ہم کس گلی جارہے ہیں؟! 
27 اگست 2020 2020-08-27

اگست پاکستان کی آزادی کا مہینہ ہے۔ 14اگست کو مختلف دوستوں عزیزوں اور جاننے والوں کی جانب سے”جشن آزادی مبارک“ کے پیغامات ملنے کا جو سلسلہ شروع ہواتھا ہنوز جاری ہے۔ پاکستان میں آزادی کا جشن منانے کے لیے لوگوں نے اپنے اپنے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں، صرف ایک طریقہ ان میں شامل نہیں اِس روز اجتماعی طورپر مساجد میں شکرانے کے نوافل کا کوئی اہتمام کیا جائے، اللہ کا شکر ادا کیا جائے جس نے مختلف اقسام کی غلامیوں سے ہمیں نجات دلا کر ایک آزادانہ ماحول میں جینے کا موقع فراہم کیا، گزشتہ تین چاربرسوں سے جشن آزادی منانے کا ”بیس کروڑ کے ہجوم“ نے ایک نیا طریقہ یہ ڈھونڈ لیا ہے گلیوں، محلوں، بازاروں اور سڑکوں پر اُونچی اُونچی باجے بجائے جاتے ہیں، جس قوم بلکہ جس ”ہجوم“ کا اپنا باجا بجا ہو، اُسے باجے ہی بجانے چاہئیں، یا پھر حکمرانوں کے ہرجائز ناجائز عمل پر تالیاں بجاکر مختلف صورتوں میں اُس کا ”کرایہ“ وصول کرنا چاہیے، ایک دوست بتارہے تھے اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے اُن کے والد شدید بیمار ہیں، 14اگست پر اُنہوں نے اپنے گھر کے آگے سے اُونچی اُونچی باجے بجانے والوں کو یہ بتایا اور اُن سے استدعا کی وہ اس عمل سے گریز کریں، کچھ دیر بعد اُنہوں نے محسوس کیا زیادہ باجے بجنے لگے ہیں، بجائے اس کے باجے بجانے والے اُن کی مجبوری کو سمجھتے اُلٹا اُنہیں زیادہ تنگ کرنا شروع کردیا، اِس ”مائینڈ سیٹ“ کے ساتھ صرف ایک ہی صورت میں نمٹا جاسکتا ہے قانون کو تھوڑی دیر کے لیے کسی الماری وغیرہ میں رکھ کے کوئی ایسا نظام لاگو کیا جائے دوسروں کو یہاں تنگ کرنے کا تصورتک ختم ہو جائے، مہذب دنیا میں گاڑی کا ہارن کوئی زور سے بجائے لوگ سمجھتے ہیں ہارن بجانے والا اُنہیں گالی دے رہا ہے ، وہاں دوسروں کے آرام میں کسی بھی طرح کا خلل ڈالنا باقاعدہ طورپر جرم ہے جس کی سزا مقرر ہے، مجھے اِس کا اندازہ نہیں تھا، یہ شاید 1994ءکی بات ہے میں جب پہلی بار ناروے گیا، اپنے دوست کے گھر قیام کے دوران ایک رات ذرا سی اُونچی آواز میں، میں نے ٹی وی لگایا ہواتھا، میرا میزبان اچانک میرے کمرے میں داخل ہوا، اُس کا رنگ اُڑا ہوا تھا، میں سمجھا شاید کوئی حادثہ ہوگیا ہے، پر وہ اس بات پر پریشان تھا یہ جو میں نے اُونچی آواز میں ٹی وی لگایا ہوا ہے ہوسکتا ہے اس سے اُن کے کسی پڑوسی کے آرام میں خلل پڑا ہواور پڑوسی نے اس کی اطلاع پولیس کو کردی ہو،.... مہذب ملکوں کی بات ہورہی ہے میں آپ کو بتاﺅں جاپان میں کسی سے کوئی جرم ہوجائے، کوئی بڑی غلطی ہو جائے، وہ قانون کا سامنا کرنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دیتا ہے، وہ سمجھتا ہے اب وہ معاشرے کا سامنا نہیں کرسکتا۔ شرمندہ ہونے کا وہاں یہ عالم ہے۔ ایک ہم ہیں اپنی کسی غلطی ، کسی جرم پر شرمندہ ہونے کے بجائے اُلٹا فخر کرتے ہیں اور معاشرہ بھی ہمیں داد دیتا ہے، .... قائداعظم ؒ نے ہندوستان سے ہمیں اِس لیے آزادی دلوائی تھی اپنے ملک میں ہم اپنی دینی واخلاقی روایات کے مطابق یہ صرف زندگی گزار سکیں بلکہ اُنہیں فروغ بھی دے سکیں۔ ہم نے اِس پر عمل کے بجائے اِس آزادی کو ”مادرپدر آزادی“ بنادیا، جس طرح کی آزادیاں خود کو خود بخود ہم نے دے دیں وہ سب ”سنگین جرائم“ کے زمرے میں آتی ہیں، پریہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں، کیونکہ ایسی خرابیوں کا جنہوں نے تعین کرنا ہے، جنہوں نے سزادینی ہے وہ خود ایسی خرابیوں اور آزادیوں میں مبتلا ہیں،....میں ایک ”ہجوم“ دیکھ رہا تھا جو یوم آزادی پر قائداعظمؒ کے مزار پر باجے بجائی جارہا تھا،یوں محسوس ہورہا تھا وہ باجے بجابجا کر اپنی طرف سے قائداعظمؒ کو جگانے یا اُٹھانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں پاکستان کا کیا حشر کردیا گیاہے؟۔ مزار قائد کے اردگرد واقع پارک اور پارکنگ ایریا میں ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے یہ مقام فحش فلموں کی شوٹنگ کے لیے وقف کردیا گیا ہے، سندھ حکومت کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اُن کے ڈوب مرنے کے لیے سڑکوں پر پانی اب خود چل کر ان کے پاس آجاتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ بانی پاکستان کے مزار کے تقدس کا کوئی منصوبہ سندھ حکومت نے نہیں بنایا شاید اس لیے نہیں بنایا اُن کے نزدیک بھٹو کا مزار قائداعظمؒ کے مزار سے زیادہ تقدس کا حامل ہے، اُن کا بس چلے پاکستان کو بنانے کا کارنامہ بھی بھٹو کے کھاتے میں ڈال دیں، .... یوم آزادی پر تقریباً پورے ملک میں جس طرح کی بدتمیزیاں وبداخلاقیاں ہورہی تھیں مجھے بھارتی دانشور خشونت سنگھ یاد آگئے، میں نے بہت برس پہلے اُن کا ایک انٹرویو پڑھا تھا، اُس میں ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے فرمایا ”1947میں برصغیر کے مسلمان ایک ”قوم“ کی طرح متحد تھے، اُس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی، پھر قائداعظم ؒ جیسا عظیم لیڈر ان میں پیدا ہوا جس نے پاکستان کے نام سے ایک ملک اس قوم کو دیا، تب ایک قوم تھی جسے ایک ملک کی ضرورت تھی، اب پاکستان ایک ملک ہے جسے ایک قوم کی ضرورت ہے“....اُس وقت خشونت سنگھ کی یہ بات مجھے بُری لگی، مجھے لگا یہ بات اُنہوں نے شاید پاکستان کی نفرت میں کہی ہے، اب میں اس پر غور کرتا ہوں، خصوصاً اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں، مجھے لگتا ہے انہوں نے بالکل ٹھیک کہا تھا، .... ہمارے اکثر سیاسی و اصلی حکمران ہر برس یوم آزادی کے موقع پر یہ بیان داغتے ہیں ” ہم دشمن کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے“ .... ان بدبختوں کو کون سمجھائے پاکستان کا بُرا حشر دشمنوں کی میلی آنکھوں سے نہیں ہماری اپنی میلی آنکھوں سے ہوا ہے، پوری دنیا اپنے قومی دن جوش وجذبوں سے مناتی ہے، پر اُن کے جذبوں سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی اُنہیں تکلیف نہیں پہنچتی، یوم آزادی کی رات ہمارے نوجوانوں کی اکثریت لاہور کی مختلف شاہراہوں خصوصاً شاہراہ قائداعظم پر جس قسم کی بدتمیزیوں وبداخلاقیوں کا مظاہرہ کررہی تھی، جس انداز میں تُو تُو(باجے) بجائے جارہے تھے اُس کا تقاضا یہ تھا پولیس ان سب نوجوانوں کو پکڑ کر اُن کی ایسی چھترول کرتی آئندہ یوم آزادی پر یہ گھروں سے نکلنے کا تصور تک نہ کرتے، پولیس بے چاری اِس موقعے پر بے بس دکھائی دی، کیونکہ پولیس کو پتہ تھا ان نوجوانوں کی جائز چھترول کے نتیجے میں کوئی بڑا فساد ہوگیا اس کی ذمہ دار پولیس نہ بھی ہوئی، اُس کا ذمہ دار پولیس کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے، چنانچہ پولیس کا اس موقع پر ”خاموش تماشائی“ کا کردار ہی بنتا تھا، ویسے میں اکثر سوچتا ہوں جس قسم کے ہم بدتمیز ہیں، بداخلاق ہیں، کرپٹ اور ظالم ہیں، ہمیں اسی طرح کی پولیس چاہیے جس طرح کی ہے، پولیس اگر ٹھیک ہو گئی، ہم مزید خراب ہو جائیں گے۔ میں اکثر یہ بھی سوچتا ہوں ہم مزید کتنا خراب ہوں گے؟۔ خراب ہونے کی ہرحد ہم پارکرچکے ہیں، میں نے بہت برس پہلے اپنے دوست عمران خان سے کہا تھا ”آپ سسٹم ٹھیک کروانا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ غالب امکان یہی ہے آپ سسٹم ٹھیک نہیں کرسکیں گے سسٹم آپ کو مزید خراب کردے گا “۔ اللہ کرے وہ اپنی حکومت کی مدت پوری کریں پھر شفیق سلیمی کا یہ شعر ایک سوال کے طورپر ان کے سامنے ہم رکھیں گے۔ ”بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے.... اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے....!! 


ای پیپر