Sajid Hussain Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 اپریل 2021 (11:18) 2021-04-27

پچھلے ہفتہ عشرہ کے دوران تحریک لبیک پاکستان TLP کے احتجاج کے نتیجے میں ملک میں جو المناک حالات و واقعات رونما ہوئے ہیں اور حکومتی ذمہ داران نے ان سے جس طرح عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی ہے اور دیگر سٹیک ہولڈرز جن میں سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں نے اس صورت حال میں جس طرح کا کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر حکومتی اکابرین بالخصوص وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے میں جس عجلت کا مظاہرہ اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لئے بڑھکیں مارنے اور اپنے آپ کو ’’ہر فن مولا‘‘ ہونے کا ثبوت بہم پہنچایا ہے، اس ساری صورت حال کو دیکھ، پڑھ اور سن کر اس کے بارے میں کم از کم الفاظ میں اسے انتہائی افسوسناک عاقبت نااندیشانہ اور عاجلانہ رویے کا مظہر اور غیرذمہ دارانہ انداز فکروعمل کا شاخسانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسے حکومتی ذمہ داران کی نااہلی، بے فکری اور تجاہل عارفانہ کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ نومبر میں تحریک لبیک پاکستان کے فیض آباد دھرنے کو ختم کرانے کے لئے ہونے والے معاہدے میں حکومت نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ وہ دو سے تین ماہ میں پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی، فرانس میں پاکستان کا سفیر نہیں لگایا جائے گا اور تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا تو پھر اس کے بعد حکومتی ذمہ داران نے تحریک لبیک پاکستان کی تسلی کے لئے ضروری اقدامات کیوں نہ کئے۔ آج اگر وزیراعظم یا حکومتی ذمہ داران یہ کہتے ہیں کہ فرانس کے سفیر کو یہاں سے نکالنے یا اس سے سفارتی تعلقات ختم کرنے میں پاکستان کو سخت نقصانات اور سفارتی اور تجارتی پابندیوں کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو پھر یہ باتیں اس وقت کیوں نہ سوچی گئیں جب نومبر میں حکومتی اکابرین تحریک لبیک کی ان شرائط پر مبنی معاہدے پر دستخط کر رہے تھے۔ اگر دستخط کر ہی دیئے تھے تو حکومتی ذمہ داران کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ تحریک لبیک کے قائد حافظ سعد رضوی اور دوسرے قائدین سے رابطہ کر کے انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے کہ معاہدے کے ان نکات پر عمل درآمد پاکستان کے لئے بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا منصب سنبھالنے والے شیخ رشید احمد جو دنیا جہان کے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اور اپنے آپ کو ’’بقراط عصر‘‘ کے روپ میں پیش کرنا جہاں اپنا حق سمجھتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں کسی مخصوص معاملے میں مستقل ریاستی ادارے یا مقتدر شخصیات کو دخل اندازی پر اُبھارنے اور ان کی طرف سے بوجوہ دخل نہ دینے پر انہیں ’’ستو پی کر سو جانے‘‘ کے طعنے دینے سے دریغ نہیں کرتے رہے ہیں، وہ خود اس انتہائی حساس اور نازک معاملے میں خود ستو پی کر کیوں سوئے رہے ۔ کیا جناب شیخ رشید کا بطور وزیر داخلہ یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ اپنی وزارت سے متعلقہ ایک انتہائی اہم معاملے جس سے ملک میں پریشان کن لا اینڈ آرڈر کی صورت حال سامنے آئی تھی اور آئندہ بھی اس طرح کی صورت حال کے پیدا ہونے کے پورے امکانات موجود چلے آ رہے تھے، اس معاملے کی حساسیت اور نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے اس پر پوری توجہ دیتے اور اس کا کوئی قابل عمل اور فریقین کو قابل قبول حل دریافت کرنے کی کوشش کرتے۔ یقینا ایسا نہیں ہوا۔ جو کچھ حکومت کی طرف سے اور صوبائی اور وفاقی داخلہ وزارتوں کی طرف سے ہوا، بے تدبیری کے ساتھ ہوا، عجلت میں ہوا، بدحواسی 

میں ہوا اور شاید بدنیتی کے ساتھ ہوا۔

یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ حکومتی ذمہ داران بالخصوص وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر مذہبی امور جناب نورالحق قادری سمیت پنجاب حکومت تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے پھیلائو، اس کے دائرہ اثر، اس کی حساسیت اور اس کے عواقب و نتائج کے دیگر پہلوئوں کا درست اندازہ لگانے اور دانائی، صبروتحمل اور حکمت سے ان کا مناسب اور دانشمندانہ جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے انتہائی پُرجوش اور جذباتی مظاہرین جو تحفظ ناموس رسالت جیسے پاکیزہ سلوگن کے ساتھ تحریک کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین ملتان روڈ میں حکومت کے ساتھ اپنے معاہدے کے نکات پورے نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج کے لئے جمع تھے ان کے خلاف پولیس کو جھونک دیا تو وفاقی وزیر داخلہ جناب رشید احمد نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے اور لاہور کو پیراملٹری فورسز (رینجرز )کے حوالے کرنے میں دیر نہ لگائی جس کا وہی نتیجہ سامنے آیا جو آنا چاہئے تھا کہ سیکڑوں پولیس والے زخمی ہوئے، چار کی جانیں گئیں تو مظاہرین میں سے بھی کم و بیش اتنے ہی جاں بحق ہوئے۔ کتنے ہی زخمی ہوئے۔ سیکڑوں گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ یقینا یہ سب کچھ انتہائی المناک، افسوسناک اور تکلیف دہ تھا اور ہے۔ 

12 اپریل سے 21 اپریل تک دس دن بنتے ہیں۔ ان دنوں میں تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج جاری ہی نہ رہا بلکہ بدستور اس میں شدت آتی رہی۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے 13 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج پر جو ان کے تاثر کے مطابق محدود پیمانے پر ہو رہا تھا قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ تاثر سراسر غلط تھا اور بعد کے دنوں کے حالات و واقعات اور مختلف معاملات کے حوالے سے پیش رفت نے یہ ثابت بھی کیاکہ واقعی حکومت کی طرف سے پھیلایا جانے والا تاثر درست نہیں تھا۔ اگر ہزار کے لگ بھگ احتجاجی مظاہرین گرفتار ہوئے۔ دو سو کے لگ بھگ تحریک لبیک کے قائدین جن میں تحریک کے امیر سعد رضوی بھی شامل ہیں کے خلاف تھانوں میں ضابطہ فوجداری کی سنگین دفعات کے تحت ایف آئی آرز کاٹی گئیں، 12 پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی بازیابی کے لئے لاہور میں آپریشن کرنا پڑا۔ مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن اور دوسرے مذہبی رہنمائوں کی اپیل پر ملک کے بڑے بڑے شہروں اور قصبات میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کے مناظر دیکھنے کو ملے تو پھر کیسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ احتجاج کا دائرہ محدود تھا۔ یقینا ایسا نہیں تھا، اگر ایسا ہوتا تو وزیر داخلہ جو ایک روز قبل تحریک لبیک پاکستان کے رہنمائوں کے ساتھ کسی طرح کے مذاکرات کے وجود سے انکار کر چکے تھے وہ 19 اپریل کو رات سے صبح تک تحریک کے امیر سعد رضوی اور دوسرے قائدین سے جیل میں مذاکرات پر کیوں مجبور ہوئے۔

یہ کہتے اور لکھتے ہوئے دکھ ہوتا ہے لیکن کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس سارے معاملے میں قدم، قدم پر حماقتیں سرزد ہوئیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ تحفظ ناموس رسالتؐ، حرمت رسولؐ اور حضرت محمدؐ کی ختم نبوت پر ایمان ہر مسلمان کے ایمان و یقین کا حصہ ہے، اس پر کسی طرح کے کمپرومائز یا ذرا سا بھی اِدھر اُدھر ہونے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ تحریک لبیک پاکستان تحفظ ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ کے عقیدے سے سرِمو انحراف نہ کرنے کے ولولے اور جذبے سے سرشار ہو کر میدان عمل میں نکلی ہے تو کون ایسا ہو گا جو اس کا ساتھ نہ دے گا یا اس سے یکجہتی کا اظہار نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے ایوان میں پہلے سے پیش کردہ ناموس رسالتؐ کی قرارداد کو ایجنڈے میں شامل کرنے اور دوسرے امور زیربحث لانے کی کوشش کی تو اپوزیشن ارکان نے بھرپور احتجاج کیا۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے پلے کارڈ لہرائے، لبیک یا رسولؐ اللہ اور تاجدار ختم نبوت کے نعرے بلند کئے۔ کم و بیش بیس حکومتی ارکان قومی اسمبلی نے بھی اس احتجاج میں اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ گویا تحفظ ناموس رسالتؐ، حرمت رسول امینؐ اور ختم نبوتؐ ایسا معاملہ ہے جس کے ساتھ ہر کلمہ گو کا ایمان اور عقیدہ وابستہ ہے۔ اب اس طرح کے معاملے کو جو زندگی اور موت سے بھی بڑھ کر اہم ہے کسی طرح کی دونمبری کرنا، چالاکی کرنا یا ٹال مٹول کرنا اگر تحریک لبیک پاکستان کے پُرجوش کارکنوں کے لئے ناقابل قبول ہے تو عام مسلمانوں کے لئے بھی کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان سے کئے جانے والے تازہ معاہدے کی ایک شرط کو پورا کرنے کے لئے اپنے ایک رکن سے قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے جو قرارداد پیش کر رکھی ہے اس کے لئے اختیار کردہ لائحہ عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت محض خانہ پُری کے لئے یا وقتی طور پر معاملے کو رفع دفع کرنے کے لئے ایسا کر رہی ہے۔ یقینااس سے بہتر نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ’’حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں‘‘۔ ہم میں سے کسی کو بھی بھولنا نہیں چاہئے۔


ای پیپر