مسلم لیگ ن کی سیاست دوراہے پر
27 دسمبر 2018 2018-12-27

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف احتساب عدالت سے سات سال کی قید با مشقت پانے کے بعد ایک بار پھر جیل جا پہنچے ہیں۔ احتساب عدالت نے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنائی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں با عزت بری کر دیا۔ نواز شریف کا جیل جانا قطعاً غیر متوقع نہیں ہے۔ یہ فیصلہ نہ تو مسلم لیگ کے لیے غیر متوقع ہے اور نہ ہی سیاسی حلقوں کے لیے ۔ حکومتی وزراء تو کافی عرصے سے ان کے دوبارہ جیل جانے کی باتیں اور دعوے کر رہے تھے۔

شریف خاندان کے گرد گھومتی مسلم لیگ ن کو اس وقت شدید سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔ عمومی طور پر ایسی صورت حال کا سامنا ایسی جماعتوں کو ہوتا ہے جو کہ فوجی آمریتوں کے خلاف جدو جہد کر رہی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت نے کیا۔ ایک طرف عدالتوں کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پھانسی کی سزا دلوائی گئی۔ پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔ پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر ختم کرنے کا ہر حربہ آزمایا گیا ۔ ہر ممکن طریقہ اختیار کیا گیا ۔ ریاستی تشدد اور جبر کا سہارا لیا گیا ۔ مگر پیپلز پارٹی سیاسی طور پر ختم نہ ہو سکی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ریاستی جبر اور عدالتوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ مگر مسلم لیگ ن کو بالکل مختلف صور ت حال کا سامنا ہے۔ اس کی قیادت کے خلاف بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف دوسری بار کرپشن کے الزامات پر جیل گئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی اختیارات کے ناجائز استعمال اور بد عنوانی کے الزامات کے تحت ہیں۔ مریم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے سزا ہو چکی ہے جو کہ اب اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پر ہیں اور نیب کی اس ضمانت کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ جس پر فیصلہ جلد متوقع ہے۔

مسلم لیگ ن کی یادت کو بیک وقت سیاسی اور قانونی دونوں محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن ایک شخصی جماعت ہے جو کہ شریف خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ شریف خاندان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث مسلم لیگ ن کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ ن پر دباؤ موجود ہے اور اس میں فوری طور پر کمی آنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے چند ماہ میں شریف خاندان کے مزید افراد اور مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما سلاخوں کے پیچھے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسے 1999 ء کے بعد والی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے جس میں مسلم لیگ ن شریف خاندان کی عملی قیادت سے محروم ہو گئی تھی اور اسے شدید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اب تک تو مسلم لیگ ن مرکزی پنجاب میں بڑی سیاسی ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہی ہے اور اس کی انتخابی قوت ابھی تک بر قرار ہے۔ اسے جنوبی پنجاب میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑا مگر مرکزی پنجاب میں یہ اب بھی سب سے بڑی انتخابی قوت کے طور پر موجود ہے۔ مسلم لیگ ن در اصل ایک انتخابی سیاسی جماعت ہے ۔ یہ سیاسی کارکنوں اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے پر مبنی منظم جماعت نہیں ہے بلکہ مضبوط انتخابی امیدواروں پر مبنی مضبوط انتخابی نیٹ ورک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مزاحمتی اور سڑکوں کی سیاست کے حوالے سے ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مذاحمتی سیاست کرنے اور سڑکوں پر حکومت کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لیے جس قسم کی سیاسی قوت اور تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے مسلم لیگ ن اس سے محروم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت سڑکوں پر بڑے احتجاج کو منظم کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی فی الحال سڑکوں کی سیاست کی بجائے پارلیمنٹ کو ہی توجہ کا مرکز بنائیں گے ۔ متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کی حکومت کو سخت مشکلات میں مبتلا کر سکتی ہے۔ جبکہ سڑکوں پر جدوجہد کی باری بعد میں آئے گی ۔

سڑکوں پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے مسلم لیگ ن کی حزب مخالف کا متحدہ محاز تشکیل دینا پڑے گا ۔ بڑے جلسوں اور ریلیوں کے لیے قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کو اتحاد میں شامل کرنا ہو گا۔ فی الحال ایسے وسیع البنیاد اتحاد کے امکانات کم نظر آتے ہیں مگر آگے چل کر ایسا ممکن ہے۔

مسلم لیگ ن کی سیاست کا دارومدار عدالتی فیصلوں پر ہے۔ اگر مریم نواز کی عدالتی سزا ختم ہو جاتی ہے اور وہ بری ہو جاتی ہیں تو مسلم لیگ ن کے پاس ایک متبادل قیادت موجود ہو گی ۔ اور اگر نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بد عنوانی کے الزامات سے بری ہو جاتے ہیں تو اس سے مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر بہت زیادہ فائدہ ہو گا اور تحریک انصاف کو نقصان پہنچے گا۔ اور اگر عدالتوں سے سزاؤں کا عمل جاری رہا تو مسلم لیگ ن کو اس سے سیاسی نقصان پہنچے گا اور تحریک انصاف کو وقتی طور پر فائدہ پہنچے گا۔ شہباز شریف کے خلاف نیب مقدمات کا فیصلہ آنے میں ابھی وقت لگے گا ۔ ایک بات تو بہت واضح ہے کہ موجودہ حالات میں شریف خاندان کی مشکلات محض مفاہمت اور مصالحت کے نتیجے میں ہی کم ہوں گی ۔ مزاحمتی سیاست اور وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت نہ ہو اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود نہ ہو۔ اس وقت مسلم لیگ ن کو دونوں حوالوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن کو جن طبقات اور عوامی حلقوں کی حمایت حاصل ہے ، مزاحمت ا ن کے ضمیر میں شامل نہیں ہے۔

احتساب کے نتیجے میں جیل جا سکتے ہیں۔اس کی پارلیمانی پارٹی میں محدود پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ بھی ہو سکتی ہے۔ فارورڈ بلاک بھی بن سکتے ہیں۔ مگر مسلم لیگ ن کی سیاست ختم نہیں ہو گی ۔ مسلم لیگ ن ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر انتخابی میدان میں موجود رہے گی ۔ عدالتی فیصلوں کے با وجود شریف خاندان کی سیاست ختم ہو گی اور نہ ہی ان کی سیاسی حیثیت ختم ہو گی۔

عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں نواز شریف کی عملی سیاست کا تو تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے۔ ان کی سیاست میں واپسی اب پارلیمنٹ کی مرہون منت ہے۔ پارلیمنٹ ہی آئین اور قانون میں ترمیم کر کے ان کی واپسی کا راستہ کھول سکتی ہے۔ ورنہ ان کی عملی سیاست اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ وہ عدالتوں سے سزا ختم ہونے کی صورت میں دوبارہ ، سیاسی طور پر متحرک ہو سکتے ہیں اور اپنی جماعت کے معاملات کو چلا سکتے ہیں۔ جیل میں موجود ہونے کے با وجود ان کی مقبول سیاسی راہنما کی حیثیت بر قرار رہے گی ۔ اس وقت عملی طور پر مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے مریم اور شہباز شریف ہی باقی بچتے ہیں۔ اگر شہباز شریف ضمانت پر رہائی پا کر باہر آ گئے تو پارٹی کی قیادت ان کے ہاتھ میں ہی رہے گی اور مریم نواز کو قیادت سنبھالنے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

میں ذاتی طور پر یہ نہیں سمجھتا کہ عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں کسی بھی سیاسی جماعت کو ختم کیا جا سکتا ہے اور قیادت کی مقبولیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ در اصل منتخب احتساب کی وجہ سے حزب مخالف کو ہمدردیاں حاصل کرنے اور احتساب کے پورے عمل پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ جب تک احتساب کا عمل شفاف ، غیر جانبدار اور سب کے لیے نہیں ہو گا اس وقت تک مظلومیت اور انتقام کا نعرہ اور بیانیہ کار آمد رہے گا اور عوام میں اس کی مقبولیت بر قرار رہے گی ۔

احتساب کا عمل جب تک سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال ہوتا رہے گا اس وقت تک نشانہ بننے والے سیاسی طور پر ختم نہیں ہوں گے۔


ای پیپر