انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمانوںسے تعصب
27 اپریل 2020 (14:54) 2020-04-27

ہندو آج سے نہیں بلکہ سالہا سال سے غیر مذاہب سے متعصب چلا آرہا ہے خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ تو اس کا تعصب عروج پرہے۔ہندوستان کے سیاستدانوں نے وہاں کے مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ چنانچہ پہلے کانگریس نے سیکولر ازم کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں کی ترقی کی قسمیں کھائیں۔ کبھی پنڈت نہرو پروہاں کے مسلمانوں کوفدا کیا گیا اور کبھی اندرا گاندھی کے ہاتوں پر وہاں کے مسلمانوں کو بیعت کرنے پر مجبور کیا گیا۔

پنڈت نہرو کے دور میں زمینداری ختم ہوئی۔ مسلمانوں کے قبضے سے ان کی زمین جائیدادجاتی رہی اور کل کا مسلمان زمیندار ہندوستان کی آزادی کے بعد وہاں کوڑیوں کا محتاج ہوگیا۔ اس کی جو بھی پونجی بچی تھی وہ وکلاء کی نذر ہو گئی لیکن انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف نہ ملا۔ مسلمانوں کی جائیداد کبھی کسٹوڈین کے قبضے میں گئی تو کبھی وکیل کے معاوضے کے نام پر رہن رکھی گئی۔ ایک طرف مسلمانوں کی اراضی اور جائیداد جاتی رہی تو دوسری طرف نئے زمیندار پیدا کئے گئے اور مسلمانوں کے علاوہ دوسری قومیں دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ایکڑ اراضی پر کاشت کاری کرنے لگیں۔

ایک متعصب ہندو پروین تو گاڈیہ نے کہا کہ مسلمان کو غدار کے طور پر پیش کرو۔ اس کا خون طلب کرو۔ اس کے حصول کے ذریعے کے طورپر چالبازی کو تقدیسی عطا کرو۔ مسلمانوں کو خوفزدہ کرو۔ ان کو تشدد پر اکساؤ اور مناسب موقع پر نسل کشی کا آغاز کر دو۔ بھارت کی سرزمین اور سیاست پراب ہمارا قبضہ ہے۔ یہ خالص گنگا اور جمنا کی سر زمین ہے ۔

بھارت سیکولر ریاست کی بجائے ہندو ریاست بنتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں پر تعلیم اور روزگار کے مواقع بند ہو چکے ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام میں انتہا پسندوں کے ساتھ حکومت کا بھی ہاتھ ہے۔گجرات میںمسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی تو ہندو انتہا پسندوں کے پس پشت گجرات حکومت تھی۔ بھارتی قانون میں ایسی شقیں ڈال دی گئی ہیں کہ کوئی اچھوت عیسائی یا مسلمان نہیں ہو سکتا۔

بھارت نام نہاد سیکولرازم سے ہندو پرستی، جنونیت اور انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔نئی دہلی سمیت پورے بھارت میں سینکڑوں مساجد پرناجائز قبضہ کر کے تالے لگا دیے گئے ہیں اور بہت سی مساجد حکومت کے قبضے میں چلی گئی ہیں۔ امن عامہ کی حالت مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسند کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ان کے خلاف ہندو انتہا پسند ہندو عوام میں نفرت پر مبنی پمفلٹ تقسیم کر رہے ہیں۔ دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی یہ انتہا پسند ہندو پر تشدد کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ایل او سی کی تین ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں جن میں تین سو بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ بھارت کے یہ عزائم ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو نہ صرف ہندو ریاست بنانا چاہتا ہے بلکہ وہ خطے میں چودھراہٹ قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ خطے میں صرف پاکستان اور افغانستان ہی نہیں بلکہ خلیجی ریاستیں، مالدیب اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت اگرچہ حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت اقتدار میں ہے‘ اس کے باوجود بنگلہ دیش بھی بھارت کے ناپاک عزائم سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

ایل اوسی پر بھارتی جارحیت میں کچھ عرصے میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ بھارت نے جان بوجھ پر ایل اوسی پرآزادکشمیر کے پرامن شہریوں کونشانہ بنایاگیا۔ بھارت نے کورونا کی ابتدا سے ابتک بھارت 406 بارایل اوسی خلاف ورزیاں کیں اور بھارتی فوج نے میڈیا کااستعمال کرکے جھوٹے پروپیگنڈا کیا۔ بھارت کی کشمیر میں لگائی گئی نفرت کی آگ پورے بھارت میں پھیل چکی ہے۔

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا تھا۔ حالانکہ مذہبی آزادی اور یکساں سلوک کا احترام جمہوریت کے بنیادی اصول ہیں۔ مگر بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ اْس کے بعد بھی اگر کسی کو شبہ ہے کہ وہ جمہوری ملک ہے تو یہ اْس کی بصیرت کا فقدان ہے۔

راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے جو خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے۔ اس کا بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار ہے جو ہندو سوائم سیوک سنگھ کے نام سے بیرون ممالک میں سرگرم ہے۔ یہ بھارت کو ہندو ملک گردانتا ہے اور یہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ چند دہشت گردانہ بلکہ مسلم کشی کے معاملوں میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے۔بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سر فہرت ہے۔

آر ایس ایس اپنے آپ کو ایک ثقافتی تنظیم کے طورپرظاہر کرتی ہے مگر اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے حال ہی میں بڑی خطرناک بات کر کے سب کو چونکا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں آر ایس ایس صرف تین دن میں 20 لاکھ کارکنوں کو جمع کر کے میدان جنگ گرم کر سکتی ہے۔ یعنی وہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ان کی تنظیم ایک باضابطہ فوج سے بہت بہتر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ روز اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدقسمتی سے آرایس ایس قوانین نے تمام قوانین کو پامال کیا۔ آرایس ایس نے ثابت کیا ہندو توا دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔موجودہ صورت حال میں بھی ایل اوسی پر بھارتی جارحیت کے واقعات زیر غور آئے۔ اقوام متحدہ نے ہر قسم کی بین الاقوامی جنگ بندی کی اپیل کی ہے لیکن ہندوستان ہندو توا کو فروغ دے رہا ہے۔

بی جے پی نے دوبارہ انتخابات جیت کر جواقدامات کئے ہیں اْس کے بعد کوئی شبہ نہیں رہ جاتاکہ مودی بھارت کو صرف ہندوئوں کا ملک بنانا چاہتا ہے۔ مودی سرکار نے بھارتی آئین کی روح سیکولرازم کو ختم کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی دستوری حیثیت کا خاتمہ، مقبوضہ کشمیر کے عوام کوتقریباً نو ماہ سے گھروں میں مقیدکر دینا‘ آسام کے 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر کے اْن کے سروں پر ملک بدر ی کی تلوار لٹکا دینا اور حال ہی میں شہریت کے ترمیمی ایکٹ کا نفاذ اور اس سے پہلے بابری مسجد کو رام مندر بنانے کے لیے ہندوئوں کے حوالے کر دینا، یہ ایسے ٹھوس ثبوت ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت نے سیکولرازم اور جمہوریت کو خیرباد کہہ کر ایک ایسی راہ اپنا لی ہے جس کا مقصد رام راج کا قیام ہے۔


ای پیپر