کورونا وا ئیر س، اور کیا کرنا چا ہیے؟
27 اپریل 2020 (14:56) 2020-04-27

تا دمِ تحر یر وطنِ عز یز میں کر ونا متا ثر ین کی تعدا د تیرہ ہزار سے تجا وز کر چکی ہے۔ جب کہ اس مو ذی مر ض سے لقمہء اجل بننے والو ن کی تعداد لگ بھگ پونے تین سو ہو چکی ہے۔ اس وقت بلاشبہ پوری قوم کی دعا ہے کہ کورونا وائرس سے ملک کی جان چھوٹے۔ چین سے ویکسین کی نعمت ملنے کی قوم کو خوش خبری مل چکی۔ ویکسین کے استعمال کے لیے چار ماہ ابھی انتظار کرنا پڑے گا۔ طبی ما ہر ین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈائون سخت کیا جائے ، کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی لانے کی موثر کوششوں کی مزید ضرورت ہے۔ طب کی دنیا کے لیے سب سے بنیادی سوال لاک ڈائون پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے مگر بپھرے ہوئے لوگ جنہیں غربت، بیروزگاری اور غیر یقینی صورتحال نے جذباتی اور اعصابی طور پر نڈھال کردیا ہے وہ سڑکوں پر آگئے ہیں۔ ایک بین الاقوامی معاشی اضطراب بڑھتا چلا جارہاہے۔ گلوبلائزیشن نے رابطے پیدا کردیے ہیں۔ کورونا پر ہونے والی تحقیق، ہسپتالوں میں لگنے والی بھیڑ، مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز اور دیگر آلات کی کمی نے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔ ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں کہ مستحکم صحت کے نظام دھڑام سے گرنے لگے ہیں۔ جاپان کا ہیلتھ سسٹم شفافیت میں اعلیٰ مقام پر تھا اور ہر شک سے بالا تر۔ برطانیہ اور امریکہ کے نظام ہائے صحت پر کسی کی دو رائے نہیں تھی مگر کورونا وائرس نے سب پر جھاڑو پھیر دی۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا جانے کے لیے نہیں آیا، وہ رہنے پر بضد ہے۔ لوگ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، لاک ڈائون پر یقین رکھیں، حکومتی ایس او پیز کی پابندی کریں، ڈبلیو ایچ او کے اس انتباہ کے مطابق دنیا میں اموات دو لاکھ سے ز یا دہ ہو چکی ہیں۔ جاپان میں ہیلتھ نظام پر کسی کو شک نہ تھا لیکن 8 شیر خوار بچوںمیں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ آج نیویارک، اٹلی، سپین سمیت یورپ کے کئی ملکوں کے سماجی اور معاشی حالات دگرگوں ہیں جسے دیکھتے ہوئے کورونا کو مکافات فطرت کا نام دیا جاسکتا ہے۔ بنیادی طور پر کورونا کے بارے میں عجیب و غریب تاویل، تبصرے اور افواہوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ مغرب میں تو ابھی اس بات پر تحقیق ہونے لگی ہے کہ 2030 میں چین کا بدنام زمانہ ’’سارس‘‘ Cov-3 پھر سر اٹھائے گا۔

مختلف ملکوں میں ڈاکٹروں، ماہرین اور عوام کی رائے یکساں نہیں۔ بعض عناصر کا کہنا ہے کہ کورونا ایک معمہ ہے۔ سندھ میں اتنی تیزی سے ممکنہ ہلاکتوں پر رائے قائم کی جاتی ہے کہ وفاق کو کم از کم لاک ڈائون پر اپنی پالیسی میں استقامت لانے کے لیے ہفتوں گزرجاتے ہیں، اتفاق رائے کا شدید فقدان ہے۔ تاجر آج سے دکانیں کھولنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ لاک ڈائون ضرور ہو مگر ہلاکتیں نہ ہوں، لوگ غربت سے نہ مرجائیں۔ اس صائب انداز نظر پر ہٹ دھرمی کی نہیں ایک نتیجہ خیز قومی بیانیے کی ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ سیاسی کشیدگی، بلیم گیم، بداعتمادی اور شکوک و شبہات کے گورکھ دھندے میں کورونا پر ایک غیرمتزلزل پالیسی بنانے کی بات ایں خیال است و محال است و جنوں سے آگے نہیں بڑھتی۔ خدا نہ کرے ملکی مافیا، مفاد پرست عالمی گروہ یا بین المملکتی داستان گو کورونا وائرس کو اکیسویں صدی کی سب سے مہیب

وبائی داستان سے جوڑ دیں۔ ابھی اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کورونا کہیں کاروبار کی شکل اختیار نہ کرلے۔ جاری ملکی منظرنامے میں کوئی بات ناممکن نہیں۔ مافیاز کو کیفرکردار تک پہنچانے کی باتیں تو ہورہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اور چینی صوبہ ووہان سے کورونا کے سد باب اور لاک ڈائون کے خاتمہ کے تقابل کرنا دشوار ہے کیونکہ صحت حکام اس نکتہ پر متفق نہیں ہوسکے کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود کورونا کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں انفیکشن کنٹرول اور اس کی روک تھام کے لیے مناسب سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بیماریوں کا دبائو دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ کورونا کی وبا کے بعد ملک میں میڈیکل یونیورسٹی میں تدریس اور شعبہ صحت میں سرمایہ کاری کے معیارت مختلف ہوجائیں گے۔ آئندہ نسلوں کے لیے اس وبا کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمیں اسی کے مطابق اپنے صحت کے شعبے کو از سرنو تشکیل دینا چاہیے۔ وبائی امراض کے بعد ترقی پذیر ممالک میں صحت کے شعبے کبھی بھی موجود نظام جیسے نہیں ہوں گے۔ عوامی صحت کے شعبے اور وبا کی روک تھام سے متعلق امور پر پوری تاریخ میں کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی جس طرح اب دی جارہی ہے۔ آئندہ چند برس میں میڈیکل انڈسٹری، وزارت صحت سمیت تمام ایسے شعبہ جات جو طب سے وابستہ ہیں ان کی ساخت میں تبدیلی آئے گی جس کے مثبت اثرات ہماری آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ماہرین صحت اور طبی تنظیموں نے ملک بھر میں سخت لاک ڈائون کا مطالبہ کرتے ہوئے علمائے کرام سے درخواست کی ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر لاک ڈائون میں نرمی برقرار رہی تو صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔ گزشتہ چار دنوں میں کیسز کی شرح میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہسپتالوں میں بستروں کی کمی ہے، ایسا نہ ہو کہ مریضوں کا علاج سڑکوں پر کرنا پڑ جائے۔ ان خیالات کا اظہار انڈس ہسپتاک کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کراچی کے صدر ڈاکٹر عظیم الدین، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد، معروف ماہر پیٹ و معدہ ڈاکٹر سعد نیاز خالد، پیما کے سابق صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی و دیگر نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ کراچی میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا، 14 اپریل کو لاک ڈائون کا فیصلہ ہوا، لاک ڈائون نرم ہوا تو کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ ڈاکٹرز بھی کورونا کا شکار ہونے لگے ہیں۔ پانچ دنوں میں مریضوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر مریض بڑھ گئے تو ہمارے پاس ہسپتالوں میں بستر نہیں ہوں گے، اگلے دو یا چار ہفتوں میں کیسز مزید بڑھیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کے مابین لاک ڈائون کی یکساں پالیسی اب بھی لاگو نہ ہوئی تو اندیشے حقیقت کا روپ دھار لیں گے، ہلاکتیں بڑھ جائیں گی۔ اگر صورت حال سے مفر ممکن نہیں تو حکمران ریاستی رٹ قائم کیوں نہیں کرتے۔ اگر ووہان کو سخت ترین لاک ڈائون سے ہی نجات ملی تو ہماری حکومت ایس ہی نجات دہندہ بننے کے لیے پیش رفت سے گریزاں کیوں ہے۔ یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر لاک ڈائون نظام صحت سمیت کورونا کے مریضوں کو بڑھاوا دینے کا بنیادی سبب بن سکتا ہے۔

ارباب اختیار کو اس تھیوری پر بھی غور کرنا چاہیے جس میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فلو سے عمومی ہلاکتوں کا جائزہ لیا جائے تو ان ہلاکتوں کی شرح کے مقابلہ میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ہے۔ ملک میں مختلف امراض میں ہلاکتوں کی سالانہ اور یومیہ شرح کے مکمل ڈیٹا کو پبلک کرنے کا مطالبہ بھی قابل غور ہے۔ عوامی رائے ہے کہ کیا کورونا کی آمد کے بعد پاکستان کے شہری و دیہی علاقوں میں دوسرے مریضوں کی ہلاکتیں رک گئی ہیں؟ چنانچہ سندھ سمیت تمام صوبوں کو ممکنہ ہلاکتوں کے خطرہ کے پیش نظر ایک متفقہ لاک ڈائون پالیسی بنالینی چاہیے، مگر اس سے زیادہ توجہ کابینہ میں توسیع پر ہے۔ سنا ہے اتحادی وزارتیں مانگ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لیاری جنرل ہسپتال نو گو ایریا بنا ہوا ہے، عام مریض خوف کے مارے ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف Herd Immunity کی اصطلاح بھی مستعمل ہے جس کا مطلب مریض میں مرض کے خلاف مدافعتی قوت اور گروہی استثنیٰ کی فطرتی صلاحیت کا ہونا ہے لیکن ضرورت ایک اجتماعی طبی میکنزم، مربوط لائحہ عمل اور قومی جوش و جذبہ کی ہے جس میں پوری قوم کورونا سے نمٹنے کے لیے جان لڑانے پر تیار ہوجائے۔


ای پیپر