العزیزیہ سٹیل مل فیصلہ میا ں صا حب نے کہا ں غلطی کی
27 دسمبر 2018 2018-12-27

ا لعز یزیہ سٹیل مل کیس پہ سنا ئے گئے عدا لتِ عا لیہ کے فیصلے پہ بحث اس کالم کا مطمعِ نظر نہیں۔ غو ر کر نے کی بات تو یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سا بق وز یرِا عظم میں نواز شریف نے ہی اپنا کیس ڈھنگ سے نہیں لڑا ہو؟ عدالتوں میں ہر مقدمے کے دفاع کی حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔ طے کیا جاتا ہے کہ دفاع کے لیے بہترین سطور کیا ہیں۔ اس کے بعد مقدمہ اسی حکمت عملی مطابق لڑا جاتا ہے۔ سابق وزیراعظم کے خلاف قریباً ڈیڑھ سال سے مذکورہ مقدمات چل رہے تھے اور ملک کے چوٹی کے وکلاء نے ان کا دفاع کیا۔ ذرائع ابلاغ کی نظریں بھی ملکی تاریخ کے اس اہم مقدمے پر مرکوز تھیں اورقارئین و ناظرین مقدمات کی پیش رفت کے بارے تفصیلاً آگاہ رہے۔ ان مقدمات میں نواز شریف اور ان کے شریک ملزمان، جن میں ان کے دو بیٹے، ایک بیٹی اور داماد کا نام آیا، کے عدالتی کارروائی کے دوران اپنے دفاع میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے جاسکے۔ دوسرا یہ کہ نواز شریف مقدمے کی پوری کارروائی کے دوران اسی موقف پر سختی سے قائم رہے کہ ان کا اپنے بچوں کے نام سے موجود کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ تعلق نہیں۔ نواز شریف کے دفاع کا دارومدار اسی جوا زپر رہا کہ بیٹی اور بیٹوں کے نام پر جو کاروبار یا اثاثے ہیں وہ نواز شریف کی جانب سے نہیں دیئے گئے۔صرف یہی نہیں وہ اس موقف پر بھی قائم رہے کہ اپنے والد کی زندگی کے دوران اور بعد بھی وہ اپنے خاندان کے کاروبار کا حصہ نہیں رہے۔ دوران سماعت انہوں نے مختلف واقعاتی شہادتوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کے بزرگ قیام پاکستان سے بھی پہلے کامیاب کاروبار کررہے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے ایک دفعہ وکلاء کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ اتفاق فاؤنڈری 50ء کی دہائی سے زرعی آلات تیار کر رہی تھی اور 1962ء میں لاہور کی پہلی امریکن شیور لیٹ گاڑی ان کے والد نے خریدی تھی۔ جبکہ لاہور کی پہلی سپورٹس مرسڈیز کار ان کے لیے منگوائی گئی تھی۔ بظاہر اس گفتگو کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ انہیں ایک پرانے کاروباری اور سرمایہ دار خاندان کا فرد مان لیا جائے ، جس میں یقیناًکوئی شک نہیں، تاہم احتساب عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ یہ تھا کہ ان کے بیٹوں اور بیٹی کے نام پر جو غیرمعمولی دولت مختلف اثاثوں کی صورت میں بیرونِ ملک موجود ہے اس کے وسائل کیا تھے اور وہ کیونکر منتقل ہوئے او رمذکورہ اثاثوں کی صورت میں تبدیل ہوئے؟ دیکھا جائے تو ملکی احتساب کے اداروں کی جانب سے داخل کیے گئے مقدمات میں یہ سادہ ترین مقدمہ تھا جو چند تاریخوں میں طے ہوسکتا تھا؛بشرطیکہ مدعا علیہ کی جانب سے مالی وسائل اور ان کی ترسیل کے تسلی بخش جواب مہیا کردیئے جاتے۔ میاں نواز شریف کے بیٹوں نے اوائل عمری میں اربوں روپے کے کاروبار کیسے بنائے، کیسے سنبھالے؟ جب وہ اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے تو قدرتی طور پر یہی رائے قائم کرلی گئی کہ یہ اثاثے بچوں کو اپنے والد کی جانب سے مہیا کیے گئے اور والد اگر ان اثاثوں کے ذرائع فراہم نہیں کرسکا تو یہ کیوں نہ مان لیا جائے کہ کچھ چھپایا جارہا ہے۔ ذرائع آمدن مشکوک ہیں خود بچے والد کے بے نامی دار ہیں۔ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے مقدمے کا انحصار سابق قطری وزیر اعظم حمد بن جاسم کے اس خط پر تھا جس میں انہوں نے شریف خاندان کے ساتھ کاروبار کی تصدیق کی تھی۔ نواز شریف کا موقف تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز قطری سرمایہ کاری سے خریدی گئی اور حسن نواز کو کاروبار کے لیے سرمایہ بھی قطری نے فراہم کیا جس کی بنیاد پر فلیگ شپ کمپنی بنائی گئی۔ مگر نواز شریف بعد میں خود ہی اس خط سے لاتعلق ہوگئے۔ ان حالات میں لائق وکلاء کی ٹیم نے ان کے دفاع کے لیے بڑی مہارت سے جو قلعہ تعمیر کیا تھا وہ ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ اس صورتحال نے نواز شریف کے مقدمات میں فیصلے کی نوعیت کے بارے ابہام نہ چھوڑا تھا۔ بے شک جج صاحبان کے ذہن پڑھ لینے کا دعویٰ کوئی بھی نہیں کرسکتا، مگر مقدمے کی کارروائی عقل سلیم پر نتیجے کا رخ واضح کرتی ہے۔ اس حکمت عملی سے شاید توقع یہ تھی کہ صفائی پیش نہ کرنے کی صورت میں فیصلہ تو خلاف آہی جائے گا، لیکن مستقبل میں دروازے کھلنا ممکن رہے گا۔ یقیناًیہ امید زندہ رہتی ہے کہ وقت بدل سکتا ہے اور آئندہ کسی سازگار ماحول میں کوئی رعایت مل جائے کا امکان بھی بہرحال رہتا ہے۔ دلچپ امر یہ ہے کہ عدالتی فیصلوں کے تناظر میں سابق وزیر اعظم پاکستان وسابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی 69 ویں سالگرہ 25 دسمبر کو منائی گئی۔ سالگرہ کا کیک کاٹاگیا۔۔ میاں محمد نواز شریف کی درازی عمر کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ دوسری جا نب میڈیا میں (ن) لیگ کے بعض ووکل رہنماؤں کی غیراعلانیہ ’’خاموشی‘‘ بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور ن لیگ کی مزاحمتی سیاست پر بھی رائے زنی کا سلسلہ جاری ہے۔ 

اگر چہ صو ر تِ حا ل خو ا ہ کچھ بھی ہو، عدالتی فیصلہ ن لیگ کے لیے ایک اور شد ید دھچکا ہے۔ اپنے خلاف العزیزیہ فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر نواز شریف خود بھی مو جو د تھے۔ عدالت کی سیکورٹی سخت تھی جبکہ لیگی کارکنوں کے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔ اطراف کے تمام راستے بند تھے۔ لیگی ذرائع کے مطابق نواز شہباز ملاقات میں عدالتی فیصلہ کی روشنی میں قانونی راستہ اختیار کرنے اور سویلین بالادستی پر سمجھوتہ نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اب نواز شریف کے وکلاء اپیل میں جائیں گے۔ انہی حا لا ت کے نکتہ عروج پر کراچی اور خیبرپختونخواہ کے ضمنی بلدیاتی انتخابات بھی پرامن طور پر ہوئے۔ عبوری نتائج کے مطابق کراچی میں ایم کیو ایم جبکہ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا۔ ایک طرف توحکومت کرپشن کے خلاف کیسز کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچانے کا عندیہ دے چکی ہے ،جبکہ دو سری جا نب ا پوزیشن نے جاری احتساب کو انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس پیر کو طلب کیا گیا۔ اجلاس میں نواز شریف کے نیب ریفرنسز کے فیصلے پر مشاورت بھی ہوئی۔ ا نتظا می امو ر کے حو الے سے یہ ایک پیچید ہ صو ر تِ حا ل ہے۔ او نٹ کسی کر و ٹ بیٹھ چکا ہے یا نہیں، ہم نہیں جا نتے۔ اگر نہیں بیٹھا تو کس کر و ٹ بیٹھے گا، یہ بھی معلو م نہیں۔ تا ہم یہ سب کچھ اپنی جگہ، لیکن نظر یہی آ تا ہے کہ میاں صا حب اپنے کیس کو منا سب ڈھنگ سے لڑ تے تو فیصلہ اس سے مختلف ہو سکتا تھا ۔ 

ضر و ر ت اِس امر کی تھی کو ھلو کے بیل کی طر ح ایک ہی د ائرے میں گھو منے کی بجا ئے حا لا ت کو پڑھتے ہو ئے اگر حکمتِ عملی کو نیا ر خ دینے کی ضر و ر ت پیش آ تی تو اسے نیا رخ دیا جا تا۔ 


ای پیپر