حکومت پر بڑھتا دبائو اور جزوی لاک ڈائون
27 اپریل 2020 (14:55) 2020-04-27

تحریک انصاف کی حکومت شدید دبائو میں ہے۔ حکومت پر ایک طرف تو کاروبار کھولنے کا دبائو ہے اور حکومت خود بھی کاروبار اور صنعتوں کو کھولنے کی حامی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان ابتداء سے ہی لاک ڈائون کے حامی نہیں تھے۔ وہ بس تھوڑی بہت احتیاطی تدابیر کے حق میں تھے مگر کرونا وائرس کے پھیلائو کے خوف نے صوبائی حکومتوں کو جزوی لاک ڈائون پر مجبور کر دیا۔ البتہ سندھ حکومت شروع سے ہی مکمل لاک کی حامی تھی اور اس نے کوشش بھی کی کہ سندھ میں سخت لاک ڈائون کیا جائے۔ سندھ حکومت نے لوگوں کی نقل و حرکت کو بھی محدود کر دیا۔ سندھ حکومت نے ابتداء سے ہی واضح پالیسی اور حکمت عملی اختیار کی۔ ان سب اقدامات کے باوجود سندھ میں کرونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد 4700 سے زائد ہو چکی ہے۔

لاہور میں بڑی مارکیٹیں اگرچہ بند ہیں مگر چھوٹے کاروبار کھل گئے ہیں۔ لاہور کی سب سے بڑی سبزی منڈی میرے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ کل پہلے روزے والے دن احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے منڈی کا جائزہ لینے باہر نکلا تو وہاں عجب منظر تھا۔ منڈی اپنے جوبن پر تھی۔ بادامی باغ کی سبزی منڈی کو دیکھ کر یہ قطعاً محسوس نہیں ہوا کہ لاہور میں کرونا وائرس نام کا کوئی وائرس پایا جاتا ہے۔ ماسک، سینی ٹائزر، صابن سے ہاتھ دھونے ، سماجی فاصلہ رکھنے کی ہدایات اور نصیحتیں کسی کو یاد نہیں تھیں۔ لوگوں کے درمیان بس مشکل چند انچ کا ہی فاصلہ تھا۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ منڈی کی صورتحال دیکھ کر میں خوفزدہ ہو گیا۔

یہی صورتحال شام کو افطاری سے قبل پھلوں کی ریڑھیوں اور پکوڑوں ،سموسوں کی دکانوں پر تھی۔ اپنے اس طرزعمل سے ہم خود ایک بڑی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ کل کم از کم مجھے تو کہیں لاک ڈائون نظرنہیں آیا۔ حکومت کو اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا کام محض بیانات جاری کرنا نہیں ہوتا بلکہ پالیسی بنانا اور پھر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس ملک میں صرف 3700وینٹی لیٹرز ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد پہلے ہی 12700 سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی، لاہور اور پشاور

میں ڈاکٹروں کی تنظیموں کو پریس کانفرنس کر کے اپنا نقطہ نظر اور رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے رمضان میں نماز کے اجتماعات اور تراویح کی اجازت دینے اور لاک ڈائون میں نرمی کرنے کے حکومتی فیصلوں کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ لاک ڈائون میں نہ صرف توسیع کی جائے بلکہ اس کو مزید سخت کیا جائے۔ کراچی کے ڈاکٹروں کی پریس کانفرنس پر تو حکومتی ترجمانوں نے سندھ حکومت کی زبان بولنے کا الزام لگا دیا مگر لاہور اور پشاور کے ڈاکٹروں کے بارے میں نہیں بتایا کہ وہ کن کی زبان بول رہے ہیں۔ حکومتوں کا مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ بس وہی سننا اور دیکھنا چاہتی ہیں جو ان کو پسند ہو۔ اس لئے حکمرانوں کیلئے ہر وہ شخص ناپسندیدہ ٹھہرتا ہے جو زمینی حقائق بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اب ایک طرف حکومت پر کاروباری برادری کا دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ تمام کاروبار کھول دے تاکہ وہ عید تک اپنے کاروبار چلا سکیں۔ حکومت بھی یہی چاہتی ہے مگر دوسری طرف ڈاکٹرز اور صحت کے ماہرین ہیں جو کہ حکومت کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر نقل و حرکت اور کاروبار کی اجازت دی گئی تو اس سے کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر لاک ڈائون میں نرمی کی گئی تو 15مئی تک کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 70,000 (ستر ہزار) تک جا سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں کم از کم 7000 لوگوں کو وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں تو وینٹی لیٹرز کی کل تعداد 3700 کے لگ بھگ ہے۔ اس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹرز نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ہر طرح کے اجتماعات پر پابندی لگائی جائے۔ شاپنگ مالز، مارکیٹیں وغیرہ بھی بند رکھی جائیں۔ ڈاکٹرز نے علمائے کرام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اجتماعات نہ کریں اور گھروں پر نماز ادا کریں۔ہمیں فرانس، سپین، امریکہ اور برطانیہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان ممالک نے اس وباء سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات نہیں کئے تھے جس کے نتیجے میں وہاں اتنی تباہی ہوئی۔ ان تمام ممالک میں دائیں بازو کی مقبول حکومتیں ہیں اور ان کے حکمران نظریاتی طور پر معیشت کو بند کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان حکومتوں نے ابتداء میں اس معاملے کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا اور پھر بعد میں اس کے نتائج بھی بھگتے۔

ان حکمرانوں نے کاروبار اور معیشت کو رواں دواں رکھنے کی کوشش کی۔ یہ حکمران لاک ڈائون کے مخالف تھے مگر جیسے جیسے کرونا وائرس کی وباء پھیلی اور اموات میں اضافہ ہوا اور ہسپتال مریضوں سے بھر گئے تو ان حکومتوں کو لاک ڈائون کرنا پڑا۔ اس نیم دلانہ اور ادھوری پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف معاشی نقصان ہوا بلکہ انسانی جانیں بھی گئیں۔ اب تک دنیا بھر میں 2 لاکھ سے زائد افراد جان سے گئے ہیں جبکہ 28لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

ہمیں ان ممالک سے سبق سیکھتے ہوئے ایسی صورتحال کو پیدا ہونے سے روکنا ہے جہاں ہزاروں افراد کو ہسپتالوں میں داخل کرنا پڑے۔ ہم تو پہلے ہی یہ جان رہے ہیں کہ ہمارے صحت کے نظام میں اتنا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ لاہور میں تو پہلے ہی ڈاکٹر اور صحت کا عملہ بھوک ہڑتال پر ہے، وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں حفاظتی سازوسامان فراہم کیا جائے۔ اب تک متعدد ڈاکٹرز کرونا کے خلاف لڑتے ہوئے اور انسانی جانوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جانوں سے جا چکے ہیں۔ کل ہی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سینئر ڈاکٹر محمد جاوید خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ کانوں اور گلے کے ماہر سینئر سرجن تھے۔ انہیں ایک ہفتہ قبل کرونا وائرس کا انفیکشن ہوا اور وہ چند دن بعد چل بسے۔ اس وقت تک 150 کے قریب ڈاکٹرز، نرسز اور ہسپتال کے دیگر عملے کے ارکان میں کرونا وائرس پایا گیا ہے۔ اپنے ہیروز کو ضروری سازوسامان فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جسے اسے پورا کرنا چاہئے۔ ان کے مطالبات کو تسلیم کر کے ان کا مان بڑھانا چاہئے۔


ای پیپر