’’ تین سو سالہؔ پرانا بابا اور ماڈرن دور کی قلفیاں ۔۔۔؟‘‘
27 اگست 2018 2018-08-27



کچھ محاورے، کچھ تشبیہات، کچھ استعارے ایسے ہیں جن کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی مثلاً ’’پیکیج ڈیل‘‘ تنظیمی دورے، باہمی مفادات، تربیتی ورکشاپ، ’’جوانی کی غلطیاں‘‘، ’’بڑھاپے کے خوف‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ سرکاری افسروں کی تربیت ہوتی ہے چھ ماہ کا کورس اور اس دوران ڈیڑھ دو سو لوگ اکٹھے بیٹھ کر ’’تربیت‘‘ کا مزہ لیتے ہیں نہایت عمدہ کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔ آنے جانے کا خرچہ وغیرہ لیتے ہیں اور اُن میں سے پندرہ بیس ٹھیک ایک ڈیڑھ سال بعد ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں (غور طلب بات ہے) ۔۔۔ شاید یہ بھی ضروری ہے کہ ریٹائرڈمنٹ سے پہلے بتا دیا جائے کہ اختیارات کے بغیر زندگی گزارنے والا وقت قریب تر ہے ۔۔۔؟ ہمارے دور جوانی میں چھوٹے چھوٹے بکسٹالوں پر موٹی موٹی کتابیں ملتی تھیں (بلیک میں) انگریزی اردو پنجابی ترجمہ کے ساتھ ۔۔۔ جن میں ’’ہولناک راتیں‘‘ ۔۔۔ ہولناک راتیں پارٹ II وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ جو دوست ’’افورڈ‘‘ نہیں کر سکتے تھے وہ کئی کئی ہفتے انتظار کر کے ترلے ڈال کے، منتیں کر کے لے لیتے اور پھر کبھی بھی واپس نہ کرتے ۔۔۔ لیکن اب تو پوچھیں مت لاکھ لاکھ صفحات کھل جاتے ہیں ۔۔۔ مع ترجمہ، تشریح اور ہزاروں متعلقہ غیر متعلقہ تصاویر سمیت ۔۔۔ نہ دوستوں کے ترلے ڈالو نہ منت کرو نہ ہی کتاب واپس کرنے یا نہ کرنے پر جھگڑا فساد کہ سو پچاس میں ’’نیٹ کیفے‘‘ جائیں ۔۔۔ بدبو دار کرسی پر دم گھٹے ماحول میں خوشبو دار بدبودار بلکہ نہایت بدبودار تحریریں پڑھیں ۔۔۔ شعلے اگلتی تصاویر دیکھیں اور اوئی اوئی کر کے گھر آ جائیں ۔۔۔ اور ہر ایک کے ساتھ بدتمیزی شروع کریں کہ ۔۔۔ ؂
برُے کام کا یہی نتیجہ ہوتا ہے
سرکاری محکموں میں دوسری کرپشن کے علاوہ ٹی۔اے/ ڈی۔اے کی کرپشن بھی پکڑ لی جاتی ہے۔ ہمارے ایک سینئر سرکاری ملازم دوست نوکری سے نکل گئے ۔۔۔ محض اس لیے کہ پچیس اگست کو گجرات سے کوئٹہ سرکاری دورے پر گئے مگر اُنہوں نے سرکاری کھاتوں میں بائیس تاریخ روانگی شو کی ۔۔۔ ’’یار‘‘ لوگوں نے اُن کی ریلوے کی پچیس تاریخ کی بکنگ اور ریلوے کا سفری ریکارڈ پیش کیا ۔۔۔ اور موصوف نوکری سے فارغ ۔۔۔ اب بے چارہ کسی سرکاری دفتر کے باہر بیٹھ کر ’’پڑھے لکھے‘‘ شکایتوں کو ’’جھوٹی عرضیاں‘‘ لکھ لکھ کر دیتا ہے اور من کی مراد پاتا ہے ۔۔۔
پچھلی جمعرات کو میں داتا دربار گیا، پیر مکی دربار کے پاس ہجوم لگا ہوا تھا، میں بھی حسب عادت جا گھسا ۔۔۔ ہجوم میں ایک پندرہ سولہ سال کا ’’جیب کترا‘‘ شدید گرمی میں ’’اپنے ہی ساتھیوں‘‘ کے ہاتھوں خوار ہو رہا تھا ۔۔۔ تھوڑی دیر میں دو پولیس والے بھی آ دھمکے ۔۔۔ ’’چھڈو چھڈو ۔۔۔ مر جائے گا جے‘‘ ۔۔۔ ہجوم مطمئن ہو کے اِدھر اُدھر بکھر گیا ۔۔۔
اُنہوں نے جیب کترے کو گریبان (کالر) سے پکڑا اور ایک سائیڈ پر لے گئے جس نے جیب کترے کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا وہ ہجوم سے باہر نکل آیا ۔۔۔ غصے میں چلاتے ہوئے ۔۔۔ ’’یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اب یہ باہمی مفادات کی جنگ شروع ہو گئی ہے ۔۔۔ یہاں اب ہمارا کیا کام ۔۔۔؟؟‘‘ میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہ ’’باہمی مفادات کی جنگ‘‘ کیا ہوتی ہے ۔۔۔؟
کل شام میں اچھرے کے پاس سے گزر رہا تھا ۔۔۔ شدید گرمی لگی ۔۔۔ تو میں نے سوچا ’’بابے دی قلفی‘‘ کھائی جائے ۔۔۔ میں نے جیب سے پچیس روپے نکال کر بن دیکھے کہا ۔۔۔ ’’ بابا جی ایک قلفی دینا‘‘ ۔۔۔ وہ ہنس پڑا ۔۔۔ بیس اکیس کا نوجوان تھا ۔۔۔ سوری لڑکے میں نے آپ کو بابا جی کہہ دیا ۔۔۔ میں نے ادب سے عرض کیا ۔۔۔
سارا دن آپ جیسے بہت سے آتے ہیں اور ایسی دل دکھانے والی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ ویسے بھائی یہ بابا جی کہاں ہوتے ہیں؟؟ ۔۔۔ قبر میں ۔۔۔ وہ یکدم غصے سے بولا ۔۔۔ تو قلفیوں کی مینو فیکچرنگ میانی صاحب (قبرستان) میں ہوتی ہے ۔۔۔؟؟؟ میرے فقرے پر اُس کا کچھ غصہ کم ہوا ۔۔۔
’’ان کو فوت ہوئے تین سو سال ہو گئے ۔۔۔‘‘ میرے ساتھ کھڑا ایک گاہک بولا ۔۔۔ گویا رنجیت سنگھ کے دور میں ان بابا جی نے یہ قلفی ایجاد کی تھی ۔۔۔؟؟؟
’’باؤ جا ۔۔۔ قلفی کھا ۔۔۔ تے رش گھٹ کر ۔۔۔ سانوں کم شم کرن دے ہن ۔۔۔‘‘
مجھے تذبذب کا شکار دیکھا تو اک صاحب پاس آ گئے ۔۔۔ اُنہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے ۔۔۔
بھائی ۔۔۔ یہ قلفیاں اب بڑی بڑی فیکٹریوں میں بنتی ہیں ۔۔۔
اسی طرح کی فیکٹریوں میں جن پر میڈم عائشہ ممتاز چھاپے مارا کرتی تھیں اور جہاں ضرورت سے زیادہ گندگی دیکھتی فیکٹری سیل کر دیتی تھیں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے تم بیکار ہو آجکل کسی جاب کی تلاش میں ہو ۔۔۔؟ تم اگر بابا قلفی کی دوکان کھولنی چاہو ۔۔۔ تو تمہیں وہ بڑے بڑے بینر بھی دیں گے ۔۔۔ تمہارے اس تین سو سالہ پرانے بابے کی بڑی بڑی دو تصاویر بھی دیں گے اور فریزر پر کھڑا کرنے کے لیے اس جیسا نہایت بدتمیز لڑکا بھی‘‘ ۔۔۔ اُس نے سامنے کھڑے دوکاندار لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُسے نہایت مکروہ انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا۔۔۔
’’دفع ہو جا ہن‘‘ ۔۔۔ لڑکے نے غصے میں کہا ۔۔۔ اور وہ چلا گیا ۔۔۔ اس دوران میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا ایک اور قلفی لینے کے لیے ۔۔۔
’’ہائے میرا پرس‘‘ ۔۔۔ ’’ہائے میرا پرس‘‘ ۔۔۔ ’’پکڑو‘‘ ۔۔۔ ’’پکڑو‘‘ ۔۔۔ ’’وہ جیب کترا‘‘ ۔۔۔!
’’ہور سنو اس سے قلفی بنانے کے سو آسان طریقے ۔۔۔؟‘‘ لڑکے نے نوٹ گنتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ۔۔۔ (گویا وہ اُس مناسب عمر کے تجربہ کار ’’جیب تراش‘‘ کو جانتا تھا ۔۔۔؟)
اور میں سمجھ گیا ۔۔۔
کہ جس طرح ہر زرداری کے ساتھ ایک ڈاکٹر عاصم حسین، انور مجید یا عزیر بلوچ ہوتا ہے ۔۔۔ ہر یوسف رضا گیلانی کے ساتھ حامد رضاء گیلانی ہوتا ۔۔۔ ہر الطاف حسین کے ساتھ ایک ’’سیکٹر انچارج‘‘ ہوتا ۔۔۔ ایسے ہی آپ بابا قلفی کی کسی چوک چوراہے میں دوکان کھولیں تو آپ کو دو چار بینرز، دو چار کسی سفید کپڑوں میں ملبوس کسی بابے کی بڑی تصاویر، ایک دو بڑے فریزر ۔۔۔ ایک سیل بوائے (نہایت بدتمیز) اور چھ سات (نہایت ٹرینڈ جیب کترے) بھی ملتے ہیں اسے کاروباری زبان میں ’’پیکیج ڈیل‘‘ کہتے ہیں ۔۔۔
مجھے تو چوک میں جیب کٹوا کے یہی پتہ چلا ہے ۔۔۔ آپ کے تجربہ یا مشاہدے میں کوئی نئی بات آئی ہو تو ضرور بتائیے گا ۔۔۔ میں منتظر رہوں گا ۔۔۔؂؟؟!!!
میرا ساتھ نبھاؤیں گا
لگدا نئیں فیر آؤیں گا


ای پیپر