Greater Israel project, Muslim countries, Saudi Arabia, Pakistan, Donald Trump
27 دسمبر 2020 (13:02) 2020-12-27

دنیا کی خبروں میں جہاں کورونا کی کارفرمائیاں سرفہرست ہیں، وہاں اسرائیل بھی کچھ کم نہیں۔ مسلم ممالک پے درپے اسرائیل سے پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ گریٹر اسرائیل منصوبہ اب کھل کر کھل کھیل رہا ہے۔ اب غرب اردن کی طرف بڑھتے قدم، اردن میں بڑا یہودی مرکز بنانے کا منصوبہ، صہیونی عزائم کی خبر دے رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے درپے ہیں، ہیکل سلیمانی کی تلاش میں۔ اس کے نیچے کھدائیاں کرکرکے ستون اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ادھر قطار اندر قطار تازہ لہر میں امارات کے بعد بحرین اور مراکش بھی اسرائیل منظور کرگئے۔ سوڈان کو پابندیاں اٹھاکر، دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی صف سے نکالنے کا لالی پاپ دے کر مزید اسرائیل قبول کرنے والوں میں لاشامل کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کی حقیقت بھی اس اقدام سے واضح ہوجاتی ہے! ادھر اسرائیلی اعتماد سے چُور  دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیلی ربّی (عالم) کی پیشن گوئیاں دجال نکال کر لا رہی ہیں! سنسنی خیزی میں جو کسر تھی وہ سابقہ اسرائیلی خلائی سیکورٹی چیف نے پوری کردی۔ ریٹائرڈ جنرل، معروف اسرائیلی پروفیسر حائم ایشد کا دعویٰ ہے کہ: ’ہم خلائی مخلوق (Aliens ) سے رابطے میں ہیں۔ ٹرمپ بھی اس بارے پوری طرح آگاہ ہیں۔ مریخ کی گہرائیوں میں ایک زیر زمین اڈہ ہے جہاں وہ اور امریکی خلاء باز ایک کہکشانی فیڈریشن کے تحت مل کر کام کررہے ہیں۔ ٹرمپ یہ راز فاش کرنے کو تھا مگر روک دیا گیا اس سے ہیجان اٹھ کھڑا ہوگا۔ خلائی مخلوق چاہتی ہے کہ انسان اس مقام تک پہنچ جائے جہاں وہ سمجھ پائے کہ خلاء اور خلائی گاڑیاں کیا ہیں۔‘ یہ کہانی ہمارے لیے قطعاً اجنبی نہیں۔ خلاء سے پہلے یہ مخلوق ہمارے بیت الخلاء میں موجود ہوتی ہے جسے گورے خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کے ناولوں اور فلموں میں سناتے دکھاتے اڑاتے رہے ہیں۔ پہلے دنیا سے مذاہب ختم کیے۔ حواس خمسہ سے ماوراء علم کے منابع تک رسائی کے دروازے بند کیے۔ پھر خلائی مخلوق کی کہانیاں سنائیں۔ ’ہیری پوٹر‘ جیسے ناول تخلیق کرکے نئی نسلوں کو سحر میں مبتلا کیا۔ یورپ، امریکا، مغربی ممالک میں، جس کے نتیجے میں شیطانی چرچ مقبول ہوئے اور باضابطہ شیطان کی عبادت ہونے لگی۔ شیطان سے یہود کی پارٹنر شپ بہت پرانی ہے۔ وہ اگر اسے سائنسی چولا پہناکر Aliens  کی انگریزی میں لپیٹ کر دنیا کو بہکانے چلے ہیں تو ہمارے ہاں عامل اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں! دیواروں پر ان کے اشتہار خلائی مخلوق ہی کی جادونگری بارے ہوتے ہیں! دنیا میں دو ہی قسم کی مخلوق اللہ نے پیدا کی ہیں جو ذی اختیار ہیں۔ انسان اور جنات۔ جنات بھی ہماری طرح مومن مشرک یا کافر ہوتے ہیں۔ (اب وہ بھی سیکولر کہلاتے ہوںگے۔)

ٹرمپ بارے کیا کہنا۔ موصوف پر تو یوں بھی خلائی مخلوق ہی کا گمان ہوتا ہے۔ اسرائیل سے ان کی والہانہ محبت بلاسبب تو نہیں۔ اس ’مخلوق‘ کے ارکان نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اسلام قبول کیا۔ قرآن میں سورۃ الجن، سورۃ الاحقاف میں یہ تذکرہ موجود ہے۔ احادیث بھی اس بارے ضروری معلومات فراہم کرتی ہیں۔ شیاطین جنات، ذریت آدم علیہ السلام سے ان کی ازلی دشمنی (تخلیق آدمؑ کے واقعے کا مفصل ذکر)، ذریت ڈاروینی بندر سے ان کی دوستی یا بقول یہودی پروفیسر کے فیڈریشن سازی، رب تعالیٰ ہمیں پڑھا چکے! پناہ مانگنے کو ہمارے ہاں بچپن سے بیت الخلاء میں قدم رکھنے سے پہلے ان کی ’خلائی مخلوق‘ کے لیے دعا سکھا دی جاتی ہے۔ مشترکہ فیڈریشن سے بچنے کو سورۃ الناس پڑھائی جاتی ہے۔ ہمارے مہذب گھرانوں کے بچے ’ہیری پوٹر‘ نہیں، قرآن سے ان بارے فہم حاصل کرتے ہیں، ہمیں یہ بہکاوے نہ دو! ہم جانتے ہیں تمہارے مسیحا یعنی دجال نے آنا ہے، مگر اس سے پہلے سیدنا مہدیؑ کا ظہور ہے احادیث کے مطابق۔ فی الوقت تو دنیا کورونا کے کے جو تھپیڑے کھا رہی اور تمہارے پشت پناہ ممالک کی معیشت کا بھوسہ بنا رہی ہے اس کی خبر لو۔ مغربی تکبر کی سونڈ کو بہت بڑا داغ کورونا کی لہر در لہر نے لگایا ہے۔

معتبر امریکی جریدے بلوم برگ اوپنین میں (2دسمبر) کیتھی اونیل کے مطابق، بہت جلد کووڈ امریکا میں، روزانہ اموات کی بنیاد پر 11/9 کے مساوی ہونے کو ہے۔ یہ اموات 3 ہزارروزانہ کا عدد چھو رہی ہیں۔ اوسطاً ایک دن میں ایک لاکھ چالیس ہزار کیس رپورٹ ہورہے ہیں اور 2 فیصد اموات ہیں۔ پھر صرف اتنا ہی نہیں جو بچ جائینگے وہ بھی کافی تعداد میں اس کے اثرات مابعد کی گرفت میں رہیںگے۔ بل گیٹس الگ ماتم کناں ہے کہ: ’وبا کا امریکا اور دنیا کی معیشت پر اثر، میرے اور تجزیہ کاروں کی توقع سے کہیں زیادہ ہے اور بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔‘ سو ابھی دجال کا آنا سازگار نہیں، اسے بھی کورونا ہوجائے گا۔ خزانے خالی ہیں۔ اس کا شایان شان استقبال بھی ممکن نہیں۔ یورپ کا حشر تو دیکھیے۔ برطانیہ میں گرگٹی کورونا نکل کھڑا ہوا ہے جو اپنے اندر 23 تبدیلیاں لیے ہوئے ہے۔ پچھلی قسم سے 70 گنا زیادہ لگنے، پھیلنے والا ہے۔ سو لندن اور جنوبی برطانیہ میں اس کی یلغار نے یورپ میں بالخصوص اور دنیا کے کئی ممالک میں بالعموم برطانیہ کو اچھوت بنا دیا ہے۔ ان کے سفر پر پابندی عائد کردی ہے۔ کرسمس دھری کی دھری رہ گئی۔ برطانیہ میں پچھلی لہر میں 67 ہزار اموات ہوچکیں۔ یورپ بھر میں 4 لاکھ 99 ہزار اموات ہوئیں۔ ابھی تو اس نئے نویلے وائرس کا طریق واردات جاننے، پہچاننے کی شروعات ہی ہیں۔ فی الحال شدید افراتفری، سخت تر پابندیاں ہیں۔ معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔ پچھلے ہفتے سے دوگنا کیس (2 دسمبر کی رپورٹ کے مطابق) ہوچکے ہیں۔ فرانسیسی صدر میکرون کو بھی کورونا نے کاٹ کھایا، سو فی الحال قرنطینہ میں ہیں۔ میکرونی کھا رہے اور نئے مکر کی تلاش میں ہیں جس کی مہلت ملے نہ ملے، واللہ اعلم۔ نائیجریا میں ایک میٹنگ کے نتیجے میں بیک وقت 26 جرنیل گرفتارِ کورونا ہوگئے۔ پومپیو، امریکی وزیر خارجہ بھی قرنطینہ میں ہیں۔ نیویارک، نیوجرسی ودیگر شمال مشرقی امریکی علاقے ریکارڈ توڑ برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں۔ دنیا بھر میں اٹھائے قتل وغارت ،مچائے طوفان ہائے بدتمیزی پر مکافات عمل کا ایک لامنتہا سلسلہ ہے۔ کورونا کا عجب کمال یہ ہے کہ نارویجن مہاجر کونسل کے سیکرٹری جنرل کے مطابق سوا تین کروڑ مہاجرین وبا سے (مذکورہ بالا حالات کے برعکس) تقریباً محفوظ/ بہت کم متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی اکثریت (دربدر کیے جانے والے) مسلمانوں کی ہے! امیر خوش باش مغربی ممالک ہدف پر ہیں وائرس کے!

کیتھی اونیل رپورٹ نے کورونا کے ہاتھوں روزانہ 11/9 کے برابر تعداد میں امریکی مارے جانے کا تذکرہ کیا ہے۔ پس منظر دیکھیے۔ خود امریکا نے ان 20 سالوں میں کیا کیا؟ بش تا ٹرمپ طویل ظلم وقہر کی داستان ہے۔ اوباما کی کتاب (یاد داشتوں پر مشتمل) جو حال ہی میں منظرعام پر آئی ہے، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔(کلائو سمتھ، الجزیرہ، 22 دسمبر)

وائٹ ہاؤس میں قتل کی فہرست تھامے اوباما خود ہی منصف اور (جیوری) استغاثہ بنا بیٹھا خفیہ سزائے موت لاگو کرتا رہا۔ باریش مسلمانوں کی تصاویر دیکھ کر رومی، درندہ صفت بادشاہوں کی مانند موت کے پروانے پر انگوٹھا لگاتا رہا ہیل فائر میزائیلوں سے قتل کرنے کو۔ ہر وقت 20 افراد کی فہرست تصاویر اور معلومات کے ساتھ موجود رہتی، ایک کو مار دیا جاتا تو ایک اور شامل فہرست ہوکر 20 کا عدد پورا کردیتا۔ یوں قانون کا پروفیسر اوباما (جو اپنے ہاں سزائے موت کا مخالف تھا) ووٹوں کی خاطر مسلمانوں پر بلاعدالتی کارروائی موت برساتا رہا۔ (اتباعِ اوباما میں مسلم ممالک میں ماورائے عدالت اہل دین قتل ہوتے رہے۔) پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے درمیان سینکڑوں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔ ایمن الظواہری کو ختم کرنے کے نام پر 76 بچے اور 29 بے گناہ جوان نشانہ بنائے اور ہدف پھر بھی بچ نکلا۔ بحکم ربی، فطری موت پر ملاعمرؒ کی طرح خاموشی سے رخصت ہوگئے! 11/9 کی خاطر مسلم دنیا اجاڑی تھی امریکی صدور نے، آج ساری سائنس ٹیکنالوجی کورونا کے مقابل دم بخود ہے۔ اللہ کے مقابل کھڑے ہونے کا انجام قرآن  بتا چکا۔ ’اللہ نے ان کا سب کچھ ان پر الٹ دیا (ان پر تباہی ڈال دی) اور ایسے ہی نتائج ان کافروں کے لیے مقدر ہیں۔‘ (محمد۔ 10) اجتماعی قبروں کے منہ ان کے لیے کھل چکے ہیں! کہتے ہیں:


ای پیپر