کورونا سے تبدیل ہوتی دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام
27 اگست 2020 (21:17) 2020-08-27

ڈارون کی مشہور کتاب "اوریجن آف سپیسیز" (origin of species ) ہے جس میں اس نے یہ خیال ظاہر کیا کہ تمام حیوانات جن میں انسان بھی شامل ہے، صدیوں سے مسلسل کشمکش کے ذریعے ترقی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے صرف سب سے زیادہ طاقتور ہی زندہ رہنے کا اصل مستحق ہے۔ اس کو عام طور پر "سروائیول آف دی فٹسٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ڈارون نے ہیگل کے فلسفہ کے ساتھ تمثیلی انداز میں یہ بات ثابت کرنا چاہی ہے کہ " سروائیول آف دی فٹسٹ" ہی بہترین زندگی ہے۔ اس لئے قدروں کے اعتبار کو معلوم کرنے کا معیار صرف وہی ہے جس کے ذریعے سے کسی چیز کی قیمت معلوم کی جا سکے۔ اور وہ معیار زندہ رہنے کی صلاحیت یا اس مقصد میں کامیابی کا ہے۔ اس لئے یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ کامیاب انسان ہی سب سے زیادہ بہترین اور اونچا ہے۔ چنانچہ یہی ڈارون کا عملی طریقہ آگے چل کر انیسویں صدی کی اخلاقیات کا سنگِ بنیاد بن گیا۔ ہیگل اور ڈارون کے کاموں کو ملا کر ایک نیا معیار اختیار کر لیا گیا۔ جو فلسفہ ارتقاء آج پیش کیا جاتا ہے اس کے بنیادی خد و خال ہیگل نے ہی وضع کئے تھے۔ اس کے بعد اسی چیز کو ڈارون نے ڈرامائی انداز میں آگے بڑھایا۔

اس فلسفہ ارتقاء نے انیسویں صدی میں مغربی تہذیب کے لئے دماغی پس منظر مرتب کیا۔ جس کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری کائنات رزم گاہ ہے اور یہاں طاقتور کمزور کو پامال کرنے کا اہل ہے۔ یہی فلسفہ ہے جس نے طاقتور ممالک کو کرۂ ارض پر من مانیاں کرنے کا حق دے رکھا ہے اور آج سرمایہ داری نظام اپنی استحصالی خاصیت کی بناء پر زوال کا شکار ہے۔ یہود و نصاریٰ نے سود کا جو بینکاری نظام قائم کر رکھا ہے وہی سسٹم امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت سے پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط کر رہا ہے، جس کا پورا انحصار سود پر ہے۔ سودی نظام اور سودی بینکاری کو وقت کی ضرورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اورا س کی حمایت کی جاتی ہے۔ دنیا کی ان مغربی طاقتوں نے عالمی بینک، عالمی تجارتی ادارہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے ادارے بنا کر دنیا کو سود پر ادھار پیسہ دینا شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں غریب ممالک جب ایک بار ان کی شرائط پر قرضہ لے لیتے ہیں تو پھر وہ کبھی ان کے نرغے سے نکل نہیں پاتے۔ اس نظام کی پشت پر کھڑے دنیا کے طاقتور ترین ممالک جن کے پاس بے انتہا طاقت اور اسلحہ جات ہیں اور دنیا کی ساری معیشت جن کے چنگل 

میں ہے، غریب ممالک کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح یہ غریب ممالک سرمایہ داری نظام سے آزاد نہیں ہو پاتے۔ معاشی عدم توازن کی حالیہ مثال دنیا کی کسی بھی تہذیب میں نہیں ملتی جو اس سرمایہ داری نظام نے عصرِ حاضر کو دی ہے۔    

اگر عالمی سطح پر بغور جائزہ لیا جائے تو دنیا کے معاشی ماہرین کورونا کے آنے سے قبل ہی سرمایہ دارانہ نظام کے زمین بوس ہونے کے وہم میں مبتلا ہو گئے تھے، حالانکہ یہ وہم نہیں ایک حقیقت ہے جس کا ذکر اکثر ماہرینِ معیشت کرتے رہے ہیں۔ ابھرتی معیشتوں میں جاری معاشی مشکلات کے علاوہ بھی کئی خدشات ہیں جو عالمی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔ با اثر جریدے اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں ایسے دس خدشات کا ذکر کیا تھا۔ جن میںچین امریکہ تجارتی جنگ، چین کی معیشت کی سست روی، دنیا کے سلگتے مسائل میں سے کسی ایک پر جنگ چھڑ جائے، برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج، یا پھر تیل کی سپلائی میں کسی بڑے تعطل کا پیدا ہونا وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ خطرات ہیں جو عالمی معیشت کو گھیرے ہوئے تھے اور یہ خطرات ماہرین کے درمیان زیرِ بحث تھے۔ لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اچانک سے ایک وائرس نمودار ہو گا جو عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا اور یوں عالمی معیشت ایک بڑے بحران کا شکار ہو جائے گی۔ کورونا سے قبل ہی ساری دنیا خاص طور پر ترقی یافتہ امیر ترین ممالک لگ بھگ 165 ٹرلین ڈالر کے قرض میں پھنس چکے تھے، جب کہ قرض دینے والوں میں ملٹی نیشنلز کے شراکت دار تمام بینک جن میں عالمی مالیاتی ادارے بھی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق تمام دنیا کے قرضے ان کے جی ڈی پی سے 225 فیصد بڑھ گئے ہیں۔

در اصل ہم ایک گہری تاریخی تبدیلی کا تقاضا کرتے دور میں رہ رہے ہیں جہاں موضوعی اعتبار سے کوئی با شعور تحریک نہ ہونے کی وجہ سے معاشی دلدل اور قرضوں کے انبار میں پھنستے جا رہے ہیں۔ 50 سالہ بے مثال ترقی کے بعد منڈی کی معیشت اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے ابتداء میں نیو کلیائی ہستیوں کی سرمایہ داری نے وحشیانہ جرائم کئے جن کا نشانہ عراق، افغانستان، کویت، ایران، پاکستان، کشمیر، فلسطین اور یمن بنے۔ اسلحہ سازی سے منافع کمانے کی خاطر اپنی پیداواری قوتوں کو فروغ دے کر معاشرے کے لئے ایک نئے استحصالی نظام کی بنیادیں فراہم کیں۔ اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں پہلی جنگِ عظیم اور روسی انقلاب نے سرمایہ دارانہ نظام کے تاریخی رول کے بارے میں واضح اشارہ دے دیا تھا کہ پیداواری قوتوں کو فروغ دینے والے نظام کے بجائے یہ معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ 1948ء سے 1973ء تک کا دور مغرب میں ترقی کے دور کی نئی سحر کا آغاز دکھائی دیتاتھا حالانکہ اس کے فوائد محض سائنس اور ٹیکنالوجی میں چند ترقی یافتہ ملکوں تک محدود تھے۔ انسانی آبادی کا دو تہائی حصہ جو تیسری دنیا میں موجود تھا ساتھ ساتھ بڑے ملکوںمیں بھی تیسری دنیا پیدا کی جا رہی تھی تا کہ وہ مالداروں کی خدمت بجا لائیں۔ نشریاتی غیر مساوی نظام نے معاشی انصاف کو سر کے بل کھڑا کر دیا اور آج مغرب کے ماہرین بمعہ صدر ٹرمپ کے کہہ رہے ہیں کہ عالمی قرضوں نے ترقی یافتہ ملکوں کو سر کے بل کھڑا کر دیا ہے۔ کرنسی کا جواء، اسٹاک مارکیٹوں کی سٹہ بازی، قرضوں کی خرید و فروخت یہ اور اس جیسے دوسرے عوامل نے کرنسی چھاپنے پر لگا دیا۔ کرنسی چند مالدار ترین جواریوں اور سود خور بینکوں کی تجوریوں میں آ گئی اور عالمی معاشرہ کام کرنے والوں کی پیداواری قوت کے کمزور ہونے سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہا۔     

اپنی تحقیقات پر جدید انسان کو بہت غرور تھا، لوگ اسے فطرت پر انسان کی فتح سمجھنے لگے۔ اکیسویں صدی کے فرد کے لئے بھی اور قوموں کے لئے بھی مادی ترقی ہی منزل بن گئی۔ اس کے لئے خواہ چھوٹی اور غریب عوام پر کتنا ہی ظلم وستم کیوں نہ ڈھانا پڑے۔اس وباء نے ایسے انسانوں کے غرور کو چکنا چور کر دیا۔ اپنے علم و فن اور اپنی تمدنی طاقت کو لاشعوری طور پر خدا سمجھنے کی غلطی کی تھی۔ ایک چھوٹے سے وائرس کے ذریعے یہ بتا دیا گیا کہ انسانی علم و فن، طاقت اور غرور کی کیا حیثیت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس چھوٹے سے وائرس کورونا کے بعد دنیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوں گی ، افکار و نظریات کے دھارے بدلیں گے، فکری نظاموں کی بنیادیں متزلزل ہوں گی، تہذیبیں کروٹ لیں گی، نئی قوتیں ابھریں گی اور نئے رجحانات فروغ پائیں گے۔ اس سے قبل چودھویں صدی کے وسط میں طاعون کی وباء سے یورپ کی 60 سے 65 فیصد آبادی موت کا شکار ہوئی تھی۔ مورخین کی اکثریت کا خیال ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور جدیدیت کی تحریک میں چودھویں صدی کی وباء کے پیدا کردہ حالات کا ہاتھ ہے۔ کورونا کے نتیجہ میں انسانی زندگی کے مختلف شعبہ جات جس تبدیلی کے عمل گزر رہے ہیں اس تاریخی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ عالمی وبائیں انسانی زندگی پر نہایت گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں اور ایک نئی دنیا جنم دیتی ہیں اور امکان یہی ہے کہ حالیہ کورونا وباء سے مختلف افکار و نظریات، شدید کشمکش سے گزریں گے۔ سب سے بڑی تبدیلی سرمایہ دارانہ نظام میں آئے گی اور اس کا انہدام ممکن ہو گا۔


ای پیپر