قانون ، انصاف اور ہم
27 فروری 2018 (19:10)

جناب احد چیمہ کے پکڑے جانے پر بیوروکریسی کا غم وغصہ قابل ِ دید ہے۔نیب کی جانب سے لگایا جانے والا الزام غلط ہے یا درست ۔ وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف اربوں کھربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں یا نہیں۔یہ سب ضمنی باتیں ہیں۔اصل کرودھ تو یہ ہے کہ سلطنتِ برطانیہ کے اصل وارثوں کو ہاتھ لگانے کی، ان کالے لوگوں کو جرا¿ت کیسے ہوئی۔خیال رہے کہ زور اس پر نہیں کہ کسی بھی پاکستانی کی گرفتاری کے لیے شواہد کا ایک کم ازکم معیار اختیار کیا جائے، پھر سارے ثبوت کسی قانونی ادارے کے پاس درج کروا کر پھندہ تیار کیا جائے۔ایسا ہوتا نہیں ہے۔کیونکہ ایسی صورت میں وہ سارا مزہ غارت جائے گا؛ جو اس وقت کسی کو بھی پکڑکر ذلیل وخوار کرنے میں ہے۔آخر دنیا کے کتنے ممالک میں یہ ممکن ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی سطح کے فرد کو دہشت گردو ںکا علاج کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جائے اور روزانہ کی بُنیاد پر کروڑوں نہیں اربوںکے گھپلوں کا میڈیا سے اعلان کیا جائے؟ اور نتیجہ ٹھن ٹھن گوپال نکلے !تاہم غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی دفعہ پی پی پی اور جناب احد چیمہ کی دفعہ افسرانِ اعلیٰ نے، وہ کچھ نہیں کہا جو کہنا چاہیے تھایعنی جس کی طرف سطورِ بالا میں اشارہ کیا گیا ہے۔۔ان کا صرف ایک ہی مدعا ہے۔ہمارے بندوں کو ہاتھ مت لگاﺅ۔


یہ معاملہ محض ایک سیاسی جماعت یا ایک ادارے کا نہیں ہے۔تمام سیاسی جماعتیں اسی اصول پر عمل کرتی ہیں۔تمام ادارے اسی اصول کی پیرو ی کرتے ہیں۔فوج اور عدلیہ ویسے ہی زمینی اصولوں سے اوپر ہیں۔لیکن ایک عام پاکستانی کو کیا تحفظ حاصل ہے؟ حضور ، یہی تو خواص فرما رہے ہیں۔جب سارا پاکستان آپ کی چراگاہ ہے تو ہم پر بُری نظر ڈالنا کہاں کی بھائی بندی ہے؟ آخر ڈی ایس پی راﺅ انوار جو شکار کیا کرتا تھا(قرائن سے لگتا ہے کہ آئندہ بھی کرے گا) کیا وہ سب پاکستانی نہیں تھے؟ ریاست اور بالا دست طبقات کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔وہ تو محسود قبائل کے پُرامن احتجاج نے راﺅ کو تھوڑی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ورنہ اس نے اس دفعہ بھی کچھ نیا نہیں کیا تھا۔تاہم محسود قبائل نے راﺅ انوار کے ہاتھوں قتل ہونے والے تمام مظلومین کی بجائے اپنا احتجاج ایک فرد کے قتل تک محدود رکھ کر نقیب اللہ اور خود اپنے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ویسے چند’ شقی القلب‘ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی زبردست کی فعال پشت پناہی کے بغیر راﺅانوار بننا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ راﺅ صاحب نے ایسا کام کرکے اتنا نام کمالیا ہے کہ بھارت نے ’ جولی ایل ایل بی ۔ٹو‘ کے نام سے ایک فلم بنا کر اس بہادر بچے کو خراج ِ تحسین پیش کیا ہے،اس معاملے میں خود راﺅ صاحب کا بیان ہے کہ میری کسی بھی کوٹھی پر پولیس نے چھاپہ نہیں مارا۔ پاکستان میں ڈی ایس پی کی ماہانہ تنخواہ دو کلو سونا ہے۔ جبکہ مزے کا تبصرہ جناب مبشر زیدی کا ہے۔’ڈان کو تیرہ ملکوں کی پولیس ڈھونڈ رہی ہے۔لیکن ان میں پاکستان کی پولیس شامل نہیں ہے‘۔ کیونکہ کبھی بندے یا ادارے کا موڈ کام کرنے کا نہیں بھی ہوتا۔ لیکن یہ ساری باتیں کھیل تماشے سے زیادہ نہیں ہیں۔جب ہم دہشت گردی کے خلاف فعال بین الاقوامی ادارے (financial action task force ( کی گرے لسٹ میں ہیں۔جو بات ڈان لیکس میں ان کو بہت ناگوار گزری تھی، وہ بات اب ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی کے مصداق اس ادارے میں ہمارے بہترین دوست چین اور سعودی عرب بھی کہہ رہے ہیں۔اگر ہمارے ادارے کسی سیاسی ایجنڈے کی بجائے پاکستان کی سلامتی کو در پیش اس حقیقی خطرے کا تدارک کر یں ، جو وہ بڑی حد تک کر سکتے ہیں، تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

ویسے یہ مسئلہ ایک سنجیدہ بحث اور سنجیدہ تر عمل کا تقاضا کرتا ہے کہ آخر ہم اس مقام تک پہنچے کیسے؟ نیز کیا کیا اقدامات لئے جا سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں حالات اس نہج تک نہ پہنچ پائیں۔غالباً ایک بڑی وجہ ہماری ریاست کے کرتا دھرتا کے اذہان میں موجود الجھاﺅ ہے۔ چین، سعودی عرب اور ایران نظریاتی ریاستیں ہیں۔(شاید آج کل اسلام کے بھی سعودی عرب، ایران اور ترکی ، پاکستان سے پہلے دعویدار ہیں)۔لیکن ان تمام ممالک کے بارے میں آنکھیں بند کر کے کہا جا سکتا ہے کہ جہاں ان کے ملک کے مفاد کا تعلق ہے وہ، دین دھرم ، شرم و حیا سے پہلے ، صرف اور صرف اپنے مفاد کا خیال کریں گے۔ افسوس ، اتنے اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ پاکستان کے بارے میں نہیں کیا جا سکتا! آخر کیوں؟
........................


خدا جانے کیوں ، جناب سجاد علی شاہ، چیف جسٹس آف پاکستان آج یاد آ رہے ہیں۔مرحوم کے کمرہِ عدالت میں جب اس وقت کا وزیرِ اعظم اپنی کابینہ کے ساتھ غیر مشروط معافی کا طلبگار تھا ۔ عدالت کی سربلندی کا پاکستان میں وہ مقام ِ عروج تھا۔ لیکن افسوس، تنبیہہ اور معافی کی بجائے چیف صاحب نے فیصلے کو آنے والے دن تک موخر کر دیا۔ ( تجربہ کار لوگوں کا خیال تھا ، چیف جسٹس صاحب اپنی بیگم سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں)۔لیکن افسوس ، عدلیہ کی سربلندی پر مہر ثبت کرنے کا وقت نکل چکا تھا۔ پھر عدلیہ کو باعزت مقام جناب افتخار چوہدری ہی کے زمانے میں ملا۔ موجودہ عدلیہ کے سیاسی فیصلوں نے اس کے وقار میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔تاہم مولوی....سری، ملتان کے جوڈو کراٹے وکیل صاحب،جو ملتان اور لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور ڈاکٹر شاہد مسعود: معاشرے میں دیوانگی کم کرنے اور اپنا اعتبار بحال کرنے کے لیے عدالتِ عظمیٰ اور چیف جسٹس کو ان حضرات کا مقدمہ فوری ، روزانہ کی بُنیاد پر سننا چاہیے۔ اگے ساڈے پھاگ لچھئے۔


ای پیپر