راز کھلنے لگے
27 دسمبر 2018 2018-12-27

پاکستان کی تاریخ کی پہلی حکومت جو ناقص حکمت عملی اور نا تجربہ کاری سے نہ صرف غیر مقبول ہو رہی ہے بلکہ تضاد کی وجہ سے نہ صرف کمزور ہو رہی ہے بلکہ ناقص حکمت عملی سے پاکستان کی حیثیت کو جو مسئلے جھٹکے لگ رہے ہیں اس سے 300 کنال کے گھر میں رہنے والوں کو کیا فرق پڑے ہونے سے لے کر ڈالر تک اور کمک سے لے کر ماش کی دال تک سارا بوجھ غریبوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ نہ جانے حکمران پارٹی کو کیوں زغم ہے کہ اس میں شامل ہونے والا ہی صادق اور امین ہے۔ حکمران جماعت کی جس اینٹ کو اٹھا کر دیکھا جائے عجیب کرپشن کی غصب کہانی ہے ۔ جب کپتان کہے کہ فلاں جج نے کہا درخواست دو پانامہ کا مقدمہ شروع کرتے ہیں۔ پانامہ کھلا۔ پھر کیا ہوا۔ اب تو ہر بننے والی جے آئی ٹی پر سوال تو اٹھے گا۔ جب نواز شریف ایک مقدمے میں بری ہوتا ہے تو چیئر مین نیب پر جھوٹ پر مبنی ریفرنس بنانے پر جو ہمارے قانون میں سزا ہے وہ ضرور ملنی چاہیے ۔ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف ، حسن نواز حسین کو پھانسنے کے لیے جو ریفرنس بنایا گیا ۔ یہ کہانی ہمیں برطانیہ کے ثالثی جج کے فیصلے سے سمجھ میں آتی ہے۔ جس نے نیب کے خلاف 8 ارب روپے کا مقدمہ جیت لیا ہے اور لکھا ہے کہ ہمیں حسن اور حسین کے بے قائدگی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ دوسری طرف نواز شریف کو العزیزیہ میں سزا ہوئی ہے ۔ العزیزیہ کا اصل کیس تو یہ ہے کہ اس میں منی لانڈرنگ سے نواز شریف نے پیسے باہر بھیجے۔ مگر سزا تو ہوئی ہے نواز شریف کو باہر سے پیسے پاکستان بھیجنے پر سزا کے مقدمے میں کوئی جان نہیں ہے۔ جب یک طرفہ احتساب ہو، رگڑا ایک جماعت کو ہی لگانا ہے تو حکمران جماعت کے وزیر جھوٹ پر جھوٹ بولیں ان کو کسی نے کیا سزا دے دینی ہے۔ پہلے کپتان نے کہا شہباز شریف نے انہیں دس ارب کی رشوت کی آفر کی۔ وہ مقدمہ ابھی تک رکا ہوا ہے۔ اپوزیشن کے مقدمات کا تو یہ مال ہے عدالتیں تاریخوں پر تاریخیں دیتی ہیں۔ اب ایک وزیر جس کو اپنی جائیدادوں کا حساب دینا ہے اب اس نے فرمایا ہے نواز شریف نے رہائی کے لیے دو ارب کی پیش کش کی تھی ۔ یہ حکومت اسی چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ لندن عدالت کا فیصلہ والیم 10 کے لیے چیلنج ہے۔ اور یہ نیب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کہ لندن کی مصالحتی عدالت نے براڈ شپ کمپنی کو 60 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے کے لیے کہا ہے اور یہ تم پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادا کرنا ہو گی ۔ جس کمپنی نے مقدمہ جیتا ہے اس کے ساتھ پرویز مشرف کی حکومت نے برطانیہ اور امریکہ میں کم و بیش 200 افراد کے اثاثوں کا پتہ چلانے کے لیے خدمات حاصل کی تھیں ۔ اس معاہدے کا اصل مقصد نواز شریف کو نشانہ بنانا تھا ۔ تحقیق کے مطابق نیب سے مقدمہ جیتنے والی کمپنی نواز شریف کے بیٹے حسن اور نواز کے خلاف کسی بھی غلط کاری کا ثبوت پیش نہیں کر سکی ۔ حسن اور حسین نوازپر بننے والے نیب ریفرنس میں دونوں بھائی پیش نہیں ہوئے تھے ۔ دونوں نے اس وقت احتساب عدالت کو جواب دیا تھا وہ برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے ۔ پاکستان کی عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں جو سزا سنائی ہے ۔ اس کے بارے میں براڈ شپ العزیزیہ ریفرنس میں مبینہ طور پر نیب پر ایک اور مقدمہ فائل کرنے جا رہی ہے۔ ادھر پاکستان میں نواز شریف کے وکلاء آئندہ ہفتے العزیزیہ ریفرنس میں دی گئی سزا کو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی جو جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد مشکل میں آ گئی ہے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کو اپنا جواب جمع کرانے کا حکم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے دیا جا چکا ہے۔ اس پر پیپلز پارٹی کی جانب سے جو ابی حکمت عملی سامنے آ رہی ہے ۔ سخت مزاحمت کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی نے اپنے اجلاس میں اہم فیصلے کیے ہیں ۔ بلاول بھٹو نے اپنی والدہ کی برسی پر جذباتی تقریر کی ہے ۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے خلاف ریفرنس بنتے ہیں۔ وہ جیل میں جاتے ہیں۔ تو وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا خاندان آصف زرداری کا وفادار ہے۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے والد سید عبد اللہ شاہ بھی وزیر اعلیٰ رہے ان کے دور میں مرتضیٰ بھٹو کا قتل ان کے گھر کے قریب ہوا، اس زمانے میں مرتضیٰ اور زرداری کے خلاف باتیں منظر عام پر آئیں۔مگر بے نظیر بھٹو نے مرتضیٰ سے اگست 1996 ء میں صلح کر لی تھی۔ مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ ان کے چھ ساتھی بھی قتل ہوئے تھے ۔ پولیس کے اعلیٰ افسروں شعیب سڈل، آئی بی کے سربراہ مسعود شریف اور آصف زرداری سمیت 18 ہائی پروفائل لوگوں کے خلاف قتل کے مقدمہ میں فرد جرم عائد ہوئی۔ بے نظیر کے قتل کے بعد آصف زرداری صدر پاکستان اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بن گئے۔ 2009 ء میں تمام ملزم بری ہو گئے۔ شعیب سڈل یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ کوئی اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ ایک اندھی گولی کدھر سے آئی۔ اب پیپلز پارٹی کافی مشکل میں ہے۔زرداری اور اس کے بہن فریال تالپور کے بعد اب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف بھی ریفرنس بنتے ہیں تو سندھ کی وزارت اعلیٰ کا سوال اٹھے گا۔ بلوچستان میں چیئر مین سینیٹ کے الیکشن میں (ن) لیگ کو شکست دینے کے لیے تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا اور ووٹ پیپلزپارٹی کے امیدوار سلیم مانڈی والا کو دیا۔ پیپلزپارٹی کی مجلس عاملہ نے بینظیر کی برسی سے ایک روز قبل جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کر دی ہے اور اس نے جے آئی ٹی رپورٹ پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر سوال اٹھا ہے اور اس پر قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صنم بھٹو کے بارے میں خبر آ رہی ہے کہ ان کی پارٹی میں اہم عہدہ دیا جا رہا ہے۔ صنم بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کی آخری نشانی ضرور ہیں مگر سیاست کبھی بھی ان کا میدان نہیں رہا۔ وہ ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے زرداری خاندان اگر سیاست سے آؤٹ ہوتا ہے تو آصف اور بلاول کے ساتھ صنم بھٹو کا اضافہ کیا ۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) تو ارادہ کر چکی ہے کہ وہ ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن لینے جا رہی ہے۔ پارٹی امور چلانے کے لیے مرکزی ایڈوائزری کونسل قائم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب سیاست میں ابھرتی سیاسی لیڈر مریم نواز کا ٹویٹ اکاؤنٹ جو کئی ماہ سے خاموش تھا میں نواز شریف کی سزا کے پس منظر میں کڑی تنقید کی گئی ہے۔ نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل پہنچ چکے ہیں ۔ حکومت کی تبدیلی سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے اس کی کامیابی کے چانس ہیں مگر نواز شریف پوری طرح پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ علی رضا عابدی کا قتل حکومت کی سیاست پر گہرا سوال ہے۔ مولانا سمیع الحق کے بعد یہ دوسرا بڑا قتل ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں کو گملوں میں پیدا کرنے کی بجائے جمہوریت کو مکمل موقع ملنا چاہیے گزرے دس سال میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے راستے میں جو رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ پوشیدہ ہیں۔ 


ای پیپر