فطرت وقدرت سے مقابلے کارجحان
27 فروری 2018 (19:03) 2018-02-27

اللہ تعالی نے قدرتی طور پر پھلنے پھولنے والی سبزیوں، پھلوں ،جانوروں میں جو لذت ،ذائقہ ،طاقت رکھی ہے وہ آج کے مصنوعی دور میں مصنوعی کھاد، سپرے کے ذریعے حاصل ہونے والی اشیائے خورونوش میں ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ دیسی مرغی ،دیسی انڈا ،دیسی ساگ ،پہاڑی بکرا ،دنبہ ،دیسی گھی ،مکھن ،گندم وغیرہ کی تلاش میں سرگرادں نظر آتے ہیں ۔بنی نوعِ انسان نے فطرتی عمل سے پایۂ تکمیل کو پہنچنے والی اشیاء سے ہٹ کر سائنسی بنیادوں پر جدید تحقیق ،تجربات کے ذریعے زائد مقدار میں وقت سے پہلے یہ اشیاء حاصل تو کرلیں لیکن قدرت نے جو ذائقہ سورج ،چاند ،قدرتی آب وہوا کے ذریعے پید اہونے والی اشیاء میں رکھا ہے وہ مصنوعی طریقہ پیداوار سے حاصل شدہ اشیاء میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔


نقصان اس کا یہ ہوا کہ طرح طرح کی بیماریوں نے مصنوعی کھاد ،سپرے ویگر عوامل سے پیدا ہونے والی اشیائے خورونوش کو کھانے کے باعث جنم لیا ۔انسانوں کی عمریں کم ہوگئیں لیکن توندیں بڑھ گئیں ۔جدید میڈیکل سائنس ،آلات نے جتنی ترقی کی اتنی ہی بیماریاں بڑھ گئیں ۔پہلے ہسپتال ویران ،اکادکا ہوتے تھے ۔اب ہسپتالوں کے فرش تک پر مریض پڑے ہوتے ہیں ۔میڈیکل سٹورز ،جعلی ادویات ،جعلی ڈاکٹرز ،حکیموں کی بھرمار ہے ۔پہلے دیسی جڑی بوٹیوں سے سستا اور آسان علاج ممکن تھا اب غریب کے لئے مہنگا علاج ناممکن ہو گیا ہے۔ ہسپتال ذبح خانے اور ڈاکٹرز قصاب کا روپ دھار چکے ہیں ۔ادویات کی تیاری ،فروخت کے نام پر ادویات ساز کمپنیوں ،متعلقہ صحت کے سرکاری اداروں ،تاجر ،ڈاکٹرز کی ملی بھگت سے گھنائونا کاروبار غریب کی جمع پونجی کو ہڑپ کرنے کا ذریعہ ہے ۔یہ سب فطرت سے مقابلہ کے باعث ہورہا ہے۔ جب تک مرض کو ہم اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا سمجھ کر اس کا علاج پہلے صدقہ ،خیرات ،دعا،نوافل کے ذریعے سے کرتے رہے مریض کم تھے لیکن اب ہمارا پہلا دھیان کسی بھی بیماری ،پریشانی ،تنگ دستی کی صورت میں جیب کی طرف جاتاہے ۔حالانکہ صحت ،نوکری ،رزق ،بیٹا ،بیٹی ،کاروبار سمیت تمام خزانوں کا مالک اللہ کی وحدہ لاشریک ذات ہے لیکن جب ہم مریض کو تمام ڈاکٹروں ،ہسپتالوں میں پھرا کر تھک جاتے ہیں تو پھر ڈاکٹر بھی کہتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا ۔اب آپ اللہ اللہ کریں، اب صرف اللہ ہی کا سہارا باقی ہے یعنی پہلے آپ اللہ سے بھی بڑے تھے ۔بھائی جس کی موت کا فیصلہ اللہ نے کرلیا ہو، جسے غریب رکھنے کا فیصلہ ہوچکا ہو ،اسے نہ تو کوئی زندگی دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی امیر کرسکتا ہے جس سے اللہ نے فیصلہ کرلیا ہو کہ اب اقتدار اس سے لے لینا ہے تو پھر دنیا کی تمام طاقتیں مل کر بھی اسے اقتدار نہیں دے سکتیں ۔وہ کہتا پھرے کہ مجھے کیوں نکالا ۔


ہاںاگر اللہ نے دوبارہ اسے موقع دینا ہے تو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ہم میں سے اکثراللہ سے رجوع کرنے کی بجائے اپنی خامیوں ،کمیوں ،برائیوں پر قابو پانے کی بجائے پیروں ،فقیروں ،چادر چڑھانے ،چڑھاوے ،منتوں کا سہارا لے کر شرک کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچتے ہوئے یہاں بھی ہم فطرت سے مقابلہ پہ تلے ہوئے ہیں۔ پھر فطرت کیوں نہ ہم پر بے وقت کی بارشوں ،قحط سالی ،زلزلے ،کرپٹ حکمرانوں ،بیویوں اور نافران اولادوں کے ذریعے ہمارا امتحان لے ۔ہم جب تقدیر کے لکھے ہوئے کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر تقدیر خود ہمارا امتحان لیتی ہے ۔آج ہمارے حکمران کھلم کھلا اپنی الیکشن مہم میں کہتے پھرتے ہیں کہ ہم آپ کی تقدیر بدل دیں گے ۔ہم نے اپنی محنت سے تقدیر کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ سب شرکیہ کلمات ،الفاظ ہیں جس سے ہم اللہ کو خفا کرنے میں جتے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بے شمار نعمتیں پیدا کی ہیں جن میں حلال جانور بھی شامل ہیں ۔یورپ میں عیسائی ،یہودی ان کی مذہبی کتابو ں میں ممانعت ہونے کے باوجود سؤر کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔جس کے باعث سؤر کی عادتیں جن میں بے حیائی قابل ذکر ہے ان میں عام ہے ۔اب تو ماں باپ ،اولاد کافرق سؤر کا گوشت کھانے کے باعث ختم ہوتاجارہا ہے ۔یورپ میں حلال جانوروں میں بڑے کا گوشت زیادہ استعمال ہوتا ہے لیکن ہندومذہب میں گائے کی پوجاکی جاتی ہے جس کے باعث وہ خود تو یہ گوشت کھاتے نہیں اب وہاں پر موجود تیس کروڑ مسلمانوں کے لئے بھی گائے کا گوشت کھانا حرا م کردیاہے جس کا نقصان اب ہندوستان کے شہر وں میں یہ ہورہا ہے کہ ایک طرف تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے، اقلیتوں میں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے، نئی نئی تحریکیں آزادی کی جنم لے رہی ہیں۔ دوسرے گائے اب سڑکوں گلیوں ،پارکوں میں کھلے عام پھر رہی ہیں جو لوگ گائے کے گوشت ،ہڈی ،چمڑے کے کاروبارسے منسلک تھے وہ بے روزگار ہوگئے کیونکہ بوڑھی ،کمزور اور دودھ نہ دینے والی گائے بھی اگر کوئی ذبح کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی بعض صوبوں میں کارروائی کی جاتی ہے ۔


فطرت سے مقابلہ چاہے مسلمان ہویا غیر مسلم کوئی بھی نہیں کرسکتا ۔آج ہم نے جس طرح مصنوعی لبادہ اوڑھ رکھا ہے ویسے ہی ہماری مصنوعی خوراکوں نے ہمیں بے شمار پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم جنگلوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں ختم کررہے ہیں جس کے باعث فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے ۔بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ آج دیہات ،جنگل میں رہنے والے انسان اور جانور قدرتی فضاء اور ماحول میں نشونماپانے کے باعث زیادہ تندرست وتوانا خوش شکل ہیں۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ قدرتی حسن کی کیا بات ہے۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ لیکن ہماری عورتوںنے مصنوعی کریموں کے ذریعے گورا ہونے کی کوشش میں اپنے چہروں کا بیڑا غرق کرلیا لیکن رنگ وہی رہے گا جو قدرت نے دیا، کوئی کالا گورا اور کوئی گورا کالا نہیں ہوسکتا۔اللہ فرماتے ہیں کہ میں ہر ذی روح کا رزق ساتھ پیدا کیاہے لیکن ہم رزق کے مسئلہ کے باعث خاندانی منصوبہ بندی کرتے ہیں جس کی وجہ سے عورتوں میں طرح طرح کی بیماریاں پید ا ہورہی ہیں ۔ فطرت سے مقابلے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ہمارے لئے نامساعد حالات اور خرابیاں پیدا کر دی ہیں۔ اگر ہم آج بھی قدرت سے سمجھوتہ کرلیں تو دنیا وآخرت کی کامیابی ہمیں مل سکتی ہے۔


ای پیپر