ہمیں فنڈز نہیں چاہئیں
27 فروری 2018 (19:26) 2018-02-27

ہمیں فنڈز نہیں چاہییں.... ہمیں محسوس کرنے والے دل، سوچنے والے ذہن اور ہاتھ بٹانے والے ہاتھ چاہییں.... ہمیں فنڈز نہیں چاہییں۔ ہمیں جس سرمائے کی ضرورت ہے، وہ سرمایہ¿ خیال ہے۔ پیسہ ختم ہو جاتا ہے، خیال ختم نہیں ہوتا۔ وجود ختم ہوجاتا ہے اور خیال ختم نہیں ہوتا۔دراصل خیال ہر وجود کا اوّل بھی اور خاتم بھی!!تکوینی نظام میں خیال مثلِ حرفِ کُن ہے.... اس کی گونج کائنات میں باقی رہتی ہے۔ ہر منصوبے کی خشت ِ اوّل یہی سرمایہ¿ خیال ہے۔ خدانخواستہ خیال اور احساس کی دولت کم پڑ جائے تو خیر کی عمارت کی خیر نہیں .... یہ عمارت اَمارت میں بدل جاتی ہے۔ نیت خیال کا معجزہ ہے.... اور یہ آفاق میں نہیں ،انفس میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ نیت مخدوش ہو جائے تو فلاح و بہبود کی فلک بوس عمارتیں زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔


لاہور انگلش سکول موضع احمد آباد ( سابقہ چور کوٹ )کھڈیاں ضلع قصور کا افتتاح ہوا تو اس کا تذکرہ مجھے اپنے کالم میں بھی کرنا پڑا، تاآنکہ اس فلاحی ادارے کا سیاق و سباق اور وجہ تسمیہ ریکارڈ کا حصہ بن جائے اور بوقت ِ ضرورت تاریخ کے اوراق میں کہیں سند اور حوالہ بنے۔ ہوا یوں کہ ’ اُردو پوائنٹ ڈاٹ کام‘ والے فرحان خان بھی تقریب میں موجود تھے، وہ اپنے موبائل سے کچھ خفیہ قسم کی ریکارڈنگ کرتے رہے، تقریب کے فوراً بعد اس نوجوان نے پھرتی سے اپنے بیگ سے ایک مائک نکالا اور لوگوں کے انٹرویوز کرنے لگا۔ بعد ازاں اویس حیدر نے اسے ایک خوبصورت ڈاکومینٹری کی شکل دے دی۔ دوستوں نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ بعض اوقات منظر کشی منظر سے زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے۔ بہرطور کچھ دوستوں نے رابطہ کیا اور عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کارِ خیر میں کچھ ”حصہ“ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہیں بہت شکریے کے ساتھ ہم اتنا ہی بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ”حصہ“ درکار نہیں ، بلکہ پورے کا پورا چاق و چوبند بندہ چاہیے۔ خیال تو یہی تھا کہ یہ سکول گاو¿ں کے انہی دو نوجوانوں کے سپرد کرنے کے بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے ‘ جن کی مالی معاونت کیلئے یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی....کہ اب وہ جانیں اور اُن کا کام.... لیکن وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ معاملہ صرف تعلیم ہی کا نہیں ‘ تربیت کا بھی درپیش ہے۔ صحت سے لے کر صفائی تک سارے کے سارے معاملات قابلِ اصلاح ہیں۔ گویا ہمیں اس گاو¿ں میں ایک جامع نوعیت کی تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے....دراصل ہرجامعہ کو از خود ایک جامع تحریک ہونا چاہیے.... اس کیلئے پیسہ خرچ کرنا کافی نہیں ‘ بلکہ خود کو خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کا رونا رونے کیلئے سیاستدان کافی ہیں، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پیاسے کو پانی پلانے کیلئے کنواں کھودنے کا منصوبہ‘ دس سالہ منصوبہ سازوں کے سپرد کریں اور فوری طور پر اپنے گھڑے سے پیاسے کو پانی کاپیالہ پیش کریں .... کہ اصل خدمت وہی ہوتی ہے‘ جوفوری ہو.... اور سائل کو انتظار کی زحمت میں ڈالے بغیر کی جائے۔


احبابِ ذی وقار کی مشاورت سے ایک ایسا کلیہ بنانے کی کوشش گئی ہے جس میں ہر فرد عملی طور پر شریکِ کار ہو اور اس کارِ فلاح کا حصہ بن جائے۔دراصل ہمیں اُس شخص کے پیسوں کی ضرورت نہیں جو ہمیں اپنا وقت نہ دے سکے۔ اگرچہ خدمت کیلئے وقت ،وجود اور وسائل تینوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ترجیحات کے باب میں وسائل تیسری جگہ شمار ہوتے ہیں۔جیب سے پیسے نکالنا آسان ہے لیکن کسی کیلئے اپنا وقت وقف کرنا ایک کارِ دشوار ہے۔ درحقیقت دوسروں کی زندگی آسان بنانے کیلئے دشوارگزارراستوں کا انتخاب کرنے کی جرا¿ت ہونی چاہیے۔


طریقِ کار یہ طے پایا کہ خدمت کاخواہشمنددوست سکول کو فنڈ نہیں دے گا بلکہ سکول میں زیرِ تعلیم غریب بچے کی کفالت کرے گا.... اور یہ کفالت ایک سرپرست ہونے کی حیثیت سے ہوگی، اس بچے کا خاندان اس سے متعارف کروا دیا جائے گا، یعنی شہر سے ایک خوشحال خاندان دیہات کے ایک غریب خاندان کا دست و بازو بنے گا۔ ہمیں گاو¿ں کے غریب بچے کو یہ مان دینا ہوگا کہ اس کا ایک انکل شہر میں بھی رہتا ہے ،....وہ اسے تعلیم دلوائے گا.... کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا مرحلہ درپیش ہوا تو شہر والے انکل سنبھال لیں گے.... شہر والے انکل کل کلاں اسے نوکری بھی دلوا سکتے ہیں!! ایک غریب خاندان کو اتنا حوصلہ ہو جائے کہ اس کے بچے کی کفالت قابلِ اعتماد ہاتھوں میں ہے تو اس کا بوجھ آدھا ہو گیا۔یہ بھی اُمید ہو گی کہ اس بچے کی بہن کی شادی کے موقع پر شہر والے انکل ضرور شامل ہوں گے اورکچھ نہ کچھ ضرور کریںگے ۔ بس اتنے سے اعتماد سے ایک غریب خاندان کے چہرے پر پُراعتماد مسکراہٹ پیدا ہو جائے گی۔ دراصل غربت وسائل کی کمی سے نہیں ، بلکہ ہمدردی کے احساس میں کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ غربت پیدا کرنے میں ہماری خود غرضی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ایک خوشحال خاندان صرف ایک مفلوک الحال خاندان کی معاشی اور معاشرتی کفالت کا ذمہ ُاٹھا لے تو آج ہی شام پڑنے سے پہلے تک ملک سے آدھی غربت دُور ہو جائے گی۔ جسے وسیلہ مل جائے اسے وسائل کی ضرورت نہیں رہتی۔ شہر کے کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاںہر سال فرنیچر تبدیل ہوتا ہے اور دروازوں اور کھڑکیوں کے پردے ہر سال مزید دبیز ہوتے ہیں.... کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پرانا فرنیچر اونے پونے فرنیچر والے کوبیچنے کی بجائے اسے کسی ایسے گھر میں بھیج دیا جائے جہاں لوگوں کو فرنیچر کے سپیلنگ بھی معلوم نہیں ، اسی طرح پرانے پردے کتنے خاندانوں کی غربت کا پردہ رکھ سکتے ہیں۔ گھر میں پڑی ہوئی پرانی دوائیاں پڑی پڑی ضائع ہو جاتی ہیں، یہی ادویات کسی کیلئے لائف سیونگ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہر گھر میں کتابیں بھی پرانی ہو کرکچھ عرصے بعد ردّی کے بھاو¿ بکتی ہیں.... یہ لکھے ہوئے لفظ کی توہین ہے۔ گھر میں رکھی ہوئی پرانی کتابیں جنہیں اب کوئی نہیں کھولتا ایسے گھروں اور آبادیوں کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں جہاں لوگ پرانے اخبارکا ٹکڑا پڑھنے کوبھی ترستے ہیں۔


پس.... جب ایک خوشحال گھرانہ ایک کم حال گھرانے کے قریب ہوگا ‘تو انہیں ایک دوسرے کی ضروریات کا احساس ہو گا۔ یہاں شہر کے لوگ خالص دودھ، مکھن ، ساگ اور محبت کو ترستے ہیں وہاں تازہ ہوا کی طرح یہ سب کچھ وافر موجود ہے۔ لاہور سے صرف نوّے کلومیڑ کے فاصلے پر لوگ اپنے بچوں کو ہر مہینے دیہات کی سیر کروانے کیلئے لے کر جا سکتے ہیں، واپسی پر دعاو¿ں کے ساتھ ساتھ دیسی مرغی اور انڈے بھی مفت میں لا سکتے ہیں۔ ہمارا کام دو خاندانوں کو جوڑنا ہے ، اس کے بعد کے مراحل اَز خود طے ہوتے رہیں گے۔ اس عملی طریقِ کار سے گاو¿ں کے سکولوں میں بچوں کا ڈراپ آو¿ٹ ریٹ بہت کم ہو جائے گا، ظاہر ہے شہر والے انکل ہر مہینے بچے کی حاضری کے بارے میں بھی پوچھیں گے۔ یہ خیرات نہیں بلکہ خیر کا سودا ہے۔کسی غریب بچے کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کے بدلے میں جنت مل جائے تو یہ سوداگھاٹے کا نہیں !!


جس معاشرے میں دولت کی تقسیم ناہموار ہو چکی ہو وہاں غریب کی غربت کا ذمہ دار نہ چاہتے ہوئے بھی امیر ہوتا ہے....وہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور خود کوہلکا پھلکا کر لے۔ انشاءاللہ ، بشرطِ توفیقِ الٰہی....ایک دور افتادہ گاو¿ں میں بننے والا یہ ” لاہور انگلش سکول“ ایک مکمل تصور ِ خدمت concept of service کے طور پر سامنے آئے گا.... اور یہی تصورِ خدمت شہر کے غریب علاقوں میں بھی رچ بس جائے گا۔المیہ یہ ہوا کہ غریب علاقوں میں جس کی مالی حالت ذرا بہتر ہوئی وہ شہر کے امیر علاقوںمیں منتقل ہوگیا.... اور یوں پہلے سے بھی غریب ہوتا چلا گیا.... کہ امارت اور غربت کی حقیقت ایک تقابل کے سوا اور کیا ہے۔ لوگ محلوں سے نکل کر محلات میں آباد ہوتے گئے اور ان کی رفاقت میں کوئی غریب نہ رہا۔ اس لئے اب غریب اور مستحق خاندان تلاش کرنے کیلئے ہمیں اپنے اپنے شہر کے نواحی علاقوں کا رخ کرنا ہوگا!!


چندہ اکٹھا کرنے کیلئے فلاحی کام کا آغاز کرنا....اور فلاحی کام کیلئے چندہ اکٹھا کرنا....دونوں ہی تصورِ فلاح کی توہین ہیں۔دراصل فلاحی کام انفرادی سطح پر بہترین انداز میں ہو سکتے ہیں.... اجتماع کے اپنے مسائل ہیں ۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے تو چراغاں ہوتا ہے۔عملی خدمت ہمدردی سے شروع ہوتی ہے اور فلاح پر ختم ہوتی ہے.... اور یہ فلاح دو طرفہ ہے.... فارمولا سادہ سا ہے....ظاہر میںکسی کی معاشی اور معاشرتی فلاح کا باعث بنو اور باطن میں اپنے لیے دینی اورروحانی فلاح پالو!! درحقیقت خدمت ایک روحانی سطح کا تجربہ ہے۔ خاموش خدمت ....بولتی ہوئی روحانیت ہے۔


ای پیپر