Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 اپریل 2021 (11:15) 2021-04-27

جناب جسٹس رستم خان کیانی کی تو داستان ہی الگ ہے ۔مسٹر جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیئس وہ جج صاحب تھے جنہوں نے ایوب خان کے مارشل لاء کے جائز یاناجائز ہونے کے مقدمہ میں اختلافی نوٹ لکھا تھا بعد ازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دفعہ ہائی کورٹ تشریف لائے چیف جسٹس کی سربراہی میں ان کے استقبال کے بعد تمام ججز کا ان سے باری باری تعارف کرایا گیا۔ تعارف مکمل ہونے کے بعد جسٹس ریٹائرڈ کارنیلیئس نے جو ریمارکس دیئے وہ غور طلب ہیں اور تاریخ بھی ۔

فرمایا ’’یہ نام جو ایف آئی آرز میں ہوا کرتے تھے۔ آج کل بنچ یعنی اعلیٰ عدلیہ میں ہیں‘‘۔ یہ ایک فقرہ ، یہ ریمارکس ساری صورت حال کے اسباب اور نتائج اور آئندہ معاملات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ انگریز نے باقاعدہ 90 سال حکومت کی مگر برصغیر میں ایک بھی عدالتی فیصلہ ایسا نہیں جو چمک ، دھمک یا سازش کے الزام سے رقم کیا گیا ہوا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کا مقدمہ بھی مقدمہ نہیں تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ 

مولوی تمیز الدین ، نصرت بھٹو، جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید، پانامہ کیس، شہباز ، جسٹس فائز عیسیٰ کیس، کوئی بھی مقدمہ ہو اس میں سچ پوچھنے پر سناٹا دماغ پھاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ 

قومی اسمبلی کے پچھلے اجلاس میں جب زرداری صاحب کی میاں شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا حمزہ کے بعد اب آپ کی بھی ضمانت ہو جائے گی۔ زرداری صاحب کا یہ کہنا کئی کہانیوں کو بیان کر گیا۔ کچھ عرصہ سے محترمہ مریم اور میاں نواز شریف کی طرف سے سناٹا ہے۔ دراصل ہمارے ہاں ہر بنیادی حق ہر سوال کے جواب میں ایک سناٹا سنائی دیتا ہے جیسے اندھیرا دکھائی دیتا ہے ویسے سناٹا بھی سنائی دیا کرتا ہے۔ مہنگائی میں فرد کے وجود سے لے کر گھروں، خاندانوں اور پوری معاشرت میں سناٹا ہے سنی جاتی ہے تو بس دلوں کی دھڑکن جو کانوں کو چبنے لگی ہے۔ 

ضمیر ، زبان، ذہن سب کے سب سناٹے میں مبتلا ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے فرمایا تھا کہ ’’اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو پھر بنیاد پرست آئیں گے‘‘۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ ’’ہمیں اقتدار چاہیے مگر ہر قیمت پر نہیں‘‘ شاید انہی خیالات کی وجہ سے انہیں دنیا سے شہر خاموشاں جانا پڑا۔

 چلتے لمحے کی طرف آتے ہیں سیاسی صورت حال پر تحریک لبیک اور حکومتی معاہدوں جہانگیر ترین کاساتھیوں سمیت جہاز اب کہاں اترتا ہے ابھی تک تو سناٹا ہے۔ جہانگیر ترین کبھی بھی اتنے مؤثر اور مقبول نہ تھے کہ جدھر جائیں جہاز بھر کر گردنوں پر کسی سیاسی پارٹی کا طوق ڈال کر لے آئیں۔ دراصل یہ مقتدرہ کا حکم تھا وہ جدھر چاہتے ترین کے جہاز بہترین حالت میں اسی سیاسی کیمپ میں اتار دیئے جاتے۔ 

جسٹس فائز عیسیٰ کا مقدمہ سرے سے کوئی مقدمہ ہے ہی نہیں نہ جانے یہ کیوں مجھے یوں لگتا ہے جیسے سدھیر پرانی پنجابی فلموں میں فلم کا وقت مقررہ مکمل کرنے کے لیے جہاں سکرپٹ خاموش ہوتا مگر فلم میں وقت باقی ہوتا تو خواہ مخواہ ، پہاڑیوں، پگڈنڈیوں ، کھیتوں، کھلیانوں میں بے ہنگم سرپٹ گھوڑا دوڑاتے چلا جاتا یہی حال قاضی فائز عیسیٰ ہی نہیں ہر مقدمہ میں ہے جس کی بنیادی وجہ پوچھیں تو جواب میں سناٹا سنائی دے گا۔ 

میرے خیال اور مشاہدے میں تاریخ میں پہلی بار ہے کہ سیاسی حوالے ، معاشرت، ثقافت، تمدن کے انحطاط و انہدام کے حوالے سے مہنگائی، بیروزگاری، حکومت، انتظامیہ، عدلیہ، اشرافیہ، کاروباری، معاشرتی، معاشی، روٹی روزی، روزگار، معاشیات کے استحکام کے حوالے سے کوئی ایک شخص بھی مطمئن نہیں ہے ۔ دو سال پہلے جو لوگ موجودہ حکومت کے پر امید تھے ان میں سے ایک انتہائی اکثریت اب شرمندہ ہی نہیں فکر مند ہے۔ وطن عزیز کے متعلق یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری قوم اور قوم کا ہر فرد دل کی گہرائیوں ، روح کی تہائیوں ، تخیل کی بے بسیوں ، خوف کی کرگزرنیوں سے سوچتا ہے۔ فکر مند اوردل گرفتہ ہے مگر جو سٹیک ہولڈرز ہیں پارلیمنٹ، ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ ، بیورو کریسی حتیٰ کہ سیاسی جماعتوں کے پروگراموں میں بھرپور سناٹا ہے کہ ایوانوں میں سناٹے سنائی دیتے ہیں جیسے ملک میں ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرے چھا گئے ہوں۔ خوف کہ یہ سناٹے کہیں کسی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ ہوں جو انسانوں کے اختیار میں ہی نہیں ہے اور دنیا ایسے واقعات اور ایسے سناٹوں کے ٹوٹنے سے کروٹ لینے والی تاریخ کے خوفناک زناٹوں اور دھماکوں سے بھری پڑی ہے۔ اس سے پیشتر کہ یہ سناٹا 

فطرت کے قانون سے ٹوٹے حکمرانوں اور ذمہ دار وں سٹیک ہولڈروں اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے کے بجائے قومی مشاورت کا اہتمام کر کے ملک و قوم کو گرداب سے نکالنا چاہیے ورنہ آسمانوں پر ہونے والے فیصلے اور مشورے زمین پر بسنے والوں کی خواہش اور مشوروں سے نہیں اعمال سے ہوا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ آسمان پہ ہونے والے مشورے فیصلوں میں بدل جائیں۔ سٹیک ہولڈروں کی ضد چھوڑ کر ذمہ داری نبھانے کی طرف آنا ہو گا۔ مذہب پر سیاست نہیں عمل کرتے ہیں۔ مذہب پر سیاست کرنے والے کبھی بھی یاور نہیں ہو اکرتے لہٰذا ہر سو چھانے والا سناٹا خوفناک زناٹے دار فیصلے کے ساتھ بپا ہونے والا ہے۔ خدارا وطن عزیز اور قوم پر رحم کیا جائے۔ زرداری بڑے سیاست دان ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بڑی نیابت 

داری رکھتے ہیں۔ میاں صاحبان نے بڑے کام کیے ہیں۔ مریم ، بلاول بھٹو بہت بہادر اور امید کی کرن ہیں۔ پیپلزپارٹی کی بڑی قربانیاں ہیں۔ چیفس سبھی بہت لاجواب ہیں۔ ڈی جی نیب، ایف آئی اے، چیئرمین ایف بی آر، چیف سیکرٹری اور تمام ساری ہراکی بہت لاجواب ہے۔ پھر عوام کیوں خوار ، وطن کیوں بدنام بے تو قیر ہوئے جا رہا ہے۔ بیروزگار نوجوانوں، انصاف کے حصول کے لیے در بدر پھرنے والوں، بے بس لاچار بیماروں کی صحت اور زندگی کی تلاش میں سرگرداں رہنے والوں کے دکھوں کا مداوا نہ کیا گیا اگر محروم اور بے بس عوام کو ریوڑ اور رعایا بھی نہ سمجھا گیا تو قدرت کبھی کسی کے لیے اپنا قانون نہیں بدلا کرتی اس کو کائنات کا کاروبار چلانے کے لیے بستیاں بھی تہہ و بالا کرنا پڑیں تو یہ تاریخ ہے وہ کر دیا کرتی ہے۔ سوائے کرپشن، اقربا پروری، مخالفین کی بیک کنی،تحقیر، تضحیک، انتقام، الزام کے کیا ہے جس کا دفاع کیاجا سکے۔ کسی تھانے ، کسی کسٹم سٹیشن، کسی ایکسائز آفس، کسی بھی سرکاری دفتر میں چلے جائیں بغیر رشوت اور زور دار سفارش کے کسی کام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سناٹا ایسا ہے کہ حکومت حکومتی ادارے، اپوزیشن ایسے دبے پاؤں ، اشاروں ، کنایوں میں گلشن کا کاروبار چلا رہے ہیں جیسے یہ زمین بے آئین ہو گئی قوم لاچار اور کردار سے بے بہرہ ہو گئی۔ یہ بے چارگی ٹوٹنے کو ہے۔ اب نہ تو پہلے والے زمانے رہے اور نہ ہی حالات! لہٰذااب ہاتھ پاؤں سب گواہیاں دینے لگے ہیں۔ اندھیرے اور سناٹے، بانٹنے والے جب عوام کی دہلیز پر آئیں گے تو ان کو اپنی حیثیت کااندازہ ہو جائے گا۔ جب ان کے فیصلے لوگوں کی ز بان سے ترجمہ ہوں گے تو پھر گزرا وقت نہیں لوٹے گا۔ اقتدار تو محض پانی ہے جس کو یہ مٹھی میں بند کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وقت سرکے جا رہا ہے مگر حکومت ہے کہ بے حسی کی حدیں پار کر گئی اب یہ سناٹا ٹوٹنے کو ہے۔


ای پیپر