”چلتے پھرتے تلاوت سننا یا کرنا بہتر عمل ہے“
27 اگست 2019 (17:05) 2019-08-27

نبیلہ ملک

ابوبکر احسان بن مولانا احسان اللہ ندوی کاکاخیل 11اپریل 1975ءکو ضلع مردان خیبر پختونخوا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسبی تعلق حضرت شیخ رحمکار کاکاصاحب سے ہے جوکہ اپنے زمانہ کے بڑے اولیاءاور سادات میں سے تھے، جن کا مزار نوشہرہ کے قریب کاکاصاحب گاو¿ں میں مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کے والدِ محترم ندوة العلماءلکھنوکے فارغ التحصیل تھے، مولانا ابوالحسن علی ندوی کے خاص رفقاءمیں سے تھے اور پیشہ کے لحاظ سے حکیم تھے لیکن تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے کے بعد پوری زندگی دین کی محنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، یہاں تک کہ ©’کے پی کے‘ میں تبلیغی محنت کے بانی شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ انتہانی متقی، پرہیزگار اور عالم باعمل تھے۔ مولانا کے دو بھائی اور بھی ہیں جو عمر میں بڑے ہیں، سب سے بڑے مفتی ذاکر اللہ صاحب اور درمیانے مولانا احمد اللہ صاحب جو الحمد للہ دینی سرگرمیوں میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ مولانا ابوبکر احسان نے پانچویں جماعت تک ریگولر جب کہ دسویں تک پرائیویٹ تعلیم حاصل کی۔ اور جامعہ بنوری ٹاو¿ن کراچی سے چودہ سال کی عمر میں قرآنِ پاک کا حفظ مکمل کیا۔ آپ مدرسہ عربیہ رائے ونڈ تبلیغی مرکز میں آٹھ سال درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور آخری درجہ یعنی دورہ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور میں پڑھ کر وہاں سے 1996ءمیں سندِ فراغت حاصل کی۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی نگرانی میں جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی سے تین سالہ درجہ تخصص یعنی مفتی کورس مکمل کیا۔ فراغت کے بعد دس پندرہ سال اپنے مدرسہ کے گرل سیکشن میں تدریسی اور تصنیفی خدمات میں مشغول رہا۔ عرصہ چھ سال سے دارالافتاءوالتحقیق) (Islamic research centerکا آغاز کیا ، جس میں علماءکو تخصص یعنی مفتی کورس کروانے کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ آپ کی متعدد تصانیف طبع ہو چکی ہیں اور کچھ زیر طبع ہیں۔ ذیل میں ہم مولانا سے کئے گئے وہ سوال و جواب پیش کر رہے ہیں جن کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی اور بنیادی شرعی مسائل سے ہے۔

سوال: کیا وضو سے پہلے صابن سے ہاتھ، چہرہ، پاﺅں وغیرہ دھونے کے بعد اعضائے وضو پر تین مرتبہ پانی بہانا ٹھیک ہے؟

جواب: وضو میں ہر اندام کو تین مرتبہ دھونا سنت ہے، لہٰذا صابن سے اعضائے وضو دھونے کے بعد بھی وضو کرتے ہوئے، ان اعضاءکو دوبارہ تین مرتبہ دھو لینا چاہیے۔ (ردالمختار، کتاب الطہارة، سنن الوضوئ)

سوال: وضوکی گنتی اکثر بھول کے تین سے زیادہ مرتبہ کر دیتا ہوں، کیا یہ گناہ ہے؟

جواب: اگر گنتی بھول جائے اور اعضاءکو تین مرتبہ سے زیادہ دھو لیا جائے، تو کوئی حرج نہیںہے۔ (ردالمختار، کتاب الطہارة، سنن الوضوئ)

سوال: نوافل میں ایک ہی سورت بار بار پڑھ سکتے ہیں، مثلاً سورت اخلاص تین مرتبہ یا سورت کوثر تین مرتبہ وغیرہ؟

جواب: نفل نماز میں ایک سورت بار بار پڑھنے کی گنجائش ہے، البتہ فرض نمازمیں بار بار ایسا کرنامکروہ ہے۔ (الہندیة، کتاب الطہارة)

سوال: بعض اوقات واش روم میں جاکر بھی ذہن میں قرآنی آیات آرہی ہوتی ہیں، اس کا کیا حل ہے؟

جواب: واش روم میں غیر اختیاری طور پر اگرذہن میں قرآنی آیات آتی ہوں، تو اس پر توجہ نہیں دینی چاہیے اور نہ ایسی غیر اختیاری چیزوں پر کوئی پکڑہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الایمان، رقم الحدیث: ۷۲۱)

سوال: کیا پرانی نمازوں کی ریکاڈنگ بے وقت (جب کسی اذان کا وقت بھی نہ ہو) سنی یا دیکھی جا سکتی ہے؟

جواب:جائز ہے ۔

سوال: کیا نماز میں تشہد کے دوران شہادت کی انگلی اٹھانی چاہئے، اور سلام پھیرنے تک انگشت شہادت اٹھائے رہیں؟

جواب: دوران تشہد شہادت کی انگلی اٹھانا احادیث سے ثابت ہے، اس لیے اٹھانی چاہیے، تاہم الااللہ کے لفظ پر نیچے کر کے دائرہ کی شکل میں رکھ دے۔ ( ردالمختار، کتاب الصلاة)

سوال: تشہد کے بعد اگر درودشریف شروع کر لیا اور مکمل پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے اٹھے تو کیا ہوگا؟

جواب: نماز مکمل کر کے آخر میں سجدہ سہو کرے۔ (درمختار، کتاب الصلاة ۲۔۷۵۶)

سوال: کیا تشہد کے بعد سلام سے پہلے مختلف دعائیں پڑھ سکتے ہیںیہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے جس میں دعائیں کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؟

جواب: اکیلے فرض پڑھتے ہوئے یا نفل نماز پڑھتے ہوئے تشہد اور درود پڑھنے کے بعد قرآن وحدیث میں وارد شدہ دعائیں پڑھ سکتے ہیں۔ (درمختار، کتاب الصلاة ۱۔۳۳۵)

سوال: حائضہ خواتین موبائل فون یا کمپیوٹر سکرین پر قرآن پڑھ سکتی ہیں؟

جواب: حالت حیض میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا چاہے قرآن سے ہو یا موبائل سے جائز نہیں ۔ (سنن الترمذی، ابواب الطہارة، رقم الحدیث: ۱۳۱)

سوال: حیض میں وضو کر کے ذکر (صبح وشام کے اذکار) پڑھ سکتے ہیں؟ کیا اس دوران وضو الگ ثواب حاصل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے؟

جواب: حالت حیض میں اذکار اور مسنون دعائیں وغیرہ پڑھنا جائز ہے، اور ثواب کی نیت سے وضو کرنا بھی جائز ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الطہارة ۱۔۰۹۲)

سوال: کیا موبائل پر بغیر وضو قرآن پڑھ سکتے ہیں، یا تلاوت سن سکتے ہیں؟

جواب: بے وضو ہونے کی حالت میں موبائل ہاتھ میں پکڑ کر اس کی اسکرین میں دیکھتے ہوئے تلاوت کرنا درست ہے، البتہ اسکرین کے اس حصہ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے جہاں پر آیات نظر آرہی ہوں، تاہم جہاں پر قرآن کا اصل نسخہ میسر ہو، وہاں پر اسی میں تلاوت کرنا زیادہ باعث برکت ہے۔ (البحرالرائق، کتاب الطہارة ۱۔۰۵۳)

سوال: آج کل قرآن پڑھنا اور تلاوت سننا ، جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انتہائی آسان ہو گیا ہے، کیا چلتے پھرتے ریکاڈنگ لگا کر، گاڑی میں تلاوت کی آڈیو لگا کرہمہ وقت قرآن پر دھیان لگا سکتے ہیں، اس طرح قرآن کے ادب و احترام کی خلاف ورزی تو نہ ہو گی؟

جواب: چلتے پھرتے یا گاڑی میں سفر کرتے ہوئے تلاوت سننا یا کرنا بہتر عمل ہے، بشرطیکہ تلاوت کے آداب کا خیال رکھا جائے اور دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ (فتح القدیر، کتاب الصلاة ۱۔۲۴۳)

سوال: پاکستان میں خواتین کے لیے باہر نماز کا کوئی انتظام نہیںہوتا، کبھی مجبوری میں مثلاًشاپنگ کے لیے گئے ہوئے، مغرب کی نماز ہو جاتی ہے، سامنے مسجد ہوتی ہے اور مرد حضرات نمازپڑھ رہے ہوتے ہیں، ایسے میں چاہتے ہوئے خواتین نماز ادا کرنے سے رہ جاتی ہیں، کیا اس طرح کے شاذونادر مواقع کے لیے( یا ایسی آﺅٹ ڈور جگہوں پر) مساجد میں خواتین کے لیے کچھ جگہ مختص نہیں کی جا سکتی، اور انہیں نماز کی اجازت نہیں دی جا سکتی (جیسا پارکوں وغیرہ میں خواتین کی نماز کی جگہ ہوتی ہے)؟

جواب: بروقت نماز کی ادائیگی جس طرح مردوں کے لیے ضروری ہے اسی طرح خواتین کے لیے بھی ضروری ہے، لہذا ایسی مساجد جہاں لوگوں کا آمدورفت زیادہ ہو، ان میں خواتین کے لیے انتظام ضرور کر لینی چاہیے، تاہم جہاں انتظام نہ ہو، تو جیسے بھی بن پائے باپردہ ہو کر نماز ادا کر لینی چاہیے۔ (سورة النسائ، الآیة : ۳۰۱

سوال: آج کل باتھ رومز ہی میں واش بیسن اور نلکے ہیں(گھروں میں بھی اور دفاتر میں بھی) وضو وہیں کرنا ہوتا ہے جو کہ مکروہ ہے، اور بعض اوقات واقعی اس سے کراہت محسوس ہوتی ہے، ایسے میں خواتین کیا کریں، کیونکہ وہ بہرحال مردوں کی طرح باہر وضو نہیں کر سکتیں؟

جواب: باتھ روم اگر پاک ہو تو اس میں بلاکراہت وضو بنانا جائز ہے، اور اگر پاک نہ ہو اور وضو بناتے ہوئے ناپاک چھینٹے کپڑوں پر لگنے کا خطرہ ہو، تو باتھ روم پانی سے پاک و صاف کر کے اس میں وضو بنایا جا سکتا ہے، وضو کی دُعائیں دل ہی دل میں پڑھے، زبان سے نہ پڑھے۔ (درمختار، کتاب الطہارة ۱۔۴۹)

سوال: دفتر میں بمشکل فرض ادا کرنے کا انتظام ہو پاتا ہے، ایسے میں سنت مو¿کدہ اکثر رہ جاتی ہیں، کیا کیا جائے؟

جواب: اگر دفتر والوں کی طرف سے اتنا وقت دیا جاتا ہے کہ اس میں فرائض اور سنتیں ادا ہو سکتی ہوں، تو اس میں سستی کیے بغیر فرائض اور سنتیںادا کرنی چاہیے اور اگر وہ وقت اتنا کم ہے کہ اس میں صرف فرائض ادا ہو سکتی ہیں نہ کہ سنتیں، تو اس سلسلہ میں دفتر والوں کو درخواست دینی چاہیے اور دفتر والوں کو خود بھی اس سلسلہ میں نرمی کرنی چاہیے کیونکہ مستقل طور پر سنتیں چھوڑنا گناہ ہے۔

سوال: خواب کی تعبیر جاننے کے لیے آن لائن ویب سائٹس دیکھنا یا کتابیں پڑھنا جائز ہے؟

جواب: خواب کی صحیح تعبیر تک پہنچنا ہر کسی کا کام نہیں، اس لیے آن لائن یاکوئی کتا ب دیکھ کر تعبیر نکالنے کے بجائے کسی ماہر عالم دین سے پوچھ لینا چاہیے، تاہم ہر خواب کی تعبیر جاننا ضروری نہیں۔ (تفسیر معارف القرآن ۵۔۲۲)

سوال:کیا اپنے شوق اور لگاﺅ کی بناءپر ہم عموما تلبیہ کا ورد کر سکتے ہیں؟

جواب:تلبیہ بطور ذکر یا شوقیہ پڑھنا جائز ہے۔ (سنن ترمذی، رقم الحدیث: ۸۲۸)

سوال: ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرا¿ت جہری کیوں نہیں کی جاتی؟

جواب: چونکہ آپ ﷺ سے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ نمازیں اسی طرح منقول ہیں، اس وجہ سے ان دونوں نمازوں میں قرا¿ت نہیں کی جاتی، بعض حضرات نے اس کی وجہ بھی بیان کی ہے، لیکن عوام کو اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ (ہدایہ، ۱۔۵۴)

سوال: تقریبا تمام خوشبوﺅں میں الکوحل شامل ہوتی ہے، ایسے میں کوئی پرفیوم کیسے استعمال کریں، جب کہ ہم عطر کی خوشبو تیز ہونے کے باعث استعمال نہیں کرتے؟

جواب: بہتر یہ ہے کہ دیسی پرفیوم استعمال کی جائے، تاہم اگر کوئی الکحل والی پرفیوم استعمال کرنا چاہے،تو چونکہ یہ الکحل مکئی ، گندم، بیر، آلو، چاول، پٹرول وغیرہ سے بنایا جاتا ہے اور بہت کم مقدار میں پرفیوم میں استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس پرفیوم کا استعمال جائز ہے۔ (بحوث فی قضایا فقہیة ۱۔۰۴۳)

سوال: اگر کپڑوں پر الکوحل والا پرفیوم لگا ہوا ہو تو نماز ہوجائے گی؟

جواب: اس سوال کا جواب پچھلے سوال کے ضمن میں معلوم ہو چکا ہے۔

سوال: اگر جائے نماز پر الکوحل والا پرفیوم لگا ہوا ہو تو نماز ہو جائے گی؟

جواب:اس سوال کا جواب سوال نمبر ۰۲ کے ضمن میں آچکا ہے۔

سوال: شمالی علاقہ جات میںسیر کے لیے جاتے ہوئے راستے میں لگے ہوئے پھلوں کے باغ سے اگر بلا اجازت پھل توڑ لیا تو کیا جرمانہ ہوگا، راستے، سڑک یا پارک میں درخت کے پھل (جس کا بظاہر کوئی مالک نہ ہو) کے بارے میں کیا احکام ہیں؟

جواب:کسی باغ کا پھل اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھانا جائز نہیں، اور بغیر اجازت کے کھانے کی صورت میں اس کی قیمت مالک کو پہنچانا ضروری ہے، اور اگر مالک نہ ملے تو کسی غریب فقیرکو دینا ضروری ہے۔(درمختار، کتاب الغصب ۶۔۳۸۱)

سوال: آج کل خواتین کے اسکارف، عبایہ، حجاب کی باقاعدہ فیشن انڈسٹری بن چکی ہے، حجاب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ دفتر میںذرا سٹائل سے تو اوڑھو، کیا آپ نے مائیوں جیساحلیہ بنا لیا ہے، اس بارے میں کیا کریں؟

جواب: جس طرح ایک مسلمان خاتون کے لیے پردہ کرنا ضروری ہے، اس طرح برقع وغیرہ میں سادگی بھی ضروری ہے، تاکہ اس کی وجہ سے نامحرم اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ لہٰذا کوئی کچھ کہے، اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ہر وقت رب کی رضا اور خوشنودی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ (درمختار، ۱۔۶۰۴)

سوال: خواتین میں آج کل بالوں کا اونچا جوڑا کر کے اس پر سکارف لپیٹنے کا فیشن عام ہے، کیا یہ درست ہے؟ خواتین کے لیے دفتر میں میک اپ کر کے جانا اور پرفیوم استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب: (الف ) عورتوں کا بالوں کو جمع کر کے سر کے اوپر جوڑا باندھنا ناجائز ہے، البتہ گدی کی طرف جوڑا باندھنا جائز ہے۔

(ب) عورت کا اکیلے گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں میک اپ کرنا اور ایسی خوشبو استعمال کرنا جو نامحرم مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہو جائز نہیںہے، حدیث پاک میں اس سے ممانعت آئی ہے، البتہ اگر محرم ساتھ ہو اور کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو تھوڑا بہت سنگھار کرنے اور مدہم خوشبو لگانے کی گنجائش ہے۔ (درمختار، ۱۔۶۰۴)

سوال: مغرب کی نماز پڑھ لی، سلام پھیرا تو اذان شروع ہو گئی، اب دوبارہ نماز ادا کی، کیا یہ درست ہے؟

جواب:نماز کے جائزاور ناجائز ہونے میں وقت کا اعتبار ہے اذان کا نہیں، لہٰذا اگر وقت داخل ہونے کے بعد نماز پڑھی گئی ہو تو دہرانے کی ضرورت نہیں، ورنہ دہرانا ضروری ہے۔

سوال: طالبات کا مرد اساتذہ سے وائس میسج کے ذریعے بات چیت ٹھیک ہے یا پیغام صرف لکھ کر ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہیے؟

جواب: جب ایس ایم ایس کے ذریعے یہ ضرورت پوری نہ ہو سکتی ہو توجس طرح بقدر ضرورت کال کرنے کی گنجائش ہے، اسی طرح وائس میسج کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (فتاوی شامی، ۶۔۲۷۳)

سوال: کیا بغیر داڑھی مرد امامت اور اذان نہیں کرا سکتا (اگر گھر سے دور کہیں ہوٹل وغیرہ میں ہو)؟

جواب: داڑھی مونڈے شخص کو مستقل امام بناناجائز نہیں، البتہ اگر کوئی باشرع آدمی موجود نہ ہو، تو داڑھی مونڈے کے پیچھے بحالتِ مجبوری نماز پڑھنا جائز ہے، اور یہی حکم اذان کا بھی ہے۔(فتاوی شامی، کتاب الصلاة، ۱۔۵۱۴)

سوال: فجر اور عصر کی نماز کے بعد سجدے میں سر رکھ کے دُعا مانگ سکتے ہیں؟

جواب: نماز کے بعد سجدہ میں دُعا مانگنے کی عادت مناسب نہیں، لہذااس سے بچنا چاہیے، بلکہ کسی بھی وقت دُعا مانگنے کا جو سنت طریقہ ہے، اسی کے مطابق دُعا مانگنی چاہیے، یعنی ہاتھ اٹھا کر قبلہ رخ ہو کر توجہ کے ساتھ دُعا مانگی جائے۔ (درمختار، کتاب الصلاة، ۲۔۰۲۱)

سوال: کیا تاش کھیلنا اور لڈو کھیلنا جائز ہے؟

جواب: (الف)تفریح طبع کے لیے لڈو اس شرط کے ساتھ کھیل سکتے ہیںکہ اس میں خلاف شرع باتوں سے بچا جائے، مثلاًنمازیں نہ چھوڑی جائے اور دیگر فرائض وواجبات میں خلل نہ آئے، لیکن عام طورپر اس قسم کے کھیلوں میں لگنے سے مشغولیت اس قدر ہو جاتی ہے جس میں امور بالا میں غفلت اور کوتاہی ہو ہی جاتی ہے اور کچھ نہ ہو تو ضیاع وقت ہے ہی اس لیے بچنا بہتر ہے۔

(ب) تاش کھیلنا تو بہت ہی بُرا ہے اس کھیل کو فقہاءبھی منع کرتے ہیں©کیونکہ اس میں کئی خرابیاں ہیںجس میں سے چند یہ ہیں: اس میں تصویر ہوا کرتی ہیں، جوا بھی کھیلا جاتا ہے، بُرے لوگوں کا کھیل ہے، اکثر نمازیں اس کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔(البحر الرائق، ۸۔۵۳۲)

٭٭٭

تفریح طبع کے لیے لڈو اس شرط کے ساتھ کھیل سکتے ہیںکہ اس میں خلاف شرع باتوں سے بچا جائے، مثلاًنمازیں نہ چھوڑی جائے اور دیگر فرائض وواجبات میں خلل نہ آئے، لیکن عام طورپر اس قسم کے کھیلوں میں لگنے سے مشغولیت اس قدر ہو جاتی ہے جس میں امور بالا میں غفلت اور کوتاہی ہو ہی جاتی ہے اور کچھ نہ ہو تو ضیاع وقت ہے ہی اس لیے بچنا بہتر ہے


ای پیپر