بھارتی آبی جارحیت اور پانی کا مقدمہ
27 اگست 2018 2018-08-27

انڈس ریور سسٹم میں 6 بڑے دریا ہیں جن میں سے 3 مغربی دریا جہلم، چناب اور سندھ ہیں، جبکہ مشرقی حصے میں ستلج، راوی اور بیاز ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے جبکہ مشرقی دریاؤں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان بھارت کی جانب سے ہائیڈرو پاور اور پانی ذخیرہ کرنے کے دو متنازع منصوبوں پر مذاکرات شروع ہو رہے ہیں مگر اس لازمی لایعنی عمل کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک بھارت اپنی ہٹ دھرمی نہ چھوڑ دے کیونکہ ایک طرف مذاکرات کا عمل سست روی سے کبھی جاری ہوتا ہے اور کبھی ڈیڈ لاک کا شکار ہوتا ہے تو دوسری جانب بھارت پاکستان کے پانیوں پر غیر قانونی پراجیکٹ تیزی سے تعمیر کر رہا ہے اور ماضی میں بھی کرتا رہا ہے۔
پاکستانی دریاؤں پر بھارت کے پہلے سٹوریج ڈیم اور سب سے بڑے بجلی گھر پاکل دول کا متنازع ڈیزائن نیا آبی تنازع ہے بھارت اس ڈیم کی تعمیر کے بعد پاکستان کے دریائے چناب کا ایک لاکھ 8 ہزار ایکڑ فٹ پانی روک سکے گا۔ 1500 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے باعث مقبوضہ وادی میں پاکستانی دریاؤں پر بھارت کا سب سے بڑا بجلی گھر ہو گا۔ پاکستان نے 2012ء4 میں پاکل دول کے ڈیزائن کو معاہدہ سندھ طاس کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔6 سال سے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے اور اس کے آپریشن سے متعلق ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے مطالبات اور اعتراضات کو پس پشت ڈال کر رواں برس مئی میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے ہاتھوں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا۔ ایک اور متنازعہ منصوبہ دریائے چناب پر ہی ضلع ڈوڈا میں۔بھارت کی جانب سے 48 میگاواٹ کا متنازعے بجلی گھر کی تعمیر ہے جو کہ پاکستان کا پانی روک کر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔
پاکستان کو بھارت کی جانب سے ہر نوعیت کی جار حیت کا سامنا رہا ہے۔ نریندر مودی نے پاکستان کے پانیوں پر لاتعداد بھارتی منصوبوں کے حوالے سے کئی مرتبہ جنونیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ " پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے"۔ گویا کہ پاکستان بھارت میں خون بہا رہا ہے اور بھارت پاکستان کا پانی روک رہا ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ بھارت نہتے کشمیریوں کا خون بھی بہا رہا ہے اور پاکستان کی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ بھی کر رہا ہے اور پاکستان کا پانی روکنے کا بندوبست بھی کر رہا ہے۔
عالمی بینک جو پاکستان اور بھارت کے مابین 1960 سے سندھ طاس معاہدہ میں ثالث ہے، پہ بھارت کی جانب سے اسقدر دبا? ہے کہ وہ بھارت کا نقطہ نظر ماننے کوتیار ہے جب کہ پاکستان کی شکایات نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانند دب رہی ہے۔ اس میں کافی حد تک قصور پاکستان کی گزشستہ حکومتوں اور ان کی اس ضمن میں کمزور پالیسی کا بھی رہا ہے جو کہ نہ بروقت اعتراض کرتی رہی ہیں نہ ہی عالمی بینک کے سامنے اپنا مقدمہ مدلّل اندازسے پیش کرتی رہی ہیں اور نہ ہی عالمی اداروں کے روبرسماعت سے قبل پاکستانی حکام کوئی تیاری کرکے جاتے ہیں۔ پاکستان بھارت کے مقابل بگلیہار ڈیم کا تنازعہ عالمی عدالت میں لے گیا لیکن بری طرح شکست کھا ئی کیونکہ اسکے حکام نہ اپنے اعتراضات منطقی انداز میں پیش کرسکے نہ ہی اپنی قوم اور اپنے اتحادی دوست ممالک کو باور کروا سکے کہ پاکستان کو خشک سالیوں کی طرف دھکیلنے کا کیسا گھناونا منصوبہ عمل پزیر ہو رہا ہے ۔اپنی آبی جار حیت کا شکنجہ پاکستان کے گرد تنگ کرتے ہوئے بھارت نے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں پر تندہی سے کام کیا تاکہ پاکستان کے حصے کے پانی کوروک کر بھارت پاکستان میں خشک سالی پیدا کردے۔ پاکستان نے ان منصوبوں پہ اعتراض کیا تو بھارت کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی۔ بھارت ویسے بھی خوش ہے کہ اس کا ایک وار توکار گرثابت ہورہا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان نے عالمی بینک سے رجوع کیا کہ بھارت چو نکہ پاکستان کے اعتراضات سننے کو بھی تیار نہیں لہذا بطور ثالث عالمی بینک کو اپنا منصفانہ کردار نبھا نا پڑے گا۔5جنوری2017کو پاکستان کی درخواست پہ جب عالمی بینک کانمائندہ نئی دہلی پہنچا تو بھارت نے اسے دوٹوک جواب دے دیا کہ عالمی بینک کوکشن گنگا اور رٹلے پن بجلی منصوبوں سے متعلق پاکستان کے ساتھ تنازعہ حل کرنے کی خاطر جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے اعتراضات ٹیکنیکل نوعیت کے ہیں جو باہمی مشاورت یاغیر جانب دارٹیکنیکل ماہر کے ذریعہ حل ہوجائیں گے۔ ورلڈ بنک کے کمیشن نے منصوبوں کے ڈیزائن سے متعلق یاپاکستان کے اعتراضات پہ کوئی خاطر خواہ گفتگو تک نہ کی۔ پاکستان کو جب ورلڈ بنک کے مایوس کن رویہ کا سامنا کرنا پڑا جو کہ خود بھارتی اور امریکی دباو کی وجہ سے تھا تو بجائے اس کے گزشتہ حکومت اس پر دنیا کو یہ ظلم باور کروانے میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرتی بلکہ الٹا وقت گزارو پالیسی کے مطابق امریکہ کو ہی ثالثی کے لیے درخواست کر دی گئی جبکہ دوسری طرف دیا میر بھاشا آبی بند تعمیر کرنے کے منصوبے کی غرض سے عالمی بینک اور ایشئین ڈویپلمینٹ بینک سے قرضے کے لئے رجوع کیا گیا تو بھارت اور امر یکی دبا? کے تحت دونوں نے پاکستان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ گزشتہ ادوار میں پاکستان کے پانیوں پر آبی جارحیت کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کا یہ گھناونا کردار پاک چین دوستی اور پاکستان کے چین سے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے حسد و عناد کی وجہ سے ہے ۔
یہ چین کی بڑائی ہے اور پاکستان کے ساتھ خلوص اور بھائی چارے کا اظہار ہے کہ اس نے پاکستان کو دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں نہ صرف مدد فراہم کی ہے بلکہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی استطاعت کے علاوہ پن بجلی کی پیداوار اور انڈس بیسن میں ممکنہ سرمایہ کاری کرکے پاکستان کی پانی کی سلامتی کویقینی بنائے گا۔ چینی ماہرین انڈس بیسن کے مختلف اطراف کا دورہ کرنے کے علاوہ واپڈا کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ واپڈا کے 2025ویڑن Vision کا بھی مطالعہ کریں گے اسکے بعد وہ اپنی حکومت کو جامع رپورٹ اور منصوبہ پیش کریں گے کہ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے اور پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کیسے اضافہ کریں گے۔یہ خوش آئندامر ہے کہ چین اور پاکستان دونوں اس پہ رضا مند ہیں کہ پاکستان کی آبی سلامتی کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے کا جز بنایا جائے اس کے علاوہ موجودہ حکومت اگر چین کو پاک بھارت آبی تنازعات میں ثالثی کی پیشکش کرے تو پاکستان بھارت پر دباو ڈال سکتا ہے پاکستان کے پانیوں سے چھیڑ چھاڑ کا جواب چائنہ بھارت کے پانیوں یعنی برہم پترا دریا کے پانی کو بند کرکے اور سیلابی صورت حال پیدا کرکے دے چکا ہے۔ پاک چائنہ تعلقات پاک بھارت پانی تنازعات کا پر امن حل نکالنے میں کلیدی عنصر ہو سکتے ہیں ۔


ای پیپر