Chairman NAB, parliamentary committees, Saleem Mandviwala, Senate
27 دسمبر 2020 (16:52) 2020-12-27

سکھر: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا ، کوئی ایسا ادارہ نہیں جو پارلیمنٹ میں آکر اپنا جواب نہ دے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کی وجہ سے ساری بیورو کریسی پریشان ہے ، بیورو کریسی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ نیب ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسروں کے کاغذات ، گوشوارے چیک کیے جائیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ذاتی حوالے سے کوئی کام نہیں کر رہا ، میرا کوئی کیس واپس نہ لیا جائے میں عدالت جاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ 1920 سے آباؤ اجداد بزنس کر رہے ہیں اور مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ بزنس کیسے کر رہا ہوں ؟ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ کرپشن کا پیسہ ریکور کریں لیکن یہ بزنس میں چلے گئے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ احتساب کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ جب تک ثبوت نہ ہوں کسی کو نوٹس بھی نہیں جانا چاہیے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کیس بنانا اور کیسز انجام تک پہنچنا دو الگ چیزیں ہیں ، کیسز تب بنائیں جب آپ انجام تک پہنچ سکیں جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کمیٹی کسی بھی افسر کو بلا سکتی ہے۔


ای پیپر