سابقہ اور موجودہ دور کی بلاجواز بحث
27 اگست 2018 2018-08-27

پاکستان میں گزشتہ پچاس سالوں سے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر آنے والی حکومت جانے والی حکومت کی خامیاں ،کرپشن ،عیاشیاں ،فضول خرچیاں بیان کرتے نہیں تھکتی ۔حالانکہ مشہور محاورہ ہے اور عام مشاہدہ بھی یہ ہے کہ ہر آنے والے دور گزشتہ سے ابتر اور بدتر ہوتا ہے ۔ہم اگر آج کے دورکا مشرف ڈکیٹر کے دور سے موازنہ کریں تو مہنگائی کہیں کم تھی ،ڈالر اتنا اونچا نہیں گیا تھا ۔اسی طرح زرداری کے پانچ سالہ دور کے مقابلے میں نواز شریف کے دورمیں کیونکہ پیٹرول ،ڈیزل کے نرخ کم ہوگئے تھے اس لئے کھاد ،چینی ،گیس ،کرایوں میں خصوصاًکمی دیکھنے میں آئی لیکن انہوں نے بجلی کے نرخ آسمان پر پہنچا کر تمام کسر پوری کردی ۔اب عمران خان کی حکومت کے آتے ہی معلوم ہورہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے بحران کے خاتمے کہ نواز شریف دور کے دعوے اصل نہ تھے اب بقر عید کے دنوں میں بھی عوام کو اس سے نجات نہ
ملی گو کہ سابقہ دور میں پنجاب میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی لیکن سندھ ،کے پی کے ،بلوچستان کا حال پتلا تھا۔پنجاب میں صعنتی شعبے کو بھی گیس ،بجلی کی فراہمی کی جاتی رہی لیکن دیگر تین صوبوں کے عوا م عرصہ پانچ سال تک گرمی ،سردی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرتے رہے اور حکمرانوں کو کوستے رہے جس کا نتیجہ پی ایم ایل ن نے دیگر تینوں صوبوں میں بری شکست کی صورت میں دیکھ لیا ۔اب عمران خان کی حکومت ،ان کے وزراء ،مشیران ،مبصرین ،ٹی وی اینکر ز بھی ہماری سابقہ تاریخ کو دہراتے ہوئے سابقہ حکومت کی خامیوں کے انبار لگانے میں مصروف ہیں حالانکہ ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ ہم دوسرے کی اچھائیاں دیکھیں اور اپنی خامیوں پر نظر رکھیں اگر ہماری سیاسی حکومتیں اس فارمولے پر عمل پیرا ہوجائیں توان کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے دوسرے ان کا قیمتی وقت جوکہ تنقید برائے تنقید پر ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے ۔ہم دوسروں پر بلاجواز تنقید کرتے ہیں صرف اپنی خامیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس روش میں ہماری ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت کے بعض اچھے کاموں ،ترقیاتی منصوبوں ،معائدوں کوبھی کھڈے لائن لگادیتی ہے جس سے اب غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہم پر اعتبار اٹھ گیا ہے ۔سرمایہ کاری کرنے پر وہ تیار نظر نہیں آتے ۔ہم تو دوسروں کی افتتاہی تختیوں پر اپنا نام لکھنے تک سے باز نہیں آتے ایک منصوبے کا سنگ بنیاد بار بار رکھ کر قوم کا سرمایہ صرف نمود نمائش پر ضائع کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ کرنہیں پاتے ہیں ۔یہ الزام عمران خان کی حکومت پر صرف عائد نہیں کررہا ہوں انہیں تو آئے ہوئے چند دن ہوئے ہیں لیکن اشارے بتار ہے ہیں کہ ہم نے اپنی سابقہ سیاسی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کیا ۔ہماری سابقہ روش برقرار ہے اللہ کرے کہ اس میں موجودہ دور میں بہتری آئے ۔ موجودہ حکومت نے کچھ اچھے کام جن میں وزیر اعظم ہاؤس کا استعمال نہ کرنا ،کروڑوں کی گاڑیایوں کی نیلامی ،صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ ،خصوصی جہاز کے استعمال پر پابندی،فرسٹ کلاس میں سفر کے استحقاق کا خاتمہ ،وزراء کی ظفر موج میں کمی شامل ہیں امید افزاء ہیں ۔انہیں ہم اچھے اقدامات کہہ سکتے ہیں ساتھ ساتھ عمران خان کے الیکشن مہم میں دعوؤں کے مطابق ہماری سول اور ملٹری اشرافیہ کے قبضہ میں جو کھربوں کے محل نما گھر ،بنگلے ،اراضی موجود ہے انہیں بھی نیلام کرنے یا ان کو تعلم ،صحت یا دیگر منافع بخش منصوبوں میں استعمال کرنے کا اعلان سننے کو عوام منتظر ہے ۔اگر ہم اپنے گورنر ،وزراء اعلی ،بیورو کریسی کے گھروں کو فروخت کردیں تو ان پر اٹھنے والے سالانہ اربوں روپوں کے اخراجات کو بھی بچانا ممکن ہوسکے گا ہم زمین تک قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ان حالات میں عیاشیوں کے ہم متحمل نہیں ہیں ۔اب نہ صرف قرضوں کی معافی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے بلکہ سابقہ قرضے بھی وصول کیے جائیں ۔کرپٹ لوگوں کووزارتیں دینے سے احتراز کرنا چاہئے لیکن عمران خان کے وزراء کی ٹیم پندرہ وزراء سابقہ مشرف دور کے ہیں جن میں سے کئی پر سنگین کرپشن کے الزامات ہیں ۔کئی نیب زدہ ہیں اور کئی اربوں روپوں کا قرضہ معاف کروا کر ہڑپ کرچکے ہیں ایسے لوگوں سے بیس کروڑ تبدیلی کی کیا امید رکھ سکتے ہیں ۔عمران خان کی وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی تقریر کو عوام نے پزیرائی دی ا ن کے حوصلے بلند ہیں وہ کچھ کرنے کا عزم لے کر آئے ہیں ۔ہم اللہ کی ذات سے امید کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرسکیں ۔ہماری ناکام خارجہ پالیسی نے ہمیں اقوام عالم میں تنہا کردیا ہے ۔قرضوں کے بوجھ تلے ہم ڈوبے ہوئے ہیں ۔ہمارا دشمن ہمارے سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے اس لئے وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ،فرقہ واریت ،دہشت گری کے واقعات کا تسلسل چاہتا ہے جسے ہماری حکومت کے علاوہ ہم سب نے مل کر ناکام بنانا ہے ۔ہمارا سی پیک کا منصوبہ ایک بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔اس میں بلا تاخیر
کام کو جاری رہنا چاہیے ۔مغربی روٹ کا وعدہ سابقہ حکومت سب سے پہلے مکمل کرنے کا کرکے پھر گئی کو تمام تر سہولیات جن میں ڈیرہ اسماعیل خان میں صنعتی زون کا قیام ،ریلوے ٹریک ،انٹر نیشنل ایئر پورٹ ،فائبر آپٹیکل کے ساتھ جلد شروع کرنا چاہئے ۔عمران خان کی تر جیہات میں ایف بی آر میں ہونے والی بے پناہ کرپشن کا خاتمہ حوصلہ افزاء ہے لیکن میں سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمرانوں کی بھی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ صرف سولہ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں یہ تو وہ لوگ ہیں جن کا این ٹی این نمبر ہے اور وہ لوگ جو اشیاء ضرورت کی خریداری ،کرایوں ،ڈیزل ،پیٹرول ،گیس ،بجلی ،بینکوں کے لین دین پر ان ڈائریکٹ ٹیکس ادا کرتے ہیں ان کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔لہذا عوام جو پہلے ہی ٹیکسوں کے ظالمانہ نفاذ کے باعث پسی ہوئی ہے پہ مذید بوجھ ڈالنا کسی طور پر بھی مناسب اقدام نہ ہوگا ۔انہیں چاہئے کہ وہ سابقہ اور موجودہ دور کی بحث سے نکل کر اچھے کاموں کو جاری رکھیں اور مذید مثبت اقدامات ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اٹھائیں ۔


ای پیپر