تاریخ بدل دی ہے…!
27 اپریل 2020 (22:53) 2020-04-27

کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے اثرات کی وجہ سے دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور کچھ ہو بھی چکی ہے۔ ہمارے ہاں اور کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں اتنا ضرور ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے ہر چھوٹے بڑے کے کہنے کے مطابق ان کے قائد وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی تاریخ ضرور بدل دی ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے تحریک انصاف کے کسی رہنما کی ایک ٹی وی نیو زچینل پر دینے جانے والے بھاشن کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ ہمارے قائد عمران خان نے پاکستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی ہے۔ چینی سکینڈل کے بارے میں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ قوم کے سامنے پیش کر کے وزیراعظم نے ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اہم رہنماؤں کو بھی نہیں بخشا اور ان سے جواب دہی کی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما کا مزید یہ کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے نصف صدی قبل قائم حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی۔ 2010-11ء میں پنجاب اور سندھ میں شدید سیلاب آئے۔ سیلاب کے اسباب اور سیلاب زدگان کی امداد اور امدادی سامان کی تقسیم میں مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن (مجھے نہیں یاد پڑتا کہ اس طرح کا کوئی کمیشن قائم ہوا تھا) راقم کی رپورٹ پردہ اخفاء میں رہی۔ ماڈل ٹاؤن پولیس فائرنگ کیس جس میں ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ جانوں کا ضیاع ہوا اس کے بارے میں انکوائری کمیشن (انکوائری کمیٹی) کی رپورٹ بدستور الماریوں میں بند ہے۔ یہ ہماری ہی حکومت اور ہمارے محبوب قائد وزیراعظم جناب عمران خان کا کمال ہے کہ انہوں نے کسی مصلحت کی پروا کیے بغیر چینی سکینڈل کی رپورٹ عوام کے سامنے لا کر اپنا وعدہ ہی پورا نہیں کر دیا ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ بھی بدل دی ہے۔

چینی سکینڈل کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے کے مذکورہ بالا حکومتی فیصلے کی مدح سرائی کا سلسلہ اتنے دن گزرنے کے باوجود جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ تحریک انصاف کے چھوٹے بڑے رہنما ان کے یمین و یسار اور ان کے ہم خیال تبصرہ اور تجزیہ نگار اس فیصلے کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان ملاتے نہیں تھکتے۔ ان کے خیال میں یہ ایسا فیصلہ ہے جس نے پاکستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی ہے۔ انہیں یقینا ایسا کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ ان کی جانثاری، وفاداری اور ’’کسب حلال‘‘ کمانے کا تقاضا ہی یہی ہے۔ تاہم کرونا کے پھیلاؤ کے ملک و قوم کو در پیش پر خطر اور تشویش ناک حالات میں کچھ اور باتیں اور فیصلے بھی ضروری ہیں جن کا پورا کرنا حکمرانوں کا فرض بنتا ہے اور ان سے پاکستان کی تاریخ بدلی جا سکتی ہے لیکن چلیں اسی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے فیصلے کو ہی لے لیتے ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ یہ رپورٹ کن حالات میں اور کیسے جاری ہوئی۔ کیا اس کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ سے رپورٹ کی چند ایک (کم از کم دو) کاپیاں وزیراعظم کے رپورٹ جاری کرنے کی منظوری دینے کے فیصلے سے قبل سر کردہ میڈیا پرسنز (معروف اینکرز) کو بھیج دی گئیں یا ان تک پہنچا دی گئیں تا کہ وہ اپنے پروگراموں میں رپورٹ کے مندرجات ، تفصیلات اور Findings کو زیر بحث لا سکیں۔ اس طرح رپورٹ کو چھپا کر یا میڈیا اور عوام سے دور رکھنے کا کوئی امکان جہاں باقی نہیں بچے گا وہاں وزیراعظم عمران خان کے لیے بھی اس رپورٹ کو جاری کرنے کے فیصلے کی منظوری دینے کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس امکان یا گمان کی تصدیق اور تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ معروف اینکر پرسز جناب محمد مالک اور محترم حامد میر نے ایک ٹی وی پروگرام میں تسلیم کیا ہے کہ محمد مالک کو وزیراعظم سیکرٹریٹ سے رپورٹ کی کاپی 5 بجے شام مہیا کیا گئی تو اسی دن رات نو بجے رپورٹ کی کاپی حامد میر کو بھی پہنچا دی گئی۔ محمد

مالک کو سبقت حاصل رہی کہ موصوف اسی رات کو اپنے پروگرام میں رپورٹ کو زیر بحث لے آئے۔

خیر رپورٹ کی کاپیاں پہلے جاری اور منکشف ہو گئیں اور وزیراعظم کی رپورٹ جاری کرنے کی منظوری بعد میں لی گئی یا رپورٹ وزیراعظم کی منظوری سے ہی منکشف ہوئی۔ جو بھی صور تحال ہے اس سے قطع نظر چینی سکینڈل جس کے فرانزک آڈٹ کی رپورٹ 25 اپریل کو جاری ہوئی ہے (ہونی ہے) کے حوالے سے دو تین باتیں یا استفسار ایسے ہیں کہ جن کے جواب آنے ضروری ہیں۔ اسی طرح گندم وافر مقدار میں گوداموں میں موجود ہونے کے باوجود آٹے کی قلات اور گرانی کا معاملہ بھی ایسا ہے جس کے بارے میں رپورٹ ہی ابھی آنی باقی نہیں ہے بلکہ ذمہ داران کا تعین کر کے ان کا قرار واقعی احتساب کرنا بھی ضروری ہے۔ ان معاملات کو بہر کیف زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ پہلے چینی بحران، اس کی برآمد (Export) کی اجازت، شوگر ملز مالکان بالخصوص جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کا اس پر سبسڈی لینا شوگر ملز مالکان اور سٹاکٹس کی طرف سے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اس کی قیمتوں میں پچیس سے پینتیس روپے فی کلو اضافہ کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا اور اربوں روپے بٹورنا کے معاملات کو لیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں جہانگیر ترین، خسرو بختیار خاندان، چوہدری مونس الٰہی اور کچھ دوسرے شوگر ملز مالکان نے چینی ایکسپورٹ (برآمد) کر کے اس پر کروڑوں (مجموعی طور پر اربوں) روپے کی سبسڈی لی لیکن دیکھنا ہوگا کہ ان ملزمالکان کو ضرورت سے زائد ظاہر کی جانے والی چینی برآمد کرنے کی اجازت کس نے دی اور سبسڈی کس کی اجازت،حکم اور کس خزانے سے ادا کی گئی۔ چینی کی زائد پیداوار کا اور اسے ایکسپورٹ کر کے زرمبادلہ حاصل کرنے کا معاملہ حسب ضابطہ اس وقت کے وزیر خزانہ جناب اسد عمر کی زیر صدارت منعقدہ قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔ وہاں سے اس کی منظوری ملنے کے بعد اسے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی تو پھر شوگر ملز مالکان نے ایف بی آر کے ضابطے کی تمام کارروائیاں مکمل کر کے چینی باہر بھیجوانے کا سلسلہ شروع کیا۔ زیادہ تر چینی زمینی راستے سے افغانستان بھیجی گئی۔ اس طرح سرحد پر متعین کسٹم حکام بھی اس پورے عمل میں کسی نہ کسی حد تک شریک ہو گئے۔اس ساری تفصیل سے کیا یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ چینی برآمد کرنے کی ذمہ داری صرف ملز مالکان پر ہی عائد نہیں ہوتی اس میں قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس وقت کے سربراہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اورسمیت اقتصادی رابطہ کمیتی کے دیگر ارکان جن میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں بھی برابر کے ذمہ دار گردانے جا سکتے ہیں۔ پھر حتمی اور آخری منظوری وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے دی تو اس فیصلے کے نتائج اور اثرات سے جناب وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ساتھی بھی بری الذمہ قرار نہیں دیئے جا سکے۔ جہانگیر ترین اور دوسرے شوگر ملز مالکان قابل گردن زدنی ہیں تو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سربراہ سمیت ارکان اور وفاقی کابینہ کے سربراہ (وزیراعظم) اور ارکان بھی کچھ نہ کچھ سزا نہ سہی تنبیہ، سرزنش یا پوچھ گچھ کے بہر کیف حق دار ضرور گردانے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک سبسڈی کا معاملہ ہے پنجاب کے خزانے سے ساڑھے تین ارب کی سبسڈی صوبائی کابینہ کے اجلاس کی منظوری اور وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار کے احکامات کی روشنی میں دی گئی۔ اس طرح پنجاب کی حکومت، صوبائی کابینہ کے ارکان اور وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ جناب عثمان بزدار چینی سکینڈل کے اس سارے معاملے میں بالواسطہ (کچھ کچھ بلا واسطہ) پوری طرح شریک ہو گئے تو انہیں بھی جواب دہی سے مبرا نہیں سمجھا جا سکتا۔

چینی سکینڈل کے حوالے سے یہ برسرزمین حقائق ایسے ہیں جنہیں رد نہیں کیا جا سکتا۔ جواب دہی، احتساب اور کچھ نہ کچھ تادیبی کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ اگلا معاملہ چینی کی مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی کر کے اس کی قیمت میں ہوش ربا اضافے سے متعلق ہے۔ یہ انتہائی سنگین اور عوام دشمن معاملہ ہے جس کی سزا ہر صورت میں ذمہ داران کو ملنی چاہیے ۔ چینی کی قیمت میں پچیس، تیس روپے کلو اضافہ اور عوام کی جیبوں پر پینتیس، چالیس ارب روپے کا ڈرامہ کوئی تو ہو جو اس کا پورا پورا حساب کتاب کرے۔ اتنی بات واضح ہے کہ چینی کے جن ذخائر پر قیمت کا اضافہ کیا گیا وہ پچھلے سال کا سٹاک تھا اس کی پیداواری لاگت بھی کم تھی۔ نیا کرشنگ سیزن ابھی شروع نہیں ہوا جس میں وافر مقدار میں چینی کی پیداوار متوقع تھی کہ یہ بحران پیدا کر دیا گیا۔ اس سے شوگر ملز مالکان نے ہی اپنی تجوریاں نہیں بھریں شوگر کے چھوٹے بڑے سٹاک ہولڈرز نے بھی خوب لوٹ مار کی۔

آٹے کے بحران ، قلت اور اس کی قیمتوں کے اضافے کے معاملے کے بارے میں سر پٹنے کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ گندم کی پیداوار پچھلے تخمینے (پچیس لاکھ ٹن) سے کچھ کم لیکن ملکی ضرورت کے مطابق کافی تھی۔ اس کے باوجود مافیاز جن کے سرپرست حکومت میں بیٹھے ہیں یا ہر دور میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر اتنی بڑی کارروائی ڈال لیتے ہیں تو اس سے بڑھ کر بے چینی، نا اہلی، نا لائقی اور مفاد پرستی اور کیا ہو سکتی ہے۔ آٹا بحران کے بارے میں تحقیقی رپورٹ سامنے آئے تو اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے اور چینی چوروں، آٹا چاروں اور نا اہل سرکاری اہلکاروں اور چھوٹے بڑے عہدیداروں کو سزا مل جائے تو پھر تحریک انصاف کے وابستگان اور حالی موالی یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ان کے محبوب قائد نے تاریخ (پاکستان کی) بدل دی ہے۔


ای پیپر