ماضی کا ایک ورق !
27 فروری 2018 (19:18)

کہتے ہیں جب آپ اپنے ”حال “ سے پریشان ہو جائیں تو ماضی میں جھانک لینا چاہئے ، ماضی کے خوفناک غاروں میں کہیں نہ کہیں عبرت، خوشی یا اطمینان کا کوئی لمحہ برآمد ہو سکتا ہے ۔ آج عالم اسلام جس صورت حال سے دو چار ہے،اس کے تناظر میں ہمیں ماضی میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ شاید ماضی کے گمنام جزیروں سے عبرت کی کوئی کرن میسر آ جائے ۔اموی خلافت کے دور میں مغرب میں اسلامی علوم و فنون نے خوب ترقی کی ، اسلامی افکار و نظریات کو خوب عروج حاصل ہوا اور اسلامی تہذیب وثقافت نے مغربی قوموں کو اپنے اندر خوب جذب کر لیا۔ مغرب کے اموی خلفاءمشرق کے عباسی خلفاءسے زیادہ کامیاب سیاست کے مالک تھے، اندلس میں خلفائے بنو امیہ نے مغربی قوموں کو اپنے ثقافتی، تہذیبی، دینی اور لسانی اثرات سے متاثر کر کے ان سے میل جول پیدا کیااور بغداد میں خلفائے بنو عباس غیر قوموں پر اپنا اثر ڈالنے کے بجائے خود ہی ان کے اجنبی اثرات و خیالات سے متاثر ہوگئے ۔

دوسری قوموں نے آکر ان کی سیاست ، ثقافت، خیالات اور زبان و ادب پر قبضہ جمالیا ۔ یورپ کو علم کی روشنی اندلس کی اسلامی درسگاہ ہی سے ملی اور مغربی قوموں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا، اس معاملہ میں بعض مسیحی پیشوا سبقت لے گئے،انہوں نے اندلس کے شہر طیطلہ میں ایک مدرسہ قائم کیا جس میں عربی علوم کو لاطینی میں ترجمہ کرنے کا شعبہ قائم کیا گیا، اندلس کے یہودیوں نے اس علمی کام میں خوب حصہ لیااور عربی کی بڑی بڑی کتابیں لاطینی میں ترجمہ کیں ، ان تراجم نے مغربی اقوام کو علوم وفنون کی روشنی بخشنی شروع کی جس کی وجہ سے اہلِ مغرب میں علمی دلچسپی نئے رنگ اور نئی امنگ کے ساتھ ابھرنے لگی، عربی کتابوں کے تراجم کا بہت بڑا ذخیرہ مغرب کے پاس آ گیا۔ان اداروں میں جن کتابو ں کا ترجمہ کیا گیا ان کا زیادہ تر حصہ فلسفہ اور طبعی اور عقلی علوم سے تھا اور اس وقت خاص طور سے زکریا رازی، ابو القاسم زہراوی، ابن رشد اور ابن سینا جیسے ماہرین، اسلامی فلسفہ اور علوم عقلیہ کی کتابیں مغربی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں، نیز اہلِ یورپ نے عربوں کے واسطہ سے اسی زمانہ میں جالینوس، بقراط، افلاطون ، ارسطو اور اقلیدس کی کتابوں کو جو یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہو چکی تھیںان کا ترجمہ بھی لاطینی زبان میں کیا۔اور یہی کتابیں یورپ میں علمی شعور کے ساتھ مقبول ہوئیں اور پڑھی گئیں، ان کتابوں میں سے اکثر و بیشتر پانچ چھ صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں عقلی و طبعی علوم و فنون کے لیے نصاب بنی رہیں ، بلکہ ان میں سے بعض کتابیں تو انیسویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلِ درس رہیں۔

اس طرح اہل مغرب نے اندلس کے اسلامی علوم و فنون کی شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنے کلیسائی دورِ جہالت سے نجات حاصل کی اور مسلمانوں کے توسط سے قدیم یونانیوں کی کتابیں اور خود مسلمان عقلاءو فلاسفہ کی کتابیں حاصل کیں اور ان کو پڑھا ، اس علمی نہضت کے نتیجہ میں آج یورپ ایجاد و فلسفہ اور فکر و سائنس میں موجودہ مقام تک پہنچا۔ ہسپانیہ کی درسگاہ سے جو پہلا مغربی عالم نکلا وہ ایک فرانسیسی پادری بریزت نامی تھا، پہلے اس نے اشبیلیہ کی راہ لی اور وہاں تحصیل علم کیا، پھر قرطبہ میں جاکر ریاضی اور فلکیات وغیرہ کا علم تین سال تک حاصل کیا۔ پھر فرانس آ کر ان علوم عربیہ سے عوام کو روشناس کرایا جس پر اسے جادوگر کا خطاب دیا گیا۔ اسی زمانہ میں اٹلی کے بعض لکھے پڑھے لوگوں نے عربی زبان سیکھی اور اسے دنیا کی بہترین ادبی زبان سمجھ کر اس میں مہارت حاصل کی۔اس طرح مغربی قوموں میں علمی شعور کی جڑ پیدا ہوئی اور ترقی پسند پادریوں اور مذہبی طبقوں نے عربی زبان اور اسلامی علوم سے دلچسپی لینی شروع کی، وہاں کے لوگوں نے اندلس کی اسلامی درسگاہوں کا رخ کیا اور واپس آ کر اپنے ملک میں علم و حکمت کی بساط بچھائی اور یوں آہستہ آہستہ یورپ میں علمی شعور پیدا ہوتا گیا۔

چنانچہ اہل مغرب نے آگے چل کر عربی علوم و فنون کے علاوہ مشرق کے دوسرے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کی اور ان کی توجہ تجارت ، استعماریت اور دینی تبلیغ کی طرف بھی ہوگئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ نے ان نظریات کو سامنے رکھ کر مشرق کے ساتھ ربط پیدا کرنا شروع کیا، مشرقی دنیا کے حالات کا پتہ چلایا، یہاں کے ملکی اور جغرافیائی حالات دریافت کیے ، یہاں کے دینی تہذیبی اور تمدنی و معاشرتی رجحانات معلوم کیے اور مشرقیت کے مخفی خزانوں کی دریافت کے لیے عام مشرقی علوم و فنون حاصل کیے ، اپنے یہاں مشرقی ادب کو زندہ کیا ، یہاں کی کتابوں کو چھاپا ، ان کے ترجمے کیے اور عربی زبان کے علاوہ فارسی، ہندی، سنسکرت وغیرہ زبانوں کو حاصل کیا، ان کی کتابوں کو پڑھا اور ان زبانوں میں خود بھی کتابیں لکھیں۔اہل مغرب نے پریس کے ذریعے عربی زبان کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں، مشرقی علوم و فنون کی فراہمی کے لیے مخصوص کتب خانے قائم کیے اور کتابیں یکجا کیں۔انیسویں صدی عیسوی کی ابتداءمیں یورپ کے مختلف کتب خانوں میں عربی زبان کی اڑھائی لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جو لینن گراڈ، پیرس، برلن، لندن، آکسفورڈ، روم اوراسکوریال وغیرہ کے کتب خانوں میں رکھی ہوئی تھیں، اسی طرح عربیت کے لیے اہل مغرب نے بہت سی علمی اکادمیوں کی بنیاد ڈالی اور علمی مجلسیں قائم کیں، جن میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا تھا۔اس زمانہ میں لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں مشرقیات پڑھنے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی گئی، انگلستان کے بڑے بڑے فضلاءاس کے ممبر تھے۔1820ءمیں فرانسیسی مستشرقین نے فرانس میں عربی کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی اوراس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جس میں عربی اور عربیت کے بارے میں قیمتی معلومات ہوتی تھیں۔

اسی طرح امریکہ، روس، اٹلی ، بلجیم، ہالینڈ، ڈنمارک وغیرہ کے مستشرقین نے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے نقشِ قدم پر چل کر عربی علوم و فنون کے لیے اکادمیا ںاور سوسائٹیاں قائم کیں، کتابیں شائع کیں اور رسالے جاری کیے ، مشرقی علوم و فنون کے سلسلے میں یورپ کے مستشرقین نے بڑی بڑی کانفرنسیں بھی کیں، بلکہ آج تک مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنسیں دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی رہتی ہیں۔اہل یورپ نے عربی علوم کی نشر و اشاعت کے لیے عربی کے مجلات و جرائد جاری کیے ، دنیا بھر سے مخطوطات اور قلمی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے ، نادر و نایاب اور عمدہ سے عمدہ کتابوں کو بہترین حواشی ،تحقیق اور نوٹ کے ساتھ شائع کیا ، ان میں فہرستوں کا اضافہ کیا اور مختلف ناموں ، موضوعات اور مقامات کی الگ الگ فہرست مرتب کرکے لگائی ، الفاظ کی تحقیقات اور اصول لغت کی تنقیح میں کمال دکھایا۔اس طرح اہل یورپ نے اسلامی علوم و فنون اور عربی زبان کو حاصل کر کے اپنی زندگی میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کیا جس نے ایک طرف ان کو علم و تحقیق، سائنس و ایجاد اور فلسفہ میں مشہور کیا، دوسری طرف ان کو مغرب سے اٹھا کر مشرقی ممالک کی حکومت کے تخت پر بٹھادیا۔مغرب میں اسلامی علوم و فنون کا ذوق ختم نہیں ہوا بلکہ آج بھی یورپ اور امریکہ میں اسلامیات پر بہت کام ہو رہا ہے اور ان ممالک کے ماہرین اور اہل علم عربی زبان اور عربی علوم وفنون پر ریسرچ اور تحقیق میں لگے ہوئے ہیں اور وہاں کی یونیورسٹیوں میں اس کام کے لیے باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں۔


ای پیپر