تاپی:پاک افغان امن کا ضامن منصوبہ!
27 فروری 2018 (19:22) 2018-02-27

تاریخی لحاظ سے اس منصوبے کا آغاز مارچ 1995ءمیں ہوا تھا۔جب پاکستان اور ترکمانستان نے گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کئے تھے۔اس وقت کابل کے حکمران طالبان تھے۔۔چونکہ اس پائپ لائن نے افغانستان سے گزرنا تھا۔اس لئے ان کی منظوری ضروری تھی۔جنوری 1998 ءمیں طالبان حکومت نے اجازت دی ۔اگست 1998 میں نیروبی میں امریکی سفارتخانے پر حملے ہوئے۔واشنگٹن نے اس کی ذمہ داری اسامہ بن لادن پر ڈال دی۔جس کی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکا رہوا۔افغانستان میں طالبان حکومت کے خا تمے کے بعد دسمبر 2002 ءمیںترکمانستان ،افغانستان اور پاکستان نے گیس پائپ لائن کے ایک اور منصوبے پر دستخط کئے۔2005 ءمیں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے فزیبیلٹی رپورٹ بھی جمع کی ،لیکن افغانستان میں امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے یہ منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا۔اپریل 2008ءمیں پاکستان ،ہندوستان اور افغانستان نے ترکمانستان سے قدرتی گیس خریدنے کا معاہد ہ کیا۔دسمبر 2010 ءمیں اس معاہدے پر ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں دستخط ہو ئے۔اسی دروان افغانستان ،پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ٹرانزٹ فیس پر اختلافات پیدا ہوئے۔تقریبا چار سال بعد باہمی مشاورت کے بعد تینوں ملکوں کے درمیان اختلافات ختم ہو گئے،جس کے ساتھ ہی اس منصوبے پر عملی طور پر کام شروع کر نے کی راہ ہموار ہو گئی۔


ترکمانستان،افغانستا،پاکستان اور انڈیا کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ ( تاپی ) کا سنگ بنیاد 13 دسمبر 2015 ءکو ترکمان صدر قربان علی ،افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی ،اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور ہندوستان کے نائب صدر حامد انصاری نے رکھی تھی۔یہ منصوبہ1735 کلو میٹر پائپ لائن پر مشتمل ہے، جس کی لاگت دس ارب ڈالر ہے۔اس منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان کوروزانہ 1325 ملین مکعب فٹ گیس ملے گی۔یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب سالانہ گیس فراہم کریگی۔جس میں سے دو ارب افغانستان جبکہ 12 ارب مکعب میٹر پاکستان اور ہندوستان حاصل کر سکیں گے۔یہ گیس پائپ لا ئن ترکمانستان کے گا لکی نینس (Galkynysh gas field )گیس فیلڈ سے ہوتی ہوئی افغانستان کے صوبہ ہرات اور قندہار کو ملا نے والی 557 کلو میٹر طویل قندھار ۔۔ہرات ہائی وے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں داخل ہو گی۔کوئٹہ سے ملتان اور پھر وہاں سے ہندوستان کے شہر فیضی لکہ (Fazilka ) جائے گی ۔


تا پی گیس پائپ لائن منصوبہ سے افغانستان میں معاشی اور صنعتی تر قی کو وسعت ملے گی۔ہرات اور قندہار سے متصل صوبوں میں معاشی تر قی ہو گی۔اسی طر ح ان صوبوں میں پہلے سے مو جود صنعتوںکو گیس ملنے کی وجہ سے وہاں پیداوار میں اضا فہ ہو گا،جبکہ اندھن دستیاب ہونے کی وجہ سے صنعت کار نئے کارخانے بھی لگا ئیں گے۔صنعتیں لگنے کی وجہ سے روزگار میں اضا فہ ہوگا،بے روزگاری میں کمی ہو گی۔ترکمانستان ،ایران اور پاکستان کے کارخانہ داروں کو ہرات اور قندہار میں صنعتیں لگانے کے مو اقع میسر آئیں گے۔بلو چستان کے سرمایہ کاروں کو اس سے زیادہ فائد ہ ملے گا اگر وہ قندہار یا کسی اور صوبہ میں سرمایہ کاری کر نا چا ہتے ہو۔ تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ کی سیکیورٹی کے لئے افغانستان کی حکومت نے 6000 سے 7000 تک سیکیورٹی اہلکار بھر تی کر نے کا فیصلہ کیا ہے،جس کی وجہ سے بے روزگار تعلیم یا فتہ نوجوانوں کو ملازمت مل جائے گی۔اسی طر ح اس منصوبہ سے جہاں ایک طر ف تر بیت یافتہ افراد کو روزگار ملے گا وہاں عام مزدور کو بھی روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ افغانستان کے نو جوان جو بے روزگاری کی وجہ سے تعمیری سرگرمیوں کی بجائے تخریبی سرگرمیوں کی طرف جارہا تھا ،اس منصوبہ سے امید پیدا ہو ئی ہے کہ وہ تعمیر کی طرف واپسی کا سفر شروع کر دے گا۔جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ تخریب کاروں کو افرادی قوت ملنا بند ہو جائے گی ،جس کی وجہ سے افغانستان میں قیام امن کے حصول کے امکا نات بڑھ جا ئیں گے۔


تا پی منصوبہ شروع کر نے اور ایسے تکمیل تک پہنچانے کے بعد اس کی سیکیورٹی سب سے اہم مسئلہ تھی۔اسی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا۔لیکن اب افغان طالبان نے بھی اس منصوبہ کی حمایت کی ہے۔جس کی وجہ سے سیکیورٹی کا مسئلہ بھی اب حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔پاکستان میں بھی سیکیورٹی کے بارے میں پہلے خدشات مو جود تھے۔لیکن اب یہ مسئلہ اگر مکمل نہیں تو کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔


تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ سے بلو چستان کی احساس محرومی کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے،تا ہم اس کا انحصار ارباب اختیار و اقتدار پر ہے ۔بلوچستان کوشروع ہی شکایت ہے کہ گیس ہماری ہے۔دوسرے صوبے اس کو استعمال کر رہے ہیں،لیکن بلو چستان کے جن علاقوں سے گیس نکل رہی ہے وہاں صنعتی تو کیا گھریلوں صارفین کو بھی گیس میسر نہیں۔ اس گیس پائپ لائن کی وجہ سے بلو چستان کی اس احساس محرومی کا ازالہ ممکن ہے۔اس کے دو ممکنہ طر یقے ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ حکومت بلو چستان میں پیدا ہو نے والی گیس سے وہاں کی ضروریات پہلے پوری کریں اور تاپی گیس منصوبہ سے ملنے والی گیس دوسرے صوبوں کو دیں ،یا تا پی گیس سے بلو چستان کی ضروریات پہلے پوری کریں ،جو زائد ہو وہ دوسرے صوبوں کو دیں۔اسی طر ح نہ صرف بلو چستان کی یہ شکایت ختم ہو جائے گی ،بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی ان کا مناسب حصہ مل جائے گا۔


تا پی گیس منصوبہ سے اگر ایک طرف افغانستان اور پاکستان میں معاشی اور صنعتی تر قی ہو گی۔بے روزگاری میں کمی آئے گی۔ نئے کارخانے قائم ہو ں گے۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گاتو دوسری طر ف یہی منصوبہ دونوں ملکوں میںامن کو معمول پر لانے کا ضامن بھی ہو سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دونوںملکوں کے درمیان تجارت ہوگی ۔لو گوں کا آنا جانا لگا رہے گا۔ایک دوسرے کے ساتھ معاشی اور تجارتی مفادات وابستہ ہو ں گے،تو دونوں ملکوں کی کوشش ہو گی کہ وہاں امن ہو۔ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں تاکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں تعطل نہ ہو۔اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاپی گیس پائپ لائن جیسے چند اور بڑے منصوبے شروع ہو جائیں تو ممکن ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہ صرف معمول پر آجائیں بلکہ اسلام آباد اور کابل میں امن وامان کی صورتحال بھی خود بخودبہتر ہو جائے۔اس لئے کہ عوام اور حکومتوں کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہو جائیں گے۔


اس وقت پاکستان،افغانستان،چین ،روس اور ترکی کوششیں کر رہے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو ،لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا ۔اگر یہ تما م مما لک اس خطے میں قیام امن کے لئے مخلص ہیںتو واحد راستہ یہی ہے کہ کابل ،دہلی اور اسلام آباد کومعاشی اور تجارتی بندھن میں باندھ دیں۔اگر یہ ملن ہو گیا۔پاکستان ،ہندوستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لئے معاشی اور تجارتی مجبوریاں بن گئی تو پھر خطے میں امن کا قیام سالوں نہیں بلکہ مہینوں کی بات ہو گی۔اس کے برعکس اگر معیشت اور تجارت کے بغیر بات چیت ہو گی تو ممکن ہے کہ امن قائم ہو،لیکن اس کے لئے سالوں انتظار کر نا ہو گا۔پھر اگر امن ہو بھی جائے ،تو پھر بھی خطے کے ممالک کا مسئلہ معیشت اور تجارت ہی ہو گا۔


ای پیپر