کشمیر سُلگتا رہا ۔۔۔دنیا دیکھتی رہی ! مودی سرکار ظلم و ستم کس کے ایماپر کر رہا ہے ؟ اہم انکشافات ۔۔۔
27 اگست 2019 (17:41) 2019-08-27

اگست کا دن دنیا کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ جب انڈیا میں بی جے پی کی حکومت نے کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے انڈین آئین سے آرٹیکل 35اے جو کہ ریاست کو خودمختار حیثیت دیتا ہے، اسے ایک صدارتی آرڈر کے ذریعے ختم کر کے کشمیر کو ماورائے آئین زبردستی انڈیا کا حصہ بنانے کا اعلان کردیاگیا۔ بھارتی وزیر امیت شا نے جن حالات میں پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا اور اس پر اپوزیشن کی جانب سے جتنا شدید احتجاج سامنے آیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی ہائی کورٹ اور انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں بلکہ ایک کیس ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے مگر انڈیا نے جمہوریت اور آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے تمام تر امور کو بالائے طاق رکھ دیا۔

بھارت مے اس فیصلے کی بدولت مسئلہ کشمیر 50 سال بعد ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر واپس آ گیا ہے جو مظلوم کشمیریوں کے لیے اُمید کی کرن ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ کشمیر 1947 ء کے تقسیم ہند کے فارمولے کی پوزیشن پر بحال ہو چکا ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ اب معاملہ انڈیا کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اقوام متحدہ کے عالمی تنازعات کے حل کی فہرست نکال کر دیکھیں تو اس کے غیر حل شدہ تنازعوں میں کشمیر پہلے نمبر پر آتا ہے۔ ایک بار پھر کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے ہاتھ میں ہے یعنی بات 72 سال پہلے جہاں سے چلی تھی پھر وہیں پہنچ گئی ہے۔

دوسری طرف کشمیر کا محاصرہ جاری ہے ٹیلی فون رابطہ دنیا سے منقطع ہے خبروں کا مکمل بلیک آﺅٹ جاری ہے کرفیو چل رہا ہے پورا علاقہ ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ سڑکیں بند ہیں ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں۔ انڈیا کے بدنام زمانہ جاسوس جو آجکل نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہیں وہ کئی دنوں سے کشمیر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں کشمیری احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں سنگین خلاف ورزیوں پر چیخ رہی ہیں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کشمیر کو جہنم قرار دیا مگر پھر بھی دنیا خاموش ہے۔

انڈیا نے 72 سال گزرنے کے بعد بالآخر زبردستی کشمیر پر قبضہ کر لیا اور اس کی آئینی حیثیت جو کہ خود مختار ریاست کی تھی وہ ختم کر دی اس کی وجہ یہ ہے کہ 1947ءسے 50 سال تک تو انڈیا میں بی جے پی یا وجود ہی نہیں تھا اس کے بعد بی جے پی کو پہلی بار 1998ءمیں اقتدار ملا جب واجپائی وزیر اعظم بنے مگر بی جے پی کی حکومت بہت کمزور تھی اسی طرح 2014ءمیں نریند مودی وزیر اعظم بنے مگر انہیں 2/3 اکثریت حاصل نہیں تھی 2019ءکے عام انتخابات میں مودی نے بھر پور طریقے سے کشمیر کارڈ اور ہندو کارڈ کھیلا اور انتخابی منشور میں اعلان کیا کہ اگر انہیں 2/3 اکثریت ملی تو وہ آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو حزف کر دیں گے بد قسمتی سے انہین مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی۔ مودی کے انتخابی منشور کے جواب میں کشمیر کی تمام سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر 370 کو ختم کر کے زبردستی کی گئی تو کشمیری فی الفور آزادی کا اعلان کر دیں گے یہی وہ وجہ تھی کہ اس وقت کشمیری قیادت نظر بند ہے اور ان کی آواز باہر نہیں آ رہی کیونکہ کشمیر ہندوستانی فوج کے محاصرے میں ہے۔ اگر کشمیر میں شخصی آزادی بحال ہو جائے اور میڈیا کوریج کی اجازت ہو تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سکیورٹی کونسل نے ہنگامی اجلاس پاکستان کی درخواست پر غیر معمولی حالات کے پیش نظر بلایا۔ پاکستان کے اندر بھی بہت سے حکومت مخالف طبقے یہ سمجھتے تھے کہ اقوام متحدہ پاکستان کی درخواست کو مسترد کر دے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کا اخلاقی فائدہ یہ ہوا کہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کیا گیا گویا اقوام متحدہ زبردستی قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس سے انڈیا کو سفارتی شکست ہوئی ہے اور انہیں اپنی Blunder کا احساس ہو چکا ہے۔

اب ایک آپشن جو انڈیا کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا وہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی طرف سے مزاحمت کا ایک نیا باب اب شروع ہو گا۔ اس مزاحمت کے پریشر کے آگے اقوام متحدہ کے لیے بھی اپنے ضمیر کو دبانا ممکن نہیں رہے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ مودی کے اس آمرانہ اقدام کو انڈیا کے اندر بھی پذیرائی نہیں مل سکی اس بھارتی فیصلے سے انڈیا جو کہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور حاصل کر نے کے خواب دیکھا کرتا تھا وہ خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بعد پاکستان کا کردار اور بھی اہم اور فعال بنا نے کی ضرورت ہے یہاں پر بطور خاص جنرل ریٹائرڈ طارق خان کا دفاعی تجزیہ کا حوالہ دینا مناسب ہو گا۔ انہوں نے ”تھیوری آف پین اینڈ انجوائے منٹ“ کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ یہ مت سمجھیں کہ جو شخص ناجائز قابض ہو وہ منت سماجت سے آپ کی جائیداد واپس کرے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کے گھر میں گھس کر آپ کے بیڈ روم پر قبضہ کر کے وہاں رہائش اختیار کرے گا تو منت سماجت سے وہ کبھی نہیں مانے گا کیونکہ وہ اس سہولت کو Enjoy کر رہا ہے۔ ہاں یہاں رہنے سے اگر آپ اس کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ اس کی Enjoyment کے مقابلے میں اس کی Pain یا تکلیف بڑھ جائے تو وہ نکلنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یہ مثال انہوں نے کشمیر پر دی ہے کہ وہاں انڈیا کو جب تک درد نہیں ہو گا مت سوچیں کہ وہ یہ علاقہ خالی کرے گا۔

دوسری طرف بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھارتی ایٹمی تجربہ کیے گئے علاقے ’پوکھران‘ کے مقام پر سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی موت کی پہلی برسی کی تقریب سے خطاب میں کشمیر کے حوالے سے جو زہر اگلا وہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہی نہیں بلکہ بھارت کی خطرناک تبدیل شدہ پالیسی کی جانب اشارہ بھی ہے۔ راج ناتھ نے کشمیر ایشو کو ’نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘ قرار دیا۔ پوکھران وہ جگہ ہے جس جگہ بھارت نے پہلی مرتبہ مئی1974ءمیں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں، دوسری مرتبہ مئی1998ءاٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں جوہری دھماکے کیے تھے۔ پوکھران بھارت کی اسٹیٹ راجستھان، ڈسٹرکٹ جیسلمیر میں واقع ہے۔ بھارت کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی1998ءمیں نواز شریف کے دور حکومت میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں جوہری دھماکے کیے تھے۔ راج ناتھ کا یہ بیان انتہا پسندانہ سوچ اور جنگی جنون کی عکاسی کرتا ہے۔ مودی کی سوچ کا مظہر ہے، مودی کی سیاست میں انتہا پسندانہ سوچ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، وہ سخت قسم کا متعصب، مسلمان دشمن خیالات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بند کرو، کرفیو کی صورت جو گزشتہ کئی دنوں سے ہے، ختم کرو، لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، بھوک اور پیاس کی خراب صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ کشمیر اور مسلمانوں سے دشمنی اپنی جگہ انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے۔ لیکن نریندر مودی اور اس کی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بھی بھارتی وزیر دفاع نے راج ناتھ جیسا بیان دیا اس سے پہلے بھی بھارتی حکومت کے سابق وزیر دفاع منوہر باریکر بھی اسی قسم کا بیان دے چکے ہیں جب دنیا نے لعنت ملامت کی تو بھارتی حکومت نے اس کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا تھا لیکن راج ناتھ کے بیان پر دنیا خاموش دکھائی دے رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارت کے دستور کی دفعہ 370 اور 35Aکو منسوخ کرنا، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کردینا، مقبوضہ کشمیر میں کئی لاکھ مزید فوج منتقل کر دینا، کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو محصور کر دینا، ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کرنا، مسئلہ کو بات چیت سے حل کرنے کی تمام تر اپیلوں کے جواب میں ’میں نہ مانوں‘ کی پالیسی پر گامزن رہنا، دنیا کہ بڑی طاقت امریکہ کے صدر اور دیگر بڑی شخصیات کی کشمیر مسئلہ پر ثالثی کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا: یہ سب باتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ مودی کشمیر کو ہڑپ کرنے کی سوچ رکھتا ہے، اسے نہیں معلوم کہ پاکستان کے لیے بھی کشمیر زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت کے اس غیر اخلاقی، غیر قانونی عمل پر دنیا بھر میں منفی ردِ عمل کا آنا لازمی تھا، پاکستان نے شد و مد کے ساتھ کشمیر پر بھارت کے ظلم و زیادتی کو دنیا کے سامنے عیاں کیا، سفارتی سطح پر دنیا کے ممالک کو جھنجوڑا، انہیں نہتے کشمیریوں پر بھارتی تشدد کا اصل چہرہ دکھایا، جس کے نتیجے میں دنیا کے بے شمار ممالک نے بھارت کے اس عمل کی مذمت کی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی جدوجہد کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین نے سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کی باقاعدہ درخواست کی جس کے نتیجے میں 16 اگست کی شام سلامتی کونسل کا بند کمرہ میں اجلاس منعقد ہوا۔ فیصلہ کیا ہوا؟ بات کیا ہوئی؟ کس نے کیا کہا؟ کوئی اعلامیہ نہیں، کوئی آفیشل اعلان نہیں، کوئی پریس کانفرنس نہیں۔ البتہ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژینگ جون میٹنگ کے اختتام پر مائک پر آئے، اسے پریس کانفرنس بھی نہیں کہا جا سکتا، میٹنگ کی روداد بھی نہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار کیا جس میں کہا گیا کہ’سلامتی کونسل کے ارکان سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو کشمیر میں کسی یک طرفہ کارروائی سے باز رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالات بہت کشیدہ ہیں اور خطرناک ہیں‘ اور یہ کہ سلامتی کونسل کے ارکان کا عموماً خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو کشمیر میں یک طرفہ کارروائی سے باز رہنا چاہیے فریقین تحمل کا مظا ہرہ کریں اور کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے حالات مزید خراب ہوں“۔ بعض ٹی وی چینلز پر یہ خبر بھی نشر کی گئی کہ سلامتی کونسل 15اراکین میں سے 12تو اس بات کے حق میں تھے کہ بند کمرہ میں ہونے والے سلامتی کونسل کا اجلاس کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے وسیع تر اجلاس کا فیصلہ کرے جس میں اقوام متحدہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے لیکن ان میں فرانس اور جرمنی اس بات کے حق میں نہیں تھے۔ ان کی رائے شاید یہ رہی کہ بس اتنا کافی ہے کہ ہم نے بند کمرے میں بیٹھ کر اس موضوع پر بات کر لی۔ اس صورت حال پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سلامتی کونسل کا 16اگست کو ہونے والا غیر معمولی اجلاس کسی نتیجہ پر پہنچنے بغیر ہی ختم ہوگیا لیکن دنیا کے سب سے بڑے فورم میں 50سال بعد کشمیر پر بات کا ہونا بھی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

کشمیر کے حالیہ بحران کا سب سے افسوسناک پہلو بی جے پی کے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے MLA و کرم سیانی کا وہ بیان ہے جس پر انڈیا کی خواتین تنظیمیں بھی سراپا احتجاج رہیں، اس ممبر پارلیمنٹ نے کشمیر کی نام نہاد فتح کا جشن منانے کے لیے منعقدہ ایک عوامی ریلی میں کشمیر فتح کرنے کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب گورے رنگ کی خوبصورت کشمیری دو شیزاﺅں سے شادیاں کر سکتے ہیں۔ اس نے ہندو نو جوانوں کو کہا کہ وہ کشمیر جائیں اور وہاں سے اپنی مرضی کی خوبرو لڑکیوں سے شادیاں کریں۔ وکرم سیانی کے اس بیان پر انڈیا کی خواتین تنظیموں نے شدید اختجاج کیا اور دہلی میں ریلیاں نکالی گئیں۔

خیر! یہ اجلاس ہی کا نتیجہ تھا کہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ بھارتی ایٹمی تجربہ کیے گئے علاقے ’پوکھران‘ گئے اور انہوں نے وہاں کھڑے ہوکر دھمکی دی کہ”اب تک تو ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنا ہی بھارت کی پالیسی ہے مگر مستقبل کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا“۔ مودی اور راج سنگھ کو شاید یہ نہیں معلوم کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار پٹاخے چلانے کے لیے نہیں رکھے ہوئے، پاکستان کی پالیسی میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن جنگ پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے حق میں نہیں، جیو اور جینے دو کی پالیسی کے تحت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، وہ تو قابض ہے، اگر کشمیریوں کو ان کا حق دے دیا جاتا ہے تو اس سے بھارت کی طاقت پر کوئی خاص اثر پڑنے والا نہیں، دوسری جانب سرحدی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ ِ پاکستان بھارت کی ان کھلی خلاف ورزیوں کا جواب اچھے انداز سے دے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں جس کا عملی مظاہرہ پاکستانی افواج نے کیا بھی ہے کہ ”ہم پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے“۔کیا بھارت کو نہیں معلوم کہ پاکستان بھی تو کبھی ہندوستان کا حصہ تھا، بھوٹان، نیپال بھارت کا حصہ تھے آج وہ آزاد ہیں، مشرقی پاکستان کو بھارت نے ہی بنگلہ دیش بنوایا، کل کشمیر بھارت سے الگ ہو گا، پھر خالصتان بن سکتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بے شمار ممالک نے آزادی حاصل کی ہے، مودی کو یہ سوچ لینا چاہیے کہ کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور فتح سے ہمکنار ہو گی، آج نہیں تو کل، مقبوضہ کشمیر کو آزادی مل کر رہے گی۔ دنیا سکڑ نہیں رہی بلکہ دنیا پھیل رہی ہے۔ ملک مختصر نہیں ہو رہے بلکہ نئے ملک معرض وجود میں آرہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر تو ہے ہی متنازع، اس مسئلہ کو کبھی تو حل ہونا ہی ہے۔ پاکستان سول حکومت اور عسکری قیادت نے بہت واضح الفاظ میں اپنی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان کی تینوں طاقتیں یعنی سول حکومت (سیاسی قوت)، فوجی قوت یعنی مسلح افواج اور سب سے بڑھ کر پاکستانی عوام اپنے ملک کے لیے ہر لمحہ اپنی جان دینے، ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، اس لیے کہ جنگ میں کامیابی کی شرط اس ملک کے عوام ہوا کرتے ہیں، اگر عوام حکومت اور افواج پاکستان کے شانا بشانہ کھڑے نہ ہوں، ان میں جوش و جذبہ نہ ہو تو جنگ کا جیتنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ 1965ءکی جنگ جس جس کو یاد ہے، وہ عوام کے اس ولولے اور جذبے سے اچھی طرح واقف ہوں گے، جنگ فوج لڑتی ہے لیکن فوج اور سیاسی قوت کو مارل سپورٹ عوام دیتے ہیں پاکستان کی عوام اپنی حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا تازہ ترین زاویہ نگاہ جو بڑے ٹھوس حقائق پر بنیاد کرتا ہے، کھل کھلا کر سامنے آ گیا ہے، بڑی بڑی عالمی طاقتیں، ادارے، تنظیمیں اور حکومتیں مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو اگرچہ بخوبی جانتی ہیں لیکن خاموش ہیں، اس پر کوئیسچن یہی بنتا ہے کہ عالمی امن کو یقینی بنانے اور سیاسی و اقتصادی عدم استحکام اور سب سے بڑھ کر انسانیت کا مفاد اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کا چارٹر اور اس کی روشنی میں عالمی ادارے کے فیصلوں پر عملدرآمد زیادہ مقدم ہے یا کسی ایک ملک کا اقتصادی و سیاسی مفاد؟ جہاں تک سلامتی کا مفاد ہے، کیا اقوام متحدہ کا چارٹر اور اس پر عملدرآمد سب ارکان ممالک کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا؟ کیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کی 75سالہ کیفیت اور صورت اور اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے؟ اور عالمی ادارے کے نظام کی اصلاح کی جائے؟ مسئلہ کشمیر ، اس کی فلیش پوائنٹ کے طور بنتی شناخت اور اس حوالے سے پورے جنوبی ایشیا پر منڈلاتے ہولناک جنگ کے بادلوں کے تناظر میں ایک جاندار عالمی سوالنامہ تیار کرنا اور وزیراعظم عمران کی قیادت میں ان سوالات کو زور دار طریقوں سے چپ سادھی طاقتوں کے سامنے مسلسل اٹھائے رکھنے کی مہم، پاکستان اور خطے کے امن و سلامتی کی ہی بڑی ضرورت نہیں بن گئی، یہ اب عالمی امن و استحکام کی ناگزیر ضرورت بھی ہے۔

کشمیر کی صورتحال کے بارے میں اس نوجوان کی باتیں رہ رہ کر یاد آتی ہیں جس نے ہندوستان کی دھرتی پر کھڑے ہو کر دل کے دکھڑے یوں بیان کئے کہ ”کہاں مر گئے 56ملک، کہاں مر گئی 56 ملکوں کی آرمی؟ ہم تو چھاتی چوڑی کر کے کہتے تھے کہ ہماری چھپن ملکوں کی آرمی ہے، انڈیا میں ہم مسلکوں میں الجھے رہتے ہیں، داڑھی، ٹوپی، کرتا، پاجامہ بس یہی ہمارے مسلک بن کے رہ گئے ہیں، تیری داڑھی اتنی کیوں ہے، میری داڑھی ایسی کیوں ہے؟ کیا مسلمانوں کو ایسا ہونا چاہئے تھا، قرآن نے تو ہمیں مسلمان یا مومن کہا ہے۔ اگر ہم مسلمان بن کے رہیں گے تو ٹھیک، ورنہ مارے جائیں گے۔ ہمیں مارنے والا ہمارے فرقے نہیں دیکھ رہا، بس وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ یہ کلمہ گو ہے، اسے مار دو۔ یاد رکھو! چپ رہنے سے کام نہیں چلے گا، یہ چپ بھی ہمیں توڑنا پڑے گی، معصوم بچوں کے سر جدا کئے جا رہے ہیں، کہاں ہے انٹرنیشنل میڈیا؟ میں مسلم ممالک سے کہتا ہوں کہ کل مرکے اللہ کو کیا منہ دکھاﺅ گے ہم کیسے بھول جاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ ’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘ لیکن آج جب دنیا میں جگہ جگہ مسلمانوں کو مارا جاتا ہے تو مسلمان ملکوں کے حکمران چپ رہتے ہیں، یہ مت سوچو کہ مرنے والا ہندوستان کا مسلمان ہے، اگلا نمبر تمہارا ہے، میں مر بھی جاﺅں تو مجھے اس کی پروا نہیں لیکن تم اپنی آنکھیں کھولو، تم تو جاگ جاﺅ، تم پر یہ ظلم نہ ہو جو ہم پر ہو رہا ہے، اللہ کے واسطے ایک ہو جاﺅ، متحد ہو جاﺅ ورنہ ہم پر ظلم ہوتا رہے گا۔“

اگرچہ مودی سرکار کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج ہو رہا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا بلکہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ کشمیر کا دورہ کرنے والی سی پی آئی ایم ایل کی رکن کویتا کرشنن کہتی ہیں ” کشمیر کے حالات بہت خراب ہیں، وہاں کی پوری جنتا کو قید کر دیا گیا ہے، ہماری جو رپورٹ ہے اس میں ہم نے کہا ہے کہ ”قید میں کشمیر “ کیونکہ پورا کشمیر جیل بنا دیا گیا ہے، کشمیریوں کو عید بھی منانے نہیں دی گئی، قربانی بھی نہیں کرنے دی گئی، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے بھارتی میڈیا نہیں دکھا رہا۔ کشمیریوں کے فون بند ہیں، انٹرنیٹ بند ہے، وہاں زندگی قید میں ہے۔“ مقبوضہ کشمیر پر رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم نے جب دہلی پریس کلب میں چند مناظر دکھانا چاہے تو پریس کلب والوں نے انہیں روک دیا، انہوں نے بتایا کہ کسی کو بتانا نہیں مگر ہم پر دباﺅ ہے کہ کشمیر کے حالات نہیں دکھانے بلکہ سب اچھا کہنا ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، معاملہ 50سال بعد اقوام متحدہ کے ایوانوں میں بھی گونجا، بھارت کے اندر احتجاج ہوا، پاکستانیوں نے بھی اختجاج کیا، اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا جو کچھ کر لیا وہ کافی، کیا اس سے بھارتی مظالم رک جائیں گے، کیا کمشیری آزاد فضاو¿ں میں سانس لینے کے قابل ہو جائیں گے۔ یا پھر ہم سب کو یکجا ہو کر کشمیریوں کیلئے عملی طور پر میداب میں اترنا ہوگا؟

٭٭٭


ای پیپر