عدلیہ سے تصادم کیوں؟
27 فروری 2018 (19:08)

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے الیکشن ایکٹ 2017ءکے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل کی جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ سنایا۔ عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت کیلئے نااہل قرار دے دیا اور الیکشن کمیشن کو ان کا نام بطور صدر پاکستان مسلم لیگ( ن) ہٹا دینے کی ہدایت کرتے ہوئے 28جولائی کے بعد ان کی جانب سے بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے تمام اقدامات کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔


چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں۔آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے جس میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔ فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینیٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے۔آرٹیکل 62 اور 63ارکان اسمبلی کا معیار مقرر کرتی ہے۔ 63اے پارٹی سربراہ سے متعلق ہے۔ الیکشن ایکٹ پارٹی صدر کو بڑا اختیار دیتا ہے۔ آرٹیکل 62اور 63 اور 63 اے کو ملا کر پڑھا جائے۔ آرٹیکل 17سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے مگر آرٹیکل 17میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔سپریم کورٹ نے سیکشن 203 الیکشن ایکٹ 2017ءکو منسوخ نہیں کیا۔ ایکٹ موجود رہے گا۔


نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اکتوبر 2017ءمیں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ءکی شق 203 میں ترمیم کی، جس کے بعد نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں اوراس ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی گئیں جس کا فیصلہ سنایا گیا۔


سابق وزیراعظم نے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد جس طرح عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور جلسے اور جلوسوں میں فیصلے کی تضحیک اڑائی اس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ نواز شریف اپنا سیاسی کیریئر داو¿ پر لگارہے ہیں۔ پارٹی کے مخلص لوگوں نے نواز شریف کو عدالت کے ساتھ محاذ آرائی نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے اس صائب مشورے کو نظر انداز کیا اور اپنے تمام حربوں کو استعمال کیا اور عدلیہ کو دباو¿ میں لانے کی کوشش کی لیکن عدالت نے آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔


نواز شریف نے عدالت سے محاذ آرائی کا جو راستہ اختیا رکیا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے جمہوریت اور ملک کیلئے سودمند نہیں ہے۔ جمہوریت میں رواداری، تدبر اوربصیرت ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ہاں برداشت کا جمہوری کلچر نہیں ہے جس سے سیاست میں محاذ آرائی بڑھتی جارہی ہے اور سیاسی عدم استحکام کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ عدلیہ کو کمزور کرنے اور اس کو تنقید کا نشانہ بنانے والے یہ نہیں جانتے کہ عدالتیں جو بھی فیصلہ دیتی ہیں وہ آئین کو مدنظر رکھ کردیتی ہیں۔ آج ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ موجود ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا۔ نواز شریف کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ محاذ آرائی سے گریز کریں، اداروں سے تصادم کا راستہ جمہوریت کیلئے سراسر نقصان دہ ہوتا ہے۔


سب کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے۔ اداروں کے ساتھ تصادم ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ بدقسمتی سے نواز شریف نے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا۔ نواز شریف نے مذاق بنا رکھا ہے۔ نواز شریف کی مہم جوئی جمہوریت کے خلاف خطرناک ہے۔ نواز شریف پارلیمنٹ کو متنازع بنانا چاہتے اور عدلیہ سے لڑانا چاہتے ہیں۔ آئین سپریم ہے، پارلیمنٹ سپریم ہے قانون بناتا ہے اور تبدیل کرتا ہے۔ عدلیہ قانون کی تشریح کرتی ہے۔ عدالتی فیصلوں پر عمل نہ ہوا تو ملک میں انارکی پھیلے گی۔ عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے روےے یا ان کے بارے میں بحث کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو اس کا متبادل طریقِ کار کیا ہے؟ آئین پاکستان کے آرٹیکل 68 کے مطابق پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) اس کی مجاز نہیں ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں بحث یا ان کا رویہ یا طرزعمل پارلیمنٹ کے فلور پر زیربحث لایا جائے۔ اس سلسلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 209 کو استعمال کر کے حکومت کو کسی جج کے روےے کے خلاف شکایت ہو تو وہ یہ مسئلہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجنے کی مجاز ہے البتہ اس پر پارلیمنٹ کے فلور پر بحث کرنا آرٹیکل 68 کی سراسر خلاف ورزی ہے۔


چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے کھل کر پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہے البتہ پارلیمنٹ سے بھی سپریم اور اوپر آئینِ پاکستان ہے جس کے تحت عدلیہ کام کرتی ہے اور جس کے تابع تمام پاکستانی شہری ہیں۔ چیف جسٹس نے کچھ روز پہلے نااہلی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کیا کوئی چور یا ڈاکو کسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ جس پر یہ بحث زیادہ گرم ہوگئی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے یہ بیانیہ زور پکڑ گیا کہ ججز کو اپنے ریمارکس کا خیال رکھنا چاہئے۔ انہی ریمارکس سے ملتے جلتے ریمارکس ہمسایہ ملک بھارت کے چیف جسٹس جسٹس دیپک مشرا نے بھی حال ہی میں ایک کیس میں دئےے البتہ بھارت کے کسی کونے سے ان ریماکس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی۔


آئین کے تحت پارلیمنٹ کو دوسرے ریاستی اداروں پر اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ وہ آئین اور قانون سازی کا مجاز فورم ہے جبکہ تمام ریاستی اداروں نے پارلیمنٹ کے وضع کئے گئے قوانین کے تابع ہی اپنے فرائض ادا کرنا ہوتے ہیں البتہ عدلیہ کو آئین کی تشریح کرنے والے ادارے کی حیثیت سے دوسرے ریاستی اداروں پر اس حوالے سے فوقیت حاصل ہے کہ کسی قانون یا آئینی شق پر اس کی روح کے مطابق متعلقہ اداروں سے عملدرآمد کرانے کی اس کی ذمہ داری ہے۔ چونکہ آئین میں اس امر کا تعین کردیا گیا ہے کہ آئین کی کسی شق سے متصادم کوئی قانون وضع نہیں کیا جا سکتا اس لئے کسی قانون کے بارے میں یہ تعین کرنا بھی عدلیہ کے دائرئہ اختیار میں آتا ہے کہ وہ آئین کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ عدلیہ کے روبرو اسی تناظر میں کئی قوانین ماضی میں بھی چیلنج ہوتے اور آئین سے متصادم ہونے کی صورت میں کالعدم قرار پاتے رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 58(2)B کے تحت اس وقت کے صدر غلام اسحاق کی جانب سے 90ء کی اسمبلی اور میاں نوازشریف کی حکومت توڑنے کا اقدام اس بنیاد پر کالعدم قرار دے کر متعلقہ اسمبلی اور حکومت بحال کردی تھی کہ صدر نے آئین کی متعلقہ دفعہ کے تحت حاصل کردہ صوابدیدی اختیارات بدنیتی کے تحت استعمال کئے ہیں۔


سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں الیکشن ایکٹ مجریہ2017ءکے متعلقہ سیکشن 203اور232کو کالعدم نہیں کیا بلکہ ان کی آئین کے آرٹیکلز 62،63 اور63 (اے)کے تحت تشریح کی ہے اور قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63(اے)کے تحت سیاسی جماعت کے سربراہ کا اپنے ارکان پارلیمنٹ کے حوالے سے مرکزی کردار ہے جو کسی نااہل شخص کو ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔


ای پیپر