واردات
27 اگست 2018 2018-08-27

خاتون کی شکل و صورت مناسب تھی ۔ عمر یہی کوئی چوبیس پچیس رہی ہو گی ۔ تعلیم غالباً میٹرک ویٹرک ہوگی لیکن جو بات اس میں بڑی خاص تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنی اداؤں سے غضب ڈھاتی تھی ۔ حُسن کی دولت اسے جس قدر بھی میسّر تھی وہ اس کا بلا کا استعمال جانتی تھی ۔ ایک روز وہ ایک نوجوان بزنس مین نوید خان کے آفس میں آئی ۔ یہ آفس بالائی منزل پر واقع تھا اور نچلے فلور میں اسی بزنس مین کی بڑی بڑی تین چار دکانیں تھیں ۔ آفس ایئر کنڈیشنڈ تھا ۔ چھوٹا مگر عمدہ فرنیچر سے آراستہ۔۔ آفس کے ساتھ قدرے مزید چھوٹا ایک ریٹائرنگ روم تھا جس میں اٹیچڈ باتھ روم کی سہولت بھی میسّر تھی۔ خاتون کمال شائستگی سے دفتر میں داخل ہوئی اور بڑے سلیقے سے بیٹھنے کے بعد ا س نے نوید خان کو بتایا کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ دفتر میں کمپیوٹر آپریٹر کی ضرورت ہے اور وہ اسی سلسلے میں وہاں آئی ہے ۔

یہ بات اس موصوفہ نے کچھ اس ادائے دلبری سے کہی کہ کسی دفتر میں اگر ایسی کوئی جاب میسر نہ بھی ہو تو بھی انکار کرنا مشکل ہو جائے ۔ جبکہ اس آفس میں تو واقعی ایک آپریٹر کی ضرورت بھی تھی ۔ لہذا نوجون بزنس مین نے فوراً تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ضرورت ہے ۔ خاتون چند منٹ وہاں موجود رہی اوراس دوران اس نے اپنی اداؤں سے بتایا کہ اس کی اصل speciality علاجِ غمِ دل ہے اور اسے اگر موقع دیا جائے تو وہ یہ فریضہ کمال مہارت سے ادا کرتی رہے گی ہاں ساتھ ساتھ کمپیوٹرآپریٹری بھی چلتی رہے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔خاتون دو روز بعد ڈاکومینٹس کے ساتھ آنے کا کہہ کر رخصت ہوئی تو اس سے زیادہ نوید صاحب کو یقین تھا کہ اس کی سلیکشن ہو چکی ہے ۔

دو روز بعد لڑکی دفتر آئی تو وہ حُسن و ادا کے ہتھیاروں سے اور بھی زیادہ ’’ مسلّح ‘‘ تھی ۔ اس کے پاس کوئی ڈاکومینٹس تو نہیں تھے لیکن وہ خود ایک بڑا مستند ’’ ڈاکو مینٹ ‘‘ لگ رہی تھی ۔ وہ دونوں آفس میں بالکل اکیلے تھے اور وہ خاتون اس صورتحال کا بڑی مشّاقی سے فائدہ اُٹھانا چاہ رہی تھی ۔۔ زیادہ ترغیب اور پیش رفت خاتون کی جانب سے تھی تاہم نوید صاحب کو بھی Respondکرتے زیادہ دیر نہیں لگی ۔ اور یوں جو فاصلہ عام طور پردو چار ہفتوں یا مہینوں میں طے ہوتا ہے وہ دو چار منٹ میں ہی طے ہو گیا ۔ تھوڑی دیر بعد خاتون نے مسکراتے چہرے کے ساتھ نوید صاحب کو الوداع کہا اور دفتر سے نکل کر نیچے اتر آئی ۔باہر نکل کر اس نے پولیس ایمرجنسی نمبر پر کال کی ۔اس دوران اس نے سامنے سے کچھ اپنے کپڑے پھاڑ لیے اور باقی اپنا حُلیہ کافی حد تک خراب کر لیا۔ پولیس آئی تو وہ زاروقطار رو رہی تھی اس نے پولیس کو بتایا کہ دن دیہاڑے اس کے ساتھ ایک درندہ صفت انسان نے زیادتی کی ہے ۔ اس کے پاس اس کے مکمل ثبوت ہیں ۔یہ شخص ابھی اپنے دفتر میں موجود ہے اسے فی الفور گرفتار کر کے اس کے خلاف زنا بالجبر کا پرچہ کاٹا جائے ۔ اس دوران ایک دو حضرات ایسے بھی وہاں پر آ گئے جنہوں نے کہا کہ یہ خاتون ان کی رشتے دار ہے اور ان کو فوراً انصاف نہ ملا اور اس وحشی کو ابھی گرفتار نہ کیا گیا تو وہ پولیس کے خلاف میڈیا میں جائیں گے ۔ موقع پر موجود پولیس آفیسر نے اپنے سینئرز سے بات کی ۔ خاتون اور اس کے عزیزوں کو تھانے پہنچنے کا کہا اورخود نوید کو گرفتار کرنے اس کے دفتر پہنچ گیا ۔ نوید صاحب پر گزرے لمحات کا سحر ابھی طاری تھا اور وہ مخمور ، مسرور کیفیت میں بستر پر دراز غالباً سوچ رہے ہوں گے کہ کمپیوٹر آپریٹر کی جاب کا آغاز ایسا نشہ آور اور مسحورکُن ہے تو آگے چل کر کیا ہو گا ۔ اتنے میں پولیس آفیسر نے آفس میں داخل ہو کر کہا ، ’’ السلام و علیکم ‘‘۔ پولیس کو سامنے دیکھ کر نوید صاحب کا سارا نشہ ہوا ہو گیا ۔تھانے دار نے نام کی تصدیق کی اور بتایا ، ’’ آپ پر زنا کا الزام ہے آپ کو ہمارے ساتھ تھانے جانا ہو گا ۔ ‘‘یہ حکم نوید کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگا اور وہ جیسے بالکل Collapse ہو گیا۔ وہ شاید گرنے لگا تھا کہ پولیس آفیسر نے اسے بازو سے پکڑ ا اور پچھلے دروازے سے نکال کر نیچے گاڑی میں بٹھایا اور تھانے لے آئے ۔ تھانے پہنچ کر نوید کی نظر وہاں ایک سائیڈ پر کھڑی اسی خاتون پر پڑی تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین وغیرہ نکل گئی ۔ یک دم اسے ساری کہانی سمجھ آگئی لیکن اب کچھ ہو نہیں سکتا تھا ۔ تیر وغیرہ کمان سے نکل چکا تھا ۔اسے حوالات میں بند کر دیا گیا ۔ نوید صاحب کے پُرکھوں بزرگوں نے بھی کبھی تھانے کا منہ بطور ملزم تو کیا بطور مدعی بھی نہیں دیکھا تھا لیکن آج وہ وحشی پن اور درندگی کے الزام میں تھانے کی ایک تنگ سی حوالات میں بند تھا ۔ اس چھوٹے سے کمرے میں اس کے ساتھ چار پانچ اور لوگ بھی قید تھے اور اس کمرے کی ایک جانب انتہائی مختصر سا ’’ اوپن ائیر ‘‘ باتھ روم تھا جس کی چھوٹی چھوٹی دیواریں پردے سے زیادہ بے پردگی کے کام آتی تھیں ۔تنگ و تاریک حوالات ، ریکارڈ یافتہ مجرمان کا ساتھ اور ایک قبیح الزام کا سامنا ۔۔۔ اُسے ابکائی آرہی تھی ۔ وہ سخت بے چینی میں خود کشی کے طریقوں پر غور کرنے لگا۔ ان حالات میں اس نے ایک رات گزاری اور اگلے دن اسے ایک صاحب ملے جنہوں نے اسے اِس جُرم کی سنگینی اور سخت سزا کے متعلق بتایا۔ اسے بتایا گیا کہ اس کے خلاف موجود ثبوتوں کی بنا پر اسے اگلے چودہ پندرہ سال جیل تو پکی ہو جائے گی ۔ نوید صاحب نے کانپتے ہوئے ملتجی نظروں سے اس صاحب کو دیکھا تو اس ’’ شفیق‘‘ آدمی نے اس کا حل بھی بتا دیا اور وہ تھا ’’ دس لاکھ روپے کی فوری ادائیگی ‘‘ ۔ غالباً آٹھ لاکھ میں معاملات طے پا گئے ۔

اگلے دن اس موصوفہ نے متعلقہ آفس میں اپنا تحریری بیان دیا کہ پولیس کی حراست میں موجود شخص میرا ملزم نہیں ہے نیز ا س کا میرے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ یہ کوئی معصوم آدمی ہے جسے پولیس نے پکڑا ہوا ہے اس کو چھوڑنے پرمجھے کوئی اعتراض نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔خاتون کے اس بیان پر نوید صاحب رہا ہو کر واپس آ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد مقدمہ عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیا جاتا ہے ۔

پچھلے ہفتے نوید صاحب اپنے دفتر میں اکیلے موجود تھے کہ ایک لڑکی اندر داخل ہوئی اور کہنے لگی اسے پتہ چلا ہے کہ اس دفتر میں خاتون کے لیے کوئی جاب ہے۔ نوید صاحب کو جیسے فوری کرنٹ لگا ۔ وہ اُٹھے اور دفتر کے پچھلے دروازے سے نکل کر بھاگ اُٹھے۔ آخری اطلاعات آنے تک نوید صاحب واپس تشریف نہیں لائے ۔۔تلاش جاری ہے۔


ای پیپر