تم اکیلے نہیں
27 اپریل 2020 (14:55) 2020-04-27

کہا جاتا ہے،جب غازی علم دین شہید نے گستاخ رسول کو جہنم واصل کیا، تو ہندو دین اسلام پر حملے کرنے لگے اور اعلانیہ کہا جانے لگا،اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے، محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میںبڑی درد مندی سے کہا !کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کر ے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں،اس عہد میں صرف چوبیس سال کی عمر میں بیسویں صدی کے مجدد سید مودودیؒ نے ’’الجہاد فی اسلام‘‘ شاہکار کتاب لکھی، جب یہ مسودہ علامہ اقبال کے ہاتھ لگا تو انہوں نے بہت پذیرائی کی،اقبالؒ کی دعوت پر سید مودودی نے لاہور کا رخت سفر باندھا، اگرچہ جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آچکا تھا لیکن تقسیم ہند کے بعد نام کے ساتھ پاکستان کا اضافہ کردیا گیاتھا، لیکن سید کے وژن نے ہم عصرجما عتوں کے مقابلہ میں اسکی بنیاد دستور اور اصول پر رکھی تھی ،جن اداروں کے قیام کا مشورہ مسلم لیگ کے راہنماء خواجہ سعد رفیق اب سیاسی جماعتوں کو اب دے رہے ہیں، سید مودودی نے جماعت کے قیام کے ساتھ ہی اس پر عمل درآمد کر لیا تھا، انھوں نے قریبا تمام شعبہ زندگی سے تعلیم یافتہ افراد کو اپنی اپنی جگہ پر دعوت دین کے ساتھ ساتھ، بلا تعصب،جذبہ حب الوطنی سے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری تفویض کی تھی ،ان میںاساتذہ، طلباء، وکلاء،ڈاکٹرز، علماء کسان ، تاجر، اور ٹریڈیونین، اور مزدوروں کا طبقہ شامل تھا۔

قیام پاکستان کے وقت جب سب بھنگی لاہور چھوڑ گئے تھے تو تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانان نے گند تک اپنے ہاتھوں سے اٹھایا تھا، اس طرح و الٹن میں جہاں مہاجرین مقیم تھے وہاں انکی خدمت میں بھی مصروف رہے، یہ خدمت خلق کا شعبہ تھا جو اس وقت محدو د پیمانے پر متحرک تھا،مگر ضرورت مندوں کی پذیرائی کی جاتی تھی،غالبا ستر کی دہائی میں

ملتان میں ہیضہ کی وباء پھیلی جب سہولیات بھی محدود تھیں تو اس وقت ملتان کے معروف قانون دان وزیر خاںغازی، اور تاجر عقیل صدیقی مرحومین نے نشتر ہسپتال کے سامنے کیمپ لگایا اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کی، جب ان دنوں سیلاب آیا تو اس وقت کے امیر جماعت اسلامی ملتان محمد اعظم مرحوم نے فوج کے ساتھ مل کر متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، انسانی خدمت کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی خود جماعت، لیکن نوئے کی دہائی میں سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم نے ’’ خدمت خلق‘‘ کے شعبہ کو سرکاری سطح پر رجسٹرڈ کروایا ، محترم لیاقت بلوچ اسکے پہلے صدر،اور احسان اللہ وقاص جنرل سیکرٹری بنے،اس کے بعد سے یہ تنظیم ’’ الخدمت فاونڈیشن پاکستان‘‘ کے نام سے ملک بھر میں بلا امتیاز، رنگ ونسل، عقیدہ، مذہب سماجی خدمت انجام دے رہی ہے، عوامی اعتماد، پذیرائی، تعاون سے یہ آرگنائزیشن صحت، تعلیم، صاف پانی ؎ڈایئگناسٹک سنٹرز، ناگہانی آفات کے علاوہ غرباء کے لئے فوڈ کی فراہمی، مستحق طلباء کے لئے وظائف، بے روزگاروں کے لئے بلاسود قرض ، یتامیٰ کی پرورش، بے سہارا بچوں کی ترتبت ،انکی پناہ گاہوں کی تعمیر قابل ذکر شعبہ جات میں خدمات دے رہی ہے۔

کروناء وباء کے خلاف عصر حاضر میں الخدمت کی عوام کو ریلیف پہنچانے کی پذیرائی جوعوام، اہل علم وقلم ، سیاسی زعماء،مذہبی راہنماوں، دانشور طبقہ نے کی ہے وہ بھی مثالی ہے،اسکے امیر خود کارکنان کے ہمراہ رہے ،انھوں نے ہسپتالوں میں جاکر کروناء کے متاثرہ مریضوں کی اس وقت عیادت کی جب سب ڈر سے دبک کر کمروں میں بیٹھ گئے ، محتاط اندازے کے مطابق ایک ارب سے زائد مالیت کا راشن اور امدادی، حفاظتی سامان ضرورت مندوں میں تقسیم ہوچکا یہ سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔دلچسپ یہ کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو بھی سپرے سے محفوظ کیا گیا، جانوروں کو کھانا کھلایا گیا، قیدیوں کی خبر لی گئی، ڈاکٹرز، جیل اور پولیس کے عملہ کو حفاظتی لباس دیئے گئے، الخدمت کی مرکزی قیادت بھی امیر محترم کے شانہ بشانہ رہی۔

اکیلی حکومت کبھی اس نوع کی ناگہانی آفت سے نبردآزماء نہیں ہوسکتی، عوام،سماجی طبقات، این۔ جی۔ اوز کو ہی دست بازو بننا پڑتا ہے،تاہم الخدمت فاونڈیشن نے پہلے قدم اٹھا کر درخشاں روایت قائم کی ہے، جس کا کوئی سیاسی مقصد بھی نہ تھا، انسانی خدمت اور اس وطن کے باسی ہی انکے سامنے تھے۔نظریاتی طور پر جماعت سے وابستہ ڈاکٹرز کی تنظیم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن بھی انکے ساتھ شبانہ روز محنت میں مصروف رہی اور گراں قدر خدمات انجام دیں۔ حیرت انگیز یہ ہے کہ خوف کے اس ماحول میں جب سبکو اپنی جان کے لالے پڑے تھے، لخدمت کے کارکنان بلامعاوضہ دیر سے کراچی تک عوام کی دہلیز تک راشن دینے میںمگن تھے،یہ پیسہ اپنی جیب سے تو نہیںلگا رہے تھے ، عوام کا دیا تھا،طرفہ تماشہ یہ تھا، عوام نے مشکل وقت کے لئے اپنے سیاسی نمائندے چنے تھے وہ خود ان کے ساتھ گھروں میں بند تھے اور وہ ایلیٹ کلاس کا طبقہ جس کا دل صرف’’ صنف نازک‘‘ کے حقوق کے لئے ہی دھڑکتا ہے، جو بھاری بھر فنڈ ’’انسانی خدمت‘‘ کے نام پر عالمی اداروں سے لیتی رہیں، وہ اس مرحلہ پر کہیں بھی دکھائی نہیں دیں۔سابقہ سرکار نے اس طرز کی بہت سی این۔ جی۔اوز کو اس لئے دیس نکالا دیا تھا کہ انکے عزائم ہماری قومی پالیسی سے میل نہیں کھاتے تھے، اس قماش کے گروہ کو دیا جانے والا بجٹ ، اگر ہمارے خزانہ پر بوجھ ہے تو اس سے ہاتھ کھینچ لینے میں کوئی حرج نہیں اگر یہ مفاداتی گروہ ہمارے دکھوں پر مرہم نہیں رکھ سکا توآیندہ امید رکھنا ہی عبث ہے اس مشکل میںعوام کو تنہائی سے نکالنے کے لئے ’’ تم اکیلے نہیں ‘‘کا جو سلوگن الخدمت نے دیا ہے ہمارا یقین ہے، یہ قطعی عارضی نہیں ۔

اس وقت دنیا بھر میں کروناوائرس کی موجودگی میں ایک اور آفت؛قحط،ناخواندگی اور غربت؛سر پرمنڈلا رہی ہے۔طبی ماہرین کا کہناہے کہ اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کونہ صرف عالمی وبا ء بلکہ ایک انسانی آفت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس وقت

اس وقت دنیا بھر میں کروناوائرس کی موجودگی میں ایک اور آفت؛قحط،ناخواندگی اور غربت؛سر پرمنڈلا رہی ہے۔طبی ماہرین کا کہناہے کہ اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کونہ صرف عالمی وبا ء بلکہ ایک انسانی آفت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس وقت دنیا کے کم از کم تین درجن ممالک میں قحط کا خطرہ متوقع ہے اور قحط جیسی انسانی آفت جسے اس وقت انسانیت کو سامنا ہے،کی نوعیت دوسری جنگ عظیم کے بعد سے پہلی بار بہت زیادہ شدید ہے۔اس وقت دنیا کے ترقی ممالک بہت سے کمزوریوں اور محرومیوں کا شکار ہیں،مثلاً گندی اور تاریک غیرمعمولی گنجان بستیاں، حفظان صحت کا کمزور نظام جس میں معالجین کی تعداد مطلوبہ مقدار سے کم ہے جبکہ وینٹی لیٹرز کی بہت زیادہ قلت ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے طبی ماہرین لوگوںکو ہدایت کر رہے ہیںکہ کروناوائرس سے بچنے کی خاطر ہاتھوں اور بازئووں کو صابن سے باربار دھویا جائے لیکن دنیا بھر کے افراد کے گھروں میں ہاتھ اور بازو دھونے کی استعداد سے کہیں زیادہ سیل فون رکھنے کی استعداد موجود ہے۔دنیا بھر میں دس میں سے چار یعنی کل 3بلین لوگوں کو گھر پر ہاتھ اور بازو دھونے کی سہولت حاصل ہے۔غریب ممالک کے معالجین اور طبی عملے کے لیے محض فیس ماسک کی کمی ہی مسئلہ نہیں بلکہ ترقی پذیرممالک میں موجودایک تہائی مراکز صحت میں ہاتھ دھونے کی سہولت موجود نہیں ۔اس وقت اس صورت حال کے باعث ترقی پذیر ممالک میں صحت کی کمزور نوعیت کا تصور کیا جا سکتا ہے۔یہ امر بھی حقیقت ہے کہ کروناوائرس دیگر لوگوں کو بھی ہلاک کر سکتا ہے اور خاص طور پر وہ لوگ جلدی اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں جنہیں پہلے ہی سے متعددامراض لاحق ہیں اور یہ صورت حال ترقی پذیرممالک میںبدرجہ اتم موجود ہے۔اس وقت انگلولا،برکینا یا کینیا میں محض دو فیصد لوگوں کی عمر 65برس سے زائد ہے۔ہیٹی میں یہ شرح پانچ فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح چھ فیصد ہے۔ اس کے برعکس اٹلی میں 23 فیصد افراد کی عمر65برس سے زائدہے اور پھرامریکہ میں یہ شرح 16فیصدہے۔اسی طرح امریکہ میں 70 فیصدافراد مٹاپے کا شکار ہیں اور یہ صورت حال کروناوائرس کے پھیلائو میں مددگار ہے۔ مزید یہ کہ ترقی پذیرممالک میں مٹاپا ایک عام مرض ہے جس کی وجہ سے کرونا بہت زیادہ پھیل سکتا ہے۔اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کروناوائرس کس طرح غریب ممالک کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔اقوام متحدہ کے طبی ماہرین کا خیال ہے کہ غریب ممالک میں کروناوائرس کے پھیلائو کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کروناوائرس کے باعث غریب اور ترقی ممالک پر اثرات تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ دنیا بھرکے غریب اور ترقی ممالک میں ڈینگی کے تدارک اور بچائو کی مہم بند ہو چکی ہے اور پھر ترقی پذیر ممالک میں وٹامن اے کی فراہمی بھی بند ہو چکی ہے اور اس کے اثرات بہت ہی زیادہ مضر ہوں گے۔ترقی پذیر اور غریب ممالک میں،جہاں کروناوائرس نے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے ،عام آدمی کی آمدن میں بہت زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے۔کارخانہ مزدوروں کی آمدن میںبھی 70فیصدکمی ہو چکی ہے، ڈرائیوروںکی آمدن محض 20 فیصد ہے،دہاڑی دارمزدوروں کی آمدنی میں بھی بہت زیادہ کمی ہو چکی ہے، گھریلو ملازمائوں کو ملازمت سے نکال دیا گیا ہے،لوگوںکے گھروں میں خورا ک کی مقدار مسلسل کم ہو رہی ہے۔دنیا کے اکثر ترقی پذیر اور غریب ممالک میںسکول،تعلیمی ادارے بند ہیں اور یہ بھی خطرہ ہے کہ بہت سے طالب علم،خاص طور پر لڑکیاں،دوبارہ تعلیمی اداروںکی شکل نہیں دیکھ سکیںگی۔ترقی پذیر اور غریب ممالک میں کروناوائرس کے باعث بہت سے ایسے افراد کی صحت کے لیے خطرات میں اضافہ ہو چکا ہے جو پہلے ہی صحت کے متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔ترقی پذیر اور غریب ممالک میں مسلسل لاک ڈائون کے باعث لوگوں کی زندگیاں اور معاشی ذرائع تباہ ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے نے خبردار کیاہے کہ ترقی پذیر اور غریب ممالک میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد دگنا ہو سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر،خاص طور پر ترقی پذیر اور غریب ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد ملازمتوں اور روزگار سے محروم ہو چکی ہے اور خطرہ یہ ہے کہ لوگ اب بھوک سے مرنے کے بجائے کروناوائرس سے مرنے کو ترجیح دیں گے۔


ای پیپر