وفاداری کی علامت ۔ رانا ثناءاللہ خان
27 دسمبر 2019 2019-12-27

رانا ثناءاللہ خان کی بڑی بڑی مونچھیں ہیں،نواز شریف کے ساتھ مشکل ترین دور میں بھی وفاداری نبھاتے رہے ہیں، اپنے خیالات اور نظریات میں پکے ہیں، جب بات کرتے ہیں تو کسی مخالف کا لحاظ نہیں رکھتے بلکہ مخالفین کااچھا خاصا تراہ نکال دیتے ہیں۔مگر یہ چاروں باتیں کسی طورپر ثابت نہیں کرتیں کہ وہ منشیات کے سمگلر ہیں۔ منشیات کا سمگلر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ملزم سے منشیات برآمد ہوئی ہوں اور ان کی برآمدگی کا باقاعدہ ثبوت موجود ہو۔ لاہور ہائی کورٹ نے رانا ثناءاللہ خان کی رہائی کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے جہاں کیس کو مشکوک قرار دیا ہے اور وہاں رانا ثناءاللہ خان کو سیاسی انتقام کانشانہ بنانے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ تفصیلی فیصلے میں واضح ہو گیا ہے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے راوی ٹول پلازے پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، منشیات کی برآمدگی کا ریکوری میمو تیارہی نہیں کیا گیا۔ اے این ایف ،منشیات کی برآمدگی کے ثبوت کے طور پر کوئی ویڈیو بھی پیش کرنے میں ناکام رہی اور فیصلہ آیا کہ مشکوک مقدمے میں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ہی ملتا ہے۔

میں لاہور کی کیمپ جیل کے باہر موجود تھا جب رانا ثناءاللہ خان کو چھ ماہ کی قید کے بعد رہا کیا جا رہا تھا۔ ان کی رہائی لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے بعد عمل میں آ رہی تھی مگر حیرت انگیز طور پر روبکار جاری کرنے کے لئے کوئی جج صاحب دستیاب بھی نہیں تھے، رہائی کا حکم ٹرائیل کورٹ سے جاری ہونا تھا مگر جج صاحب چھٹی پر تھے اور ھیرت انگیز طور پر ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی نہیں تھے لہذا مسلم لیگ نون کو پہلے سے ہوئی ایک ضمانت میں رہائی کے حکم کے لئے ایک مرتبہ پھر ہائی کورٹ جانا پڑا۔ میں نے دیکھا، رانا ثناءاللہ خان کی رہائی پر ان کا استقبال کرنے کے لئے خیبرپختونخوا کے لیگی رہنما امیر مقام تو دوپہر ایک بجے ہی پہنچ گئے تھے مگر لاہور سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سمیت وہ تمام غیر حاضر تھے جو ٹکٹیں لینے کے لئے ماڈل ٹاون کی بار باریاترا کیا کرتے تھے۔مسلم لیگیوں کے چند درجن چہرے ہیں جو ہر موقعے پر موجود ہوتے ہیں چاہے وہ شریف برادران کی رہائش گا ہ ہو، کوئی ہسپتال ہو ، کوئی عدالت ہو یا کوئی جیل۔ میں نواز لیگ کے موقع بے موقع غیر حاضر ہوجانے والے کارکنوں کومورد الزام نہیں ٹھہراتا کہ جب نواز لیگ کی حکومت تھی تو بہت سارے رہنماوں نے میرٹ کے نام پر ان کارکنوں کا داخلہ اپنے اپنے ایوانوں میں بند کر رکھا تھا اور اس کے باوجود کچھ وفاداروں کے پاس ایک ہی کام ہے کہ پیغام ملے یا نہ ملے، ڈیوٹی لگے یا نہ لگے، بس جب بھی کوئی بری خبر ملے تو اپنے لیڈروں کے حق میں نعرے لگانے کے لئے پہنچ جائیں۔

مسلم لیگی کارکن مجھے بتا رہے تھے کہ جیل کے باہر ہزاروں کارکن موجود ہیں مگر مجھے دائیں بائیں بہت زیادہ دیکھنے کے باوجودبھی دو ، تین سو سے زیادہ نظر نہیں آ رہے تھے۔ مسلم لیگ نون لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر بھی راحت بیکری چوک میں ایک گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی ہونے کے بعد دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔ بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ خواجہ عمران نذیر کو اس ٹکر کے ذریعے ایک پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ان کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں ہے، وہ نیب کے ہاتھ ابھی تک نہیں چڑھے تو اس کامطلب یہ نہیں کہ وہ نواز شریف کی پارٹی کو لاہور میں مضبوط اور فعال بناتے پھریں مگران کی موجودگی بتا رہی تھی کہ انہوں نے کسی قسم کا پیغام موصول کرنے یا اسے سمجھنے سے انکا رکر دیا ہے اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک معمول کا حادثہ تھا جس کے بارے میں اورنج لائن کے عوامی افتتاح کے موقعے پر لاہور کے جی پی او چوک میں شہر کے سابق لارڈ مئیر کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید کی تقریر بہت خوفناک تھی، وہ ٹکر مارنے والی گاڑی کی تفصیلات سرعام بیان کر رہے تھے۔ خواجہ عمران نذیر نے میرے سوال کے جواب میں اگرچہ اپنے ارکان اسمبلی کا دفاع کیا مگر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے غیر فعال ارکان کو ڈھکے چھپے لفظوں میں دھمکی بھی دے دی کہ وہی آئندہ وہی رکن اسمبلی بنے گا جو پارٹی کے لئے دل و جان سے کام کرے گا۔ انہوں نے مرزا جاوید کی بھی مثال بھی دی جو کہ رائے ونڈ سے رکن اسمبلی ہیں۔ مرزا جاوید کوئی عالم فاضل اور دانشور نہیں ، ایک عام سے سیاسی کارکن ہیں مگر اپنے لیڈر کے ساتھ مکمل وفاداری نبھا رہے ہیں۔ یہاں بہت سارے لوگ لیگی کارکن ایوب بھٹہ کی ’ ڈرامے بازیوں ‘ کا بھی ذکر کرتے ہیں اور وہ بھی اس وقت بھی جیل کے باہر گلے میں زنجیریں ڈالے کھڑا تھا جنہیں تالوں سے بند کیا گیا تھا۔ ایسے موقعوں پر لاہور کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری توصیف شاہ، سابق ڈپٹی مئیر میاں طارق، سواتی خان، طاہر مغل، کیپٹن ریٹائرڈ آصف جرال اور بہت سارے دوسرے شامل ہیں جو ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی کلچر نے سیاسی جماعتوں کے لئے ایک مسئلہ پیدا کر دیا ہے کہ اہلیت کی بجائے وفاداری کو ہی سب سے بڑا میرٹ بنا دیا ہے۔ جب ہم لوٹوں کی مارکیٹ میں پذیرائی کو دیکھتے ہیں تو وفاداری کے بطور میرٹ استعمال کئے جانے پر احتجاج بھی نہیں کر سکتے۔ مجھے یاد ہے کہ پرویز مشر ف آمریت کے دوران خود شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ وہ وفاداری کو ہی میرٹ بنائیںگے مگر جب وہ حکمران بنے تو آخری حد تک جا کر وفاداریاں ثابت کرنے اور آمریت میں اپنی زندگیاں تک داو پر لگانے والے نوشاد حمید جیسے بہت سارے کارکن کھڈے لائن لگا دئیے گئے۔ جب تک ہم معمول کے سیاسی عمل کی طرف نہیں لوٹیں گے تب تک قیادت سے ذاتی وفاداری کے علاوہ کوئی دوسری اہلیت نہیں چلے گی کیونکہ ابھی ہم جیل کے دروازے پر ہی موجود تھے کہ ایف آئی آئے کی طرف سے مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹریٹ پر چھاپے اور اسے سیل کر دئیے جانے کی خبر کارکنوں تک پہنچائی گئی اور کہا گیا اب وہ وہاں پہنچ جائیں۔

رانا ثناءاللہ خان نے ایک خوفناک ترین الزام میں چھ ماہ کی ایک مشکل ترین قید کاٹی ہے مگر اس دوران انہوں نے اپنی وفاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور یہی بات ایک برس سے قید خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کے لئے بھی کہی جا سکتی ہے۔ حمزہ شہباز شریف نے کہاں جانا ہے کہ وہ نواز شریف کے پیارے بھتیجے ہیں۔ پوری امید ہے کہ احسن اقبال بھی کئی ماہ بعد جب رہا ہوں گے تو اپنی قیادت کے ساتھ ہی کھڑے ہوں گے۔ رانا ثناءاللہ خان نے اس سے پہلے مشرف دور میں بدترین تشدد بھی برداشت کرچکے ہیں اور تب بھی ان کے پائے ثبا ت میں قطعی طور پر کوئی لغزش نہیں آئی تھی۔ اب انہوں نے ایک مشکل وقت برداشت کر لیا ہے تو وہ اپنی پارٹی اور جمہوریت پسندوں کی نظر میں ایک ہیرو بن کے واپس لوٹے ہیں۔ آج کے دور میں وفاداری کردار کی اہم ترین علامت ہے۔ رانا ثناءاللہ کو مشکل وقت عزم اور جرات کے ساتھ کاٹنے کی مبارکباد دیتے ہوئے صرف ایک بات کہنی ہے کہ سب قائدین تو کسی اچھے وقت میں قیادت کی آنکھوں کے تارے ہوں گے اور جب کبھی مسلم لیگ نون اقتدار میں آئی دوبار ہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہوں گے مگر عین ممکن ہے کہ وفاداریاں نبھانے والے بہت سارے سیاسی کارکنوں کے لئے ایک مرتبہ پھر بڑے بڑے ایوانوں کے دروازے بند ہوں کیونکہ اپوزیشن میں سیاست کی ضروریات کچھ اور ہوتی ہیں اور جب اقتدار ملتا ہے تو اس وقت کے میرٹ کچھ اور ہوتے ہیں۔پرویز مشرف کے دور کے بعد بھی ایسا ہی ہوا تھاجب پہلے پنجاب اور پھر مرکز میں نواز لیگ کو حکومت ملی تھی۔


ای پیپر