ہنرمندوں کے تین واقعات

27 اگست 2018

آصف عنایت

نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے عثمان بزدار جیسے نگینے اور پرانے معماروں کی تلاش مکمل ہونے تک سوچا ہے کچھ دیگر موضوع بھی اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ یہ تحریر جناب اخلاق احمد دہلوی صاحب کی تحریروں میں سے ہے۔ میں محض پوسٹ بکس / پوسٹ ماسٹر کا کام انجام دے رہا ہوں فرماتے ہیں کہ
’’دِلّی کے جس محلے میں تھا ہمارا گھر وہاں رہتے تھے آصف علی بیرسٹر، مولانا محمد علی اور شوکت علی، مولانا احمد سعید ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، عارف ہسوی، ملاّ واحدی ، حضرت جالب ، علامہ راشد الخیری، مرزا فرحت اللہ بیگ، مفتی کفایت اللہ اور پروفیسر مرزا محمد سعید آئی۔ ای ۔ ایس جیسے معروف حضرات جن میں صرف ’’ محمد علی، شوکت علی‘‘ رامپور کے تھے باقی سب سات پشتوں سے دِلّی کے رہنے بسنے والے تھے۔ اس محلے کے غیر معروف لوگوں میں ایک تو کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب تھے جو بچوں کو قرآن پڑھاتے تھے، قرآن سکھاتے تھے اور اس کے علاوہ فارسی اور عربی بھی پڑھاتے تھے۔ ان کے علم و فضل کا یہ حال تھا کہ لارڈ کرزن جب دلی میں ہندوستان کے وائسرائے بن کر آئے۔ جن کی وجہ سے کرزن فیشن رائج ہوا یعنی مونچھوں کا صفایا، اور وجہ اس کی یہ سمجھی گئی کہ چونکہ لارڈ کرزن کے اوپر کے ہونٹ پر ایک طرف زخم کا نشان تھا اس لیے آدھی طرف کے مونچھوں کے بال ان کے قدرتی طور پر نہیں اگ سکتے تھے اس لیے انہوں نے مونچھیں بالکل ہی مونڈ ڈالی تھیں اور کہتے ہیں مونچھیں مونڈنے کا فیشن یا چلن انہی کی وجہ سے ہوا۔ تو ان لارڈ کرزن صاحب نے یہ آزمانے کے لیے کہ دلی میں عربی دان کیسے کیسے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر کے کا مریڈ پریس میں اپنے سیکرٹری کے ہاتھ ایک عربی کے ناول کا بے نقط اور بغیر اعراب کا قلمی نسخہ بھجوایا کہ اس پر نقطے اور اعراب لگوا دیے جائیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے یہ قلمی نسخہ مفتی کفایت اللہ کو یہ کہہ کر بھجوایا کہ یہ آپ کے امتحان کا پرچہ ہے اور وائسرائے ہند کی طرف سے آیا ہے۔ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ کوئی مذہبی کتاب ہوتی تو میں اس پر نقطے اور اعراب لگا دیتا ۔ میں ناولوں کا آدمی نہیں ہوں۔ اس پر مولانا محمد علی جو ہر نے یہ ناول کا مریڈ پریس کے دیوار بیچ مسجد یعنی کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب کو دیا جنہوں نے رات بھر میں مذکورہ بے نقط ناول پر نقطے بھی لگا دیے اور اعراب بھی۔ اور اس کارنامے پر جب وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے ان کیکر والی مسجد کے غیر معروف مولوی صاحب کو شمس العلماء کے خطاب سے نوازنا چاہا تو ان مولوی صاحب نے یہ کہہ کر خطاب لینے سے انکار کر دیا کہ سخن فہمی عالم معلوم شد، علامہ شبلی نعمانی کو بھی وہی خطاب اور ہمیں بھی وہی خطاب۔ (۲) ایک اور بزرگ تھے جو اس کالے خاں کی مسجد کے عقب میں رہتے تھے اور نگینہ ساز تھے۔ ان کو اپنی بیٹی کے بیاہ پر ایک ہزار روپے کی ضرورت پڑ گئی جس جوہری کے ہاں یہ کام کرتے تھے اس سے جب انہوں نے ایک ہزار روپے قرض مانگے تو اس نے کچھ آنا کانی کی۔ دوسرے دن یہ ایک ہیرا لے کر اس جوہری کے پاس گئے اور کہا کہ لولالہ یہ ہیرا ہمارے بزرگوں کے وقت کا ہے اور ایسے آڑے وقت کے لیے رکھا تھا۔ لالہ جی بولے میاں جی اب تو چاہے آپ دس ہزار روپے لے لیجیے۔ ایک ہزار تو اس ہیرے سے کی منہ دکھائی کے لیے بھی کم ہے۔ ان نگینہ ساز صاحب نے کہا کہ یہ ہیرا میں فروخت کرنے کی نیت سے نہیں لایا، آپ اسے صرف گروی رکھ لیجیے۔ ایک ہزار روپے میں۔ چنانچہ بیٹی کی شادی سے فارغ ہو کر جب انہوں نے کوئی ایک برس میں محنت مزدوری کر کے ایک ہزار کی رقم کر لی تو اس جوہری سے کہا یہ لیجیے اپنے روپے اور لائیے میرا ہیرا۔ لالہ جی نے ہیرا نکلوایا تو کہا اب ایک کٹوری میں پانی بھی منگوا لیجیے اور جب کٹوری میں پانی آیا تو ان نگینہ ساز صاحب نے اس جوہری سے کہا کہ اب یہ ہیرا اس پانی کی کٹوری میں ڈال دیجیے۔ ہیرا جیسے ہی کٹوری میں ڈالا وہ گھل گیا جوہری نے حیران پریشان ہو کر پوچھا میاں جی یہ کیا تماشا ہے۔ نگینہ ساز صاحب نے جواب میں کہا کہ کوزے کی مصری کا ٹکڑا تھا جسے میں نے اس طرح تراشا تھا کہ آپ جیسے جوہری کی آنکھ دھو کا کھا گئی۔ جوہری نے کہا ’’ اور جواسے چیونٹیاں کھا جاتیں تو نگینہ ساز صاحب بولے میں تو زندہ تھا۔ لالہ جی افسوس کہ آپ نے ایک ہزار روپے کا میرا اعتبار نہ کیا اور اس دمڑی کے مصری کے کوزے کے ٹکڑے پر مجھے دس ہزار روپے دینے پر آمادہ ہو گئے۔ آپ جیسے نا قدروں کے ہاں اب میں کام نہیں کروں گا۔
(۳) ایک اور معروف بزرگ اسی محلے میں یعنی چیلوں کے کوچے میں مسجد کالے خاں کے قریب کوئی سو برس سے اوپر کی عمر کے تھے اور کہا یہ جاتا تھا کہ یہ بہادر شاہ ظفر کی گھڑ سوار فوج کے رسالدار تھے ان کے لیے بھی کھوج لگا کر ایک گورا مولانا محمد علی جوہر کے کا مریڈ پریس میں آیا اور کہا ’’ یہاں کوئی بادشاہی وقت کا گھڑ سوار رہتا ہے جسے ہم دیکھنا مانگتا ہے۔‘‘ مولانا محمد علی جوہر نے ان بزرگ کے گھر ڈولی بھجوائی اور جب وہ تشریف لائے تو مولانا نے کہا۔ یا حضرت یہ گورا آپ کا امتحان لینے آیا ہے۔ وہ بزرگ بولے‘‘ میاں اب تو قبر ہی میں امتحان ہو گا۔‘‘اس پر گورا بولا کہ ‘‘ کیا آپ ہمیں گھوڑے کی سواری کر کے دکھا سکتا ہے۔‘‘۔؟ ’’ بزرگ نے کہا گھوڑا کہاں ہے۔‘‘؟ یہ گورا بھی لال قلعے گھڑ سوار فوج کا کوئی بڑا افسر تھا۔ اس نے لال قلعے میں جو گھڑ سوار فوج تھی اس کا ایک موٹا تازہ گھوڑا منگوایا اور ان غیر معروف بزرگ کی
خدمت میں پیش کر دیا۔ بزرگوار نے کہا کہ اب اس گھوڑے پر ہمیں سوار بھی کرا دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ یہ حضرت اس طرح گھوڑے پر سوار ہو کر کوئی دس قدم دُلکی چلاتے ہوئے گئے اور پھر انہی قدموں گھوڑے کو واپس لوٹا لائے اور کہا کہ لو بھئی اب ہمیں اتر والو۔ اب اس سے زیادہ کا دم ہم میں نہیں رہا۔ بڑھاپا ۔ برا آپا ہوتا ہے ! گورے صاحب نے پہلے ان بزرگ کا منہ دیکھا اور پھر مولانا محمد علی جوہر کا اور پھر کہا‘‘ یہ کیا بات ہوا‘‘۔ بزرگوار بولے یعنی بہادر شاہ ظفر کی گھڑ سوار فوج کے رسالدار ، کہ جناب والا ذرا گھوڑے کے سموں کے نشان دیکھیے۔‘‘ گھوڑا اپنے سموں سے جو نصف دائرے مٹی پر بناتا ہوا گیا تھا ، جب انہی قدموں پر واپس ہوا تو وہ نصف دائرے مکمل گول دائروں میں تبدیل ہو چکے تھے‘‘۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں جن میں امریکہ سر فہرست ہے میں صرف ایک مشترکہ خوبی رہی کہ اہل اور ہنر مند افراد کو کام میں لائے نہ کہ ضائع کیا۔ اللہ کرے کہ ہمارے ہاں بھی ہنر مندوں کی قدر ہو برین ڈرین رک جائے۔ منافقت، بناوٹ، بیروزگاری ، بیماری، مہنگائی، جھوٹ، ریاکاری، بے حسی، ڈھٹائی اور بدعنوانی سے نجات حاصل ہو سکے۔

مزیدخبریں