Source : Yahoo

 پاکستان کا گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ ‘او آئی سی میں اٹھانے کا اعلان
27 اگست 2018 (18:01) 2018-08-27

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا معاملہ اقوام متحدہ (یو این) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں اٹھایا جائےگا۔

پیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان شبلی فراز نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف مذمتی قرار داد جمع کرائی‘جس میں موقف اختیار کیا کہ ہالینڈ میں اس سال کے آخر میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ہورہا ہے‘ کوئی بھی مسلمان توہین پیغمبر ﷺکو برداشت نہیں کر سکتا‘قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان ہالینڈ کے سفارتخانے کو بلا کر اس پر احتجاج رکارڈ کرائے اور او آئی سی کا اجلاس بلا کر اس کی مذمت کی جائے‘ذرائع کے مطابق اس قرار دادا کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ توہین مذہب جیسے معاملات پر او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے جیسے واقعات کا رونما ہونا پوری مسلم دنیا کی ناکامی ہے‘ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سمیت دیگر توہین مذہب اور توہین رسالت کے معاملات پر عالمی سطح پر کوششیں کی جائیں گی‘ جن میں او آئی سی کو بھی شامل کیا جائےگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یورپ کے 4 ممالک میں ہولو کاسٹ کے حوالے سے نازیبا بات کرنے کے خلاف سزائے موت دی جاتی ہے‘کیونکہ ان کے خیال میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے نازیبا بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں‘جس طرح ہولو کاسٹ کے خلاف بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں‘ اسی طرح توہین مذہب اور توہین رسالت ﷺسے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں احتساب کا نیا کلچر متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو احتساب کے لیے قومی اسمبلی سمیت سینیٹ میں بھی پیش کرتے رہیں گے‘ملک کا قرض 28 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے اور عوام ٹیکس دینے سے زیادہ چندہ دینے کو ترجیح دیتے ہیں‘حکومت کا خرچہ کم کرکے ملک کو معاشی طور پر کھڑا کیا جائےگا‘ قرضوں پر سود واپس دینے کیلئے قرضے لے رہے ہیں‘ ہمارے انسانوں کا حل یہ ہے کہ برصغیر میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں‘ جس بحران میں آج پاکستان ہے جب تک ہم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک اللہ ہماری حالت نہیں بدلے گا ‘لہذا ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے‘صاحب اقتدار اپنی مثال سے عوام کو دکھائیں جو ٹیکس کا پیسہ ہے وہ شاہانہ طرز زندگی کے لیے نہیں ہے‘وہ ہمارے بچوں کے لیے ہے جو ہمارا مستقبل ہیں‘وزیراعظم ہاس کی گاڑیوں کی نیلامی کریں گے‘ اس سے ہماری بچت تو کم ہے لیکن ٹیکس دینے والوں کو پیغام جائےگا کہ ان کا پیسہ انہی پر خرچ ہورہاہے‘ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ عوام کا مائنڈ سیٹ ہے کہ حکومت ہماری نہیں ہے‘ جب تک عوام حکومت کو اپنا نہیں سمجھیں گے وہ ٹیکس نہیں دیں گے‘عوام تب ٹیکس دیں گے جب احساس ہو ان کے ٹیکس سے ان کی بہتری ہورہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں فضا بنارہے ہیں کہ خرچے کم کرکے آمدنی بڑھارہے ہیں‘پاکستان کا بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے اس پر فوکس کررہے ہیں‘ایف بی آر میں اصلاحات کررہے ہیں‘ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے‘ٹیکس بڑے ایوانوں پر نہیں عوام پر خرچ کریں گے‘ ہمارے پاس بہت پراپرٹیز پڑی ہیں جنہیں ہم قرض اتارنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ان کے لیے گورننس ٹھیک کریں گے تاکہ وہ پیسہ بھیجیں‘یہ سب پلان ایک ہفتے تک ایوان کے سامنے رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے‘ٹیکس لیں گے اور ادارے مضبوط کریں گے‘ہم سے زیادہ مشکل صورتحال سے دنیا نکل چکی ہے‘وہ 5 ،10 سال میں اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے‘ انہوں نے خرچے کم کیے اور آمدنی بڑھائی ‘لہذا سینیٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس صورتحال سے نکلیں گے اور اپنے پیر پر کھڑے ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ بہت لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں اقوام متحدہ جانا چاہیے‘ بیرونی دورے جب کریں گے جب گورننس سسٹم بہتر کریں اور اپنا گھر ٹھیک کریں گے‘ہمیں یاد رکھنا چاہیے جو قومیں قرضوں پر گزارا کرنا چاہیں وہ عزت اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں‘ اس لیے پوری کوشش ہے قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کریں گے۔


ای پیپر