سرخیاں ان کی....
27 فروری 2018 (19:15) 2018-02-27

٭.... پنجاب حکومت کا ہڑتالی بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

0.... اگرچہ ہڑتال کرنا اور دفاتر کی تالا بندی جیسے اقدامات بغاوت کی دفعات کے تحت آتے ہیں اور ملکی بحران کا سبب بنتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ بلا امتیاز احتساب کب اور کیسے ہو گا کیونکہ جب کبھی کرپٹ سیاست دانوں یا ان کے سہولت کاروں کا احتساب شروع ہوتا ہے تو تمام کرپٹ عناصر یک آواز ہو کر کہتے ہیں کہ صرف سیاست دان ہی لائق احتساب کیوں؟ یعنی دیگر افراد بشمول جرنیل، ججز اور سرمایہ داروں وغیرہ کا کیوں نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ خود ایسا نہیں کرتے مثال کے طور پر میثاق جمہوریت پر ممبر شپ کرنے والی دونوں بڑی جماعتوں کو جب جب اقتدار ملا، انہوں نے با اثر افراد کے خلاف آنکھیں بند رکھیں۔ اب جبکہ اس بد قسمت قوم کے نصیب جاگنے لگے ہیں اور نیب کے سربراہ چیئرمین جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں بلا امتیاز احتساب کا شکنجہ کسا جانے لگا ہے

اور کرپٹ افراد کے کالے کرتوت اور ان کے مدفون معاملات سامنے آنے لگے ہیں تو چند آوازیں پھر ابھرنے لگی ہیں کہ سازش ہو رہی ہے۔ حالانکہ کرپٹ افراد کی ملی بھگت سے لبریز سازشوں اور بد عنوانیوں نے وطن عزیز کو سیاسی اور انتظامی بد حالی سے دوچار کر دیا ہے۔ با وجود اس کے کہ اراکین پارلیمنٹ کی طرح انتظامی افسران نے بھی ریاست پاکستان اور آئین پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے تو پھر ایک بیوروکریٹ کی گرفتاری پر اس قدر ردعمل کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے نیب کو دھمکی دی اور کہا کہ شاید تم جانتے نہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ۔ بلاشبہ ہماری بیوروکریسی میں ایسے ایسے با کردار افسران کی فہرست ہے کہ فرشتے وضو کریں۔ تو پھر محض احد چیمہ کی گرفتاری اور اتنی صاحب کار سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ کراچی میں ڈاکٹر عاصم یا شرجیل میمن کی نیب گرفتاری پر پیپلز پارٹی کو پورا سندھ تالے لگا کر بند کر دینا چاہیے تھا۔

رہی بات فوجی جرنیلوں کے احتساب کی تو عرض ہے کہ ابھی کچھ عرصہ قبل کچھ فوجی جرنیلوں کو دفاعی معاہدوں میں کمیشن لینے اور الزامات ثابت کرنے پر سخت سزائیں سنائی گئیں۔ اب بھی میرے ذرائع کے مطابق تین سابق جرنیلوں اور کئی سابق فوجی افسران کے خلاف نیب متحرک ہو چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جو جو شخص قومی خزانے کو نقصان پہنچائے اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ اور ایسے افراد کو بچانے کے لیے جو ملک دشمن اور قومی مجرم ہوں حکومت کو ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔ نہ ہی ایسے افراد کی کسی بھی سطح پر Advocacy ہونی چاہیے۔ البتہ ہمارے قومی ادارے نیب کا بھی اولین فرض ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کی عزت نفس مجروح کرنے سے ہر حالت میں گریز کرے اور قومی سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ ان کی خاطر جو ان کے ماتحت محب وطن ،فرض شناس بیوروکریٹس اپنے اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام دیتے ہیں ان کی عزت نفس کی پامالی کا بھی خیال رکھا کریں ورنہ میرے اللہ کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔

ہوتے ہیں وہ بالا آخر خود بھی ذلیل و رسوا

جو لوگ دوسروں کی عزت اتارتے ہیں

............................

٭.... کلثوم نواز کی واپسی....؟

0.... امکان غالب ہے کہ مسز نواز شریف جلد وطن لوٹ آئیں گی۔ خدا انہیں صحت مند زندگی سے سرفراز کرے، آمین۔ درحقیقت جناب نواز شریف کی تا حیات نا اہلی کے بعدیہی بہتر سمجھا جا رہا ہے کہ بیگم کلثوم نواز واپس آ کرقومی سیاست میں بھرپور کردار ادا کریں گی۔اس لیے امکان ہے کہ وہ اس بار نئی سیاست کو عملی جامہ پہنائیں گی اور خوشامدی گھوڑوں کی باگیں کھونٹے سے کھول دیں گی بلکہ Ministry of Flatterology کا بھی باب بند کر دیں ۔ بعد احترام میرا بھی ان کی خدمت میں یہی مشورہ ہو گا۔

............................

٭.... دُبئی میں اثاثوں کا کھوج لگانے کے لیے ایف آئی اے سرگرم

0.... میرے بعض ذرائع کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے تقریباً 200 افراد کو طلبی کے نوٹس جبکہ دُبئی میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی فہرست دی ہے ۔ جس پر FIA نے انہیں دُبئی میں اثاثہ جات بنانے اور ذرائع آمدنی کے بارے میں وضاحت کے لیے طلب کر لیا ہے۔امکان غالب ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ایسے افراد ہیں جنہوں نے سرمایہ کی پاکستان سے منتقلی کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کیے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض افراد نے اپنی جائیدادوں کے متعلق جواب تو دیے مگر یہ جائیدادیں کہاں سے سرمایہ حاصل کر کے بنائی گئیں تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔لہٰذا عنقریب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس سامنے آسکتے ہیں۔ کچھ افراد نے مجھے اپنی پریشانیوں کی کہانی سناتے ہوئے اپنے اپنے وکلاءسے مشاورت بھی شروع کر دی ہے۔ کسی شاعر نے کہا تھا۔

سرِ محفل جو اس رات لی مستی میں انگڑائی

نظر آیا سبھوں کو چودھویں کا چاند لے میں


ای پیپر