Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 اپریل 2021 (11:13) 2021-04-27

کبھی کسی نے قائد کے وژن کا احاطہ کیا ہے؟ کیا بطور سیاست دان قائد کی کوئی کرپشن دشمنوں کی نظر سے بھی گزری؟ کیا قائد نے احتجاج کو فروغ تقویت بخشی یا دلیل اور تدبر کو دوام بخشا؟ کیاقائد نے نظریاتی حدود کو پھلانگنے کا کوئی اشارہ دیا؟ کیا قائد نے کسی اقربا پروری کی آبیاری کی؟ بطور قانون دان قائد نے کوئی وعدہ خلافی، کوئی قانون شکنی کی ہو یا قانون بنانے والے کے طور پر کسی غیر آئینی اقدام کا اہتمام کیا ہو؟ سچ تو یہ ہے کہ ایسا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوا کہ قائد کی قیادت کو سرِ بازار یا پسِ دیوار چیلنج کیا جا سکے جب کہ  اتنے سوالات کے جوابات آج کے سیاست دانوں، حکمرانوں اور دیگر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے آسانی سے ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

سیاست کے کھیل میں بہت کچھ روا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کی سیاست میں تو چالبازیاں، وعدہ خلافیاں، بے وفائیاں اور کہہ مکرنیاں فنِ سیاست کے اجزائے ترکیبی بن چکی ہیں اور انہیں کامیابیوں کا زینہ خیال کیا جاتا ہے۔ جو سیاست دان اس فن میں زیادہ طاق اور مشاق ہے وہی باکمال ہے اور ہماری قومی تاریخ میں عام دنیا دار سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتیں بھی اسی ڈگر پر رواں دواں ہیں۔ حالانکہ مہذب دنیا میں بہت سی سیاسی گنجائشوں اور رعایتوں کے باوجود سیاست کو اخلاقی ضابطوں سے عاری حیا باختہ کھیل نہیں بننے دیا گیا۔ جب کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے فلسفہ عمل میں ایسے خیالات کہ سیاست میں کوئی بات قطعی اور آخری نہیں ہوتی اور یہ کہ سیاسی جوڑ توڑ سیاسی عمل کا حصہ ہے بڑے حیرت انگیز ہیں۔ اس طرح کے عمومی مفروضے قائم کرنے سے عوام میں سیاسی عمل پر اعتماد مجروح ہوتا گیاہے۔ سیاسی لیڈروں کی طرف سے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر محلاتی سازشوں اور جوڑ توڑ کے ذریعے منتخب حکومت میں عدم استحکام پیدا کرنا عام روایت بنتی گئی۔ انتخابات کے ذریعے جب عوام کسی پارٹی کو حکمرانی کا اختیار دے دیں تو ناکام رہنے والے دوسرے لیڈروں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس حکومت کے کام میں روڑے اٹکائیں اور انہیں عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کام نہ کرنے دیں۔ سیاسی لیڈروں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ممبران اسمبلی کو مالی منفعت کا لالچ دے کر جوڑ توڑ کے ذریعے نام نہاد اتحاد قائم کریں اور ان کے ذریعے حکومتی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی گندی سیاست قومی ترقی کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ سیاسی لیڈروں پر خواہ وہ حزبِ اقتدار سے تعلق رکھتے ہوں یا حزبِ اختلاف سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عملی سیاست میں غیر جمہوری اور معاندانہ رویوں کو نہ پلنے دیں۔ ان کے لئے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں پر کھل کر مثبت اور تعمیری انداز میں تنقید کریں تا کہ حکومت کو غلط راہوں پر چلنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ان امور کے بارے میں تربیت کا ذریعہ بنیں تا کہ عوام آئندہ انتخابات میں اپنی رائے کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کر سکیں۔ اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن قرار دیا گیا ہے جس میں خیر کے بہت سے پہلو ہیں کیونکہ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر سے اختلاف رکھنے والے فریق دلائل سے دوسرے کو اپنی رائے کی اصابت سے قائل کرتے ہیں یا خود قائل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کسی بھی متنازع مسئلے کا اتفاق رائے سے بہتر حل نکل آتا ہے مگر ہمارے ہاں اس وقت جو صورتحال نظر آتی ہے اس میں قومی معاملات کو دلائل و براہین سے حل کرنے کی جگہ سارا زور اپنے کہے ہوئے کو مستند منوانے کے لئے دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور گالی گلوچ پر لگایا جا رہا ہے۔

ہمیں اپنے معاشرے میں لفظ سیاست کے مفہوم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نصابی اصطلاحات میں پڑے بغیر سادہ الفاظ میں عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ سیاست آخر کیا ہے؟ معاشرے اور ملک و قوم کی بہتری عوام کے سماجی، شہری، قانونی اور اجتماعی مسائل کے حل کی جد و جہد کا نام سیاست ہے۔ عوام کے سامنے اصلاح، تعمیر و ترقی، خارجہ امور، عمرانی، معاشی اور قانونی بہتری کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی رکھ کے ان کی ہمدردی بذریعہ ووٹ حاصل کر کے اقتدار میں آنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ اگر ہمارے ملک میں اکثر و بیشتر جھوٹ ریا کاری، مکر و فریب اور دغا بازی سے کام لے کر لوگ اقتدار پر قبضہ کرتے رہے ہیں تو اس میں ان لوگوں کا قصور ہے نہ کہ سیاست کا۔ پاکستان کو مستحکم اور اندرونِ خانہ مضبوط ریاست نہ بننے دینے کے ذمہ دار سیاست دان ہیں جو عوام کو ایک لڑی میں پرو دینے والی قومی شناختی پالیسی دینے میں ناکام رہے ہیں۔ کیا یہ اس طرح کی جمہوری ریاست ہے جس کا خواب قائدِ اعظم نے دیکھا تھا، کیا اس کے باشندے پہلے مسلمان بعد میں سندھی، پٹھان، بلوچی، پنجابی اور آخر میں پاکستانی ہیں یا وہ سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔پاکستان کی نسلی گروہوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ناکامی ہے۔ پاکستان کے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کی ناکامی یہ ہے کہ وہ ان میں ہم آہنگی لانے میں مدد دینے میں ناکام ہو گئے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی جدید روشن خیالی پر مبنی پالیسیاں متعارف نہیں کرائیں جو ملکی سطح پر معیشت اور معاشرے میں اصلاحات لا سکتیں اس کے ساتھ سیاست دانوں کی کرپشن نے بھی انتہا پسندوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو عوام کے سامنے ایماندار اور بے داغ متبادل قیادت کے طور پر پیش کر سکیں۔ 

جمہوریت کے فروغ کے لئے سیاسی جماعتوں کو اپنے معاملات کو بھی درست کرنا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کا محور کوئی ایک شخصیت نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کی نوعیت اجتماعی قیادت ہونی چاہئے۔ یہ قیادت مقامی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک باقاعدہ منتخب شدہ ہو، نامزد نہ ہو۔ اس قیادت کی تشکیل اوپر سے نیچے کے بجائے نیچے سے اوپر کی جانب ہونی چاہئے۔ سیاسی جماعتیں مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر نہیں بننی چاہئیں کیونکہ ایسی جماعتوں کی سیاسی مسائل کے بارے میں سوچ، حقائق و دلائل اور افہام و تفہیم سے زیادہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اجارہ داریوں کے مفادات کے حوالہ سے ہوتی ہے۔ مذہبی بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانے اور قومی مسائل اور حکومت کے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا غیر محدود مذہبی اختیار استعمال کرنے سے قوم و ملک کے لئے مفید نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔

یہ بات طے ہے کہ جب تک ملک کی مقتدر قوتیں اور سیاسی جماعتیں اپنے ایجنڈے میں تبدیلی اور اصلاحات شامل نہیں کرتیں پاکستان کو سیاسی تحمل داری پر کمزوری کا سامنا رہے گا اور صوبوں میں ابتری و بد انتظامی اور تشدد بڑھتا رہے گا۔ مختلف سیاسی عناصر میں بے جا مخاصمتوں اور معاندانہ رویوں کو حتی الامکان دور کر کے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی مخلصانہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اس طرح ہم اپنی صلاحیتوں کو پاکستان سے غربت، بیماری، بیروزگاری، جہالت، کرپشن، بد نظمی اور لاقانونیت کا خاتمہ کرنے اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کر سکیں گے اور دنیا کے نقشے پر سیاسی شعور سے آراستہ بالغ النظر اور مہذب قوم کی حیثیت سے ابھر سکیں گے۔ 


ای پیپر