سندھ حکومت کو در پیش چیلنج

27 اگست 2018

سہیل سانگی

وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں قائم ہونے والی سندھ حکومت کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج دو مرتبہ کی کارکردگی پرتمام اعتراضات اور تحفظات سوالیہ نشان کے باوجودپیپلزپارٹی پر تیسری مرتبہ سندھ کے عوام کی جانب سے اعتماد کو برقرار رکھنے کا ہے۔ سندھ میں جن چیزوں نے پیپلزپارٹی کے حق میں ماحول بنایا اس میں بڑا عنصر یہ رہا کہ سندھ کے لوگ جی ڈی اے کو ووٹ دینا نہیں چاہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ بلاول بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران لوگوں کو یقین دلایا کہ حکومت کی کارکردگی کی وہ ذاتی طور پر ضمانت دے رہے ہیں۔
سندھ میں عام لوگوں کو درپیش مسائل میں اچھی حکمرانی، بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ یہ وہ بنیادی سہولیات ہیں جو سوشل انڈیکیٹرز میں شامل ہیں۔ جو ظاہر کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں عام لوگوں کے لئے ترقی کی کیا صورتحال ہے۔ یہی نڈیکیٹرز ترقی کو ناپنے کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ سندھ میں سوشل ا نڈیکیٹرز کا اظہار منصوبہ بندی کے حوالے کئے گئے مختلف سرو ے میں کیا گیا ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران بھی حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کو ووٹرز کی جانب سے جن سوالات کی شکل میں سامنا کرنا پڑا۔ وہ ان انڈیکیٹرز کا عام زبان میں اظہار ہی تھا۔ عام لوگوں کے لیے سوشل انڈیکیٹرز ایک پیمانہ ہوتے ہیں جس سے بعض نکات کی مدد سے پورے نظام کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ان انڈیکیٹرز میں غربت، نابرابری کی شرح، تعلیم، عمر کا دورانیہ، روزگار او ر بیروزگاری، صحت پر ہونے والے اخراجات، نوجوان جو نہ روزگار سے لگے ہوئے ہیں نہ زیر تعلیم ہیں اور نہ ہی کسی ہنر کے لئے زیر تربیت ہیں۔ خو دکشی کی شرح، زندگی سے مطمئن ہونا وغیرہ ان سوشل انڈکیٹرز میں شامل ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار، پینے کا پانی اور نکاسی آب سب سے اہم نکات سمجھے جاتے ہیں۔
جہاں تک روزگار کی صورتحال ہے گزشتہ دور میں سندھ حکومت متعدد اعلانات کے باوجود نئی بھرتی نہ کر سکی۔ حالانکہ مختلف صوبائی محکموں میں ہزارہا خالی اسامیوں کا اعلان کر کے درخواستیں منگوائی گئیں لیکن اس ضمن میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بظاہر یہ جواز دیا گیا کہ وفاق کی جانب سے ملنے والی رقم کم ہو گئی ہے۔ اعلان کردہ متعدد اسامیاں نئی نہیں تھی، بلکہ یہ اسامیاں ریٹائرمنٹ کے ذریعے خالی ہوئی تھی۔ ان کے لئے رقم بجٹ میں اخراجات جاریہ کی مد میں موجود رہتی ہے۔ پارٹی کی حکومت کے پہلے دور میں بعض جعلی یا مقررہ تعداد سے سے زیادہ ملازمتیں دی گئی تھی۔ ان بھرتیوں کے معاملات عدالتوں یا مختلف کمیٹیوں کے زیر غور رہے۔ اس مرتبہ صوبائی حکومت پر دباؤ ہے کہ خالی اسامیاں پر کرے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دور حکومت میں ہزاروں کی تعداد میں خالی اسامیوں کے اشتہارات شائع کئے گئے تھے اور لاکھوں لوگوں نے درخواستیں دی تھیں۔
خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مقابلے میں سندھ کے سوشل اور معاشی انڈیکیٹرز کمزور ہیں، یعنی تعلیم زوال کا شکار
ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا اور تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ ہوا ۔ اس کے باوجودکئی اسکول بند ہیں اور ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔لیکن اس میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
محکمہ صحت میں چاہے تھر میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت اور چانڈ کا ہسپتال میں سہولیات کے فقدان میں بچوں کی اموات، دوائیں اور ڈاکٹر دونوں کی موجودگی پر سولات اٹھائے جاتے ہیں۔صحت کی سہولیات کاغذوں میں ضلع سطح پر موجود ہیں، لیکن عملاً ایسا نہیں۔ حکومت پہلے سے موجود طبی سہولیات کو کیسے یقینی بنائیگی؟ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوال ہے کہ ضلع سطح سے نیچے یہ سہولیات کیسے پہنچائے؟ پرائمری ہیلتھ کی سہولیات ایک بڑا ایشو ہیں۔ صوبائی حکومت نے پیپلز ہیلتھ انیشیئٹو کے نام پر دیہی علاقوں میں صحت مراکز اور ہسپتالوں کو ایک حد تک پرائیویٹائزیشن کی طرف لے گئی۔ مگر صورتحال میں کوئی اصلاح احوال نہیں سامنے آیا۔ یہ چیلنج بدستور موجود ہے بلکہ وقت کے ساتھ اس میں شدت آئی ہے۔
صوبے کو آبپاشی پانی کی قلت کا سامنا ہے اس کے لیے نئی سندھ حکومت کو حکمت عملی واضح کرنا ہوگی پانی کی قلت کی وجہ سے زراعت متاثر ہو رہی ہے خود ان کے اپنے حلقے میں لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں۔پانی کا معالہ بظاہر وفاقی حکومت سے ہے۔ لیکن خود پانی کی صوبے کے اندر تقسیم بھی منصفانہ نہیں ہو رہی۔ زرعی اجناس کی نرخوں کے تعین کا معاملہ بھی اہم جس طرح گنے کی خریداری کے وقت مل مالکان کا رویہ سامنے آیا اور مراد علی شاہ بے بس نظر آئے کیونکہ انور مجید کے ساتھ آصف علی زرداری کا نام بھی لیا جارہا تھا۔پانی کی قلت اور زرعی اجناس کی صحیح قیمتیں نہ ملنے کی وجہ سے دیہی معیشت پر خراب اثرات مرتب ہوئے اور غربت کی شرح میں اضافہ ہوا۔ نتیجہ میں دیہی آبادی روز گار کے لئے نہ صرف شہروں کی طرف منتقل ہوئی بلکہ اس کا انحصار شہروں پر بڑھ گیا۔ صنعت کاری نہ ہونے کی وجہ سے شہروں میں پہلے ہی روزگار کے مواقع کم تھے۔ لہٰذا نئی لیبر فورس کو بھی سروس سیکٹر کی طرف جانا پڑا۔ صوبے میں معاشی برابری ایکٹوٹی کم ہے صنعتیں صرف کراچی تک محدود ہیں جس وجہ سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور لوگوں کی نظریں صرف سرکاری ملازمتوں پر ہیں یہ بیروزگاری بھی ان کی اولیت میں ہوگی۔
شاہر ا ئیں بنانے کی بات کی گئی لیکن ہر شہر کی اندرونی حالت سے ہر ایم پی اے واقف ہے اور تنزیلاہ شیدی سمیت کئی رکن اسمبلی اپنے لوگوں کو ان کی تعمیر کی یقین دہانیاں کراکے آئے ہیں۔اسی طرح سے سالڈ ویسٹ اور کچرے کی شکایت کراچی سمیت ہر ٹاؤن کمٹی میں سننے کو ملتی ہے، اس کا تدارک آئندہ پانچ سالوں میں بھی ان کا پیچھا کرے گا۔
بعض سابق وزراء شرجیل انعام میمن سمیت دیگر رہنما کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں ان کی تفتیش اور تحقیق کس قدر شفاف ہوپاتی ہے۔ یہ بھی چیلنج ہوگا
مراد علی شاھ کس حد تک بااختیار ہیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ماضی میں بھی بار بار یہ خبریں آتی تھیں کہ فریال تالپور حکومت سندھ کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔ اس بار فریال تالپور خود صوبائی اسمبلی کی رکن ہیں ان کا کتنا مرکزی کردار رہتا ہے اور یہ کردار مددگار ثابت ہوتا ہے یا ان کے فیصلوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اپوزیشن پہلے سے مختلف ہے زیادہ متحرک ہے کیونکہ تحریک انصاف ہو یا ایم کیو ایم یا تحریک لبیک ان کی بقا کا معاملہ ہے انہیں اپنی کارکردگی دکھانی ہے، اس وجہ سے پہلے کی طرح آسان نہ ہوگا اور تحریک انصاف کے اراکین میں کسی ایک لسانی اکائی کے لوگ شامل نہیں مختلف اقوام اور طبقات کی نمائندگی موجود ہے۔ سندھ میں سماجی اور معاشی طور پرغیر یقینی حالات ہیں ان حالات نے صورت حال کو مزید خراب کردیا ہے۔
نواز لیگ کے برعکس پیپلزپارٹی خوش ہے کہ چلو اس کو اپنے صوبے میں حکومت ملی۔ اس مرتبہ پیپلزپارٹی وزیراعظم عمران خان سے کوئی پنگا لینا نہیں چاہتی کیونکہ یہ بات اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرے گی۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان والا پروجیکٹ چلے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے لیکن سندھ حکومت کو سیاسی طور پر صوبے کے لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ لوگوں کو واقعی کچھ دیتی ہے یا پھر سیاسی کھیل کھیلتی ہے۔

مزیدخبریں