صراطِ حسان پر ایک تحسینی اظہاریہ
27 اپریل 2020 (22:50) 2020-04-27

نعتیہ ادب محض میلانِ طبع کے طفیل تخلیق کار کو اپنی جانب راغب کرتا بلکہ یہ ایک خاص عطا ہے جن کے لیے خاص دل اور خاص بصیرت چنی جاتی ہے ۔ جب تک کوئی تخلیق کار اپنے محبوب یا تصور کی جمالیات سے آشنا نہیں ہوتا وہ اسے لسانی طور پر متشکل نہیں کرسکتا ، گویا اپنے تصورِ محبوب کو تہذیبی جمالیاتی پیرائے اور لسانی ذخیرے کے ذریعے دریافت کرنا اور اسے ایک پختہ تر روایت میں ایک نئے ، تازہ اور قدرے مختلف انداز میں متن کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے اور جب معاملہ ہووجہِ کائنات سرورِ کونین نبیِ آخرالزماں حضرت محمد مصطفیؐ کی ذاتِ بابرکات کا کہ جن کی حیاتِ مبارکہ سے متعلقہ زیادہ تر زاویوں کو قرآن و حدیث اور بعد ازاں نعت میں محفوظ کر لیا گیا ہے تو بات ذوق سے زیادہ عطا ، متن سے زیادہ محبت اور اسلوب سے زیادہ نسبت کا معاملہ ٹھہرتا ہے ۔ اشفاق احمد غوری جو کہ سنجیدہ اور کہنہ مشق نعت گو شاعر ہیں کونعتیہ ادب محض ِ میلان طبع کے طفیل اپنی جانب راغب نہیں کرتا بلکہ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ عطا ان کے خاص قلب اور بصیرتِ خاص کی طفیل ہوا ہے اور اس کی گواہی ان کاتازہ تر مجموعہ ہائے نعت ’’ صراطِ حسان ‘‘ دیتا ہے ۔ حضرت حسان بن ثابت کی پیدائش مدینہ منورہ کی ہے طبعی عمر کے مطابق آپ کی پیدائش حضورؐ سے آٹھ برس قبل پیدا ہوئے اور ساٹھ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔ بڑھاپے کی وجہ سے جہاد السیف میں شامل نہ ہوسکے تاہم اپنے جوہرِ شعرسے دشمنوں کے سینوں کو چھلنی کرتے تھے۔قریشِ اسلام کے خلاف جب حضور ؐ نے ہجو کے بارے میں دریافت فرمایا تو آپ بولے کہ میں قریش کی ہجو کروں گا ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ میں بھی تو قریش ہی سے ہوں ۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ ؐ کو ان میں یوں کھینچ نکالوں گا جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے ‘‘۔ یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت حسان بن ثابت کو اپنے شعر ی جوہر اور لسانی گوہرسازی پر کتنا اعتماد تھے اور وہ کتنے خود آگاہ تھے اور اسی کے طفیل بارگاہِ رسالتؐ میں آپ کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ حضورؐ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے منبر بچھواتے اور اصحاب کی موجودگی میں اشعار سُنتے۔اور یہ شرف کسی اور صحابی کے حصے میں نہیں آیا (۲)۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو’’ اللھم ایدہ بروح القدس‘‘ اور ’’ اھجھم و جبرئیل معک ‘‘ کی بشارتیں بھی عطا ہوئیں۔

صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریظہ کے روز حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’مشرکین کی ہجو (یعنی مذمت) کرو یقینا جبرائیل علیہ السلام بھی (میری ناموس کے دفاع میں) تمہارے ساتھ شریک ہیں۔‘اشفاق احمد غوری صراطِ حسان میں اسی روایت کی پیروی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کے ہاں حضورؐ سے عقیدت ، شہرِ مدینہ کا ماحولیاتی تناظر ، احساسِ دروں ، حضورنبی کریم ؐ

بطور محور ر مرکز کائنات ، مدینہ سے دُوری کا کرب ، نعت گوئی بطورِ اعزاز ، اور آپ ؐ سے بطور عاشق تعلق کی جمالیاتی نسبتیں نعت کی گئی ہیں ۔ ان کے اشعار میں گریہ نہیں عقیدت ہے ایسی عقیدت جو اشک فشانی کو ایک فعلِ محض نہیں بلکہ عبادت بنا دیتا ہے ان کا ایک شعر دیکھیے :گرے جب اشک طیبہ میں پلک سے /ملائک تھامنے آئے فلک سے۔کیا ہی خوبصورت شعر ہے کہ حضورِ نبی کریم ؐ کی یاد میں اور محبت میں اشک بہانا ایک مقدس امر ہے کہ ان اشکوں کا زمین میں انجذاب میں اس بارگاہِ ایزدی میں قبول نہیں کہ وہ یہ درِ نایاب اپنے ہاں کہیں محفوظ رکھتا ہے ۔ اردو نعتیہ روایت میں بہت کم ایسے تازہ ، سادہ اور منفرد شعر نظر سے گزرے ہیں ۔ ہمارے ہاں شعری روایت میں ایک دانستگی کا پہلو نظر آتا ہے جس سے شعر میں کرافٹ نمایاں ہو جاتی ہے تاہم جن شعرا کے ہاں عطا کا معاملہ ہے وہاں شعر عقیدت کے ساتھ ساتھ کمال خوبصورتی سے سامنے آتا ہے کہ قاری کی نظر کے ساتھ ساتھ دل بھی گرفتار ہو جاتا ہے ۔ یہ شعر کچھ ایسے ہی اشعار میں شمار کیا جائے گااور میں اس مضمون کو نعتیہ ادب کے مضامین میں توسیع کے مترادف سمجھتا ہوں کہ یہ بالکل نویکلا شعر ہے ۔ایسے ہی ان کا ایک اور شعر دیکھیے : مجھے تھکنے نہیں دیتا درِ سرکارِ بطحا/اسی در کی کشش نے تازہ دم رکھا ہُوا ہے۔اس شعر میں ایک نعتیہ ادب کے حوالے سے ایک نیا اور غیر روایتی اظہاریہ ہے اور وہ ہے کشش کا ، عمومی طور پر زمینی نسبت کے لیے قلبِ عشاق اپنے محوری مرکز سے غیر فاصلاتی جڑت اور انجذاب کو اپنا مقصود تحریر کرتے ہیں اور یقینا ایک پروانے کے لیے اس سے زیادہ اعجاز کی بات کیا ہے کہ وہ مقامِ مقصود پہ اپنے عشق کا اظہار کرے لیکن شاعر نے اس شعر میں درِ سرکار بطحا پر جانے اور واپس آکر دوبارہ جانے کی کیفیت کو متن کیا ہے کہ بار بار باریابی کا شرف ایمانی اور کیفیاتی سطح پر جس طرح سے عاشق کو نویدِ حیات اوردیتا ہے اور اس کے دروں نورانی فیوض اور ارفع کرتا ہے اس کا لُطف الگ ہے ۔ گویا حاصل و محصول کے علاوہ طلب یا کشش میں نسبتی کیف ہے وہ ایک بے مثل کیفیت ہے اور اشفاق احمد غوری نے کیا کمال خوب صورتی سے اپنے نعتیہ شعر میں اسے جمالیاتی سطح پر محفوظ کیا ہے۔ ایسے ہی درج ذیل شعر کو ملاحظہ کیجیے:تمام سوچیں سنہری جالی پہ مرتکز ہیں /مرے خیالوں کو ایک محور ملا ہوا ہے۔اس مابعد جدید دور میں جہاں انسان منتشر خیالی کا شکار ہے وہاں روحانی طور پر بھی بکھرائو کا شکار ہے ۔ اس لامرکزیت نے انسان کو نجانے کتنے ہی مراکز سے منسلک کردیا ہے جس سے وہ اپنے جہانِ لخت لخت کا ایک غیر زمینی حوالہ بن کر رہ گیا ہے۔ درج بالا شعر میں اسی فکری مرکز کی طرف اشارہ ہے جو انسان کو منتشر الخیالی سے بچاتی ہیں اور اسے صراطِ مستقیم پر چلاتی ہیں ۔ اس کائنات کی فکری تجسیم کی اگر کوئی صورت بنتی ہے جو بھی اس محور سنہری جالیاں [ یعنی سنہری جالیوں میں محوِ استراحت نبی کریم ؐ ] ہی ہیں ۔ اس شعر میں مزکور ـ’ تمام سوچیں ‘ اس بات کی غمازی کرتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ترجمہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میرے جان ہے تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اُسے اُس کے والد (یعنی والدین) اور اُس کی اولاد سے زیادہ عزیز تر نہ ہو جاؤں۔ صحیح بخاری، کتاب نمبر 2، کِتَابُ الایمان (ایمان کا بیان)، باب نمبر 8، حدیث نمبر 1اسی حدیث ِ مبارکہ کو شاعر نے اپنے اس نعتیہ شعر میں متن کیا ہے ۔ نعتیہ ادب اور تنقید کا معالمہ بہت ہی نازک معاملہ ہے ۔ اس ضمن میں نعت رنگ [ نعتیہ ادب کا کتابی سلسلہ] مرتبہ صبیح رحمانی کے شمارہ ۲۸ ، نومبر ۲۰۱۸ میں ڈاکٹر اشفاق انجم ، مالیگائوں کا ایک مضمون بعنوان ’’ نعت۔ غلطی ہائے مضامین!!‘‘ بہت اہم ہے جس میں ڈاکٹر اشفاق انجم نے بہت سے نعتیہ اشعار کی امثال سے سمجھانے کی کوشش کی نعتیہ ادب میں کفریہ و شرکیہ ، تحقیرِ فردوس ، قرآن کی بے حرمتی ، اور گستاخانہ اشعار بھی شامل ہیں جو شعرا اپنے تئیں اظہار ِ محبت اور عقیدت میں تحریر کر گئے ۔ جب میں اشفاق احمد غوری کے نعتیہ مجموعے ’’ صراطِ حسان ‘‘ میں حتیٰ الامکان کوشش کی گئی ہے کہ نئی طرز سے اظہارِ عقیدت کیا جائے اور اس میں نزع سے بچا جائے ۔ اور ایک سچے عاشق کی حقیقی کیفیات کو متن کیا جائے ۔ درجِ ذیل شعر کو دیکھیے: بدن کو راہِ زیست پر گھسیٹتے رہے مگر/ہماری زیست سنگِ آستاں کے رُوبرو رہی۔اس شعر میں شاعر کمال خوب صورتی سے اپنے فکری مرکز کی تشکیل کی اور اپنے روحانی محور کو اس سے جوڑ کر رکھا ۔ ایک سچے عاشق کی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ سے اس کے محبوب کا چہرہ اور کی سیرت رہتی ہے اور اور آپ ؐ سیرت کی عملی تفسیر بننا ہی ایک مسلمان کا مقصود ہونا چاہیے ۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو کسیے بھی حالات سے سامنا کر رہا ہو اگر اس کا عملی منطقہ اور فکری منطقہ باہم ہیں اور ان کا محور آپ ؐ کی ذاتِ با برکات ہے تو آپ مقصودِ حیات کا پاچکے ہیں ۔ ایسے ہی بے شمار خوبصورت اشعار سے مزین اشفاق احمد غوری صاحب کا نعتیہ مجموعہ صراطِ حسان مزین ہے ۔ جس میں نعت کی روایتی صنف کو تازہ کاری اور نادرہ کاری سے مزین کیا گیا ہے جو اپنے فکری مرکز یعنی آپؐ کی ذاتِ با برکات سے جڑی رہتی ہے اور مختلف جمالیاتی راستوں سے ہوتی ہوئی اپنی عقیدت اور محبت کو متن کیا گیا ہے ۔ آپ نے بہت سے نئے موضوعات کو کمال خوب صورتی سے نعت کا موضوع بنایا ہے کہ ان کی لسانی درک کے قابلِ رشک پہلو سے شناسائی ہوتی ہے ۔امید ہے کہ یہ نعتیہ مجموعہ ہر دو جہانوں میں آپ کے لیے اور ہم سب کے لیے عقیدت، جمالیات اور تہذیبی دریافت ِ جادہِ رسول ؐ کا موجب بنے گا۔


ای پیپر