آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، مزید تین سال کیلئے دینے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
27 اگست 2019 (17:30) 2019-08-27

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی ہے۔ 29 نومبر 2016ءکو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد ان کی جگہ پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی۔ انہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کا سربراہ تعینات کیا تھا۔ پاکستان کی سول حکومت کی تاریخ میں دوسری مرتبہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔ ان سے قبل سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تھی اور اس وقت ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹر جنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے پاس تھا۔ قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10ویں کور کو کمانڈ کر چکے ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلی فورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔ فوجی سربراہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے، بطور میجر جنرل وہ فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کر چکے ہیں۔ انہوں نے 10ویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ہندوستان سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کر چکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔ وہ ماضی میں انفینٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توجہ حاصل کرنے کا شوق نہیں اور وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ان کے ماتحت کام کرنے والے ایک افسر کے مطابق وہ انتہائی پیشہ ور افسر ہیں، ساتھ ہی بہت نرم دل بھی ہیں جب کہ ان کو غیر سیاسی اور انتہائی غیر جانبدار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں 24 اکتوبر 1980ءکو کمیشن حاصل کیا، یہ وہی رجمنٹ ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحیٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس سول فوجی تعلقات پاکستان میں بہترین نظر آرہے ہیں۔

پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ یہاں شاذ و نادر ہی فوج اور سیاستدانوں کے تعلقات ایک پیج پر رہے ہیں لیکن اس بار پہلی دفعہ ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ ملک کی بہتری کے لیے دونوں ادارے ملک و قوم کے لیے بہترین فیصلے کریں گے اور اس کے لیے حالیہ پارٹنر شپ بہت ضروری سمجھی جا رہی تھی، سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو جتنے محاذ میں لڑنا ہے اُس کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے تجربہ سے فائدہ اُٹھانا بھی از حد ضروری ہوگیا تھا۔ آپ غور کریں تو شاید زیادہ سوچنے کی ضرورت پیش نہ آئے کہ ایک طرف بھارت مشرقی بارڈر پر ایک پل چین لینے نہیں دے رہا، دوسری طرف افغان بارڈر جہاں باڑ لگانے کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور ایران کا بارڈر بھی ہمارے لیے پرسکون نہیں رہا۔ ان حالات کے علاوہ چین کے ساتھ سی پیک معاہدے کی تکمیل (جو شاید سست روی کا شکار ہے اور پاک فوج اُس میں ضامن کا کردار ادا کر رہی ہے) بھی ضروری ہے۔ اور ساتھ ہی افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاءکے بعد کی صورتحال سے نمٹنے ، امریکی فوجی کمانڈ سے براہ راست رابطے اور دیگر ممالک کی افواج سے ملک کی مشکل ترین صورتحال میں یہ سب کچھ ضروری تھا کہ انہیں ایکسٹینشن دی جاتی۔

اس کے علاوہ چاہے وہ بھارت سے دفاعی مسائل کا معاملہ ہو، ضرب عضب کی تکمیل ہو، دوست ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدے ، پاک افغان سرحد طورخم پر آپریشن وغیرہ۔ بہر حال سول فوجی تعلقات قومی اہمیت کے حامل مسئلے کے لیے کسی بھی سول رہنما کی ضرورت ہوتے ہیں اور جنرل باجوہ کی نگرانی میں یہی سول قیادت کو حاصل ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نے یہ لازمی سوچا ہوگا کہ جنرل باجوہ کو 2019ءکے اختتام پرگھر نہیں جانا چاہیئے۔ جنرل باجوہ کو آئندہ تین برس کے لیے آرمی چیف برقرار رکھنے کی ممکنہ وجہ داخلی اور خارجی جیو اسٹریٹیجک اور دفاعی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔

ایک طرف حکومت ان کی قیادت، صلاحیتوں سے خطے اور عالمی سطح پر فائدہ اٹھائے گی تو دوسری جانب جنرل باجوہ ملک کی اسٹریٹیجک پالیسیوں کو درپیش مشکلات کا تدارک کرتے ہوئے اپنے آپ کو خصوصی حالات کا اہل ثابت کریں گے۔موجودہ حالات میں جنرل باجوہ ملک کی مضبوطی کے لیے خاصے متحرک ہیں، خاص طور پر سیکورٹی، اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اور وہ ملکی سیکورٹی اسٹیٹ میں بنیادی تبدیلی لاکر اسے ترقی کی راہ پر گامزن، پراعتماد قوم اور معاشرے میں تبدیل کر رہے ہیں۔ خطے میں پاکستان کے کردار میں بہتری لاکر جو کہ پہلے جنگ، دہشت گردی اور شدت پسندی سے نبردآزما تھا ، جنرل باجوہ نے نئی قیادت کو عالمی دفاعی مسائل سے نکلنے میں مدد فراہم کی۔

بیرون دنیا میں پاکستان آرمی کی اہمیت کے حوالے سے بات کی جائے تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس خطے کے سب سے اہم فوجی لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوںنے ہر سطح پر سخت سیکورٹی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے خطے میں طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالیہ امریکہ افغان مذاکرات میں طالبان کو آمادہ کرنا اور حتمی معاہدے پر عمل درآمد تاکہ افغانستان کو جہادیوں کی آماجگاہ بننے سے بچایا جا سکے، جنرل باجوہ کے فعال کردار کی عکاسی ہے۔ وہ بھی ایسے موقع پر کہ جب واشنگٹن کی قومی سیکورٹی ترجیحات آہستہ آہستہ انسداد دہشت گردی سے ہٹ کر ریاستی خطرات جیسا کہ روس اور ابھرتے چین کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔ جنرل باجوہ کا سب سے اہم کام طالبان/حقانی اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد ختم کر کے ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کیا جو واشنگٹن میں ہو رہی تھیں، جس کا پروپیگنڈہ مغربی میڈیا بھارتیوں کے ذریعے کر رہا تھا۔پاک فضائیہ نے 27فروری کو بھارت کو جو سبق سکھایا ، وہ جنگی تاریخ کے کورسز میں پڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی بھارت سے متعلق پالیسی میں انہوںنے پس پردہ ڈپلومیسی پر توجہ دیتے ہوئے کشمیر پر توجہ مرکوز رکھی اور لائن آف کنٹرول پر امن رہا۔ بھارتی پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑی پیش رفت کرتارپور راہداری کا افتتاح تھا، جس نے بھارت کو چکرا کر رکھ دیا۔ ابتدائی طور پر تذبذب کا شکار رہنے کے بعد دہلی نے سرکاری وفد کو کرتارپور کی افتتاحی تقریب میں بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی اور وہ آرمی چیف قمر باجوہ کے اقدام کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی۔ تاہم، وہ افغانستان کا معاملہ تھا جہاں جنرل باجوہ نے بھارت کو سخت دھچکہ پہنچایا اور امریکا کو یہ یقین دلادیا کہ افغانستان میں بھارت کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔کوئی دوسرا پلان نہ ہونے کے باعث بھارتی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اپنی تمام محنت پر پانی پھرتے دیکھتی رہی۔

خطے میں پاکستان کے دفاعی اثرورسوخ کو بڑھانے کے لیے جنرل باجوہ ایران گئے۔ تہران کے متعدد خدشات دور کیے۔ ایران کے صدر، حسن روحانی کے دورہ کے موقع پر اس وقت کے آرمی چیف ، جنرل راحیل شریف نے کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کی شکایت کی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی مضبوط موجودگی میں جنرل باجوہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے جی سی سی ممالک خاص طور پر یو اے ای کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یو اے ای کے یمن میں پاکستانی فوجیوں کو بھیجنے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے باعث پاکستا ن کے تعلقات یو اے ای سے بہتر نہیں رہے تھے، ان میں اچانک بہتری موجودہ عسکری و سیاسی قیادت کے سبب آئی۔

ایک پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر دیکھا جائے تو وطن عزیز انتہائی حساس سیکیورٹی خطرات میں گھرا ہوا ملک ہے، جس کی بدولت پاک فوج کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پاک فوج یا سیاسی قیادت اکیلے گھمبیر مسائل سے نمٹ سکتی ہے تو اس میں شک ضروری ہے لہٰذاموجودہ سیاسی و عسکری بہترین پارٹنر شپ ہی وقت کی ضرورت ہے جس کی بدولت ہمسایہ ممالک اور دنیا کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی عرب ممالک بالخصوص یو اے ای کے ساتھ نہ صرف تعلقات میں بہتری آئی بلکہ اربوں ڈالرز کے قرضوں کے معاہدے اور مو¿خر ادائیگی کی سہولت پر تیل ملا۔ یہ اسی پارٹنر شپ کا نتیجہ تھا کہ یو اے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد بن سلطان النہیان نے تقریباً11برس بعد پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کی سخت محنت کا نتیجہ پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کا نئے بلندیوں کو چھونا ہے جو کہ دفاع، خارجہ پالیسی اور سرمایہ کاری میں واضح ہے۔ سعودی عرب 14ارب ڈالرز کی ریکارڈ سرمایہ کاری پاکستا ن میں کرنے پر راضی ہوا جو کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کے فروری، 2019ءکے دورہ پاکستان کے موقع پر ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جتنا زیادہ اپنے جی سی سی ساتھیوں کو چھوڑتا ہے۔ سعودی عرب اتنا زیادہ ہی انحصار پاکستان کی اسٹریٹیجک ضمانتوں پر کرتا ہے۔ موجودہ قیادت نے روس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون میں بھی اضافہ کیا، جس کی وجہ سے سیکورٹی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات مضبوط ہوئے، پاکستان کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہوئے۔ یہ چین اور سعودی عر ب کے بعد تیسرا ملک ہے جو پاکستان کا قریبی دوست ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مصر، قطر اور چین کے کامیاب دورے کیے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا حلقہ بڑھ رہا ہے اور وہ خلیج، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور بحیرہ روم تک پہنچ چکا ہے۔ داخلی سطح پر قانون کی حکمرانی اور پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور ابھرتی ہوئی قوم بنانے کا وعدہ بھی موجودہ پارٹنر شپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کیوں کہ ان کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ یہ ان کے سبب ہی ہے کہ وہ سول اداروں کے ساتھ کھڑے رہے۔یہ بات تو ماننا پڑے گی کہ موجودہ قیادت نے پاکستان کو ایسے وقت میں عالمی سطح پر کھڑا کر دیا ہے، جب یوروایشیا ترقی کر رہا ہے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کی کامیابی کے تناظر میں ان کا جاری کردار اہمیت کا حامل ہو گا۔ لہٰذا وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے لیے بھی اہم کام کیا ہے، ملک اور خطے کے لیے بھی کہ جنرل باجوہ کو آئندہ آرمی چیف برقرار رکھا ہے۔لہٰذاہمیں ضرورت ہے اس وقت نتقید کی بجائے متحد ہونے کی، تاکہ بیرون دنیا میں مثبت پیغام جائے اور کشمیر سمیت ہم دیگر اہم ایشوز سے باہر نکل آئیں اور ملک کی بہتری کے لیے کام کریں تاکہ عام آدمی کا فائدہ ہوسکے!اللہ تعالیٰ اس ملک وقوم کا حامی و ناصر ہو!


ای پیپر