نئے پاکستان کا پہلا عشرہ
27 اگست 2018 2018-08-27

تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کی حکومت کا پہلا عشرہ مکمل ہو گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور ان کے کھلاڑی پوری طر ح متحرک ہے۔ دس دنوں میں وفاقی کابینہ کے دو اجلاس ہو چکے ہیں۔پہلے اجلاس میں سابق وزیر اعظم میاں نوا زشریف ان کی بیٹی مریم صفدر اور داماد محمد صفدر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسرے اجلاس میں سرکاری اداروں میں دوکی بجائے ایک چھٹی کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا لیکن حکومت یہ فیصلہ تبدیل نہ کر سکا۔اس طر ح فرسٹ کلاس میں سفری سہولیات اورصدر ،وزیر اعظم اور وزراء کی صوابدیدی فنڈز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جو کہ ایک احسن اقدام ہے۔
وفاقی کا بینہ کے پہلے دو اجلاسوں میں جو فیصلے کئے گئے ہیں ،ان کی ہر کوئی تحسین کر رہا ہے ،لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان اقدامات سے حکومت کو عوامی پذیرائی کس حد تک مل سکتی ہے؟کیا زیر بحث مسائل اتنے اہم تھے کہ ان کو کابینہ کے پہلے دواجلاسوں میں ایجنڈے پر رکھے جائیں؟مثال کے طور پر شریف خاندان کے نام کو ای سی ایل پر ڈالنا ،اتنا اہم تھا کہ پہلے ہی اجلاس میں اس کو ایجنڈے پر رکھا گیا۔ ہر گز نہیں ۔یہ معاملہ اتنا اہم نہیں تھا کہ جس کو پہلے ہی اجلاس میں ایجنڈے کا حصہ بنا یا گیا۔ صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ ضروری تھا۔ یہ ہر گز نہیں ہو نا چا ہئے ۔لیکن اس کو ختم کرنے سے پہلے تحقیق کی ضرورت تھی کہ اس فنڈز کوختم کرنے کے لئے کوئی قانونی یا آئینی رکا وٹ مو جود تو نہیں؟اگر ہے تو پہلے اس پر کام کرنا چا ہئے تھا۔اس کے بعد اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کیا جانا چاہئے تھا۔اسی طرح صوبوں میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی آڈٹ کا معاملہ بھی ہے۔وزیر اعظم اور ان کے ٹیم کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے یہ معلوم کرتے کہ کیا وفاقی حکومت کسی صوبائی حکومت کے منصوبے کا آڈٹ کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ملنے کے بعد اس مسلئے کو وفاقی کابینہ کے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہئے تھا۔جبکہ سب سے پہلے پشاور میں جاری بی آر ٹی اور سوات ایکسپریس وے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کرنا چاہئے تھا تاکہ مخالفیں کی تنقید سے وفاقی حکومت بچ جاتی۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ عجلت میں فیصلے کرنے کی بجائے وفاقی کا بینہ کے اجلاس کا ایجنڈہ غور و خوص کے ساتھ تیار کیا کریں۔ اس لئے کہ یہ ایک اہم فورم ہے ۔ہفتہ میں دو چھٹیوں کے معاملے کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے پہلے متعلقہ وزارت سے رائے لینی چاہئے تھی،کہ دو چھٹیاں کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیاتھا؟جس مقصد کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کیا وہ مقصد پورا ہو رہا ہے کہ نہیں؟اس فیصلے سے اوقات کار میں جو تبدیلی کی گئی ہے کیااس سے کام کرنے کا دورانیہ کم تو نہیں کیا گیا ہے؟اس معاملے کو حکومت نے بغیر کسی تیاری کے ایجنڈے کا حصہ بنایا ۔پھر خوب پروپیگنڈہ کیا گیا کہ حکومت دو چھٹیوں کو ختم کر رہی ہے،لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ متعلقہ وزارت کی طرف سے وضاحت کے بعد یہ فیصلہ بر قرار رکھا گیا ہے۔اسی طرح اوقات کار کو صبح 9 سے 5 بجے تک کرنے پر بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔حکومت کو چاہئے کہ جو معاملہ وفاقی کا بینہ کے ایجنڈے پر رکھنا چاہے وہ ضرورشامل کریں ،لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے مشاورت کرنے کے بعد تاکہ رہنمائی مل جائے ،جس سے فیصلہ کرنے میں آسانی بھی ہو گی۔
امید تو یہی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان عوامی مفاد میں فوری فیصلے کریں گے۔لیکن وفاقی کابینہ کے پہلے دو اجلاسوں کے لئے جو ایجنڈا تیار کیا گیا تھا،اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ عوام کو ریلف دینے میں بڑے فیصلے کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔مثال کے طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں۔ تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھیں تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی شدید ناقد تھی۔نگران حکومت نے جس طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضا فہ کیا ،اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان بر پا ہوا۔مہنگائی کے اس نئے طوفان نے عوام کی کمرتوڑ دی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ معاملہ کابینہ کے دو اجلاسوں میں زیر غور نہیں آیا۔حالانکہ اس معاملے کو فوری طور پر زیر بحث لانا چا ہئے تھا۔اس لئے کہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑ ھ جا تی ہیں تو اس کا فوری اثر یہ ہو تا ہے کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑ ھ جا تی ہے۔جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی زند گی پرپڑتا ہے۔
اسی طر ح ملک کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے ۔لیکن اس معاملے کو بھی وفاقی کابینہ کے دو اجلاسوں میں اسی طر ح ایڈریس نہیں کیا گیا جس طر ح اس کو ہونا چاہئے تھا۔خیبر پختون خوامیں اس وقت ناروا لو ڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ملاکنڈ ڈویژن میں عوام اس حد تک تنگ آگئے ہیں کہ دیر میں خواتیں احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئی ۔انھوں نے مین جی ٹی روڈ کو چند روز قبل بند کیا تھا۔یہی حال سوات کا بھی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ اس معاملے کا فوری نو ٹس لیں،اور اس مسئلے کو حل کریں، ورنہ ان کے خلاف شدید ترین احتجاج ہو سکتا ہے۔
حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے ٹیم کے کھلا ڑی یعنی وفاقی وزراء کا رویہ بھی بیوروکریسی کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔وزیر اعظم کو چاہئے کہ وفاقی وزراء کو لگام دیں۔خا ص کر پنڈی کے کنوارے بڈھے شیخ رشید کو۔پہلے ہی روز سرکاری افسروں کے ساتھ تلخ کلامی نیک شگون نہیں۔ریلوے اتنا بھی چھوٹا ادارہ نہیں کہ ایک آدمی کو اس کا وزیر نامز د کر دیا جائے اور اگلے ہی روز وہ اس ادارے کی افسران کے ساتھ الجھ جائے۔اس بات پر کہ مجھے سب کچھ معلوم ہے ۔یہ ہو نہیں سکتا۔ اس لئے وفاقی وزراء کو صبر سے کام لینا چاہئے، ورنہ تعمیر کی بجائے تخریب کی طر ف چلے جا ئیں گے۔اسی طرح وفاقی وزیر ترقی ومنصوبہ بندی خسرو بختیار کی بھی اپنی وزارت میں ایک سرکاری افسر کے ساتھ پہلے ہی روز بن نہ سکی۔تر قی و منصوبہ بندی کی وزارت ایک اہم وزارت ہے۔لہٰذا نئے لو نڈے کو چا ہئے کہ جو ش کی بجا ئے ہوش سے کام لیں۔ ورنہ پانچ سال سرکاری افسران ان کا وہ حال کر دیں گے کہ نہ تر قی ہو گی اور نہ ہی منصوبہ بندی۔
اس میں شک نہیں کہ سرکاری افسران تساہل کا شکار ہے۔بعض بڑے افسر غفلت کا مرتکب ہو رہے ہیں۔لیکن مجبوری یہ ہے کہ نظام حکومت انہی لو گوں سے چلا نا ہے۔ لہٰذا ان کو غفلت سے بیدار کرنے کے لئے حکمت کی ضرورت ہے۔ اگر جلدی بازی کی گئی تو پھر ملک اور قوم دونوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی احتیاط سے چلنا ہو گا۔ سفارت کاری میں سب سے اہم الفاظ کا چنا ؤ ہے۔ضروری ہے کہ اس معاملے میں احتیاط کیا جائے۔اس لئے کہ دنیا بدل رہی ہے۔ نئے بلاک بن رہے ہیں۔ پرانے دوست الگ ہو کر نئی دوستیاں بنا رہے ہیں۔لہٰذا احتیاط لازمی ہے۔گز ارش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان عوامی مفاد کے معا ملات کو کابینہ کے ایجنڈے کا حصہ بنا ئے اور وفاقی وزراء کو سرکاری افسران کے ساتھ رویہ درست کرنے کا حکم دیں۔


ای پیپر