ہما ری برسا ت او ر ہما را نصیب
27 اگست 2020 (21:18) 2020-08-27

اب تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ گئے دنو ں کی بات ہے جب جون جو لا ئی کی جھلستی گرمیاں بیتا تے وقت برسا ت کے مو سم کا شد ت سے انتظا ر ہو تا تھا۔ یہا ں تک کے سا ون کی با رشوں نے اردو ادب میں خا ص جگہ حا صل کی۔ شا عروں نے بار ش کو مو ضو عِ سخن بنا تے ہو ئے نظمیں اور غز لیں لکھیں۔ نا صر کا ظمی کی تو ایک کتاب کا عنوان ہی ’پہلی با رش‘ ہے۔لیکن وائے شومیِ تقدیر کی اب تصو یر با لکل الٹ ہو چکی ہے۔ وہ یو ںکہ آ جکل ملک بھر میں مون سون کا سیزن جاری و ساری ہے مگر اس کے نتیجے میں نقصانات کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہماری کسی بھی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں کی ہے کہ یہ جو ہر سال موسم برسات میں خستہ مکان ڈھے جاتے ہیں اور شکستہ چھتیں گر پڑتی ہیں، جن سے قیمتیں انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں پھر اس کے علاوہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیںسیلاب کی نذر ہوجاتی ہیں اور شہروں میں نظامِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے، اس کا کوئی مستقل اور پائیدار حل تلاش کیا جائے۔ عوام کی اکثریت بارش کی تباہ کاریوں سے اس قدر متاثر ہورہی ہے کہ زندگی کا تمام نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی سے کئی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں، سڑکیں پانی کی وجہ سے بند ہوجاتی ہیں اور ٹریفک پھنس کر رہ جاتی ہے۔ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، گھر سے نکلنا اور نوکری پیشہ افراد کا دفاتر تک پہنچنا ناممکن ہورہا ہے ۔ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جس وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور شہر کے ندی نالے اُبلنے سے سڑکیں تالاب بن گئی ہیں، گھروں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے اور اسی کی نکاسی کا کوئی بندوبست سرے سے نہیں کیا جارہا ہے۔ کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون کے دو سو سے زائد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ نیو کراچی گجر نالے میں گزشتہ روز ڈوبنے والے 3 افراد میں سے 2 افراد کی لاشیں نکال لی گئی جبکہ ایک کی تلاش جاری ہے۔ ڈوبنے والے افراد پانی کے ریلے میں بہہ گئے تھے۔ بارش کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ 500 سے زائد فیڈر متاثر ہوئے۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری رہا۔ بعض علاقوں میں رات گئے تک بجلی بحال نہ ہوسکی۔ لاہور سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں برسات کے بعد مسائل کا انبار لگ جاتا ہے۔ قدرتی آفات ازل سے ہی انسان کی آزمائش بنی ہوئی ہیں، مگر ان آفات سے نمٹنے میں اب تک وہی ملک یا قومیں سرخ رو ہوئیں جنہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ دونوں صفات نہیں پائی جاتیں ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس کوئی موثر منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی اتحاد کا وہ مظاہرہ جو ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ملک میں جہاں ایسے حالات ہیں وہاں حکمران اور اپوزیشن طبقہ روایتی طور پر اس کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے میں مصروف ہیں۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025ء تک دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے 50 فیصد سے زیادہ لوگ سیلاب اور طوفانوں کے خطروں سے دوچار ہوں گے، یقینا یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے۔یہاں پر چند بنیادی سوالات عوام کے ذہنوں میں پید اہوتے ہیں۔ کیا عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہو رہے ہیں؟ تمام متعلقہ محکموں کے ملازمین ہمہ وقت فرائض کی ادائیگی کر رہے ہیں؟ کیا چھوٹے بڑے شہروں میں ندی، نالوں پر قائم تجاوزات کو ختم کیا گیا ہے۔ نالوں کی صفائی کی گئی ہے؟ ہر سوال کا جواب ہے نہیں، نہیں۔ یعنی تمام انتظامی ادارے غیر فعال ہیں لیکن ان کے ہزارہا ملازمین لاکھوں، کروڑوں کی تنخواہیں قومی خزانے سے وصول کررہے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام سرے سے موجود نہیں ہے۔ ’’گالیاں‘‘ تو تمام ملکی سیاسی جماعتوں کو پڑتی ہیں، لیکن درحقیقت جن درجن بھر اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صفائی و ستھرائی اور دیگر امور کا خیال رکھیں، ان کا کوئی ورکر فیلڈ میں نظر نہیں آتا۔ لے دے کر ہم فوج کے ذیلی اداروں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ کیا سسٹم فیل ہوچکا ہے یا اس کو چلانے کی ذمہ داری میں ہم غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مگرمچھ کے آنسو بہانے والا یہی طبقہ دراصل ان تباہ کاریوں کا ذمہ دار ہے اور اس سسٹم کا بھی خدا ہی حافظ ہے۔ وہ ہیلی کاپٹر پر ہماری بربادیوں کا نظارہ کرتے ہیں، اپنی سیاست چمکاتے ہیں، پھر فوٹو سیشن ہوتا ہے، بعد ازاں صوبائی اور شہری حکومتیں، وفاقی حکومت سے امداد کی اپیل کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرتی ہے اور جب امداد مل جاتی ہے تو یہ امداد نیچے سے لے کر اوپر تک بیٹھے بدعنوان لیڈروں اور افسروں کی ’’غربت‘‘ دور کرنے کے کام آتی ہے۔ جبکہ قدرتی 

آفات سے متاثر ہونے والے عام آدمی کے لیے امداد کا انتظار اتنا طویل ہوتا ہے کہ امداد پہنچتے پہنچے وہ کسی دوسری آفات کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ برسات کے جملہ نقصانات سے بچائو کے بہت سے موثر طریقے ہیں۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ تمام دریائوں، ندی ، نالوں کی گہرائی میں اضافہ کیا جائے۔ اس وقت دریائے راوی کی حالت یہ ہے کہ اگر برساتی پانی کے ساتھ لاکھ دو لاکھ کیوسک پانی بھارت چھوڑ دے تو دریائے راوی سے متصل تمام دیہی علاقے زیر آب آجائیں گے اور لوگ جان و مال سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اگر اس کو انتہائی گہرا کردیا جائے تو پھر بھارت کی طرف سے آنے والا پانی ہمارے لیے تحفہ ہوجائے جس سے ہم اپنی فصلوں کی آبیاری کرسکیں گے اور سیلاب کے خطرات سے بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائیں گے۔ دوسرا کام پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے 

شہروں کے سیوریج سسٹم کو جدید خطوط پر تعمیر کیا جائے۔ اس کے لیے غیرملکی فرموں سے بھی تعاون مانگا جاسکتا ہے۔ مثلاً جاپان کا سیوریج سسٹم دنیا کا جدید ترین سسٹم ہے۔ اگر میٹروبس اور اورنج ٹرین کے لیے پورے لاہور کو ادھیڑا جاسکتا ہے تو سیوریج سسٹم کو ’’اپ ڈیٹ‘‘ کرنے کے لیے کیوں یہ عارضی تکلیف نہیں اٹھائی جاسکتی؟ اس عارضی زحمت کے بعد ہمیشہ کا آرام اور سکھ جو عوام کو نصیب ہوگا تو وہ حکمرانوں کو دعائیں دیںگے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے لیے چین اور ترکی کے ساتھ قابل ذکر معاہدے کیے اور ان کی تکمیل کے لیے بھی دن رات کوشاں رہے، لیکن موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے صوبے کو بچانے میں گزشتہ دو سال سے قابل ستائش کاکردگی دکھاتے نظر نہیں آتے ہیں۔ لاہور اور دیگر شہروں و قصبوں کو نقصانات سے بچانا ہے تو عملی طور پر میدان میں آکر کام کرنا ہوگا۔ بارش کے نقصانات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں مین تمام مخدوش اور خستہ مکانات اور عمارات کو ایک نوٹس کے بعد حکومت خود منہدم کردے تاکہ قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔ لاہور اور کراچی میں ابھی تک ایسے مخدوش اور شکستہ مکانوں، دکانوںاور عمارتوں کی بھرمار ہے جو ایک بارش کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ ابھی بارشوں کا موسم ختم نہیں ہوا ہے، لہٰذا ایسی تمام عمارتوں کو خالی کروا کر گرادینا چاہیے۔ کیا ہم مزید چھتیں گرنے اور لاشوں پر نوحہ خوانی کرنے کا انتظار کررہے ہیں؟ بارشوں کے تسلسل میں ضروری ہے کہ ہم اپنے گھروں، محلوں، شہروں، قصبات اور گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھ کر مچھروں کی افزائش نہ ہونے دیں گے تو ڈینگی کے مرض کا خاتمہ ممکن ہے اور ترقی یافتہ ممالک نے اسی طرح ڈینگی پر قابو پایا ہے۔ ڈینگی کے مرض سے بچائو کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے اور مون سون سیزن میں یہ مسئلہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ عام طور پر لوگوں کی توجہ آلودہ پانی کی جانب ہوتی ہے لیکن صاف پانی بھی اس مرض کو پھیلانے کا سبب بن سکتاہے کیونکہ ڈینگی لاروے کی پرورش صاف اور ساکن پانی میں ہوتی ہے جس کے لیے موافق ماحول عام گھروں کے اندر موجود ہوتا ہے۔ ہاٹ سپاٹ کی سو فیصد کوریج اور مچھروں کی بریڈنگ سائٹس کا خاتمہ انتظامی بلدیاتی اداروں کی اولین ذمے داری ہونی چاہیے۔ 

قا رئین کرا م ، میں آ پ سے معذ رت کا خوا ستگا ر ہو ںکہ کا ش جس طو ر میں نے اس کا لم کا آ غا ز شاعرانہ اندا ز میں کیا تھا ، ویسے ہی اس کا اختتا م کر سکتا۔ لیکن وطنِ عز یز کے ز مینی حقا ئق اس کی اجازت دینے سے قاصر نظر آ ئے۔ یو ں یہ کا لم بھی تلخ حقیقتو ں سے آ گے نہ جا سکا۔


ای پیپر