Shakeel Amjad Sadiq, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 اپریل 2021 (11:06) 2021-04-27

مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گھورنا شروع کر دیتے ہیں جیسے ہی کوئی بھیڑیا بھوک سے نِڈھال ہو کر گِرتا ہے تو باقی سب مِل کر اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اُس کو کھا جاتے ہیں، اِس عمل کو فارسی میں ’’گرگِ آشتی‘‘ کہتے ہیں۔۔۔

اِس عمل کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ رْجحان بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ کافی حد تک ہو بہو انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔ ہم انسان بھی ان بھیڑیوں کی طرح ہیں ، جو کمزور نظر آئے اسی پر اپنی دھاک بٹھاتے ہیں۔۔۔ جو جتنا حالات کا ستایا ہوتا ہے اتنا ہی مزید اس کے ساتھ شدت پسندانہ رویہ اپناتے ہیں۔۔۔ جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے اسی کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کرکے اس کی رہی سہی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔۔۔20سال پہلے نقد روپے کم ہونے کی وجہ سے اگر بچہ دو روپے بھی خرچ مانگتا تو عموماً دیہاتی زندگی میں ماں باپ دو روپے کے پاپڑ یا ٹافی کھانے کے پیسے دینے کے بجائے یہ کوشش کرتے کہ بچہ دیسی انڈا یا دیسی گھی کی چوری یا مکھن دودھ دہی کھا کر راضی ہو جائے مگر دو روپے نا مانگے۔۔۔اب بچہ تھوڑا سا ناراض ہو یا کچھ ضد کرے تو ماں باپ سموسے پکوڑے پراٹھا یا شوارمہ کھلانے کی آفر کرتے ہیں۔ دس بیس روپے تو مسئلہ ہی نہیں۔پہلے محلے بستی کا یا اپنا کوئی بڑی عمر کا عزیز و رشتہ دار بچے کو ڈانٹتا یا کسی بد تہذیبی یا شرارت پر مار بھی لیتا تو ماں باپ ساتھ ہوکر کہتے کہ 

’’اچھا کیا ہے‘‘

اب کوئی ایک ہی چھت کے نیچے کسی کے بچے کو ہاتھ بھی لگا لے تو گھر میں کوؤں کی طرح ’’کاں کاں‘‘ شروع ہوجانا یقینی امر ہے۔پہلے دور میں جب بچہ گھر میں پکے کسی سالن کو نہیں کھاتا تھا تو ماں دوڑ کر ساتھ والے گھر سے سالن مانگ کر اس طرح لاتی تھی کہ جیسے اپنے ہی گھر کی ہانڈی سے لیا جاتا ہے۔اب بچے کو راضی کرنے کے لیے خود ہی پیسے دے کر ہوٹل پر بھیجا جاتا ہے کہ جاؤ اور ہاف پلیٹ سالن لا کر روٹی کھا لو ۔ مجھ سے نہیں مانگا جاتا کسی کے گھر سے (حالاں کہ وہ کسی کے گھر والے سارے اپنے تائے مامے چاچے ہوتے ہیں پڑوس میں )20 سال پہلے تک بچے والدین کے کہنے پر شرما شرما کر شادی کرتے تھے۔آج اکثر والدین بچوں کے کہنے پر ان کی شادیاں کرواتے پائے جاتے ہیں۔20سال پہلے تک لوگ سادہ ہوتے تھے مگر خاندانی معاملات میں اپنی عورتوں پر رعب اور کنٹرول رکھتے تھے۔ عورت بھی اپنے شوہر کا احترام کرتی تھی۔آج 20سال بعد ماڈرن پڑھے لکھے زمانے میں اس معاملے میں گنگا الٹا بہتی نظر آتی ہے اور شوہر چھپ کر یہ کہتا پایا جاتا ہے کہ ’’مجھ سے ناراض نا ہونا۔۔۔میری نہیں سنتی‘‘20 سال پہلے تک ان پڑھ حضرات بھی کسی نا کسی جگہ صاحب روزگار ہوتے تھے۔آج اچھی بھلی تعلیم کے زیور سے لیس افراد اکثر بے روز گار نظر آتے ہیں۔ ساری وجہ حکومتی بیروزگاری ہی نہیں بلکہ ہڈ حرامی بھی ہے۔20سال پہلے تک کسی کے گھر میں آئے ہوئے مہمان کو یہ سننے کو نہیں ملتا تھا کہ روٹی کھانی ہے؟ بلکہ کھانا سامنے پیش کر کے کہا جاتا تھا ’’ہاتھ دھو لو اور روٹی کھا لو‘‘آج اچھا بھلا بھوک سے نڈھال مہمان بھی ’’روٹی کھانی ہے؟‘‘کے عزتِ نفس کے خود کش مرحلے سے گزارا جاتا ہے الا ماشاء اللہ۔

20سال پہلے تک کسی کا مریض ہاسپیٹلا ئز ہوتا تو لوگ تیمارداری کرنے جاتے تو اپنے گھر سے ساتھ میں کھانا بنوا کر اور دودھ بھی پکڑ کر ہسپتال جاتے،آج اول تو بیماری والوں کی طرف سے کھانا پانی چائے پلائی جانے لگی ہے ۔ دوئم کوئی کم ہی گھر سے کچھ ساتھ لے جاتا ہے بس بازار سے کوئی بوتل پکڑ لی جاتی ہے یا جوس کا ڈبہ یا پھر حد درجہ فروٹ وغیرہ۔تفصیل تو بہت ہے بس اتنا ہی کہونگا کہ وہ لوگ سادہ تھے ان پڑھ تھے مگر حیا والے تھے سلوک والے تھے مصنوعی پن سے خالی اور خالص پن سے لبریز تھے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ نسل نو کی اعلیٰ تربیت اور کردار سازی کے لیے خود کو تبدیل کریں اور معاشرے میں گرگ آشتی جیسے رویوں کا قلع قمع کریں تاکہ معاشرے پاکیزہ وجود برقرار رہ سکے۔

بقول ڈاکٹر فرتاش سید مرحوم

نخلِ ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا

عرش سے فرش پر کیوں اتارا گیا؟ میں تو مارا گیا

جو پڑھا تھا کتابوں میں وہ اور تھا، زندگی اور ہے

میرا ایمان سارے کا سارا گیا میں تو مارا گیا

غم گلے پڑ گیا، زندگی بجھ گئی، عقل جاتی رہی 

عشق کے کھیل میں کیا تمہارا گیا، میں تو مارا گیا

مجھ کو گھیرا ہے طوفان نے اِس قدر، کچھ نہ آئے نظر

میری کشتی گئی یا کنارہ گیا، میں تو مارا گیا

مجھ کو تو ہی بتا، دست و بازو مرے کھو گئے ہیں کہاں؟

اے محبت! مرا ہر سہارا گیا، میں تو مارا گیا

عشق چلتا بنا، شاعری ہو چکی، مے میسر نہیں

میں تو مارا گیا، میں تو مارا گیا، میں تو مارا گیا

مدعی، بارگاہِ محبت میں فرتاش تھے اور بھی

میرا ہی نام لیکن پکارا گیا، میں تو مارا گیا


ای پیپر