تھا جو نا خوف....
27 اپریل 2019 2019-04-27

اب پاکستان کے عوام ٹیکسوں کی زد میں ہیں جس سے کوئی بھی نہ بچ سکے گا۔ پہلے تو موبائل فون کارڈوں پر ٹیکس بحال کر دیے گئے ۔ پھر مثردہ سنایا کہ ریڑھی، پکوڑے والا، نائی قصائی دودھ فروش، ٹائر پنکچر والے۔ سبھی کا ٹیکس مشین سے جوس نکالا جائے گا تو پاکستان کی معیشت کے چہرے پر رونق آئے گی۔ اس دوران دوا ساز کمپنیاں عوام پر پوری ڈھٹائی سے چڑھ دوڑیں۔ یہ بھی مژدہ ہے کہ یکم مئی ( مزدوروں کے عالمی دن میں غرباءسے ہمدردی کو ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے کو ہے۔ وزارت ِ خزانہ آئی ایم ایف کے بندے کو تھما دی۔ حق بحق داررسد، عبد الحفیظ شیخ نے معاشی فیصلوں کے لیے فری ہینڈ مانگا تھا ۔ ہم نے دے دیا۔ سو یہ فری ہینڈ اب پھٹی جیبوں میں سے بھی ریز گاری تلاش کر کے پکوڑے والے کے تیل ملے نوٹ اور کمائی کے چند سکے نکال لے گا۔ لاہور میں پٹرول مہنگائی کے ہاتھوں گدھار کشہ چلنے لگا۔ ترقی اور تبدیلی کی نئی راہیں، منزلیں ملاحظہ ہوں۔ دودھ فروش پر ٹیکس، دودھ میں پانی کی مقدار بڑھا دے گا۔ ہمارے خوش فہم تاجروں اور صنعت کاروں نے بیان دیا کہ ، ہمیں امید ہے کہ حفیظ شیخ ایک عوام دوست بجٹ پیش کریں گے! اسد عمر تو منتخب رکن اسمبلی، عوام کے نمائندہ اور PTI کے ممبر تھے۔ انہیں پارٹی اور عوام کو جوابدہی کی فکر تھی۔ وہ بھی کہہ اٹھے کہ عوام کی چیخیں نکل جائیں گی ( معیشت کا ایکس رے دیکھ کر بولے تھے)۔ عبد الحفیظ شیخ تو آئی ایم ایف دوست بجٹ ہی دے سکتے ہیں جنکی نوکری پر وہ تشریف لائے ہیں دو بئی سے۔ دوبئی ایسے افراد کا ٹرانزٹ لاﺅنج ہوا کرتا ہے جہاں وہ انتظار فرمائیے کے بورڈ تلے بیٹھے انتظار کرتے ہیں اپنی باری کا ! اس وقت حکومت ادھیڑ بن، اکھاڑ پچھاڑ کی زد میں ہے۔ تبدیلیاں ہی تبدیلیاں ۔ تمام کابیناﺅں ، بیورو کریسی میں تبدیلیاں۔ حکومت چلانے والے تمام ہاتھ درجہ بدرجہ بدلے جا رہے ہیں۔ مشرف اور پچھلے ادوار کے مانگے تانگے کے وزراء، مشیر۔ غیر منتخب غیر نمائندہ افراد بھی بارات میں شامل۔ ریموٹ کنٹرول غلامی ہے۔ کہاں کی جمہوریت، کونسی سویلین حکمرانی۔ مسلم دنیا میں مملکتیں تو ریموٹ کنٹرول سے عالمی طاقتیں اور مقامی وردیاں مل کر چلاتی ہیں۔ سبھی اشرف غنی ہیں۔ صاف چلی شفاف چلی کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ کہاں چلی۔ ہر پہیہ اگل اگل لڑھک کر انجز پنجر ڈھیلا ہو چکا ۔ دل بہلانے کو جو جی میں آئے کہہ لیجیے۔ حقائق نہایت تلخ ہیں۔ باس ہمہ عمران خان نے 25 اپریل کو ترو تازہ ٹویٹ میں فرمایا۔ ’ ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر تشکیل دینے کی حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں رحم، عدل و انصاف اور تکریم آدم سے آراستہ سماج میسر آئے۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کس کتاب سے پڑھ رکھی ہے۔ قوم کو حوالہ تو دیں تاکہ ہم بھی اس بیان کا مطلب سمجھ سکیں۔رحم، عدل و انصاف اور تکریم آدم کی بھاری بھر کم اصطلاحات کو پاکستان کے موجودہ نظام میں تلاش کرنا۔؟ لانا ہے جوئے شیر کا ! وزیر اعظم کی اردو دانی اور تاریخ خوانی شدید مسائل کا شکار ہے۔ اسی طرح وہ بین الاقوامی رحمةللعالمین کانفرنس میں یہ کہ بیٹھے تھے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام کا انسانی تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تو ہے۔ ‘ چلیئے حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر تو جمائما نے پڑھا دیا ہو گا۔ مگر قرآن اب خاتون اول ہی سے پڑھ لیا ہوتا تو سورة اٰل عمران النسائ، المائدة اور سورة مریم میں حضرت عیسیٰ ؑ کے مفصل تذکرے تو معلوم ہوتے۔ تحریک انصاف کو تاریخ ، جغرافیہ، سیاسیات پر عبور تو اپنے چیئر مین کو 23 سالوں میں دے ہی دینا چاہیے تھا ۔ تاکہ جاپان جرمنی کی سرحدیں نہ ملا دیتے۔ یہ یاد رہتا کہ انہیں ایران سے آ کر دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے گروہ پر شدید احتجاج کرنا اور سدِ باب کی راہ بنانی تھی، نہ کہ وہاں کھڑے ہو کر قومی سلامتی کے منافی بیان دے کر مشکلات میں گھری ریاست کے لیے اندر کی گواہی فراہم کرنی تھی! ( ایران میں دہشت گردی کے گروپ پاکستان سے آپریٹ کر رہے ہیں!‘)۔

رمضان آنے کو ہے۔ مہنگائی ابھی سے ہوش اڑائے دے رہی ہے۔ ایسے میں قوم کو دستر خوانوں کی ’ خوشخبری‘ نہ دیں۔ اپنے عوام کو ٹیکسوں کے شکنجے اور مہنگائی کے دو پاٹوں میں جکڑ کر عزت کی روٹی سے محروم کر کے سرکاری شیلٹروں اور دستر خوانی میزبانی کے فقیر نہ بنائیں۔ رہی سہی عزت نفس تصاویر کھینج کر اور ویڈیوز کی تشہیر سے جاتی رہے گی۔ با عزت روز گار عوام کی ضرورت ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی کی سستائی عوام کا حق ہے۔ دنیا جس حال میں ہے دیکھ لیجئے۔ 2011 ءمیں تیونس میں پھل کی ریڑھی والے نوجوان ( 26 سالہ، بیوہ ماں اور 6 بہن بھائیوں کا واحد کفیل) نے خود سوزی کر لی تھی ایسی ہی زبوں حالی پر ۔ ( ریڑھی کا پرمٹ نہ تھا ) یہ وہ واقعہ تھا جس نے پوری عرب دنیا کے ( کٹھ پتلی ) حکمرانوں پر عرب بہار مسلط کر دی تھی ۔ زینِ العابدین کی حکومت ختم ہو گئی۔ عالمی سازشوں نے اس بہار کو خزاں میں جو بدلا تو مصر، لیبیا، الجزائر، تیونس، یمن، سبھی کا حال دیکھ لیجئے۔ فرانس میں پانچ ماہ سے ٹیکسوں اور ضروریات زندگی کی گرانی پر مسلسل ہونے والے پیلی جیکٹ مظاہرے دیکھ لیجئے۔ جس سے اظہار یک جہتی کو آئر لینڈ، بلجیم، پرتگال کے عوام بھی اٹھے۔ آئر لینڈ میں گھروں کی گرانی اور قلت پر عوام سیخ پا ہیں۔ فرانس میں معیشت پر ان مظاہروں کا کئی ملین ڈالر کا خسارہ مزید لد گیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق رپورٹ تھی کہ 70 فیصد عوام کا یہ کہنا ہے کہ ٹیکس انہیں آخری حد تک نچوڑے دے رہے ہیں۔ متوسط طبقے کی اس تحریک میں طلبائ، کسان ، طبی عملہ ، ڈرائیور سبھی شامل ہیں۔ ملک گیر اس تحریک میں 1.86 ملین ممبر ہونے کا دعویٰ ہے۔ عالمی حالات سوشل میڈیا کے ذریعے سبھی کی دسترس میں ہیں۔ یہ چھوت کی بیماری کی طرح سرحدیں پار کر جایا کرتے ہیں۔ عوام کو بیانات سے بہلانے اور سہلانے مستقبل کے خواب دکھا کر ٹرخانے کی بجائے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک طرف طبقہ امرائ۔ اشرافیہ، سول ملٹری تعشیات بھری ہاﺅسنگ سوسائٹیوں، فارم ہاﺅسز میں دادِ عیش دے رہا ہے۔ دوسری طرف بنیادی ضروریات سے محروم نصف سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے بیٹھی منہ تک رہی ہے۔ تعلق باللہ، صبر شکر مشکل حالات سے گزرنے کے معاون ہوا کرتا تھا ۔ اس کا ہر سطح پر قلع قمع کرنے کا حکومت اداروں،نظام تعلیم نے ٹھیکا لے رکھا ہے۔ اخلاقی حالات نوجوان نسل کے دیکھنے ہوں تو مستقبل کے پاکستان کے مقدر میں سیاہی بھرتی مسلسل رپورٹس کافی ہیں۔ انگریزی اخباروں میں ہر اسانی کے عنوان کے تحت مادر پدر آزاد، مخلوط معاشرت کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیں۔ لاہور میں ہونے والے پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑی موسیقی فیسٹول، جس میں عالمی سطح کے نامور بین الاقوامی گویے مدعو تھے۔ اس کا حامل ( حوصلہ ہو تو ) پڑھ دیکھئے۔ ’ سولیس فیسٹول‘ جو 13 اپریل کو منعقد ہوا، ڈان نے اس میں نو جوان لڑکی کی آپ بیتی شائع کی ہے۔ انگریزی زبان ہی شرمناک واقعات کا نشانہ بننے والی کے احوال کی متحمل ہو سکتی ہے۔ راقمہ تو اسے اردو زبان کا جامہ پہنانے سے قاصر ہے۔ حیا مانع ہے ۔ لڑکی اور اس کی بہن اپنے ’ دوستوں ‘ کے ساتھ اس میں شریک ہوئیں۔ سکیورٹی گارڈوں سمیت ہجوم نے جس سلوک کا انہیں نشانہ بنایا، بقول ان کے، ان کے دوست بھی انہیں تحفظ دینے سے قاصر تھے۔ منتظمین نے بھی جان چھڑالی کہ اگر پاکستانی ایسا رویہ اختیار کریں گے تو یہاں ایسے پروگرام کیونکر منعقد ہو سکیں گے۔ ریاست مدینہ میں تکریم بنت حوا ( جو بر ضا و رغبت پینٹیں کسے، اپنے مرد دوستوں کے ساتھ وہاں گئیں۔ حکومتی سر پرستی بھی ایسے پروگراموں کو خوب حاصل ہے،) وزیر اعظم کے فرسودہ رحم اور عدل و انصاف کے یہ مناظر ہمارا بھیانک اخلاقی ، معاشرتی، تہذیبی ایکسرے دکھا رہے ہیں۔

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتے ہیں قوموں کے ضمیر


ای پیپر