تیس سالہ رفاقت
27 دسمبر 2018 2018-12-27

طارق جب آپ کھانے سے فارغ ہو جائیں تو مارکیٹ جا کر میرے لیے ایک ہیئر کنڈیشنر خرید لائیں۔ یہ ایک غیر مانوس سی آواز تھی جو ہماری سماعت سے ٹکرائی تھی۔ ہم نے منہ اٹھا کر باقاعدہ جگالی کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا۔ یہ حکم کہاں سے صادر ہوا ہے نہ تو یہ ہماری اماں کی آواز تھی اور نہ اماں بیچاری کو ہیئر کنڈیشنر کا معلوم تھا۔ وہ لائف بوائے استعمال کرتیں اور کبھی کبھی کپڑے دھونے والا دیسی صابن۔ بہنیں ڈاکٹر تھیں لیکن مکمل دیسی۔ ہم تینوں بھائی سر جوڑے بیٹھے تھے۔ اور مغز کھا رہے تھے۔ پائے تھے اور تلوں والے کلچے تھے۔ پوریاں تھیں اور ان پوریوں میں تیل بھی تھا۔ یہ ہمارے ولیمے کی صبح تھی۔ ناشتہ بھی کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ولیمے کا حساب کتاب بھی لگا رہے تھے۔ فرنی کی ٹھوٹھیاں، مرغی کی ٹانگیں، بکرے کی چانپیں، بکرے کے گوشت پر خاص توجہ تھی۔ یہ ایک سماجی حقیقت ہے۔ لوگ بکرے کے گوشت کو دیکھ کر زیادہ ہی ہتھ چھٹ اور منہ پھٹ ہو جاتے ہیں۔ ٹیڑھی میڑھی مشکل بوٹیوں کی بجائے صاف ستھری سیدھی سادی بوٹیوں پر خاص کر نگاہ رہتی ہے۔ دہی کے کونڈوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔ لاہوریے دہی کھاتے نہیں پیتے ہیں۔ چاہے میزبان کا کونڈا ہو جائے اور ان تمام اجناتی اشیاء کا مالی بجٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی جاری تھا۔ آپ جانیں مڈل کلاس کے اپنے ہی مسائل ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا۔ یار یہ آدھی پوری دینا۔ اس نے تیل سے بھری آدھی پوری ہمیں دی۔ ہم نے پوری کو پہلے اچھی طرح نچوڑا۔ پھر سکھایا اور پھر کھایا۔ اتنی دیر میں پھر وہی غیر مانوس آواز آئی۔ طارق مارکیٹ جا کر ایک ہیئر کنڈیشنر خرید لائیں جس طرح بکروں کا ریوڑ گھاس کھاتے کھاتے گردن اٹھا کر ادھر ادھر دیکھتا ہے۔ ہم تینوں بھائی بھی کچھ یہی کر رہے تھے۔ پھر بڑے بھائی نے ہمیں باقاعدہ ٹھاپ لگائی۔ تمہاری بیوی کی آواز ہے۔ آواز پہچانتا نہیں۔ ہم نے مسکرا کر کہا۔ ابھی آواز کہاں سنی۔ وہ الگ بات کہ اگلے تیس سال یہ آواز ہم نے دن رات سنی۔ صبح شام سنی۔ آتے جاتے سنی۔ سوتے جاگتے سنی اور پڑھتے پڑھاتے سنی اور ہمارا گھر اس آواز سے گونجتا رہا۔ 

بات یہ ہے۔ ہم مزاجاً بچپن سے ہی کچھ رومان پسند تھے۔ پھر بیشمار رومانیت سے بھرے ناول پڑھ لیے۔ شاعری پڑھ لی۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کر لیا۔ ہماری امی ہمارے ابو کا نام نہ لیتیں۔ میکیا کہہ کر بلاتیں۔ ابو ہماری امی کو میکیا کہتے لیکن جو بات ہماری رومان پرور طبیعت کو بہت زیادہ متاثر کرتی۔ وہ ہمارے گھر کام کرنے والی خاتون کا وہ طرز تخاطب تھا۔ جس سے وہ اپنے شوہر کا ذکر کرتی۔ میرے مالک کی یہ بات اور میرے مالک کی وہ بات۔ میرے مالک سے ہمیں ملکیت اور قبضے کی فیلنگ آتی اور سچی بات ہے۔ ہم محبت میں ملکیت کے ہی حامی تھے اور کچھ عجیب سی خواہش تھی۔ ہماری بیگم بھی ہمیں میرا مالک کہہ کر بلائیں ورنہ میکیا تو ضرور کہیں اور جو پہلا فقرہ بیوی کے منہ سے سنا۔ وہ بقلم خود ہمارا نام تھا۔ طارق ، مارکیٹ سے ہیئر کنڈیشنر لا دیں۔ رومانیت تو ختم ہوئی اپنے نام سے پیار ہو گیا۔ 

لیکن کچھ کمینے دوست کہاں باز رہنے والے تھے۔ ایک بار ہاتھ میں رومال پکڑے گھر سے باہر نکلا تو ایک ایسے ہی کمینے دوست سے ٹاکرا ہو گیا۔ پوچھنے لگا۔ کہاں جا رہے ہو۔ ہم نے کہا۔ تندور سے روٹیاں لینے جا رہے ہیں۔ سنتے ہی کمینگی سے ہنسنے لگا۔ پھر کہنے لگا۔ تم تو کہا کرتے تھے۔ تمہیں ایسی بیوی پسند ہے جو کچن میں چپاتیاں پکا رہی ہو اور جس کے بازووں میں پڑی کانچ کی چوڑیوں کی کھنک سے کچن گونج رہا ہو۔ ہم نے اپنے اس گھٹیا دوست کو کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھا اور کہا تب میں بچہ تھا۔ تمہاری بھابھی ایٹمی توانائی کمیش میں سائنسدان ہے۔ اب وہ چوڑیاں پہن کر چھن چھن کرنے سے تو رہی۔ بدتمیزی سے بولا۔ تم چوڑیاں پہن لو اور چھن چھن کرتے رہو۔ تمہاری رومانیت تو زندہ رہے گی۔ اب ہم کیا جواب دیتے۔ اس کمبخت کی پہلے شادی ہو گئی تھی اور ہم نے اس کا اچھا خاصہ مذاق لگا رکھا تھا۔ اب ظاہر ہے بدلہ لینے کی ان کی باری تھی۔ 

ستر اور اسی کی دھائیاں سست رو تھیں اور عاشقانہ تھیں یعنی بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔ نوے کی دہائی ٹرانسفر لاء اور پھر اکیسویں صدی میں فاسٹ ٹائم، فاسٹ کمپیوٹر، فاسٹ سائبر ورلڈ ، فاسٹ فوڈ، فاسٹ مہنگائی اور فاسٹ تعلقات عامہ نے دنیا کو جکڑ لیا۔ ہم نسیم حجازی کے ناول پڑھ کر بڑے ہوئے۔ عمران سیریز اور جاسوسی دنیا میں لڑکپن گزارا۔ علی پور کا ایلی، آگ کا دریا ، اداس نسلیں، راجہ گدھ اور شہاب نامہ میں جوانی بسر ہوئی ۔ کرنل خان ، شفیق الرحمان، پطرس بخاری ، مشتاق احمد یوسفی، عطاء الحق قاسمی، ابن انشاء ، اور ضمیر جعفری سے طنز و مزاح سیکھا اور پیار کا پہلا شہر سفر نامہ قرار پایا۔ شیکسپیئر، ورڈز ورتھ، کیٹس ، شیلے، اور تھامس ہارڈی اور جین آسٹن اور ڈکنز کو بھی پڑھ لیا لیکن جب ان کتابوں کے رومان پرور ماحول سے باہر نکلے تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ ہم خرگوش کی مانند درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں سوتے رہ گئے۔ اور مستقل مزاج کچھوے آگے نکل گئے۔ پھر کیا تھا۔ رومانیت کو حقیقت میں ڈھالا۔ معلوم ہوا۔ چوڑیوں کی چھن چھن اپنی جگہ اور میرا مالک اپنی جگہ۔ بیوی پڑھی لکھی اور نوکری پیشہ ہی ٹھیک ہے۔ زندگی کی گاڑی ایسے ہی اب چلے گی۔ یہ ہمارا خیال ہے۔ باہمی محبت ، باہمی احترام ، باہمی آرام ، مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ مسائل اور مشترکہ وسائل۔ اولاد سانجھی اور زندگی سانجھی۔ تیس سال بسر ہو گئے۔ چند سال پہلے بیوی کا ہاتھ پکڑا ، بچوں کی انگلی تھامی اور گوروں کے دیس چلا آیا۔ وہ بھلی مانس خاموشی سے چلی آئی اور دیار غیر میں جدوجہد اور کامیابی کا استعارہ بن گئی۔ وہ طارق کی آواز لگاتی ہے۔ ہم جی بیوی کہتے ہیں۔ ہم بیوی کو پکارتے ہیں۔ وہ آئی سرکار کہتی ہے اور ہاں وہ کانچ کی چوڑیاں بھی پہن لیتی ہے۔ چھن چھن بھی کرتی ہے۔ اور ہم گانا بھی گا لیتے ہیں بلکہ گانے کی جان نکال لیتے ہیں۔ بچے ہنستے ہیں۔ محبت کرتے ہیں۔ ادب کرتے ہیں اور ہم مسکرا لیتے ہیں۔ یہ زندگی محبت کے لیے کم ہے۔ لوگ پتہ نہیں نفرت کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں۔ 


ای پیپر