناموں کی ایک طویل فہرست ہے،ہر نام انگوٹھی میں نگینے کی طرح اپنی جگہ فٹ، لوک گلوکاری ہو، غزل،گیت، فلمی گانے ،پاپ میوزک، کلاسیکی موسیقی غرض ہرشعبے میں ہمارے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک بڑانام ہے،لیکن ہماری قوم میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ زندوں کی ہم قدر نہیں کرتے۔آج اگر موسیقی کی دنیا پر نظر دوڑائیں تو ۔ دنیا پیتل دی ،بے بی ڈول میں سونے دی،منی بدنام ہوئی ، شیلا کی جوانی ، چکنی چمبیلی ، افغان جلیبی،جیسے ہوشربا گانوں نے شاعری اور موسیقی کا معیار گرا دیا ہے ۔اس میں معیار کابھی کوئی قصور نہیں ،معیار بیچارہ کیاکرے جب ہماری اپنی سوچ ہی گر جائے !ہم لوگ سن رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں تب ہی تو یہ سب کچھ پیش کیا جا رہا ہے!تعلیم نے ہمیں شعور دیا ہے کہ اچھے برے کی پہچان کر سکیں ،ہم لوگ پہننے ،اوڑھنے اور کھانے پینے میں تو اعلیٰ معیار چاہتے ہیں ،کردار اور اخلاقیات پر اچھے برے تبصرے بھی ہم خوب کرتے ہیں مگر جب بات عمل کی آتی ہے تو ہم صفرسے بھی نیچے گرجاتے ہیں،کبھی سوچا ہے کہ آپ کے بچوں کے ناپختہ ذہنوں پر اس سب کا کیا اثر ہو گا ؟؟نہیں سوچا تو اب سوچیں....!


ای پیپر