قائداعظمؒ ایک رول ماڈل

27 اگست 2018

وکیل انجم

کپتان نے وزیر اعظم پاکستان کا حلف اٹھانے کے بعد مدینہ کی ریاست اور پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا اعلان کیا۔ وہاں انہوں نے پاکستان کے سواد اعظم یعنی ’’ غریب طبقہ‘‘ کا وژن بیان کیا جو ملک کی حاکمیت کا اصل حق دار مانا جاتا ہے۔ اس بار پھر انہی کے نام پر حکومت قائم ہوئی ہے۔ وزیر اعظم تو اس طبقے کے لیے ہیں جو لوگ فٹ پاتھوں پر سونے والے، ہسپتالوں تھانوں اور کچہریوں میں دھکے کھاتے جن کے گھر کا دیا روشن نہیں ہوتا اور جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں جن کے بچوں کو پوری غذا نہیں ملتی۔ اب ان کی قسمت سنوارنے کا نعرہ ہے ۔ چلو دیکھتے ہیں مگر یہاں تو قائد اعظم کو رول ماڈل سمجھنے والے وزیر اعظم کے قائد اعظم کے اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے پنجاب کا وزیر اعلیٰ خود چن لیا ایسا ہی صوبہ کے پی کے میں ہوا ہے۔ نہ صرف دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بلکہ پنجاب کی 23 رکنی اور کے پی کے کی 15 رکنی کابینہ کا بھی اعلان خود کیا۔ مگر ایسے فیصلے تو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور پارلیمانی جماعت کیا کرتی تھی۔ پنجاب کی کابینہ کے لیے تو وزیر اعلیٰ نہیں گورنر چوہدری سرور کی مدد لی گئی جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب پنجاب حکومت وزیراعلیٰ بزدار چلائیں گے یا چوہدری سرور چلائیں گے۔
تماشاگیری ہی سے ناکام لوگ کامیاب نہیں ہوا کرتے سلیکٹ وزیر اعظم کا طعنہ بھی ہے۔ آج تک جو بڑے بڑے نعرے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے ان میں سرمایا داری اور جاگیرداری کو ختم کرنے والے پر کشش نعرے بھی تھے۔ آزادی کے بعد معاشرتی تفریق میں جس طرح کا منظر نامہ سامنے آیا وہ خاصا تکلیف دہ تھا۔ جاگیر دار اور زمیددار ہاریوں اور مزارعوں اور کارکنوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتا تھا ۔ ان کی حالت غلاموں جیسی تھی ۔ خاص طور سندھی ہاری کی زندگی تو سب کے دل ہلا دینے والی تھی۔ ان کے ساتھ ظلم کی ایک سے بڑھ کر ایک داستان بکھری ہوئی تھی۔ حکومت سندھ نے ہاریوں کی اس حالت زار کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اس کمیٹی میں ایک آئی سی ایس آفسر مسعود احمد جو نظریات کے حوالے سے مسعود کھدر پوش کہلاتے تھے۔ انہوں نے ’’ ہاری رپورٹ‘‘ میں پنہا اختلافی نوٹ لکھا جس کی منظر کشی اور حقائق نے اس اہم مسئلے کی توجہ اپنی توجہ مرکوز کرا دی کہ ہاری کے ساتھ کیا ہو رہا ہے پھر اصلاحات کی بات چلی۔ ابتدا میں ہی جاگیرداری کے خاتمے کے نام پر مشرقی پاکستان نے تو اہم قدم اٹھا یا اور جاگیرداری کا خاتمہ کر دیا مگر مغربی پاکستان میں یہ معاملہ حل نہ ہو سکا۔ پنجاب کے بہت بڑے جاگیردار اور وہاڑی میں لڈن اسٹیٹ کے مالک میاں ممتاز دولتانہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے ہوئے زرعی اصلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جب قانون سازی کا مرحلہ آیا تو ان جاگیرداروں نے ایک الائنس بنا لیا اور اعلان کیا کہ ہماری بے شک چمڑی چلے جائے ہم اپنی زمین کا ایک بیگہ بھی جانے نہیں دیں گے۔ اس مقصد کے لیے بڑے بڑے علماء سے فتوے لیے گئے انجمن تحت اشعریہ قائم کی گئی اس تحریک میں انگریز کے نوازے ہوئے جاگیر دار سبھی شامل تھے فخر امام کے انکل سید نوبہار شاہ نوابزادہ نصر اللہ خان، قریشی، گیلانی مزاری لغاری سبھی شامل تھے۔ یہ زرعی اصلاحات تو ہو گئیں ناکام ۔ پھر کسی نے ان جاگیرداروں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ ایوب خان کے مارشل لاء اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جو زرعی اصلاحات آئیں ایوب خان اور بھٹو کے حمایتی جاگیرداروں نے ان اصلاحات کو ناکام بنا یا 71 سال گزرنے کے باوجود آج بھی جاگیرداری کا ڈنگ نہیں نکل سکا اور یہ جاگیردار اور صنعت کار نئے پاکستان کے روح رواں ہیں۔
حال ہی میں فیئر اینڈ فری الیکشن پر کڑی نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والے پارلیمنٹرین کا پیشہ ورانہ تجزیہ کیا ہے اس میں یہ سوال بڑا تکلیف دہ ہے کہ عام آدمی کی باتیں کرنے والی جماعتوں نے ٹکٹ بھی جاگیردارانہ اور سرمایہ ورانہ پس منظر رکھنے والوں کو دیئے اور اسمبلیوں میں ماضی کی طرح یہ کلاس ہم پر ایک بار پھر مسلط ہو گئی ہے۔ اگر نئے پاکستان کی دعوے دار جماعت کے کپتان موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو دیکھا جائے تو ان کی آمدن توہر سال بڑھ رہی ہے مگر یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کا کاروبار کیا ہے۔ امانت اور دیانت کے مینار کپتان نے اپنی کابینہ میں شامل کیے ہیں وہ بھی تو اپنی مثال آپ ہیں ۔ بات تو 22 سالہ جدوجہد کی کی جاتی ہے مگر نظام بدلنے کے لیے انہیں کابینہ میں جدوجہد کے نتیجہ میں 22 وزیر بھی نظریاتی نہ مل سکے۔ زبیدہ جلال مشرف کی دریافت تھیں جو غیر ملکی فنڈنگ سے ایک غیر سرکاری تنظیم چلاتی تھیں۔ ’’ توانا پاکستان‘‘ تو آگے نہ لا سکیں مگر مبینہ طور پر ان کی مالی حالت کافی توانا ہو گئی۔ کابینہ میں شامل کرنے سے پہلے وزیر زبیدہ جلال کے بارے میں تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں۔
خسرو بختیار گدی نشین، جاگیر دار اور سرمایہ درانہ نظریہ رکھنے والا سیاست دان ہے مخدوم حمید الدین جو ان کے انکل تھے نواب کالا باغ کی وزارت میں رہے کنونشن لیگ میں اس وقت تک رہے جب تک ایوب خان کے اقتدار کا سورج ڈوب نہیں گیا ۔ پھر پیپلز پارٹی میں طویل عرصہ تک رہے خود خسرو بختیار کے والد مخدوم رکن الدین پی پی پی میں رہے پھر مسلم لیگ میں آئے خود خسرو نے سیاست شہباز شریف کے وزارت اعلیٰ کے سائے میں کی۔ مشرف نے غیر آئینی طریقے سے قبضہ کیا اور مسلم لیگ ق کے نام سے پارٹی بنائی پھر اس پارٹی کو حکومت میں لایا گیا۔ وہ شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر رہے ۔ نواز شریف اقتدار میں آیا تو کھسک کر اس میں شامل ہو گئے۔ عذر تراشا گیا ، نواز شریف سے اختلاف تھا۔ اختلاف پر وزارت نہ ملی تھی۔ یہ صاحب تو 2011 میں پہلے بھی
تحریک انصاف میں جہانگیر ترین کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ پھر الیکشن سے کچھ پہلے ہی جنوبی پنجاب صوبہ کے صدر بنے پھر اس پوری تحریک کے ساتھ تحریک انصاف میں ضم ہو گئے۔ کیا کیا جائے ان لوٹوں کا فہمیدہ مرزا صاحبہ بھی جس پارٹی سے چار مرتبہ رکن اسمبلی بنیں اب وہ سندھی وڈیروں کے بنائے ہوئے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوئیں وہ شوگر مل کی چیف ایگزیکٹو تھی۔ ان کا نام کروڑوں کا قرضہ معاف کرانے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ان کے والد عبد الحمید عابد ضیاالحق کے ریفرنڈم میں پیش پیش رہے ۔ ضیاالحق ان کا ہیرو تھا پھر جو نیجو کابینہ کے رکن بنے۔ ضیاء الحق کے دور میں پی آئی اے کا طیارہ اغوا ہوا ۔ کپتان کی کابینہ میں شامل طارق بشیر چیمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار طیارہ بازیاب کرانے کے لیے ہائی جیکروں نے جو مطالبات پیش کیے ان میں طارق بشیر چیمہ کی رہائی بھی شامل تھی۔ اب ماشا اللہ وہ وزیر ہیں ۔ مشرف کے دور میں دو مرتبہ ضلع ناظم بہاول پور رہے۔ بھائی طاہر بشیر چیمہ ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی تھے۔ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار کو بہاول پور کی قومی نشست پر شکست دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی سیاست ہے پیارے۔ وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی کی قلا بازی سے کون واقف نہیں یہ تو خاندان اقتدار کے لیے پیدا ہوا ہے۔ وزیردفاع پرویز خٹک بھی پارٹیاں بدلنے کے ماہر داماد بھائی سالی بھی اب پارلیمنٹیرین ہیں جو باہر ہیں ضمنی میں آ جائیں گے۔ یہ صاحب وزیر دفاع ہوتے ہوئے نیب میں اپنا دفاع کریں گے۔ اسد عمر وزیر خزانہ ہیں صاحب کے والد محترم یحییٰ خان کے اہم ساتھی سقوط مشرقی پاکستان کے اہم کردار مہربانی کر جائیں قوم پر احسان ہو گا۔ کہ وہ رپورٹ ہی اوپن کرا دیں۔ جس پر 46 سال کی گرد جم چکی ہے۔ یعنی حمود الرحمن کمیشن رپورٹ۔ شیریں مزاری لکھتی تو بین الاقوامی امور پر ہیں مگر انہیں وزارت ملی ہے ، انسانی حقوق کی۔
شیریں مزاری پہلے بھی تحریک انصاف میں رہیں اب دوسری بار پارٹی کا حصہ بننے کے بعد وزیر بنی ہیں ان کا تعلق راجن پور کے مزاری خاندان سے ہے ۔ ان کی والدہ ضیا الحق کے دور میں خواتین کی نشست پر کامیاب ہوئیں۔ والد عاشق مزاری 1988 ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم اے این ارہے بنیادی طور پر ان کا تعلق جاگیردار اور صنعت کار گھرانے سے ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کی بیٹی (ن) لیگ کی حمایت اور اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں سخت نظریات رکھتی ہیں جب کہ ان کی والدہ کی پارٹی فوج کے بارے میں اچھے نظریات رکھتی ہے بلکہ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے اسی کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے۔ غلام سرور خان جو سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو شکست دے کر کامیاب ہوئے ہیں وہ بھی موقع کی سیاست کرتے ہیں طویل عرصہ تک پیپلزپارٹی میں رہے (ق) لیگ میں شامل ہوئے مشرف دور میں وزیر رہے۔ 2013ء سے پہلے تحریک انصاف کا حصہ بنے اب وزیر ہیں بزنس مین اور زمیندار ہیں یہ فہرست تو کافی طویل ہے نہ جانے ہمیں اس سے کب نجات ملے گی بھی یا نہیں۔ فیئر اینڈ فری الیکشن کا مختصر نام فافین ہے۔ یہ کوئی ’’پھپھے کٹنی‘‘ نہیں اچھے کام کرتی ہے ان کے جمع کیے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے صوبائی اسمبلی کے 371 کے ایوان میں 103 زمیندار اور 84 بزنس میں ہیں۔ سندھ کے 168 ممبران ہیں 64 فیصد ایم پی ایز زمیندار اور بزنس مین ہیں جبکہ کے پی کے کے 124 میں سے 57ایم پی اے زمیندار اور بزنس میں کلاس سے متعلق رکھتے ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی بھی بڑے سرداروں اور زمینداروں سے بھری پڑی ہے۔سوال تویہ ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد کا خطاب۔ کیا خوب تھا کہ وزیراعظم کو بنی گالہ کے محل نہیں جھونپڑے میں رہتا ہے۔ گرے ہوئے اور مظلوں کی باتیں ماضی کی حکومتوں کی طرح یہ ’’حکمران بھی اشرافیہ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس پارٹی کے پالیسی سازوں میں ایک بھی ایسا نہیں جو اس کلاس کا نمائندہ ہو۔ کپتان نے ایک چائے والے غریب کو ٹکٹ دیا مگر یہ چائے والا بھی کروڑوں پتی نکلا۔ دوسرا غریب عثمان بزدار ہے جس کے گھر میں بجلی نہیں اور وہ بھی جھونپڑے میں رہتا ہے؟ تبدیلی سو دن میں آ سکتی ہے۔ اب سوال یہ کریں گے ہمارے پاس تو دو تہائی اکثریت نہیں؟ عوام کو یہ عذر قبول نہیں ہو گا۔

مزیدخبریں