سیاسی یتیموں کی حکومت کا تجربہ ناکام ہو چکا :بلاول بھٹو
27 دسمبر 2019 (23:10) 2019-12-27

راولپنڈی : چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کے نام پر سیاسی یتیموں کی حکومت ہے یہ تجریہ ناکام ہو چکا ہے ، کوفہ کی ریاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی ،کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے، ہماری خود مختاری کا حال یہ ہے کہ ہمارا وزیر اعظم این او سی کے غیر کسی ملک کا دورہ نہیں کر سکتا، ایک سال میں 10 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں آئینی ، معاشی اور قیادت کا بحران ہے،پارلیمان کو تالا لگ گیا ہے .

نہوں نے اپنے خطاب میں کہا میڈیا آزاد نہیں ، عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں ،صوبوں کے حقوق چھینے جارہے ہیں ، انتہا پسندی کی آگ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے،معیشت کا حال سب کے سامنے ہے ،غریب عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالا گیا ، یہ غریب سے دشمنی نہیں تو اور کیا ہے اس ملک کے معاشی فیصلے عوام نہیں آئی ایم ایف لے رہا ہے، کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے اور اسلام آباد نے اپنے کشمیری بھائیوں کو لاوارث چھوڑا ہوا ہے ،یہ وہ جمہوریت نہیں جس کے لئے ہم نے قربانیاں دی تھی ،جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا ، ہم نے بی بی کا وعدہ نبھانا ہے ہم نے پاکستان کو بچانا ہے۔

لیاقت باغ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران  بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ بی بی شہید نے اس ملک کو دہشتگردوں اور آمریت نجات دلانے کے لئے پاکستان آئیں ، لیاقت باغ گواہ ہے کہ 2007 دختر مشرق بے نظیر بھٹو کہ بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا، آج پر دھرتی پکار رہی ہے اسی لئے میں لیاقت باغ آیا ہوں اس ملک کے معاشی فیصلے عوام نہیں آئی ایم ایف لے رہا ہے، کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے اور اسلام آباد نے اپنے کشمیری بھائیوں کو لاوارث چھوڑا ہوا ہے ،یہ وہ جمہوریت نہیں جس کے لئے ہم نے قربانیاں دی تھی ،جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا ، ہم نے بی بی کا وعدہ نبھانا ہے ہم نے پاکستان کو بچانا ہے ، ہم بی بی کا پاکستان بناکر رہیں گے ،میں اس ملک کو آزادی دلاﺅنگا ، جمہوری کو بحال کروں گا ، عوام کو ووٹ کا حق دلاﺅں گا ، عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنا کر رہوں گا ۔

بی بی شہید کے نامکمل مشن کو مکمل کروں گا ،نئے پاکستان میں بیٹے کو ماں کی برسی منانے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ کوفہ کی ریاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی ،کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے ، سیاسی یتیموں سے ملک نہیں چل سکتا نہ ان سے حکومت چل رہی ہے نہ معیشت چل رہی ہے ،2020 عوامی حکومت کا سال اور عوامی راج کا سال ہوگا ۔ آزاد اور شفاف الیکشن کا سال ہوگا اور معاشی مسائل کے حل کا سال ہوگا ۔ خیبر سے کراچی تک آج عوام یہی کہہ رہے ہیں کہ الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع ۔ سلیکٹڈ الوداع ،ہمارا ملک خطرے میں ہے ہم سب نے مل کر اس ملک کو بچانا ہے ۔ہم ان سیاسی یتیموں کو گھر بھیج کر رہیں گے ۔

جمعہ کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے حوالے سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ راولپنڈی والوں آپ گواہ ہو ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام تھا، اس نے ٹوٹا ہوا ملک جوڑا ، بھٹو شہید نے 90 ہزار جنگی قیدی اور پانچ ہزار میل رقبہ آزاد کرایا، اس ملک کو آئین دیا ۔ راولپنڈی آپ گواہ ہو کہ مسئلہ کشمیر پر قوم کی آواز بنا اور کس نے مسلم امہ کو لاہور میں اکٹھا کیا ،ووٹ کا حق بھٹو نے دلوایا ۔ طاقت کا سرچشتمہ بھٹو نے عوام کو بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی بدقسمتی ہے اس ملک میں عوام کا راج قبول نہیں کیا گیا ۔ قائد عوام کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ۔ راولپنڈی گواہ ہے بھٹو شہید کا عدالتی قتل کرنے کا ،آمریت نافذ ہونے اور عوام کا راج ختم ہونے کا ۔ بھٹو کی بیٹی نے اپنے والد کا پرچم بلند کیا، عوام کے حقوق اور آزادی کے لئے بے نظیر بھٹو نے 30 سال جدوجہد کی ۔ آمروں سے ٹکرائیں ، سلیکٹڈ سیاست دانوں کا مقابلہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ ایک خاتون مسلم ملک کا سربراہ نہیں بن سکتی ۔ آپ گواہ ہو کہ بی بی شہید مسلم ملک کی دو بار وزیر اعظم بنی ۔ شہید بی بی نے عدالتوں کو حقوق دیئے ، میڈیا کو آزاد کرایا، اس کو میزائل ٹیکنالوجی دلائی وہ چاروں صوبوں کی زنجیر تھی ۔اسی راولپنڈی میں بی بی شہید کے شوہر کو 12 سال جیل میں رکھا گیا جس پر ایک الزام بھی ثابت نہیں ہوا، جلا وطنی کاٹی انہوں نے کہا کہ بی بی شہید اس ملک کو دہشتگردوں اور آمریت نجات دلانے کے لئے پاکستان آئیں ۔ لیاقت باغ گواہ ہے کہ 2007 دختر مشرق بے نظیر بھٹو کہ بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ ایک خاندان کے دونوں بیٹے شہید ، والد شہید ، آخر میں بیٹی کو بھی شہید کر دیا گیا ۔ انہیں اس لئے شہید کیا گیا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام کو مانتے تھے ۔ کسی آکر کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ انتشار نہیں پھیلایا ، مفاہمت کی سیاست کی ۔ آصف علی زرداری نے بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایاسب کو ساتھ لے کر چلے جو کام نہیں ہو سکا وہ بھی کرکے دکھایا ۔ صوبوں کو حقوق دلائے اور بھٹو کا آئین بحال کیا ۔ سی پیک کا منصوبہ شروع کیا ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آصف علی زرداری سلالہ حملہ ہو یا ا یران گیس پائپ لائن کسی بھی عالمی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا،روٹی ، کپڑا اور مکان کا دعویٰ پورا کرنے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا ، تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے کسی جمہوری حکومت نے پہلی مرتبہ اپنی مدت مکمل کی ۔

انہوں نے کہا کہ آج پھردھرتی پکار رہی ہے اسی لئے میں لیاقت باغ کے اس تاریخی مقام پر آیا ہوں ، جمہوریت کا حال دیکھیں پارلیمان کو تالا تگ گیا ۔ میڈیا آزاد نہیں ، عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں ۔ 18 ویں ترمیم پر حملے ہو رہے ہیں ۔ صوبوں کے حقوق چھینے جارہے ہیں ۔ انتہا پسندی کی آگ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے ۔ قبائلی علاقوں سے لے کر پشاور تک لوگ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ لاہور میں ڈاکٹرز ، طالبہ ، مزدور سب سراپا احتجاج ہیں ۔ سندھ کی عوام بھی ناراض ہے۔ آج گیس پیدا کرنے والے صوبے کو گیس سے محروم رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا حال سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خود مختاری کا حال یہ ہے کہ ہمارا وزیر اعظم این او سی کے غیر کسی ملک کا دورہ نہیں کر سکتا ۔ اس ملک کے معاشی فیصلے عوام نہیں آئی ایم ایف لے رہا ہے ۔ آج ہماری دھرتی پکار رہی ہے کہ میں خطرہ میںہوں یہ وہ جمہوریت نہیں جس کے لئے ہم نے قربانیاں دی تھی ۔ یہ وہ آزادی نہیں جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا ۔ ہم نے بی بی کا وعدہ نبھانا ہے ہم نے پاکستان کو بچانا ہے ۔ ہم بی بی کا پاکستان بناکر رہیں گے بھٹو کا نعرہ لگاتے رہیں گے ۔ میں اسی مقام پر آیا ہوں جہاں بی بی کو ہم سے چھینا گیا ۔ راولپنڈی گواہ رہنا میں اس ملک کو آزادی دلاﺅنگا ۔ جمہوریت کو بحال کروں گا ، عوام کو ووٹ کا حق دلاﺅں گا ۔ عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنا کر رہوں گا ۔ بی بی شہید کے نامکمل مشن کو مکمل کروں گا ۔ عزت دینے والی اللہ کی ذات ہے ۔ نیا پاکستان کے نام پر سیاسی یتیموں کی حکومت ہے یہ تجریہ ناکام ہو چکا ہے ۔ آئینی ، معاشی اور قیادت کا بحران ہے ۔ یہ کس قسم کی سیاست ہے جس میں لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے ۔ بیٹے کو ماں کی برسی منانے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ کوفہ کی ریاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی یتیم گھبرا رہے ہیں ان کا کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے ۔ یہ کہتے تھے میاں صاحب باہر نہیںجائیں گے لیکن آج میاں صاحب باہر ہیں ۔ آصف زرداری باہر نہیں آئے گا دیکھیں سابق صدر زرداری آج باہر ہے ۔ سیاسی یتیموں سے ملک نہیں چل سکتا نہ ان سے حکومت چل رہی ہے نہ معیشت چل رہی ہے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک سال میں 10 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں جب ہم کہتے ہیں کہ لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ہم چور ہیں ڈاکوہیں لٹیرے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2020 عوامی حکومت کا سال اور عوامی راج کا سال ہوگا ۔ آزاد اور شفاف الیکشن کا سال ہوگا اور معاشی مسائل کے حل کا سال ہوگا ۔ خیبر سے کراچی تک آج عوام یہی کہہ رہے ہیں کہ الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع ۔ سلیکٹڈ الوداع ، انہوں نے کہا کہ عوامی راج پیپلز پارٹی کے بغیر نہیں بن سکتا ۔ جیالوں آپ نے میرا ساتھ دینا ہے معاشی انقلاب کے لئے میرا ساتھ دو میں بھٹو کا پرچم اور بی بی شہید کا مشن لے کر نکلا ہوں۔ ہمارا ملک خطرے میں ہے ہم سب نے مل کر اس ملک کو بچانا ہے ۔ ان سیاسی یتیموں کو گھر بھیج کر رہیں گے ۔


ای پیپر