انکشافات کا موسم
27 اپریل 2020 (22:52) 2020-04-27

’’ریاست مدینہ‘‘ کے دعویداروں کی نذر ایک واقعہ دہرائے دیتے ہیں : حضرت عمرؓ کا دور خلافت تھا۔ امیر المومنین رات کے پچھلے پہر گھوڑے پہ گشت کر رہے تھے۔ امیر المومنین نے ایک عورت کو تنہا جاتے ہوئے دیکھا تو سوچا کہ اس کو کیا مسئلہ ہو گا جو یہ رات کے پہر اکیلی جا رہی ہے۔ امیر المومنین نے ان سے پوچھا کہ بی بی آپ کو کوئی پریشانی یا مسئلہ تو نہیں وہ خاتون بولی کیا عمر مر گیا ہے؟ اللہ اکبر، حضرت عمرؓ چونک گئے اور پوچھا کون عمر؟ خاتون بولیں امیر المومنین عمر… حضرت عمرؓ کہنے لگے نہیں جواب میں خاتون نے کہا پھر تم کون ہو رعایا اور امت کا مسئلہ پوچھنے والے عمر زندہ ہیں۔ اگر مسئلہ ہوا تو پوچھ لے گا۔ مگر ہمارے ہاں تو ظلم ہو گیا کہ یہ دور اب اندھیروں کا دور نہیں پوری دنیا میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ چند لمحوں میں وائرل ہو جایا کرتا ہے۔ نہیں خبر تو بس ایک حکمران طبقے کو نہیں۔ کرائے پہ بین ڈالنے والی عورتوں کی طرح کے اینکرز، ترجمان اور شعبوں کے ہیڈز لگا رکھے ہیں اگر جھوٹ بولنے سے کوئی سچ دفن ہو سکتا ہوتا توآج پوری دنیا میں امام عالی مقام حضرت حسین علیہ اسلام کی بجائے یزید ملعون کے لیے عقیدت کے جلوس نکل رہے ہوتے۔ آج حق بات کو حسینیت اور باطل کو یزیدیت نہ کہا جاتا بلکہ وہ تو دور کی بات ہے۔ عصر حاضر میں حضرت شہباز قلندرؒ کے مرید جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کے نام پر لوگ ووٹ نہ دیتے بلکہ ضیاء الحق کے لیے خود سوزیاں کر رہے ہوتے۔

شہاب الدین محمد غوری جن کو پرتھوی راج کے ہاتھوں پہلی شکست کھانے کے بعد خواجہ غریب نوازؒ خواب میں ملے۔ اور فتح کی نوید دی۔ محمد شہاب الدین غوری نے دوسری جنگ میں پرتھوی راج کو عبرت بنا دیا۔ یہ وہی پرتھوی راج ہے جس نے خواجہ غریب نواز کے در پر مساکین کی بھیڑ کو بلاتفریق لنگر کھاتے ہوئے دیکھا اور سنا تو دلی چھوڑنے کا حکم دے دیا، جس پر خواجہ غریب نواز کے مساکین گھبرا گئے۔ خواجہؒ نے فرمایا: ’’ہم فقیروں کے لیے ایک رات بہت ہوا کرتی ہے‘‘۔ بس پھر حکم نافذ ہو گیا۔ فتح پانے کے بعد محمد شہاب الدین غوری مال متاع لے کر خواجہ غریب نواز کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے سارا مال اجمیر شریف کے لوگوں میں بلا تفریق بانٹنے کا حکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اجمیر شریف میں قیام فرما خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر بالاتفریق ہندو، سکھ ، مسلم، عیسائی، پارسی، ستارہ پرست سبھی عقیدت کے پھول اور چادر چڑھانے جاتے۔ وقت کے ہر بادشاہ نے ان کے د رپر حاضری دی۔ خواجہ غریب نواز حضرت داتا علی ہجویریؒ اور حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے پیر تھے۔ شہنشاہ اکبر چھوڑ اورنگزیب جیسے حکمران بھی ان کے در پر ننگے پاؤں گئے۔ لارڈ کرزن نے کہا تھا یہ کیسے بزرگ ہیں جو وفات پانے کے بعد بھی ہندوستان کے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ملکہ برطانیہ ہر سال چادر بھیجا کرتی جو درگاہ پر چڑھائی جاتی۔

میرے ایک بزرگ قاری محمد عبدالوہاب صدیقی ؒ لکڑ منڈی والے فرماتے : اقتدار کی راہداریوں اور ایوانوں میں تو اللہ والوں کا دم گھٹتا ہے شہرت سے بھی بھاگتے ہیں مگر آج میرا خیال ہے درجنوں بار احتجاجاً لکھ چکا ہوں کہ جہاں فلمی اور سٹیج اداکاروں کی تصویریں ہوا کرتی تھیں وہاں آج ان چوراہوں، کھمبوں، درختوں،رکشوں پر داڑھی، پگڑی، سلسلے اور القابات کے ساتھ دین کے دعویداروں کی تصویریں ہیں اور پورے پورے گروپ کے ساتھ ہیں۔ مجھے انتہائی دکھ ہے وطن عزیز کے ہر دلعزیز مولانا طارق جمیل کیوں اقتدار کے ایوانوں میں کھو گئے۔ پنجابی میں کہتے ہیں (مج دا مُل اودھے کلے تے ہوندا اے) بھینس کی قیمت اس کے کھونٹے پر ہوتی ہے۔ شاہجہان اپنے بیٹے دارالشکوہ کو دہلی سے سفر کر کے صحت اور زندگی کے لیے حضرت میاں میر صاحبؒ کے ہاں حاضری دینے اور دعا کروانے آیا تھا نہ کہ حضرت میاں میرصاحبؒ وہاں پہنچے۔

مولانا کے پیروکاروں نے ان سے عشق کیا ہے کیونکہ انہوں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل کی مدح سرائی کی۔ سیرت بیان کی۔ سیرت کا مطلب سمجھتے ہوئے کہ یہ پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے چند سال پر نہیں۔ حکمرانوں کو نیک سیرت کہہ ڈالا۔ اپنے آپ کو آقا کریمؐ کے در کا میراثی کہنے والے میرے دلدار مولانا نے سرکار کا شجرہ روضہ اقدس پر پڑھا اور یہ کیا زوال ہے کہ شاہ محمود قریشی کے ہاں بھی شجرہ پڑھ ڈالا جس کا شجرہ سب جانتے ہیں۔

ایک دفعہ میں نے فلم سٹار لالہ سدھیر سے سوال کیا کہ لالہ جی آپ ایک مقبول فنکار ہیں، بھارت میں تو دلیپ کمار، امتیابھ بچن، راجیش کھنہ، شترو گھن سنہا وغیرہ عوامی نمائندگی میں آئے۔ ہمارے ہاں حبیب، عنایت حسین بھٹی، طارق عزیز جو کہ آپ جتنے مقبول بھی نہیں وہ بھی آئے (بعد میں طارق عزیز رکن اسمبلی بھی رہے) آپ سیاست میں کیوں نہیں آئے۔ سدھیر نے مجھے لاجواب کر دیا یہ کہہ کر فنکار تو سب کا سانجھا (سب کا مشترکہ) ہوتا ہے۔ اگر میں انتخاب لڑوں گا تو سب کا مشترکہ نہیں رہوں گا ایک طبقے کا بن جاؤں گا لہٰذا میں سانجھا (سب کا مشترکہ رہنا چاہتا ہوں) متنازع نہیں۔ مجھے حیرانی ہے کہ ایک فلمسٹار کو مقبولیت کا راز معلوم تھا مگر مولانا نہ جانے کیوں اقتدار کے ایوانوں میں ہمارے مولانا کو چھوڑ آئے اور سب کے سانجھے ہونے کے بجائے ایک طبقے کے مخصوص ہو گئے۔ اگر عمران خان کے دربار میں کلمۂ حق کہہ ڈالا تھا تو پھر قائم رہنا تھا۔ اعجاز الحق کی طرح جلسہ گاہ میں ہوا میں لہرائی کلاشنکوف 24 گھنٹے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں کھلونا بن گئی۔ مولانا آپ نے عمران خان کی بے جا تعریف کے علاوہ زیادہ سچ بولا تھا۔ مجھے حیرت ہے اللہ سے کی جانے والی دعا کی معافی اینکرز سے کیوں مانگی گئی۔ بہت حوصلہ ہے زرداری کا پیپلزپارٹی کا جس کی ہمیشہ میڈیا نے کردار کشی کی مگر وہ کبھی بھی نہیں گھبرائے۔ تبلیغی جماعت کے مرکزی امیر حضرت حاجی و ہاب ؒکبھی کسی حاکم کے ہاں نہ گئے بلکہ وقت کے حاکم خواہش کرتے رہے حاجی صاحب سے ملاقات کرنے کی۔ دراصل اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ کسی کو موت نہیں دے گا جب تک انکشاف نہ کر دے۔ وزیراعظم اپنی مقبولیت کا اندازہ لگا لیں کہ ان کی تعریف کر کے ہر دلعزیز مولانا طارق جمیل متنازع ہو گئے۔ دراصل یہ انکشافات کا موسم ہے۔ جیسے کبھی گرفتاری، کبھی ضمانتوں کا موسم ہوتا ہے ویسے ہی آج حکمرانوں ، علماء، اینکرز، دانشوروں دنیا کی ترقی یافتہ عوام کی مصنوعی ترقی کا موسم ہے۔


ای پیپر