ایک اہم مسئلہ، جو ترجیحات میں نہیں!
27 اگست 2018 2018-08-27

ہم اپنے سیاسی حالات میں اس قدر اُلجھ جاتے ہیں کہ بہت سے اہم ترین مسائل بھی ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ نظرانداز ہونے والے ایسے بہت سے ایشوز، جو آپ کی سیاست اور معاشرت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ انہیں ایک طرف رکھ کر آگے بڑھنا ممکن نہیں160ہوتا۔ ایسا ہی ایک اہم ایشو ہے جو نہ صرف اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ خالص انسانی بنیادوں پر سوچا جائے تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہے پاکستان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ۔

1979ء میں سویت یونین اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آیا۔ اس کی طاقت اور قوت کے سامنے کسی کے ٹھہرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن بدترین نقصان کرکے دریائے آمو کے پار بالآخر اسے واپس جانا پڑگیا۔ 2001ء میں امریکا افغانستان آیا۔ اس کے پاس بھی کئی دلائل تھے۔ سوویت یونین کے مقابلے میں وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ اسے دنیا کے اکثر ممالک کا عملی تعاون حاصل تھا۔ لیکن سوویت یونین اور پھر اکلوتی سپر پاور، امریکا کے قبضے سے بھی یہ حقیقت سامنے آگئی کہ صرف فوجی مداخلت سے امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ یہ سبق ضرور حاصل ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف اس ملک میں تباہی آتی ہے بلکہ آس پاس اور پڑوس کے ممالک کو بھی بدترین مسائل کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔

افغانستان میں جاری اس آگ اور خون کے کھیل میں باقی پڑوسیوں کو بھی کچھ نہ کچھ نقصان اُٹھانا پڑا۔ لیکن سب سے زیادہ اثرات ہم پر مرتب ہوئے۔ سب سے بڑا مسئلہ ہمارے لیے ان لاکھوں افغان مہاجرین سے پیدا ہوا جن کا بوجھ ہم گزشتہ تقریباً 40 سال سے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چیف کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 13 لاکھ 90 ہزار ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ بین الاقوامی برادری ان سے نگاہیں چرارہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یو این ایچ سی آر کی مالی امداد میں بھی کمی واقع ہورہی ہے، یہ ممکن نہیں کہ کوئی ملک لاکھوں مہاجرین کا بوجھ برداشت کرسکے۔ شام سے ہجرت کرنے والے چند ہزار افراد کو یورپ کا کوئی ملک پناہ دے تو پوری دنیا میں اسے شاندار پذیرائی ملتی ہے۔

پاکستان نے خیر سگالی اور بردرانہ جذبے کے تحت 40 سال تک جنگ اور افلاس کے مارے لاکھوں افغان مہاجرین کو جائے امان دی ہے۔ جن کے پیروں تلے زمین کھسک گئی تھی، انہیں اس سرزمین کی مٹی پر بسایا اور جن کے سروں سے سائے اُٹھ چکے تھے، انہیں چھت فراہم کی۔ اس اُمید پر کہ افغانستان میں امن آئے گا، اور یہ افغان مہاجرین اپنے ملک جاکر نہ صرف ہمارے بہترین سفیر بنیں گے بلکہ انہیں وہاں160سکون کی زندگی میسر ہوگی۔ مگر سوویت یونین اور پھر امریکا کی آمد اور اربوں ڈالر افغان جنگ میں جھونکنے اور قیام امن کی 17 سالہ بین الاقوامی کاوشوں کے بعد بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرپائے۔ حالات دن بدن قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ اندازہ اس سے لگالیں کہ عید قرباں پر نماز کے دوران میں صدارتی محل پر راکٹ داغے گئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا مہاجرین کو بے دخل کرکے جنگ کے میدان میں جھونکنا انصاف پر مبنی فیصلہ ہوگا؟ اسے اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ملک میں موجود افغا نوں کی تعداد کا نصف حصہ ان بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے پاکستان میں آنکھ کھولی۔ اس ملک کو اپنا ملک،

اس سرزمین کو اپنی مادر وطن سمجھا۔ کیا بچہ اپنی ماں کی کوکھ سے خود کو جدا کرنا چاہے گا یا ماں بچے کو اپنی کوکھ سے جدا کرسکتی ہے؟ اور وہ بھی موت کے منہ میں ڈالنے کے لیے؟ یہ لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے یہاں بس رہے ہیں اور یہیں اپنی پوری زندگی بسر کرچکے ہیں۔ اسی ملک میں پلے بڑھے اور یہیں ان کی تمنائیں اور آرزوئیں ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان میں بڑے کاروباری اداروں کو چلاتے ہیں۔ قالین، ٹرانسپورٹ اور کنسٹرکشن جیسی صنعتوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے افغان یومیہ اجرت پر، سیلز مین اور بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان بچوں کا کیا اسٹیٹس ہوگا جو ’’مادر پاکستان‘‘ میں ایک ’’افغان پدر‘‘ کے ہاں پیدا ہوئے؟ کیا ہم کبھی ان ضعیف مہاجرین کے بارے میں بھی سوچتے ہیں جو پاکستان میں ان طبی سہولتوں سے فائدہ اُٹھالیتے ہیں، افغانستان میں جن کا تصور ہی محال ہے۔ اگر ان لاکھوں مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کردیا گیا تو ان کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی۔ حال ہی میں افغان مہاجرین کو 'پروف آف رجسٹریشن (POR) کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ پہلی بار 2007ء میں یو این ایچ سی آر نے 2005ء میں ہونے والی مہاجرین کی مرد شماری کے بعد متعارف کرائے تھے۔ ان کارڈز کا دورانیہ ہر حکومت قلیل مدت کے لیے بڑھا دیتی ہے۔ آخری بار نگراں حکومت نے ان کارڈز کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کی تھی۔

لیکن کیا یہ اس کا پائیدار حل ہے؟ ہرگز نہیں ! ایک طرف پولیس اور سرکاری عہدیدار اس غیر یقینی کی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں تو دوسری جانب مقامی افراد ان سے اپنی مرضی کا کرایہ وصول کرتے ہیں، جبکہ پی او آر کارڈز میں مختصر مدتی توسیع کی وجہ سے مہاجرین کو صحت اور تعلیمی سہولتیں حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے غیر یقینی کی یہ تلوار ہر وقت افغان مہاجرین کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ 13 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین کے علاوہ ملک میں 6 لاکھ ایسے افغان بھی ہیں جنہوں نے یا تو خود کو رجسٹر ہی نہیں کرایا، یا پھر غیر قانونی طریقوں سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرلیے۔ نادرا نے 2015ء میں یہ کارڈ منسوخ کردیے تھے۔ ایسے افغانوں کے لیے نادرا نے پچھلے سال ’’افغان شہری کارڈ‘‘ متعارف کرایا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ افغانوں کی رجسٹریشن کی جائے تاکہ بعد میں ان کی واپسی یقینی بنائی جاسکے۔ لیکن یاد رکھیں ’’جب تک پانی زمین سے زیادہ محفوظ نہ ہو، کوئی اپنے بچوں کو کشتی میں سوار نہیں کرتا۔‘‘

ممکن ہے کہ اس سارے معاملے کو آپ کسی اور زاویے سے دیکھتے ہوں، لیکن کچھ دیر کے لیے ہم قوم پرستی کی عینک اتار کر انسانیت کی نظر سے دیکھیں، کیا ہم ان لاکھوں بچوں اور خواتین کو واپس اس آگ میں جلنے کے لیے بھیجنے کا کلیجہ رکھتے ہیں؟ ایک ایسی جگہ جہاں نا صرف ان کی جانوں کو خطرہ ہے بلکہ زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ۔ میں160ایک بار پھر دُہراؤں، جن افغان مہاجرین سے ہم اب چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان میں سے لاکھوں نے اسی ملک میں جنم لیا، یہیں تعلیم حاصل کی، اسی وطن کی مٹی کی خوشبو میں زندگی گزاری، گھر بسائے، دوست بنائے، شادیاں کیں، یہیں سے روزی روٹی کمائی۔ اس ملک میں کئی افراد کے جمے جمائے کاروبار ہیں۔ ان کے لیے تو پاکستان ہی ان کا وطن ہے جبکہ افغانستان سے ان کا تعلق محض کاغذی رہ گیا ہے۔

نئی حکومت آئی ہے، اس کے لیے اندرونی لحاظ سے بہت مسائل ہیں، لیکن اسے بھی ترجیحی بنیادوں پر رکھا جائے تو ہم بطور انسان بڑی تعداد کو المیے سے بچاسکتے ہیں۔ سب سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ ہمارے ان افغان بھائی بہنوں کو اس غیر یقینی کی صورتحال سے نکالیں اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جن سے ان میں احساس تحفظ پیدا ہو اور وہ با عزت طریقے سے اس ملک میں رہ سکیں۔ پاکستانی حکومت افغان مہاجرین کے لیے نئی ویزا پالیسی متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس میں افغانوں کے لیے چار یا پانچ مختلف ویزا کیٹگریز رکھے گی۔ کاروباری افراد، مزدور، طلبہ وغیرہ کے تحت ملک میں رہنے کی مشروط اجازت ہوگی اور ویزا کے اختتام کے بعد انہیں واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔ لیکن حکومت کی تمام پالیسیاں بنائی ہی اس لیے جارہی ہیں کہ اب 40 سال بعد ان مہمانوں سے جان چھڑائی جاسکے۔ یہ لوگ میری اور آپ کی طرح مکمل پاکستانی ہیں، بس صرف فرق یہ ہے کہ پیش کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی کاغذ نہیں اور افسوس! یہ لوگ اپنا دل چیرکر بطور ثبوت پیش نہیں کرسکتے۔

حکومت یہ بھی کرسکتی ہے کہ قلیل مدتی اقدامات کے بجائے ان افغان مہاجرین کو مستقل معاشی تارکین وطن کا درجہ دے۔ انہیں یہاں رہنے اور کام کرتے ہوئے شہریت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرے۔ ایسے بہت سے کیسز موجود ہیں جن میں افغان مردوں نے پاکستانی عورتوں سے شادیاں کی ہیں۔ پاکستان سیٹیزن ایکٹ 1951ء کے سیکشن 10(2) میں غیر ملکی خاتون کو شادی کے بعد پاکستانی شہریت دینے کا ذکر ہے، لیکن غیر ملکی مردوں کا اس حوالے سے کوئی واضح قانون نہیں ۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ایسے ہی ایک قانون پر ہم بہت شور مچاتے ہیں، کوئی غیر ملکی ان ممالک کی شہریت حاصل نہیں کرسکتا۔ راستے مزید بھی نکل سکتے ہیں، اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ میرا خیال ہے کہ وہ وقت آچکا ہے ہم ایسے قوانین بنائیں، جو ان بیس لاکھ افغان مہاجرین کو جنگ زدہ ملک میں جھونکنے کے بجائے اپنے لیے مفید شہری بنائیں اور وہ اس معاشرے میں اپنا مثبت رول ادا کرسکیں۔


ای پیپر