میرے عزیز ہم وطنو!
27 اپریل 2020 (23:02) 2020-04-27

اسد شہزاد:

ہم وطنو! میں آج آپ سے ان معاملات پر بات کرنا چاہتا ہوں جو اہم بھی ہیں اور سنگین بھی اور یہ ضروری ہے کہ آپ ان باتوں کو غور سے سنیں اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں کہ تاکہ آپ تعمیری کام کرسکیں۔ اسی میں ہماری اور آئندہ نسلوں کی نجات مضمر ہے۔ آپ صدر کا وہ اعلان سُں چکے ہیں کہ جس کے ذریعے انہوں نے آئین کو منسوخ کر کے ملک میں مارشل لاء کا چیف ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ہے اور پاکستان کی تمام بری، بحری اور فضائی افواج اور سول فورسز بھی میری کمان میں ہیں۔ یہ ایک انتہائی سخت اقدام ہے، جو بڑے تردد اور تذبذب کے بعد لیکن اس یقین کے ساتھ کیا گیا ہے کہ ملک کو پارہ پارہ ہوجانے اور مکمل تباہ ہو جانے سے بچایا جائے۔ اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا، اگر یہ صورتحال باقی رہنے دی جاتی تو آئندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کرتیں۔ سب جانتے ہیں کہ انارکی یہ کیفیت خودغرض عناصر، سیاسی لیڈروں کی پیداکردہ ہے جنہوں نے ملک کو برباد کیا اور ذاتی اغراض کے لیے اسے فروخت تک کردینے پر تُل گئے۔ بعض لوگ تو یہ حرکتیں اپنا حق سمجھ کر کرتے رہے ہیں کہ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان انہوں نے بنایا ہے۔ ان کے علاوہ بعض ایسے لوگ ہیں جو خود نظریہ پاکستان ہی کے خلاف تھے۔ ان لوگوں نے کھلم کھلا ملک کو تباہ کرنے اور اس کے مسائل کو زیادہ خطرناک بنانے کی کوششیں شروع کردیں، ان کا مقصد اپنی ذاتی اغراض کا حصول ہے اور اس دوران کمزور حکومتیں خاموشی اور بُزدلی کے ساتھ ان حرکتوں کو برداشت کرتی رہیں اور انہوں نے حالات کو خراب سے خراب تر ہونے دیا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ اور قائدملت لیاقت علی خان کی وفات کے بعد ہی سے سیاستدانوں نے لڑنا شروع کردیا اور اپنی ہوس اقتدار کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف مسلسل نبردآزما رہے اور اس بات کی بالکل پروا نہ کی کہ اس سے ملک کو کیا نقصان پہنچے گا۔ ان کے پاس کوئی تعمیری پروگرام تو نہ تھا اس لیے انہوں نے صوبائی فرقہ ورانہ مذہبی تعصبات کو اُبھار کر پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے دست وگریباں کرنے کی کوشش کی۔ ان لوگوں کو صرف اپنے حلوے مانڈے سے کام تھا چاہے ملک رہے یا تباہ ہو جائے۔ کچھ دیانتدار آدمی اس سے مستثنیٰ تھے لیکن ان کا ضمیر بھی مردہ ہو چکا تھا اور اسمبلیوں میں اپنے حامیوں کی پارٹیاں بدلتے رہنے کی روش سے وہ خود بے اثر ہو کر رہ گئے تھے۔

دو باتیں ایسی ہیں جنہیں ایک باخبر آدمی مشکل ہی سے کرسکتا ہے۔ ایک مذہب کی تبدیلی اور دوسری اپنی پارٹی سے وفاداری کی تبدیلی لیکن اسمبلیوں میں ہمارے نام نہاد نمائندے اپنی وفاداریاں بدلتے رہے اور ان کے ضمیر نے اس پر ذرّہ برابر بھی ملامت نہ کی اور اس طرح ملک میں اسلام کے مقدس نام پر جمہوریت کو چلایا جاتا رہا اور اس طرزِعمل کے نتیجے میں ہماری تمام مذہبی روایات اور ہمارا کلچر تباہ وبرباد ہو کر رہ گیا۔ ان چیزوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک انتظامی، اقتصادی وسیاسی واخلاقی تباہی تک پہنچ گیا جسے بہرحال زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کو اس صورتحال سے نجات دلانے کے لیے استحکام کی ضرورت ہے۔ ہمارے عوام محب وطن اور امن پسند ہیں، وہ سمجھ دار بھی ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے خوب سمجھتے ہیں لیکن وہ خود کو بے بس پاتے تھے اور خود حالات کو زیادہ خراب کرنا بھی مناسب نہ سمجھتے تھے اور غالباً وہ فوج کے جذبات کو بھی مجروح نہ کرنا چاہتے تھے جو بالآخر ملک میں امن وامان کی ذمے دار ہے اور جس نے ہمیشہ وفاداری اور فرض شناسی کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب تو عوام کا فوج پر سے اعتماد بھی اُٹھتا جارہا ہے کیونکہ ہم نے انہیں ظلم اور ذہنی وروحانی کوفت سے نجات دلانے کے لیے کارروائی نہیں کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عوام ان بددیانت سیاستدانوں سے بیزار ہیں جنہوں نے ملک کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج بھی یہی محسوس کرتی رہی ہے لیکن ہم نے بعض وجوہ سے جن کا اب میں ذکر کروں گا ضبط اور تحمل سے کام لیا ہے۔

اس موقع پر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے فوج کے رویے اور طرزِعمل کے متعلق اپنے ہم وطن بھائیوں اور بہنوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ قیام پاکستان کے وقت سے ہم فوجی ملک کے اندرونی مسائل اور بیرونی خطروں کو صاف طور پر دیکھ رہے ہیں، ہم اپنے محدود وسائل سے بھی آگاہ ہیں، ہم نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ ایک صحیح معنوں میں قومی فوج قائم کریں جو سیاسی ارادوں سے پاک ہو، فرض شناسی کا نمونہ ہو اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو اور ملک کا موثر دفاع کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ علاوہ ازیں میں اپنے فوجیوں کو ہمیشہ یہ تلقین کرتا رہا ہوں کہ ہمارا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ ایک ایسا پُشتہ بن جائیں جس کے پیچھے ایک ٹھوس جمہوری نظام پروان چڑھ سکے اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے اور سیاست سے قطعاً غیرمتعلق رہے۔

شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ مرحوم مسٹر غلام محمد نے مجھے کئی بار ملک کا نظم ونسق سنبھال لینے کی پیشکش کی لیکن میں نے ہر بار انکار کیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میں جس جگہ ہوں وہاں سے پاکستان کے مفادات کی زیادہ خدمت کرسکتا ہوں اور پھر مجھے یہ دھندلی سی اُمید تھی کہ کوئی نہ کوئی سیاستدان اُٹھے گا۔ حالات وواقعات نے اس اُمید کو موہوم ثابت کردیا اور ہم اس صورتحال کو پہنچ گئے ہیں۔ ایک اچھے خاصے معقول ومستحکم ملک کو جگ ہنسائی کا سامان بنا دیا گیا ہے۔ یہ سخت افسوسناک ہے لیکن حالات کا مقابلہ کیا جانا چاہیے اور ان کا علاج ہونا چاہیے، اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا۔

میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں کہ ہمارا قطعی مقصد جمہوریت کی بحالی ہے لیکن ایک ایسی جمہوریت جو فعال ہو اور جسے عوام سمجھ سکیں جب وقت آئے گا تو آپ سے رائے طلب کی جائے گی لیکن ایسا وقت کب آئے گا اس کا جواب حالات دیں گے۔ دریں اثناء ہمیں اس گڑبڑ کو دور کرنا اور ملک کو یکساں سطح پر لانا ہے۔ بعض مسائل ایسے ہیں جو فوری حل کے طالب ہیں لیکن بعض ایسے ہیں جو طویل نوعیت کے حامل ہیں ہم انہیں حل کرنے اور بُرائیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے لیے میں آپ سے دلی فہم وتفہیم، تعاون اور صبر کا طالب ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جبکہ ہمیں اپنی مملکت کو مستحکم کرنا ہے لیکن یہ جب ہی ممکن ہے کہ عوام کام کریں۔ نعرے بازی کبھی بھی سخت محنت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ یاد رکھیں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی درستگی ہمارے اختیار سے باہر ہے۔ جہاں تک مارشل لاء کے نظم ونسق چلانے کا تعلق ہے میری تجویز ہے کہ سول محکموں کی موجودہ سزائوں کو بڑھا کر سخت کردیا جائے گا۔ ان امور سے نہایت سختی اور عجلت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ غنڈوں اور انتشار پسندوں کی سرگرمیوں کو سختی کے ساتھ کچل دیا جائے گا تاکہ پاکستان قانون کا احترام کرنے والے شہریوں کے لیے محفوظ بنایا جاسکے۔

چونکہ مارشل لاء کا نظم ونسق بڑی حد تک سول محکموں کے ذریعے چلایا جائے گا اس لیے میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ یہ فرض جو شاید انہیں ناخوشگوار معلوم ہو، ایمانداری، خلوص اور راست بازی سے ادا کریں۔ یہ آپ کے لیے اپنی صلاحیتیں ظاہر کرنے کا موقع ہے۔ آپ اس سے پورا فائدہ اُٹھائیں۔ آپ عظیم روایات کے امین ہیں آپ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور ان روایات کے احیاء کا کام ہاتھ میں لے لیں اور آپ یقین رکھیں کہ فوج آپ کی پوری مدد کرے گی۔ اس نازک موقع پر پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہماری فوجیں ہر وقت بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان میں سے بعض کو مارشل لاء کے ضمن میں ڈیوٹی کے لیے بلایا جاسکتا ہے۔ ان کی ڈیوٹی خواہ کچھ بھی ہو، مجھے توقع ہے کہ وہ وفاداری، اہلیت اور بلاتامل کام کریں گے۔ ان کا طرزِعمل اور رویہ ہمیشہ درست، منظم اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ مجھے ان کی اہلیت پر پورا اعتماد ہے، وہ ہر قسم کے چیلنج کا جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔

یہاں انتشار پھیلانے والوں، سیاسی موقع پرستوں، سمگلروں، چوربازاری کرنے والوں اور دیگر سماج دُشمن عناصر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ عوام اور ہمارے نوجوان تمہاری صورت سے بیزار ہیں۔ اب بھلا اسی میں ہے کہ اپنا طرزِعمل درست کرلو ورنہ تمہاری کارروائیوں پر سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی۔ ان کارروائیوں کو کسی قیمت پر بھی نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

میرے ہم وطنو! میں نے ساری تصویر خاصی تفصیل کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کردی ہے تاکہ آپ کے شکوک وشبہات دور ہو جائیں اور آپ کو یقین ہو جائے کہ یہ انتہائی قدم آپ کے مفاد اور پاکستان کے استحکام کی خاطر اُٹھایا گیا ہے۔ آیئے ہم سب مل کر عاجزی کے ساتھ خدائے بزرگ وبرتر کے سامنے سرِتسلیم خم کردیں کہ وہ بہتر مستقبل کی طرف ہماری رہنمائی کرے اور ہم اس امتحان سے سرخرو نکلیں اور قوم ٹھوس اور مضبوط ہو جائے، آمین۔ پاکستان پائندہ باد

مارشل لاء کے نفاذ پر جنرل یحییٰ خان کا قوم سے خطاب

پاکستانی بھائیو! آپ فیلڈ مارشل ایوب خان کی تقریر سُن چکے ہیں جو کل نشر ہوئی تھی اور اب آپ نے ان کا 24مارچ کا وہ خط بھی پڑھ لیا ہو گا جو انہوں نے مجھے لکھا ہے اور جو اخبارات میں شائع ہوچکا ہے، جیسا کہ اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کوئی ایسا انتظام کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جن کے ذریعے اقتدار پر امن اور آئینی طور پر منتقل ہوسکے مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ان کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں، اس لیے انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اس ملک کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے اپنا بنیادی فرض انجام دوں جس کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہوں کہ پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا ہے۔ مسلح افواج سے وابستہ لوگوں کو توقع تھی کہ دانشمندی غالب آجائے گی اور اس انتہائی اقدام کی ضرورت نہ پڑے گی لیکن صورتحال اس حد تک بگڑ گئی تھی کہ نفاذِ قانون کے تمام طریقے بالکل بے اثر ہوکر رہ گئے اور مکمل طور پر ٹھپ ہو گئے۔ جان ومال کا سنگین نقصان ہوا اور قوم کے اندر خوف وہراس کی ایسی فضا طاری ہو گئی جس نے زندگی کو درہم برہم کر ڈالا، پیداوار خطرناک حد تک گر گئی اور معیشت کو بالعموم ایسا دھچکا لگا کہ جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہڑتالیں اور تشدد آئے دن کا معمول بن گئے اور ملک دریائے ذلالت کے کنارے پہنچ گیا۔ قوم کو تحفظ کی جانب واپس لانا تھا اور بلاتاخیر حالت کو معمول پر بحال کرنا تھا۔ مسلح افواج طوائف الملوکی کی طرف پہنچنے والی اس صورتحال کو خاموش تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتی تھی۔ انہیں اپنا فرض ادا کرنا اور ملک کو مکمل تباہی سے بچانا تھا اس لیے میں نے یہ قدم اُٹھایا ہے۔ میرا مارشل لاء نافذ کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ کیا جائے اور انتظامیہ کو دوبارہ کام پر لگا دیا جائے اسی لیے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے میرا پہلا اور اوّلین کام امن و امان بحال کرنا اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ انتظامیہ عوام کے اطمینان کے مطابق اپنے معمولات انجام دے سکے۔ ہماری انتظامیہ میں سست روی اور ابتری بہت ہوچکی، اب میں دیکھوں گا کہ اس کا کسی صورت اور طریقے سے اعادہ نہ ہو۔ انتظامیہ کے ہر رکن کو یہ اتنباہ سنجیدگی کے ساتھ ذہن نشین کرلینا چاہیے۔

میرے ہم وطنو! میں آپ پر قطعی طور پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں ایک آئینی حکومت کے قیام کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے سوا اور کوئی مقصد نہیں رکھتا۔ یہ میرا پختہ ایمان ہے کہ دانشمندی اور تعمیری سیاسی زندگی اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طور پر اس منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے ایک مستحکم، صاف ستھری اور دیانتدار انتظامیہ شرط اوّل ہے۔ یہ کام ان منتخب نمائندوں کو کرنا چاہیے کہ ایک قابل عمل آئین دیں اور مل بیٹھ کر معاشرتی مسائل کا حل تلاش کریں لیکن انہوں نے عوام کر پریشان کررکھا ہے۔ میں طلباء، مزدوروں، کسانوں سمیت اپنے معاشرے کے مختلف طبقات کی مشکلات اور اشد ضرورت سے باخبر ہوں۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں مشکلات کو دور کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرنی ہوگی۔ میں مسلح افواج میں شامل آپ کے بھائیوں کے بارے میں بھی چند الفاظ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ بہادری اور بے لوث طریقے پر قوم کی بڑی خدمت کررہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی حفاظت کی اور لگن کے ساتھ فرض کی پکار پر لبیک کہا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے تحفظ اور اس کی عظمت کو یقینی بنانے کے لیے کسی قربانی کو عظیم نہیں سمجھا۔ مسلح افواج عوام کی ہیں، وہ سیاسی عزائم نہیں رکھتیں اور کسی شخص یا کسی جماعت سے جانبداری نہیں برتیں گی۔ اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے جو مشن شروع کیا ہے اسے قوم کی توقعات کے مطابق پورا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور فیصلہ کُن دور سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے ہمارے قومی وقار اور ترقی پر بڑی کاری ضرب لگائی ہے۔ مارشل لاء انتظامیہ کسی قسم کے ایجی ٹیشن یا تخریبی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتی اور نہ کرے گی۔ میں آپ میں سے ہر شخص پر زور دوں گا کہ وہ ملک کو ہوش مندی کی راہ پر واپس لانے میں میری انتظامیہ سے تعاون کرے۔ ہر شخص خواہ اس کا پتہ کچھ بھی ہو اپنے کام پر واپس پہنچ جائے اور پاکستان کی معیشت وبہبود کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے ہرممکن جدوجہد کرے۔ پاکستان پائندہ باد

خبر پڑھیں:شرمائیں یہود!

مارشل لاء کے نفاذ پر جنرل ضیاء الحق کا قوم سے خطاب

خواتین وحضرات! السلام علیکم۔ میں آج اس عظیم ملک کی عظیم قوم سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ یہ تو آپ کومعلوم ہو چکا ہو گا کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ ایک عبوری حکومت قائم کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی جو گزشتہ شب آدھی رات کو شروع ہوئی آج علی الصبح ختم ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پُرامن طور پر ختم ہوئی۔ یہ تمام کارروائی میرے حکم پر عمل میں لائی گئی۔ اس عرصے میں وزیراعظم اور ان کے اکثر رُفقاء کو بھی حفاظت میں لے لیا گیا ہے سوائے بیگم نسیم والی خان صاحبہ کے۔ اس اقدام پر اب تک موصول ہونے والے تاثرات حسب توقع نہایت حوصلہ افزاء ہیں۔ مختلف جگہوں سے مبارکباد کے پیغامات کی بھرمار ہوگئی ہے۔ اپنی قوم اور اپنی زندہ دل افواج کا شکر گزار ہوں۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہوگا کہ چندحضرات نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں یہ کارروائی کسی کے ایما پر تو نہیں کی گئی۔ کہیں جنرل محمد ضیاء الحق کی سابق وزیراعظم سے کوئی خفیہ ملی بھگت تو نہیں ہے، اس کے متعلق یہ عرض کروں گا کہ حقائق کبھی چھپے نہیں رہتے۔ پچھلے چندماہ کے تجربے سے اتنی بدگمانی ہو گئی ہے کہ اچھے بھلے لوگ بھی شک وشبہ میں پھنس گئے ہیں۔

آج صبح آپ نے خبروں میں سن لیا ہو گا کہ افواج پاکستان نے ملک کا نظم ونسق سنبھال لیا ہے۔ پاکستان کا ملکی نظام سنبھالنا کوئی مستحسن اقدام نہیں کیونکہ افواج پاکستان دل سے چاہتی ہیں کہ ملک کی باگ ڈور عوام کے ہاتھوں میں رہے جو صحیح طور پر اس کے حق دار ہیں۔ عوام یہ حق اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں اس کے لیے ہر جمہوری حکومت میں وقتاً فوقتاً انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی سات مارچ کو انتخابات ہوئے جس کے نتیجے کو ایک فریق نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزام نے دوبارہ انتخابات کے مطالبے کی شکل اختیار کرلی۔ اپنے دوبارہ انتخابات کرانے کے مطالبے پر زور دینے کے لیے انہوں نے ملک میں تحریک چلائی اور یہ خیال ظاہر کیا کہ ملک میں جمہوریت نہیں چل سکتی لیکن میرا یقین ہے کہ اس ملک کی بقاء جمہوریت اور صرف جمہوریت میں ہے۔ اسی یقین کی وجہ سے اشتعال انگیزیوں اور سیاسی دبائو کے باوجود افواج پاکستان نے اقتدار سنبھالنے سے گریز کیا۔ مسلح افواج کی ہمیشہ یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ سیاسی مسائل کا حل تلاش کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ فوج نے حکومت پر زور دیا کہ جلدازجلد مذاکرات کے ذریعے اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے۔ ان مذاکرات کے لیے حکومت کو وقت درکار تھا جو افواج پاکستان نے نظم ونسق برقرار رکھ کر فراہم کیا۔ سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج نے جو کردار ادا کیا جس پر بعض حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی کی گئی ہم نے اسے برداشت کیا۔ ہمیں یقین تھا کہ قوم جب جذباتی اور ہیجانی کیفیت سے نکلے گی تو تمام شکوک وشبہات دور ہو جائیں گے اور قوم مسلح افواج کے صحیح اور آئینی کردار کو سراہے گی اور تمام خدمات دور ہو جائیں گے۔

میں نے ابھی آپ کے سامنے ملک کو درپیش صورتحال کا اجمالی نقشہ پیش کیا ہے۔ آپ پر واضح ہو گیا ہو گا کہ جب سیاستدان بحران کو حل کرنے میں ناکام رہے تو افواج پاکستان کے لیے خاموش تماشائی بنے رہنا ناقابل معافی جرم ہے۔ فوج کو مجبوراً یہ اقدام کرنا پڑا جو ملک کو بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مجھے پیپلزپارٹی اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان سمجھوتے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جس کی وجہ ان کی آپس کی بداعتمادی اور بدگمانی تھی۔ ان حالات میں اندیشہ تھا کہ اگر پیپلزپارٹی اور پی این اے کے درمیان سمجھوتہ نہ ہوا تو ملک ایک بار پھر افراتفری اور سنگین بحران کا شکار ہو جائے گا۔ یہ خطرہ ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں لیا جاسکتا تھا اسی لیے فوج کو کارروائی کرنا پڑی جس کے نتیجے میںاب جناب بھٹو کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ پورے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں، گورنر اور صوبائی وزیر ہٹا دیئے گئے ہیں۔

میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ آئین منسوخ نہیں کیا گیا لیکن اس کے بعض حصوں پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ صدر فضل الٰہی چودھری حسب سابق اپنی ذمے داریاں جاری رکھنے پر رضامند ہو گئے ہیں جس کے لیے میں ان کا شکرگزار ہوں۔ وہ آئین کے تحت صدرمملکت کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اہم قومی مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کی مدد کے لیے ایک ملٹری کونسل کی تشکیل کی گئی ہے۔ یہ کونسل چار افراد پر مشتمل ہو گی جس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور بری، بحری وہوائی افواج کے چیف آف سٹاف شامل ہوں گے۔

میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی ذمے داریاں ادا کروں گا۔ حسب ضرورت مارشل لاء آرڈر اور ضابطے جاری کیے جائیں گے۔ آج صبح میں چیف جسٹس آف پاکستان جناب یعقوب علی سے بھی ملا۔ میں ان کے مشورے اور قانونی رہنمائی کے لیے ازحد ممنون ہوں۔ میں یہ بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ نہ میرے کوئی سیاسی عزائم ہیں نہ ہی فوج اپنے سپاہیانہ پیشے سے اکھڑنا چاہتی ہے۔ مجھے صرف اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے آنا پڑا ہے جو سیاستدانوں نے پیدا کیا ہے اور میں نے یہ چیلنج صرف اسلام کے ایک سپاہی کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ میرا واحد مقصد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانا ہے جو اس سال اکتوبر میں منعقد ہوں گے اور انتخابات مکمل ہوتے ہی اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپ دوں گا اور میں اس لائحہ عمل سے ہرگز انحراف نہیں کروں گا۔ آئندہ تین مہینوں میں میری ساری توجہ انتخابات پر مرکوز ہو گی اور میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اپنے اختیارات کو دوسرے معاملات پر ضائع کرنا نہیں چاہتا۔

اس مرحلے پر یہ ذکر کرنا بے محل نہ ہو گا کہ ملک کی عدلیہ کے لیے میرے دل میں بہت احترام ہے، میری پوری کوشش ہو گی کہ جہاں تک ممکن ہو عدلیہ کے اختیارات محدود نہ ہوں تاہم بعض ناگزیر حالات میں خصوصی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مارشل لاء آرڈر اور مارشل لاء ریگولیشن جاری کرنا ضروری ہوں گے۔ جب بھی یہ آرڈر اور ریگولیشن جاری ہوں گے ان کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ میں انتخابات کروانے کے لیے عنقریب مفصل ٹائم ٹیبل اور طریقہ کار کا اعلان کروں گا۔ سیاسی محاذآرائی کے دوران جو کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اسے دور کرنے اور عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے آج سے تاحکم ثانی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے تاہم انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔ میرے عزیز ہم وطنو! میں نے اپنے دل کی بات کھول کر کہہ دی ہے، اس نیک مشن کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور آپ سے تعاون کا خواستگار ہوں۔ مجھے توقع ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور عام شہری مجھ سے مکمل تعاون کریں گے۔ میری یہ کوشش ہو گی کہ مارشل لاء انتظامیہ نہ صرف ہر ایک کے ساتھ انصاف اور برابری کا سلوک کرے بلکہ ان میں بھی ایسا احساس پیدا کرے۔ سول انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا ہے اس لیے میں مسرت کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ صوبائی ہائی کورٹوں کے چیف جسٹسوں نے میری درخواست پر اپنے متعلقہ صوبوں کا قائم مقام گورنر بننا قبول کرلیا ہے۔ سول انتظامیہ کے ان افسران کو جنہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی خدشات ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ کسی کو ناکردہ گناہوں کی سزا نہیں ملے گی لیکن اگر کوئی سرکاری ملازم اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہا یا اس نے جانبداری برتی یا قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو اسے سخت سزا دی جائے گی، اسی طرح اگر کسی شہری نے ملک میں امن وامان میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس سے بھی سختی سے نمٹا جائے گا۔

جہاں تک خارجہ تعلقات کا تعلق ہے میں بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ سابقہ حکومت نے جو سمجھوتے، وعدے اور معاہدے کیے ہیں میں ان کا پابند رہوں گا اور مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے فرائض مکمل جانبداری اور انصاف کے ساتھ انجام دیں۔ مجھے اُمید ہے کہ وہ ہر صورتحال سے نمٹیں گے۔ میں ان سے یہ توقع بھی کروں گا کہ ماضی میں بعض لوگوں نے اگر انہیں لعن طعن کا نشانہ بنایا تو اسلامی اصولوں کے تحت اسے معاف کردیں گے۔ میں ان سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنے فرائض ادا کرتے وقت اپنے اور اپنے پیشے کے وقار کو پیش نظر رکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی نئی ذمے داریوں سے احسن طریقے پر عہدہ برآ ہوں گے جس سے ان کے وقار اور مرتبے میں اضافہ ہو گا۔

چندنکات کی تشریح ضروری سمجھتا ہوں: -1اولاً سول عدالتیں اپنے فرائض معمول کے مطابق انجام دیتی رہیں گی۔ -2 فیڈرل سیکورٹی فورس کی عنقریب تنظیم نو کی جائے گی۔ -3 حال ہی میں سول انتظامیہ میں جو تبادلے کیے گئے ہیں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ -4 عبوری حکومت کا ڈھانچہ اس طرح تشکیل دیا گیا ہے۔ (الف) جناب صدر فضل الٰہی چودھری بدستور صدرمملکت ہوں گے۔ (ب) ملک کے اہم انتظامی امور ملٹری کونسل پاس کرے گی، جس کا ذکر میں جمعے کو کرچکا ہوں۔ (ج) انتظامیہ کا سربراہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہو گا۔ سیکرٹری جنرل ڈیفنس جناب غلام اسحاق خان تمام وفاقی محکموں میں رابطے کے ذمے دار ہوں گے۔ (د) وفاقی حکومت کے سیکرٹری اپنے اپنے محکمے کے ساتھ سربراہ ہوں گے۔ (ر) ہر صوبے کے ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اس صوبے کا قائم مقام گورنر ہو گا۔ (ز) صوبے کی انتظامیہ کا سربراہ صوبے کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہوں گے اور صوبائی محکموں کے انچارج بدستور سیکرٹری رہیں گے۔

میری خواہش ہے کہ:(الف) انتظامیہ بلاخوف وخطر اپنے فرائض انجام دے۔ (ب) پولیس میں بے لوث خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ (ج) اخبارات آزاد صحافت کے علمبردار ہوں مگر ضابطہ اخلاق سے انحراف نہ کریں۔ (د) قوم میں ہوش مندی پیدا ہو۔ (ر) ملک میں امن وامان قائم رہے اور غنڈہ گردی کا خاتمہ ہو۔ (ز) درس گاہیں سیاسی اکھاڑے نہ بنیں۔

آپ کی اطلاع کے لیے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور مسلح افواج اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور سرحدیں جائز نقل وحرکت کے لیے کھلی ہیں۔ آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حالیہ تحریک میں اسلام کا جو جذبہ دیکھنے میں آیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان جو اسلام کے نام پر قائم ہو اتھا وہ اسلام کے نام پر ہی قائم رہے گا جس کے لیے اسلامی نظام کی اشد ضرورت ہے۔

اقتدار پر قبضے کے بعد جنرل مشرف کا قوم سے خطاب

میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم۔ آپ سب اس بحرانی اور غیریقینی صورتحال سے آگاہ ہیں جس سے ملک حالیہ دنوں میں گزرا ہے۔ تمام اداروں کے ساتھ نہ صرف چھیڑچھاڑ کی گئی اور انہیں منظم طریقے سے تباہ کیا گیا بلکہ معیشت بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم ان خودغرضانہ پالیسیوں سے بھی آگاہ ہیں جنہوں نے وفاق پاکستان کی بنیادوں تک کو ہلا کر رکھ دیا۔ مسلح افواج پر مسلسل عوام اور مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے دبائو تھا کہ ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا مداوا کیا جائے۔ ملک کے بہترین مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پورے خلوص کے ساتھ وزیراعظم کو ہمیشہ ان خدشات سے آگاہ کیا گیا۔ یہ واضح رہے کہ انہیں کبھی بھی درست معنوں میں نہیں لیا گیا۔ ہماری کوششوں کا واحد مقصد ملک کی فلاح تھا، صرف یہی وجہ تھی کہ فوج نے خوشی سے تعمیر ملت کے کاموں کے لیے اپنی خدمات پیش کیں جن کے نتائج کا آپ بخوبی اندازہ کرچکے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری تمام کوششوں اور مشاورت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کے بجائے وزیراعظم نے اپنی تمام توجہ فوج پر مرکوز کردی۔ میرے تمام مشوروں کے باوجود انہوں نے مسلح افواج میں مداخلت کرنے کی کوشش کی حالانکہ فوج وہ کارآمد ادارہ ہے کہ ملک کے استحکام واتحاد کے لیے اس کی طرف عوام دیکھتے ہیں اور اس پر آپ سب بجاطور پر فخر کرتے ہیں۔

ہمارے خدشات ایک مرتبہ پھر غیرمبہم انداز میں حکومت تک پہنچائے گئے۔ مسٹر نوازشریف کی حکومت نے انہیں نظرانداز کیا اور فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی، اسے غیرمستحکم کرنے اور اس کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ میں سرکاری دورے پر سری لنکا میں تھا۔ میری واپسی پر پی آئی اے کی کمرشل پرواز کو کراچی ایئرپورٹ پر اُترنے کی اجازت نہ دی گئی اور ایندھن کی انتہائی کمی کے باوجود حکم دیا گیا کہ اسے پاکستان سے کہیں باہر اُتارا جائے۔ اس طرح تمام مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ فوج کے تیزرفتار ایکشن نے ان کے مکروہ عزائم کو ناکام بنادیا۔

میرے عزیز ہم وطنو! اس پس منظر کی اختصار سے وضاحت کرنے کے بعد میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ مسلح افواج نے آخری چارۂ کار کے طور پر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی ہے تاکہ ملک کو مزید عدم استحکام سے بچایا جاسکے۔ میں نے یہ کام پورے خلوص، وفاداری اور ملک کے ساتھ بے غرض وابستگی کے جذبے سے کیا ہے اور مسلح افواج مضبوطی کے ساتھ میرے پیچھے ہیں۔ میں اس وقت کوئی طویل پالیسی بیان جاری نہیں کرنا چاہتا لیکن میں جلد ہی طویل پالیسی بیان جاری کروں گا۔ اس وقت میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ملک میں صورتحال مکمل طور پر پُرامن، مستحکم اور قابو میں ہے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! آپ کی مسلح افواج نے آپ کو کبھی مایوس نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گی۔ انشاء اللہ ہم ملک کے اتحاد اور اقتدارِاعلیٰ کا اپنے خون کے آخری قطرے تک تحفظ کریں گے۔ میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ پُرامن رہیں اور اپنی مسلح افواج کی حمایت کریں تاکہ پاکستان کامستقبل روشن اور خوشحال بنانے کے لیے اسے دوبارہ مستحکم بنا دیا جائے۔ اللہ ہمیں سچائی اور عزت کی راہ پر گامزن رہنے کی توفیق فرمائے، اللہ حافظ۔ پاکستان پائندہ باد۔

٭٭٭


ای پیپر