یہاں پر رزق رہے گا محشر تک
27 اپریل 2020 (22:52) 2020-04-27

عالم پناہ! لکھا ہوتا ہے یہ شارع عام نہیں، سوہر گزرنے والا پہلے اس گزر گاہ کو گھورتا ہے۔ پھر سوچنا ہے اور ایک بار اپنا دھیان گریبان میں ڈال کر گزرنے کی کوشش کرتا ہے مگر چند لمحوں کے توقف کے بعد واپس پلٹ جاتا ہے کہ اگر خلاف ورزی ہوئی تو لینے کے دینے پڑنے میں کچھ وقت نہیں لگے گا ۔ اسی طرح بجلی کی بھاری لائنیں جہاں سے گزرتی ہیں تو ان میں برقی رو اتنی تیز ہوتی ہے کہ اگر خدانخواستہ کرنٹ لگ جائے تو آدمی کو جھلسا کر رکھ دیتی ہے مگر واپڈا والوں نے ایک خاص حد تک ’’خطرناک‘‘ کا ایک بورڈ لگایا ہوتا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے اگر اس بورڈ سے اوپر کوئی چلا گیا تو پھر وہ اوپر ہی جائے گا ۔ زمین زادوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہ ہو گا ۔ پھر اس کی شکل بورڈ پر بنی ’’بل بتوڑی‘‘ جیسی ہو جائے گی۔ لہٰذا آج تک کسی نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ان تاروں سے اوپر اورکھمبوں سے الجھنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ انسان کے شعور میں بیٹھا وہ خوف ہرگز انسان کو اس کوچے میں جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ کورونا نے فروری کے آخری عشرے سے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ابھی تک جانے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دنیا کے دو سودس ممالک اس موذی مرض کے سامنے بے بس اور کر جھکائے ہوئے کھڑے ہیں۔ دنیا بھر کے ڈاکٹرز اور سائنسدان اپنی سر توڑ کوشش میں ہیں کہ اس بیماری سے جلد از جلد نمٹا جائے اور اس کی کوئی ویکسین تیار ہو سکے اور بنی نوع انسان کو اس سے چھٹکارا ممکن ہو سکے مگر ہنوز ’’دلّی دور است‘‘ کی صورت حال کا سامنا ہے۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے مریض 13 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مگر اللہ کا خاص کرم ہے کہ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی میں مریضوں کی یہ تعداد عشر عشیر ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے خصوصاً ہماری عوام نے اس مرض کو ابھی تک سنجیدہ نہیں لیا ہے۔ یہ غیر سنجیدہ قوم اس مرض کے وجود کو ماننے کے لیے ابھی تیار ہی نہیں ہے۔

دنیا میں لاکھوں یہ کہتے ہوئے موت کی سرحدوں کو چھو گئے کہ کچھ نہیں ہوگا… کچھ نہیں ہو گا ۔ میرے ملک کے باشندوں اور کرم فرماؤں کی بھی صورت حال یہی ہے۔ لاک ڈاؤن ہوا، دکانیں بند کر دی گئیں، شاپنگ پلازے بند کر دیئے، دفتروں کے دروازوں پر لگے تالے منہ چڑانے لگے مگر بازاروں میں رش ویسے ہی رہا۔لوگ بازاروں اور سڑکوں پر مٹر گشت کرتے ہوئے ویسے ہی نظر آئے۔ چند ہفتوں کے بعد کیا کھیل کھیلا گیا؟

دکانداروں نے سودا سلف قیمت سے زیادہ نرخوں میں فروخت کرنا شروع کر دیا۔ باقی دکانداروں نے اپنی دکانوں کے ساتھ ایک ایک دو دو ہرکارے کھڑے کیے جو گاہکوں کو گھیر کر لاتے۔ دکان کا شٹر کھولتے گاہک کو اندر دھکیل کر باہر سے تالا لگا دیتے۔ جب گاہک سودا سلف یا ضروریات اشیاء خرید چکا ہوتا تو دکان کا تالا کھول کر اسے چلتا کرتے اور نئے گاہک کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے۔ مگر یہ وہ قوم ہیں جسے ہم مہذب اور تہذیب یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ’’ووٹ کی عزت‘‘ اور ’’نئے پاکستان‘‘ کامشن سونپنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ وہ قوم ہے جس نے راشن اکٹھا کیا اور ضرورت سے زیادہ اکٹھا کیا اور سستے داموں دکانداروں کو فروخت کر کے ’’روکڑا‘‘ بٹور لیا اور اگلے دن پھر اسی کام پر جت گئے۔ یہ وہ قوم ہے جسے اقبالؒ خودی کا درس دیتے ہوئے خود سے گزر گئے مگر اس قوم کی خودی نہ جاگی۔ یہ قوم ہے جسے اقبال اپنا شاہین گردانتے تھے مگر یہ ایسے گدھ نکلے جو ’’راجہ گدھ‘‘ سے بھی آگے نکل گئے۔ یہ شاہین تو نہ بنے مگر ’’کرگس‘‘ کو بھی شرمندہ کر دیا اور گدھ بن کر گدھوں کونوچنے لگے۔

قارئین! اس وقت دنیا میں 2 لاکھ سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور کم و بیش تیس لاکھ کے قریب باشندگان اس مرض میں مبتلا ہیں۔ کچھ مریض تو صحت یاب ہو رہے اور کچھ مریض ابھی تک التواء کا شکار ہیں اور موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اب میرے ملک کی موجودہ صورت حال ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا‘‘ کے مترادف ہے۔ پاکستان میں اس وباء کا عروج ابھی باقی ہے۔ ایک مستند تجزیے کے مطابق پاکستان میں پورا مئی اور جون کا مہینہ انتہائی خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے ہے موجودہ حکومت اپنی کوشش کے گھوڑے سرپٹ دوڑا رہی ہے ، مزدوروں اور غریبوں کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر شعبہ جات بھی فرنٹ لائن پر کھڑے ہو کر اپنی جانوں، اپنے بچوں، اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کی پروا کیے بغیر اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں مگر کوئی حل اپنی ممکنات کی طرف نہیں جا رہا ہے۔ ڈاکٹرز اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا واحد حل سخت لاک ڈاؤن ہے اور لاک ڈاؤن ہی اس وبا کو چارشانے چت گرا سکتا ہے۔ کسی بھی مقصد یا نصب العین کو حامل کرنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، بغیر قربانی دیئے کوئی بھی محنت نہ رنگ لاتی ہے اور نہ ثمر دیتی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ہم نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔ ایک نسل کی قربانی دی تھی تب جا کر ہم پاکستانی کہلانے کے حق دار ہوئے تھے۔ اب اس وبا سے نمٹنے کے لیے پھر قربانی کی ضرورت ہے اور اس دفعہ جان کی قربانی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں مال کی قربانی اور صرف لاک ڈاؤن کی قربانی ضرورت ہے۔ جتنا لاک ڈاؤن سخت ہو گا اور ہم سختی سے پابند رہیں گے اتنی جلد ہی اس وباء سے چھٹکارا ممکن ہو گا ۔ وزیراعظم صاحب کا اگر خیال ہے کہ غریبوں کا کیا بنے گا ؟ مزدور اور چھابڑی والے کا کیا ہو گا ؟ ان کو کچھ نہیں ہو گا ۔ ان کو رزق ملے گا ان کا حامی و ناصر رب ذات کے علاوہ یہ عوام ہوں گے جو اپنے بھائیوں کو بھوکا نہیں رہنے دیں گے۔ یہ عوام اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور اقربا کا خیال رکھیں گے۔ اگر یہ عوام آپ کے کہنے پر اربوں روپیہ عطیہ کر سکتے ہیں تو آپ کے کہنے پر اس مقدس مہینے میں کسی کو بھوکا، پیاسا اور ننگا نہیں رہنے دیں گے۔ یہ قوم اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہے اور مشکل وقت میں تو اور زیادہ ساتھ دے گی یہ قوم کبھی ہمسائے کو بھوکا نہیں رہنے دے گی اور اللہ کے فضل سے ان کے پاس رزق کی بھی کمی نہیں ہو گی… رزق کی کبھی کمی نہیں ہو گی۔


ای پیپر