کراچی کا امن ہاتھوں سے پھسل نہ جائے؟
27 دسمبر 2018 2018-12-27

صوبائی دالحکومت کراچی میں مشکل اور صبر آزما جدوجہد اور آپریشن کے بعدامن قائم ہوا تھا۔ اس شہر کی روشنیاں اور رونقیں بحال ہوئی تھی کہ اچانک دہشتگردی نے ایک بار پھر سر ٹھایا ہے۔چھ ہفتوں میں چھ دہشتگردی کے واقعات ہوئے۔ پہلے قائد آباد کا واقعہ، چینی قونصل خانے پر حملہ، ایم کیو ایم کی محفل میلاد پر حملہ، ڈیفنس میں کار بم دھماکہ، پی ایس پی کے دو کارکنان شہید ہوئے اور اب یہ علی رضا عابدی والا واقعہ پیش آیا۔ یہ دہشتگردی کا واقعہ ہے۔ لیکن کراچی میں دہشتگردی کے واقعات سیاسی پس منظر کے بغیر نہیں سمجھے جاسکتے۔ 

ماضی کے اکثر واقعات ایم کیو ایم کے اندرونی چپقلش یا بعد میں ایم کیو ایم کی کوکھ کی جنم لینے والے گروپس کی لڑائی قرار دیئے جاتے رہے ہیں۔ لیکن بعد میں یہ سلسلہ رک گیا تھا۔ ایم کیوایم میں تقریبا دو سال قبل شروع ہونے والی ٹوٹ پھوٹ تاحال جاری ہے۔ پہلے پاک سر زمیں پارٹی بنی5 فروری 2018ء کو ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات کھل کر تب سامنے آئے جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار کامران ٹیسوری کو سینیٹ انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹ دینا چاہتے تھے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کے فیصلے کے مخالفت کی۔ جس کے بعد پارٹی دوحصوں یعنی ایم کیو ایم بہادر آباد اور ایم کیو ایم پی آئی بی میں تقسیم ہوگئی تھی۔

بظاہر25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل مختلف دھرے متحدتو ہوئے۔ لیکن یہ اتحادکوئی نتیجہ نہیں دے پائے۔ مختلف گروپ انتخابات میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔فاروق ستار کو انتخابات سے پہلے ہی صورتحال کی بو آگئی تھی۔ ماہ جون میں ڈاکٹر فارق ستار نے کہا ہے کہ مائنس ون کی جگہ مائنس ٹو کیاجارہا ہے۔25 جولائی کے الیکشن میں پارٹی 17 سے 4 سیٹوں پر پہنچ گئی۔فاروق ستار بھی ہار گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک گناہ یہ بھی تھاکہ میں نے پی ایس پی کے پروجیکٹ کو ناکام بنایا۔ سمجھا یہی جارہا ہے کہ ان پر اسٹبلشمنٹ یقین کرنے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ فاروق ستار کے لندن سے رابطے ختم نہیں ہوئے۔ 

ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی کے اندر احتساب کا مطالبہ کردیا۔جس سے مراد یہ تھا کہ ایم کیو ایم بہادرآباد کے لوگ حساب دیں۔ یہ مطالبہ لندن کے مطالبے سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔ چند ماہ قبل رابطہ کمیٹی نے 35 سالہ متحدہ قومی مومنٹ کی چوٹی کے رہنماوں میں شمار ہونے والے رہنما فاروق ستار کو پارٹی سے نکال دیاہے۔ 

انتخابات کے بعدایم کیو ایم ہائبرنیشن میں چلی گئی ہے۔ وہ کوئی جھگڑا کوئی اپوزیشن کی سیاست نہیں کرنا چاہتی۔وفاق میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت میں شامل ہے۔ سندھ اسمبلی میں بھی وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ لیکن اپوزیشن کا بھرپور کردار بھی ادا نہیں کر رہی۔شہر کے مسائل اس کی ترجیح نہیں رہے۔ مبصرین کے مطابق وہ آپریشن کی کارروائیوں اور گرفتار شدگان اور دائر شدہ مقدمات کے حوالے سے رعایت چاہتی ہے۔ جب تحریک انصاف حکومت کا نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں کے ساتھ جھگڑا ہے یہ اچھا موقع ہے کہ کچھ فائدہ اٹھائے۔خالد مقبول صدیقی اور ان کے ساتھیوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو یہ بات منوا لی ہے۔ لہٰذا کارکنان فاروق ستار سے دور کھڑے ہیں۔ 

ایم کیو ایم کے مختلف گروپس میں یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ کوئی بڑا زیادہ رلیف دینے کے موڈ میں نہیں۔ستمبر کے آخر میں تحریک انصاف کے رہنما اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہہ چکے ہیں کہ ماضی میں فلاحی اداروں کے پلاٹوں پر قبضوں اور چائنہ کٹنگ میں ایم کیو ایم ملوث رہی لیکن ان کے ساتھ اتحاد ہماری مجبوری ہے۔یعنی تحریک انصاف کراچی میں اپنی سیاست اور اپنی جگہ بنانا چاہتی ہے۔ 

انتخابات کے بعدایم کیو ایم مخمصہ کا شکار ہوگئی۔یہ سوچ ابھرنے لگی کہ مہاجر سیاست کا کیا ہوگا؟ اس کو زندہ کرنے کے لئے مختلف فارمولے سامنے آئے کہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کیا جائے ۔دوسرا یہ کہ کوئی نئی پارٹی بناتی جائے۔ضمنی بلدیاتی انتخابات نے اس سوچ کا ایک عکس دکھایا۔

مقتول رہنما رضا علی عابدی پچھلے کئی دنوں سے ایم کیو ایم کے تمام گروپس میں اتحاد کے لئے کوشاں تھے۔ انہوں نے ایک مصالحتی کمیٹی بھی بنائی اور ذاتی طور پر اس پلان کے لئے مہاجر قومی موومنٹ، پاک سر زمین پارٹی اور ایم آ ئی ٹی کے رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا تھا۔وہ کہتے تھے کہ 2018ء کے عام انتخاب میں ایم کیو ایم کو بڑا دھچکہ لگا ہے، جس کے ازالے کے لیے ’’مہاجر قوم‘‘ کراچی اور سندھ کے تمام سیاسی رہنماؤں کو متحد ہونا پڑے گا تاکہ آئندہ بلدیاتی انتخاب میں سندھ کے شہری علاقوں سے ان کی اصل قیادت سامنے آسکے ۔ انہوں نے ایم کیو ایم بہادر آباد کی قیادت سے بھی اپیل کی تھی کہ کراچی اور مہاجروں کو نقصان سے بچا نے کے لئے حکمت عملی بنائی جائی ۔علی رضا عابدی نے رواں سال اگست کے آخر میں اختلافات کی وجہ سے ایم کیو ایم کی بنیادی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا ۔ علی رضا عابدی ایم کیو ایم میں اختلافات کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ تھے ۔

سندھ حکومت کو فکر ہے کہ پے درپے واقعات کی وجہ سے کہیں کراچی کا امن ایک بار پھر ہاتھوں سے پھسل نہ جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اکٹھے ہورہے ہیں اور ہم چپ کرکے بیٹھ گئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ صورتحال تشویش ناک ہے، یہ دہشت گرد اکٹھے ہورہے ہیں اور ہم چپ کرکے بیٹھ گئے ہیں، کراچی کے شہریوں کو خوف کے ماحول میں رہنے نہیں دینگے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تشویش ناک قرار کہ دہشت گرد اکٹھے ہورہے ہیں اور ہم چپ کرکے بیٹھ گئے ہیں، کراچی کے شہریوں کو خوف کے ماحول میں رہنے نہیں دینگے، ہرصورت شہریوں کا تحفظ چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ کے یہ جملے معنی خیز ہیں کہ ’’گرفتار ہوجائیں گے نہیں مجھے قاتل گرفتار چاہیءں۔‘‘ ’’اداروں کو خود مختاری دینے کے باوجود اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ‘‘

’’ کراچی بھیجا ہے کہ شہر کے امن کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے ‘‘ کہہ کروزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی یہ کہہ کر کراچی کے امن و امان کے لئے اپنا کردار بڑاھانے کا اشارہ دیا ہے۔ وہ کراچی پہنچے اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی۔ انہیں علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا ہے کہ عابدی کے قتل کے واقعے کی کڑیاں مل رہی ہیں اور مجرم جلد گرفتار ہوں گے۔ہر زوایہ سے تحقیقات کی جارہی ہیں، باہر کے اور اندر کے تمام عناصر کو دیکھا جارہا ہے۔شہریار آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے یہ پیغام دے کر کراچی بھیجا ہے کہ شہر کے امن کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے، واقعے میں ملوث ہر ملزم اور سہولت کار کو گرفتار کریں گے چاہے وہ باہر کا ہو یا اندر کا شخص ہے، کراچی کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 

رضا علی عابدی کے قتل کی تعزیتی پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کراچی کی سیاست میں ایک اہم فرد تھے اور کوئی اہم کردار ادا کرنے جارہے تھے۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے عہدیداران کے بیانات سے لگتا ہے کہ واقعہ کے دہشتگردی کے حوالے سے مضمرات اپنی جگہ پر ،وفاقی و صوبائی حکومت کو گہری تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ کہیں یہ واقعہ کراچی کی سیاست میں گیم چینجر نہ بن جائے۔


ای پیپر