لاک ڈائون کے بعد اسمارٹ لاک ڈائون
27 اپریل 2020 (14:57) 2020-04-27

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے تدبیریں، کتنے اقدامات، خدائی لشکر پھر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بارہ ہزارسے زائد مریض اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ قرنطینہ، آئسولیشن وارڈ، کتنے دن ہوگئے نادیدہ مخلوق پکڑائی میں نہیں آرہی کیسا وائرس ہے جس نے بڑے بڑے ڈاکٹروں کو رلا دیا ہے۔ حکومت پریشان، وزیر مشیر روز سر پکڑے بیٹھے اسے روکنے کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں۔ کرونا وائرس سے جنگ کا عجیب انداز ہے ایک طرف لاک ڈائون سے فرار دوسری طرف کرونا سے جنگ پر اصرار، لاک ڈائون کے بعد اسمارٹ لاک ڈائون یہ کس بلا کا نام ہے؟ ایک ماہ کے دوران لاک دائون کا تو پتا چلگیا پہلے تین ہفتے خلق خدا مکمل لاک اپ میں قید، چوتھے ہفتے بھوک سے تنگ آکر گھروں سے نکل کھڑی ہوئی۔ کرونا وائرس تالیاں بجاتا سڑکوں پر آکر رقص کرنے لگا۔ مریضوں کی تعداد تین چار دنوں میں شوٹ اپ کر گئی۔ پہلے تین ہفتوں میں ایک ہزار چوتھے ہفتے دس ہزار، ڈاکٹروں نے کہا کہ زندگی لاک تھی تو وائرس بھی بند تھا زندگی رواں دواں ہوئی تو وہ بھی رہائی پا کر چمٹنے لگا۔ اموات میں اضافہ پر ڈاکٹروں کی تشویش بجا تھی کہ اسپتال بھر گئے ہیں، کیا سڑکوں پر مریضوں کا علاج کریں گے۔ لاک ڈائون کے بعد اسمارٹ لاک ڈائون کا اعلان، یعنی نرم گرم لاک ڈائون ، اگلے 15 دن اہم ہیں گھروں میں رہیں لیکن مساجد بھی بند نہیں کرسکتے۔ تراویح، نماز پنجگانہ، عبادات، کیسے بند ہوں گی رمضان المبارک میں سحر و افطار کے لیے خریداری یہی تو کھانے کمانے کے دن ہوتے ہیں سال بھر کی کمائی ایک مہینہ میں پھل مہنگا بیچنے والا کہنے لگا بھائی صاحب برکتوں والا مہینہ ہے ہم کیسے مسلمان ہیں حضرت علامہ اسی پر تو مغموم ہوئے تھے کہا تھا ’’ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود‘‘ لاک اپ میں مزید 15 دن کی توسیع لیکن اسمارٹ ، لاک اپ تھا تو سڑکیں سنسان بازار ویران تھے اسمارٹ لاک اپ کا اعلان ہوتے ہی عوام اسمارٹ ہوگئے سڑکوں پر ٹریفک جام، بازاروں میں خریداروں کا اژدہام، جمعہ کو 12 سے 3 تک سخت لاک اپ بندگان خدا 12 بجے سے پہلے ہی مساجد میں پہنچ گئے۔ پولیس کیسے پکڑے کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہو تو پکڑا جائے۔ 3 بجے کے بعد یوں لگا جیسے کرفیو اٹھا لیا گیا۔ دکانیں کھل گئیں، گروسری، پھل، سموسے، کھجوریں سب مہنگے داموں دستیاب لیکن لوگ ریڑھیوں ٹھیلوں پر ٹوٹے پڑتے تھے سماجی فاصلے کہاں گئے ؟حکمران کیا اپنے عوام کو جانتے نہیں پہنچانتے نہیں، وہ سماجی فاصلے پر یقین نہیں رکھتے سب ایک دوسرے کو دل سے زیادہ قریب جانتے ہیں۔ رمضان المبارک میں تو صلہ رحمی اور قربتیں اور بڑھ جاتی ہیں۔ اسی لیے لاک ڈائون کو نرم کر کے اسمارٹ لاک ڈائون میں تبدیل کردیا گیا۔ ویسے بھی تین چار ہفتوں کے دوران لوگ ’’گھر کی قید‘‘ سے تنگ آگئے تھے باہر کرونا گھر میں بیوی بچوں کا رونا، جرمنی میں تو بیویوں نے شوہروں کو کچن ڈیوٹی سونپ دی۔ جن شوہروں نے انکار کیا سینڈلوں سے ان کی پٹائی۔ شوہروں پر تشدد کے واقعات

بڑھے تو حکومت کو ان کی مدد کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنا پڑی، بے چارہ شوہر بیوی کے جوتے کھا کر تنگ آجائے تو ہیلپ لائن سے مدد طلب کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیروزگاری اور تنگدستی نے ڈیرے ڈال دیے۔ رمضان اور عید کا سیزن ریڈی میڈ کپڑے سینے اور فروخت کرنے والے گھروں میں بیٹھ گئے اور راشن بیگ کا انتظار کرنے لگے۔ ایک دوست نے کہا لگتا ہے اسمارٹ لاک اپ کے اعلان سے قبل ہمارے وزیر اعظم نے کرونا وائرس سے بھی مشاورت کرلی ہے۔ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا کہیں سخت لاک ڈائون نہیں۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ ’’بند کرو‘‘ گورنر ’’کھول دو‘‘ کے فلسفہ پر کار بند، تاجروں کا پیمانہ صبر لبریز، اعلان کردیا کہ یکم رمضان سے دکانیں کھولیں گے جنہوں نے تجرباتی طور پر کھولیں پولیس نے پکڑ کر بند کردیا۔ درخواست ضمانت مسترد 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیے گئے۔ کرونا وائرس ان تمام اقدامات سے بے نیاز اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے تو یہ کہہ کر اور خوفزدہ کردیا کہ جولائی کے وسط تک پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ ڈاکٹر کے منہ میں خاک کیا ہر ملک کے لیے کرونا وائرس کا کوٹا مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کے خاتمے کے بعد معاشی طور پر ختم ہوتی حکومتوں کو یہودی سرمایہ دارانہ سسٹم (پروٹوکول) کا تابع بنایا جاسکے۔ ہم احتیاط کر رہے ہیں، ہم احتیاط کریں گے اور ان شاء اللہ اس موذی وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔ ویسے بھی ہمارا جینا مرنا کرونا وائرس کے ساتھ ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نے کہہ دیا ہے کہ اب کرونا کے ساتھ جینا پڑے گا۔ حیرت ہے مولانا طارق جمیل اپنے بہتے آنسوئوں اور بھرائی آواز میں دعائوں سے بند باندھے ہوئے ہیں ہم نے اس کے باوجود جینا مرنا کرونا سے وابستہ کرلیا ہے۔ اسمارٹ لاک اپ کے تحت تاجروں اور دیگر طبقوں کے لیے ایس او پیز بنا لیے گئے ہیں۔ ایس او پیز کس بلا کا نام ہے؟ لگتا ہے اوپر سارے انگریز بیٹھے ہیں۔ ایسی اصطلاحات کا کیا فائدہ جسے عوام نہ سمجھ سکیں ایس او پیز کا سلیس اردو میں ترجمہ کر کے ضابطہ کار کہا جاتا تو عام آدمی سمجھ سکتا تھا ایس او پیز کے بارے میں اچھے بھلے پڑھے لکھے بھلے مانس نے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم ایس اوپیز کے نام سے راشن بیگ تقسیم کر رہے ہیں یار ہمارا نام بھی ایس او پیز میں درج کرا دو، تفصیل بتائی گئی تو شرمندہ ہوئے۔ ایس او پیز کیا ہیں صنعتیں کھول دیں لیکن پابندیاں لاگو، مساجد کھول دیں لیکن 20 شرائط نافذ، صدر مملکتکا فرمان کہ ان شرائط پر عملدرآمد نہ کرنے والا گناہگار، مفتیان کرام چپ، اب گناہ و ثواب کا تعین بھی اوپر سے ہوگا۔ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے کہے پر ناحق۔ اب گناہ گاروں کا تعین نعوذ باللہ صدر محترم اور ایوان صدر کا عملہ کرے گا، سزا پولیس والے دیں گے حساب کتاب ختم، ہمیں کرونا وائرس کے حملے کے بعد کئی طرح کی پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے۔ ہمیں مریضوں کی فکر کم معیشت کی فکر زیادہ ہے۔ معیشت کے لیے ماہرین چاہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں جو ہیں وہ ’’ سیاسی لاک ڈائون ‘‘ میں ہیں اس لیے ان سے مشاورت نہیں ہوسکتی۔ مدارالمہام نے کس درد مندی سے کہا کہ کرونا وائرس کے معاملے میں کسی ملک یا ادارے نے ایک ڈالر امداد نہیں دی۔ جاوید میانداد کا فون آیا کہ بچپن سے اب تک مانگ ہی رہے ہیں۔ کرونا کے بعد معیشت کی تباہی کا سامنا ہوگا۔ دنیا بھر میں معیشتیںتباہ ہو رہی ہیں ہمارے ہاں ڈالر مہنگا ہو رہا ہے۔ قرضے اسی حساب سے بڑھ رہے ہیں۔ ہم کسی معاملہ میں سنجیدہ نہیں ،دور رس منصوبے ہماری عقل و فہم سے دور ہیں اس کے باوجود ہم عقل کل ہیں مخالف سمت سے کوئی اچھی تجویز بھی سامنے آجائے تو ہم بدک جاتے ہیں وائرس کے حملہ آور ہونے کے بعد مصافحہ یا معانقہ پر پابندی لگی قسم لے لیجیے ہم نے تو ڈیڑھ سال سے کسی مخالف سے ہاتھ ملایا نہ اسے گلے لگایا، قومیں بد ترین حالات میں باہمی مشاورت سے منصوبہ بندی کرلیتی ہیں ہم اپنی انا، تکبر اور احساس برتری کے چنگل سے آزادی حاصل نہیں کرسکے۔ 73 سال سے قومی کردار کے سلسلے میں ہم ایس او پیز نہیں بنا سکے۔ قوم کیا بنے گی۔ شاید اسی لیے ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘ کرونا اور معیشت بڑا امتحان دونوں کا علاج ڈھونڈنا ہوگا۔ اسمارٹ لاک اپ سے کام نہیں چلے گا۔


ای پیپر